حدیث نمبر: 16210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ . وعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ فُلَانٍ . وعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَمْ يَبْلُغْ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْقِصَّةَ كُلَّهَا ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ أَتَى أَهْلَهُ ، فَوَجَدَ قَصْعَةَ ثَرِيدٍ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ، فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي حَجٍّ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ ، فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ " ، قَالَ : " وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ ، فَكُلُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا ، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لُحُومِهَا شَيْئًا ، فَكُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری ایک مرتبہ سیدنا قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا سیدنا قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہو جائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں اب جب تک چاہو کھا سکتے ہواور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یا صدقہ کر دو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہواگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسانيده ضعيفه وهى ثلاثه : الاسناد الأول ضعيف للإعضاله، فإن ابن جريج يروي عن التابعين والإسناد الثاني ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، والرجل المبهم هو زبيد بن الحارث، فهو منقطع، لأن زيدا لم يلق احدا من الصحابۃ، والإسناد الثالث ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وقد وقف بعضها على جابر.
حدیث نمبر: 16211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَتَى أَهْلَهُ ، فَوَجَدَ قَصْعَةً مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ، فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ ، فَقَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ ، فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ ، وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ ، فَكُلُوا ، وَتَصَدَّقُوا ، وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا ، وَلَا تَبِيعُوهَا ، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِهَا ، فَكُلُوا إِنْ شِئْتُمْ " . وقَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَالْآنَ فَكُلُوا ، وَاتَّجِرُوا ، وَادَّخِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری ایک مرتبہ سیدنا قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا سیدنا قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہو جائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں اب جب تک چاہو کھا سکتے ہواور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یا صدقہ کر دو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہواگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، وزبيد لم يلق أحدة من الصحابة فهو منقطع
حدیث نمبر: 16212
قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، نَحْوَ حَدِيثِ زُبَيْدٍ هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، لَمْ يَبْلُغْهُ كُلُّ ذَلِكَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو الزبير مدلس وقد عنعن، وقد وقف بعضه على جابر
حدیث نمبر: 16213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ تَمِيمٍ ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ , وَعَمِّهِ قَتَادَةَ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ ، وَادَّخِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعیدخدری اور سیدنا قتادہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قربانی کا گوشت کھاؤ اور ذخیرہ کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وأبي إِسحاقُ بنُ يسار ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ مَوْلَى بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " نَهَانَا عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي ، وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ ، قَالَ : فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسَاقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا ، فَقُلْتُ لَهَا : أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ ؟ فَقَالَتْ : مِنْ ضَحَايَانَا . قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : أَوَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ . قَالَ : فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ وَكَانَ بَدْرِيًّا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ فَقَدْ صَدَقَتْ ، قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا : تھا کہ ایک مرتبہ میں کسی سفر پر چلا گیا جب واپس گھر آیا تو بقرعید کو ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے میری بیوی گوشت میں پکے ہوئے چقندر لے کر آئی میں نے اس سے پوچھا کہ یہ گوشت کہاں سے آیا اس نے بتایا کہ قربانی کا ہے میں نے اس سے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے ممانعت نہیں فرمائی اس نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اجازت دیدی تھی میں نے اس کی تصدیق نہیں کی اور اپنے بھائی سیدنا قتادہ بن نعمان جو بدری صحابی تھے کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے ایک آدمی کو بھیج دیا انہوں نے مجھے جواب میں کہلابھیجا کہ تم کھانا کھالو تمہاری بیوی صحیح کہہ رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی اجازت دیدی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن