حدیث نمبر: 16283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ بَدْرٍ ، أَنَا أَشُكُّ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اس شخص کی نماز کو نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، عبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
حدیث نمبر: 16284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اس شخص کی نماز کو نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
حدیث نمبر: 16285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُلَازِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ ، فَطَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ : " كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تہبند کو چھوڑ کر اپنے اوپر لپیٹ لیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے نماز کے بعد فرمایا : کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ ؟ ، قَالَ : " إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ جَسَدِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، أيوب بن عتبة ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 16287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، أَنَّ أَبَاهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا ، فَلَمَّا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، " طَارَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ثَوْبَيْهِ ، فَصَلَّى فِيهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تہبند کو چھوڑ کر اپنے اوپر لپیٹ لیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ مِنَ امْرَأَتِهِ حَاجَةً ، فَلْيَأْتِهَا وَلَوْ كَانَتْ عَلَى تَنُّورٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو اپنی بیوی کی ضرورت محسوس ہو تو وہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لے اگرچہ وہ تنور پر ہی ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذه السياقة الضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَكُونُ وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : " وَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ہوتے۔ سیدنا طلق سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: «الا يكون وتران فى ليلة» فهو حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر، وقد انفرد بزيادة «عن أبيه» فى الإسناد ، فجعله من حديث والد طلق بن علي، فهو خطأ ، وعبدالله بن بدر لا يروي عن طلق
حدیث نمبر: 16290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ ، فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ ، فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ اگر بادل چھائے ہوں تو تیس کا وعدہ پورا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلَ فِي الْأُفُقِ ، وَلَكِنَّهُ الْمُعْتَرِضُ الْأَحْمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صبح صادق نہیں ہو تی جو افق میں لمبائی کی صورت پھیلتی ہے بلکہ وہ سرخی ہو تی ہے جو چوڑائی کی صورت میں پھیلتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، محمد بن جابر ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 16292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَسِسْتُ ذَكَرِي ، أَوْ الرَّجُلُ يَمَسُّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ ، عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ؟ ، قَالَ : " لَا ، إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے میری موجودگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، محمد بن جابر ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 16293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : وَفَدْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَدَّعَنَا أَمَرَنِي ، فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَحَثَا مِنْهَا ، ثُمَّ مَجَّ فِيهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَوْكَأَهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ بِهَا ، وَانْضَحْ مَسْجِدَ قَوْمِكَ ، وَأْمُرْهُمْ يَرْفَعُوا بِرُءُوسِهِمْ أَنْ رَفَعَهَا اللَّهُ " قُلْتُ : إِنَّ الْأَرْضَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ بَعِيدَةٌ وَإِنَّهَا تَيْبَسُ ، قَالَ : " فَإِذَا يَبِسَتْ فَمُدَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق بن علی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واپسی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں آپ کے پاس پانی کا برتن لے کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پانی پیا اور تین مرتبہ اسی پانی میں کلی کی پھر اس برتن کا منہ باندھ دیا اور فرمایا : اس برتن کو لے جاؤ اور اس کا پانی اپنی قوم کی مسجد میں چھڑک دینا اور انہیں حکم دینا کہ اپنا سربلند رکھیں اور اللہ نے انہیں رفعت عطا فرمائی ہے میں نے عرض کیا : کہ ہمارے اور آپ کے درمیان کافی طویل فاصلہ ہے اس برتن کا پانی ہمارے علاقے تک پہنچتے پہنچتے خشک ہو جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب خشک ہو نے لگے تو اس میں مزید پانی ملا لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، محمد بن جابر ضعيف، وعبدالله بن بدر لم يسمع من طلق بن علي
حدیث نمبر: 16294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ هَذِهِ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے چاند کو لوگوں کے لئے اوقات کا ذریعہ بتایا ہے لہذاجب چاند دیکھو تو روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس کا عدد پورا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ ؟ ، قَالَ : " هَلْ هُوَ إِلَّا مِنْكَ ، أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا طلق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو وضو کر ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شرمگاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر
حدیث نمبر: 16296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو السُّحَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي سِرَاجُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ طَلْقٍ حَدَّثَهُمَا ، أَنَّ أَبَاهُ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ أَتَانَا فِي رَمَضَانَ ، وَكَانَ عِنْدَنَا حَتَّى أَمْسَى ، فَصَلَّى بِنَا الْقِيَامَ فِي رَمَضَانَ ، وَأَوْتَرَ بِنَا ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِ رَيْمَانَ ، فَصَلَّى بِهِمْ حَتَّى بَقِيَ الْوَتْرُ ، فَقَدَّمَ رَجُلًا فَأَوْتَرَ بِهِمْ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مارہ رمضان میں ہمارے والد سیدنا طلق بن علی ہمارے پاس آئے رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہے انہوں نے ہمیں نماز تروایح پڑھائی اور وتر بھی پڑھائے پھر وہ مسجد ریحان چلے گئے اور انہیں بھی نماز پڑھائی جب وتر بچ گئے تو انہوں نے ان ہی میں سے ایک آدمی کو آگے کر دیا اور اس نے انہیں وتر پڑھا دیئے پھر سیدنا طلق نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ہوتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن