حدیث نمبر: 16134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة َ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ : كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَانَا بِالْبَقِيعِ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنَ اسْمِنَا إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔
حدیث نمبر: 16135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ ، قَالَ : فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِمَّا كُنَّا نُسَمِّي بِهِ أَنْفُسَنَا ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔
حدیث نمبر: 16136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ " إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَحَلِفٌ ، فَشُوبُوهَا بِصَدَقَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بازار میں تشریف لائے اور فرمایا : تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں ہو جایا کر تی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔
حدیث نمبر: 16137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ الرَّقِيقَ ، نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، إِنَّ بَيْعَكُمْ هَذَا يُخَالِطُهُ لَغْوٌ وَحَلِفٌ ، فَشُوبُوهُ بِصَدَقَةٍ ، أَوْ بِشَيْءٍ مِنْ صَدَقَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔
حدیث نمبر: 16138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَبِيعُ الرَّقِيقَ فِي السُّوقِ ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ ، فَسَمَّانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْأَيْمَانُ ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔
حدیث نمبر: 16139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ، قَالَ : كُنَّا نُسَمَّى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہو جاتی ہیں لہذا اس میں صدقات و خیرات کی آمیزش کر لیا کر و۔
حدیث نمبر: 16140
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ مَوْلَى صُخَيْرٍ عَنْ بَعْضِ ,أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ بَيْعٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَعَايِشُنَا ، قَالَ : فَقَالَ : " لَا خِلَابَ إِذًا " وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔