حدیث نمبر: 16148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَرْضَعْتُكُمَا . وَهِيَ كَافِرَةٌ . فَأَعْرَضَ ، عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، فَقَالَ لِي : " كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا ؟ ! دَعْهَا عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اوعرض کیا : میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا میں سامنے کے رخ سے آیا اور پھر یہی کہا وہ جھوٹ بول رہی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ اس سیاہ فام کا کہنا ہے اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اسے چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 16149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أُمَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ يَعْنِي فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ ، قَالَ : " فَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 16150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعَيْمَانِ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فِي الْبَيْتِ ، فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي ، وَالْجَرِيدِ ، وَالنِّعَالِ ، قَالَ : فَكُنْتُ مِمَّنْ ضَرَبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو ہاتھ اور ٹہنیوں جوتیوں سے مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔
حدیث نمبر: 16151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا ، فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ ، وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ وَلُيِسَ عَلَيْهِ ، قَالَ : " ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا ، فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ ، أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا ، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی سلام پھیرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارہ نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا اس لئے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں۔
حدیث نمبر: 16152
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 16153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ يَحْيَى ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَتَنَحَّيْتُ ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ ، فَقَالَ : " فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ؟ " فَنَهَاهُ عَنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 16154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَامِرٍ أَخْبَرَهُ أَوْ سَمِعَهُ مِنْهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ خَصَّهُ بِهِ أَنَّهُ نَكَحَ ابْنَةَ أَبِي إِيهَابٍ ، فَقَالَتْ أَمَةٌ سَوْدَاءُ : قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَجِئْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : " فَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنْ قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ؟ " فَنَهَاهُ عَنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا اس کے بعد ایک عورت سیاہ فام ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیرلیا میں دائیں جانب سے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ عورت تو سیاہ فام ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 16155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ . قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالنُّعَيْمَانِ أَوْ ابْنِ النُّعَيْمَانِ وَهُوَ سَكْرَانُ ، قَالَ : فَاشْتَدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَأَمَرَ مَنْ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوهُ " ، فَضَرَبُوهُ . قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : فَشَقَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشَقَّةً شَدِيدَةً . قَالَ عُقْبَةُ : فَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عقبہ بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز نہایت گراں گزری پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔