حدیث نمبر: 16624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ شَيْخًا مِنْ بَنِي سَلِيطٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُكَلِّمُهُ فِي سَبْيٍ أُصِيبَ لَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَعَلَيْهِ حَلْقَةٌ قَدْ أَطَافَتْ بِهِ ، وَهُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ ، عَلَيْهِ إِزَارٌ قِطْرٌ لَهُ غَلِيظٌ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَهُوَ يُشِيرُ بِأُصْبَعِهِ : " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ ، التَّقْوَى هَاهُنَا ، التَّقْوَى هَاهُنَا " ، يَقُولُ : أَيْ فِي الْقَلْبِ .
مولانا ظفر اقبال
بنوسلیط کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ان قیدیوں کے متلعق گفتگو کرنے کے لئے حاضر ہوا جو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لئے گئے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگوں نے حلقہ بنا کر آپ کو گھیر رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موٹی تہبند باندھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں سے اشارہ فرما رہے تھے، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے کہ مسلمان، مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے، تقوی یہاں ہوتا ہے یعنی دل میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن