حدیث نمبر: 16690
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ جَدَّتِهِ مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا ، ثُمَّ يَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ الْغُرَبَاءُ ؟ ، قَالَ : " الَّذِينَ يَصْلُحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُحَازَنَّ الْإِيمَانُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا يَحْوزُ السَّيْلُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْرِزَنَّ الْإِسْلَامُ إِلَى مَا بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن سنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا تھا اور بالآخر یہ دوبارہ اجنبی جائے گا، جیسے آغاز میں تھا، سو خوشخبری ہے غرباء کے لئے، کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا : جو لوگوں کے فساد پھیلانے کے زمانے میں اصلاح کا کام کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ایک وقت ایسا ضرور آئے گا کہ ایمان اسی طرح مدینہ منورہ میں سمٹ آئے گا جیسے پانی کی نالی سمٹ جاتی ہے اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدر میں میری جان ہے، اسلام دو مسجدوں کے درمیان اس طرح داخل ہو جائے گا جیسے سانپ اپنے بل میں داخل ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا بهذه السياقة، إسحاق بن عبدالله متروك ، ويوسف ابن سليمان مجهول