حدیث نمبر: 16627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ : حَدَّثَنِي حَيَّةُ التَّمِيمِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ ، وَأَصْدَقُ الطِّيَرِ الْفَأْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حیہ تیمی کے والد کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا مردے کی کھوپڑی میں کسی چیز کے ہو نے کی کوئی حقیقت نہیں، نظر لگ جانا برحق ہے اور سب سے سچا شگون فال ہے۔
حدیث نمبر: 16628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ ، إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ " ، قَالَ : فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ " ، قَالَ : فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ ؟ ، قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر دوبارہ وضو کر و، دو مرتبہ یہ حکم دیا اور وہ ہر مرتبہ وضو کر کے آگیا، لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! کیا بات ہے کہ پہلے آپ نے اسے وضو کا حکم دیا پھر خاموش ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا۔