حدیث نمبر: 16304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ . وَبَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ شُعْبَةُ ، قَالَ : قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ ، قَالَ : " مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ ، أَوْ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم دہر ہمیشہ روزہ رکھنے کے متعلق ارشاد فرمایا : ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 16305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا انْتَهَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً : انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ قَالَ : " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 16306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ ، يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَالِي مَالِي ، وَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 16307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّيِّدُ اللَّهُ " ، قَالَ : أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا ، وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسْتَجِرُّهُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو و سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ بات کہا کر و جس میں شیطان تمہیں گمراہ کر کے تم پر غالب نہ آ جائے۔
حدیث نمبر: 16308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ ، قَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صوم دہر کے متعلق پوچھا : گیا تو ارشاد فرمایا : ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 16309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتی پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 16310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي ، ثُمَّ تَنَخَّمُ تَحْتَ قَدَمِهِ ، ثُمَّ دَلَكَهَا بِنَعْلِهِ وَهِيَ فِي رِجْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی جوتی سے مسل دیا جو آپ نے پاؤں میں پہن رکھی تھی۔
حدیث نمبر: 16311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ، فَقُلْنَا : أَنْتَ وَلِيُّنَا ، وَأَنْتَ سَيِّدُنَا ، وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا . قَالَ يُونُسُ وَأَنْتَ أَطْوَلُ عَلَيْنَا طَوْلًا ، وَأَنْتَ أَفْضَلُنَا عَلَيْنَا فَضْلًا ، وَأَنْتَ الْجَفْنَةُ الْغَرَّاءُ . فَقَالَ : " قُولُوا قَوْلَكُمْ ، وَلَا يَسْتَجِرَّنَّكُمْ الشَّيْطَانُ " ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : " وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ بات کہا کر و جس میں شیطان تمہیں گمراہ کر کے تم پر غالب نہ آ جائے۔
حدیث نمبر: 16312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بن أحمد : لَمْ يَقُلْ مِنَ الْبُكَاءِ إِلَّا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آرہی تھی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی ہو تی ہے۔
حدیث نمبر: 16313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَتَنَخَّعَ ، فَدَلَكَهَا بِنَعْلِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کر تی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی بائیں جوتی سے مسل دیا۔
حدیث نمبر: 16314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي الطَّوِيلَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَوَامَّ الْإِبِلِ نُصِيبُهَا ؟ ، قَالَ : " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم گمشدہ اونٹوں کو پکڑ سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کی گمشدہ چیز کو بلا استحقاق استعمال کرنا جہنم کی آگ ہے۔
حدیث نمبر: 16315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ ، أوْ مَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا : ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 16316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ : حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْتَ سَيِّدُ قُرَيْشٍ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّيِّدُ اللَّهُ " ، فَقَالَ : أَنْتَ أَفْضَلُهَا فِيهَا قَوْلًا ، وَأَعْظَمُهَا فِيهَا طَوْلًا ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَقُلْ أَحَدُكُمْ بِقَوْلِهِ ، وَلَا يَسْتَجِرَّنَّهُ الشَّيْطَانُ أَوْ الشَّيَاطِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن شخیر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تو قریش کے سید آقا ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حقیقی آقا تو اللہ ہی ہے وہ کہنے لگا کہ آپ قریش میں بات کے اعتبار سے سب سے افضل اور جودو سخا میں سب سے عظیم تر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ بات کہا کر و جس میں شیطان تمہیں گمراہ کر کے تم پر غالب نہ آ جائے۔
حدیث نمبر: 16317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي ، وَلِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آرہی تھی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی ہو تی ہے۔
حدیث نمبر: 16318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " أَوْ قَالَ : " لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا : ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 16319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " ، قَالَ : " فَتَنَخَّعَ ، فَتَفَلَهُ تَحْتَ نَعْلِهِ الْيُسْرَى " . قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ : " حَكَّهَا بِنَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے پاؤں کے نیچے ناک کی ریزش پھینکی اور اسے اپنی جوتی سے مسل دیا جو آپ نے پاؤں میں پہن رکھی تھی۔
حدیث نمبر: 16320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ سُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ ، فَقَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا : ایسا شخص نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 16321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي ، وَيَبْزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعلاء بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران آپ نے اپنے بائیں پاؤں کی نیچے تھوک پھینکا۔
حدیث نمبر: 16322
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَيَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 16323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَبُوهُ قَدْ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ، فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم دہر کے متعلق ارشاد فرمایا : ایسا شخص نہ تو روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 16324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، قَالَ : دُفِعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ . فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً ، وَلَيْسَ فِيهِ قَوْلُ قَتَادَةَ ، يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ هَمَّامٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت کر رہے تھے پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 16325
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : عَبْد اللَّهِ بن أحمد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ سَعِيدٍ أَبِي طَلْحَةَ الرَّاسِبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ حَتَّى خَتَمَهَا " .
حدیث نمبر: 16326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يُصَلِّي ، وَلِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کثرت گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارک سے ایسی آوازیں آرہی تھی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی ہو تی ہے۔
حدیث نمبر: 16327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ قَالَ فَقَالَ : " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ " ، وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ : كُلُّ صَدَقَةٍ لَمْ تُقْبَضْ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ سورت تکاثر کی تلاوت فرما رہے تھے ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال میرا مال جبکہ تیرامال تو صرف وہی ہے جو تو نے صدقہ کر کے آگے بھیج دیا یا پہن کر پرانا کر دیا یا کھا کر ختم کر دیا۔
حدیث نمبر: 16328
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِيهِ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ . فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عَفَّانَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ قَتَادَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔