حدیث نمبر: 16156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ ، فَتَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس بن اوس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پانی کی ایک نالی پر تشریف لائے اور اس سے وضو فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال والد يعلي
حدیث نمبر: 16157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُؤْتَى بِنَعْلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَيَلْبَسُهُمَا ، وَيَقُولُ : " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتاوہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا جوتیوں پر مسح کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، والد يعلي مجهول
حدیث نمبر: 16159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ وَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنی ہتھیلی دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَوْسًا ، يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ ، فَكُنَّا فِي قُبَّةٍ ، فَقَامَ مَنْ كَانَ فِيهَا غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ " ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا ، فَقَالَ : " رُدَّهُ " ثُمَّ قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " ، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ : أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَ شُعْبَةُ : أَظُنُّهَا مَعَهَا وَمَا أَدْرِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ میں بنوثقیف کے وفد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ابھی ہم اسی خیمے میں تھے میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب لوگ اٹھ کر جاچکے تھے کہ ایک آدمی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جا کر اسے قتل کر دو پھر فرمایا : کیا وہ لا الہ الاللہ کی گواہی نہیں دیتا اس نے کہا کیوں نہیں لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ جملہ کہہ لیں تو ان کی جان ومال محترم ہو گئے سوائے اس کلمے کے حق کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رجاله ثقات، وفي قول شعبة: «عن النعمان، سمعت أوسا.» وقفة والاشبه : عن النعمان بن سالم عن عمرو بن اوس . عن اوس . ثم إن شعبه لم يضبط متن هذا الحديث
حدیث نمبر: 16161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فَغَسَلَ أَحَدُكُمْ رَأْسَهُ ، وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ غَدَا أَوْ ابْتَكَرَ ، ثُمَّ دَنَا ، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا ، كَصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامِ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کا دن آنے پر جب تم میں سے کوئی شخص اپنا سر دھو کر غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموشی اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں کا اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد تالف، محمد بن سعيد المصلوب كذاب، ولم يدرك أوسا، وعمر بن محمد لم يوجد له ترجمة
حدیث نمبر: 16162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ قُبِضَ ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ عَلَيْكَ صَلَاتُنَا وَقَدْ أَرِمْتَ يَعْنِي وَقَدْ بَلِيتَ ؟ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ " . صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے اسی میں سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا اور اسی دن وہ فوت ہوئے اسی دن صور پھونکا جائے گا اور بےہو شی طاری کی جائے گی لہذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! جب آپ کی ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گے تو آپ کے سامنے ہمارا درود کیسے پیش کیا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے زمین پر انبیاء کرام کے اجسام کو کھانا حرام قرار دے دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ ، قَالَ : إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّفَّةِ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَسَارَّهُ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا فَاقْتُلُوهُ " ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ ، دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ الرَّجُلُ : نَعَمْ ، نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ ، فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ صفہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جا کر اسے قتل کر دو پھر فرمایا : کیا وہ لا الہ الاللہ کی گواہی نہیں دیتا اس نے کہا کیوں نہیں لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چھوڑ دو مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ جملہ کہہ لیں تو ان کی جان ومال محترم ہو گئے سوائے اس کلمہ حق کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْسٍ قَالَ : إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا وَيُوصِينَا إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبِي يَوْمًا " تَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ النَّعْلَيْنِ ، فَقُلْتُ لَهُ أَتَمْسَحُ عَلَيْهِمَا ؟ ، فَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے اپنے والد صاحب کو جوتیوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جوتیوں پر مسح کر رہے ہوانہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، يعلى بن عطاء لم يدرك أوس بن أبى أوس
حدیث نمبر: 16166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِيفٍ مِنْ بَنِي مَالِكٍ ، أَنْزَلَنَا فِي قُبَّةٍ لَهُ ، فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بَيْنَ بُيُوتِهِ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، انْصَرَفَ إِلَيْنَا وَلَا نَبْرَحُ حَتَّى يُحَدِّثَنَا ، وَيَشْتَكِي قُرَيْشًا ، وَيَشْتَكِي أَهْلَ مَكَّةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : " لَا سَوَاءَ ، كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ وَمُسْتَضْعَفِينَ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا " . فَمَكَثَ عَنَّا لَيْلَةً لَمْ يَأْتِنَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ عَلَيْنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ ، قَالَ : قُلْنَا : مَا أَمْكَثَكَ عَنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْضِيَهُ " ، قَالَ : فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْنَا ، قَالَ : قُلْنَا : كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ ؟ ، قَالُوا : نُحَزِّبُهُ ثَلَاثَ سُوَرٍ ، وَخَمْسَ سُوَرٍ ، وَسَبْعَ سُوَرٍ ، وَتِسْعَ سُوَرٍ ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ سُورَةً ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ سُورَةً ، وَحِزْبَ الْمُفَصَّلِ مِنْ قَافْ حَتَّى يُخْتَمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس بن حذیفہ فرماتے ہیں کہ ہم ثقیف کے وفد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم بنی مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک قبہ میں ٹھہرایا تو رسول اللہ ہر شب عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو فرماتے رہے اور زیادہ تر ہمیں قریش کے اپنے ساتھ رویہ کے متعلق سناتے اور فرماتے ہم اور وہ برابر نہ تھے کیونکہ ہم کمزور اور ظاہری طور پر دباؤ میں تھے جب ہم مدینہ آئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان کبھی ہم ان سے ڈول نکالتے اور کبھی وہ ہم سے ڈول نکالتے ایک رات آپ سابقہ معمول سے ذرا تاخیر سے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول آپ آج تاخیر سے تشریف لائے فرمایا : میرا تلاوت قرآن کا معمول کچھ رہ گیا تھا میں نے پورا ہو نے سے قبل نکلنا پسند نہ کیا سیدنا اوس کہتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے پوچھا کہ تم قرآن کی تلاوت کے لئے کیسے حصے کرتے ہوانہوں نے بتایا کہ تین سورتیں فاتحہ کے بعد بقرہ اور آل عمران اور نساء اور پانچ سورتیں ( سورت مائدہ سے براءۃ کے آخر تک) اور سات (سورتیں یونس سے نحل تک) اور نو (سورتیں بنی اسرائیل سے فرقان تک) اور گیارہ سورتیں (شعراء سے یسین تک) اور تیرہ سورتیں (والصافات سے حجرات تک) اور آخری حزب مفصل کا یعنی سورت ق سے آخر تک۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالرحمن الطائفي، وعثمان بن عبدالله شبه مجهول
حدیث نمبر: 16167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أوْس بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا اور جوتیوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك، ولانقطاعه، يعلى بن عطاء لم يدرك أوسا
حدیث نمبر: 16169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ جَدُّهُ أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ كَانَ يُصَلِّي ، وَيُومِئُ إِلَى نَعْلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَيَأْخُذُهُمَا فَيَنْتَعِلُهُمَا وَيُصَلِّي فِيهِمَا ، وَيَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتا تو وہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا " أَيْ غَسَلَ كَفَّيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنی ہتھیلی دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، فَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا " يَعْنِي غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ : أَدْخَلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ أَوْ غَسَلَهُمَا خَارِجًا ؟ ، قَالَ : لَا أَدْرِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنی ہتھیلی دھوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ ، فَدَنَا وَأَنْصَتَ ، وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے خاموش اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ ، وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ ، فَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ ، فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔ گزش
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16174
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ثُمَّ غَدَا وَابْتَكَرَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 16175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْجُمُعَةَ ، فَقَالَ : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ غَدَا وَابْتَكَرَ ، وَخَرَجَ يَمْشِي وَلَمْ يَرْكَبْ ، ثُمَّ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ ، فَأَنْصَتَ له وَلَمْ يَلْغُ ، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا " قَالَ : وَزَعَمَ يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّهُ قَالَ : " لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا " . قَالَ يَحْيَى وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ : " مَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَغَسَّلَ ثُمَّ ابْتَكَرَ وَغَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ حَتَّى يُنْصِتَ ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا عَمَلُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : كَانَ جَدِّي أَوْسٌ أَحْيَانًا يُصَلِّي ، فَيُشِيرُ إِلَيَّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَأُعْطِيهِ نَعْلَيْهِ ، وَيَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتا تو وہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ غَدَا ، فَابْتَكَرَ وَجَلَسَ مِنَ الْإِمَامِ قَرِيبًا ، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ ، كَانَ بِكُلِّ خَطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جمعہ کا دن آنے پر جب کوئی شخص غسل کر ے پھر پہلے وقت روانہ ہو خطیب کے قریب بیٹھے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیدار کا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ فُلَانًا ، أَوْسٌ جَدُّهُ ، قَالَ : كَانَ جَدِّي يَقُولُ لِي وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ يُومِئُ إِلَيَّ نَاوِلْنِي النَّعْلَيْنِ ، فَأُنَاوِلُهُمَا إِيَّاهُ ، فَيَلْبَسُهُمَا ، وَيُصَلِّي فِيهِمَا ، وَيَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ان کے جوتے لے آتا تو وہ انہیں اسی دوران پہن لیتے اور کہتے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہن کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أبى أوس
حدیث نمبر: 16180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَاسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا " . قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ شَيْءٍ اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا ؟ قَالَ : غَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ہتھیلی میں پانی لیا میں نے پوچھا کہ کس مقصد کے لئے فرمایا : ہاتھ دھونے کے لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبن عمرو بن أوس
حدیث نمبر: 16181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي عَلَى مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ ، " فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ " ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : مَا أَزِيدُكَ عَلَى مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے اپنے والد صاحب کو عرب کے کسی چشمے پر جوتیوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جوتیوں پر مسح کر رہے ہیں انہوں نے جواب دیا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح دیکھا ہے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين / حدیث: 16181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شريك، ولانقطاعه، يعلي بن عطاء لم يدرك أوسا