حدیث نمبر: 16625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا يعني بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَعْرَابِيٌّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا " ، قُلْتُ : مَا لَهُمْ ؟ ، قَالَ : " أَشِحَّةٌ بَجَرَةٌ ، وَإِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ ، لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ ، إِلَى هَذَا مَرَّةً ، وَإِلَى هَذَا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! ! کیا مطلب ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين