حدیث نمبر: 16619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُعْتِقَتِ الْأَمَةُ ، فَهِيَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَطَأْهَا ، إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ ، وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا ، وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیار مل جاتا ہے، بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو ، کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کر لے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کر چکا ہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور جدائی نہیں ہو سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 16620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أُعْتِقَتْ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ ، فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا ، فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا ، فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیار مل جاتا ہے، بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کر لے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کر چکا ہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، سماع الحسن بن موسي من ابن لهيعة بعد احتراق كتبه ، وقد توبع