حدیث نمبر: 16034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَهُ عَلَى سَرِيَّةٍ ، فَخَرَجْتُ فِيهَا ، فَقَالَ : " إِنْ أَخَذْتُمْ فُلَانًا فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ " , فَلَمَّا وَلَّيْتُ نَادَانِي ، فَقَالَ : " إِنْ أَخَذْتُمُوهُ فَاقْتُلُوهُ ، فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی دستے کا امیر بنایا میں روانہ ہو نے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم فلاں شخص کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اسے آگ میں جلا دینا جب میں نے پشت پھیری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا : اگر تم اسے پالو تو صرف قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا) کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 16034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُذْرَةَ ، فَقَالَ : " إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَى فُلَانٍ ، فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ " , فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا تَوَارَوْا مِنْهُ نَادَاهُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِي أَثَرِهِمْ ، فَرَدُّوهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ فَاقْتُلُوهُ ، وَلَا تُحْرِقُوهُ بِالنَّارِ ، فَإِنَّمَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی دستے کا امیر بنایا میں روانہ ہو نے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم فلاں شخص کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جاؤ تو اسے آگ میں جلا دینا جب میں نے پشت پھیری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکار کر فرمایا : اگر تم اسے پالو تو صرف قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا) کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 16035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16036
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زِيَادٌ ، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ عَلَيٍّ الْأَسْلَمِيُّ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ سَرِيَّةً إِلَى رَجُلٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 16036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتَ صُمْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران سفر روزے کا حکم پوچھا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو نہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 16037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 1221، وهذا إسناد ضعيف، قتادة لم يسمع من سليمان بن يسار ، وسليمان لم يسمع من حمزة بينهما ابو مرواح، ومحمد بن جعفر سمع من سعيد بن أبى عروبة بعد اختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا عَلَى جَمَلٍ يَتْبَعُ رِحَالَ النَّاسِ بِمِنًى ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ : لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ . قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرَ لَنَا أَنَّ ذَلِكَ الْمُنَادِي كَانَ بِلَالًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ انہوں نے گندمی رنگ کے اونٹ پر سوار ایک آدمی کو دیکھا جو منیٰ میں لوگوں کے خیموں میں جارہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیکھ رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ان ایام میں روزمہ مت رکھو کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ منادی سیدنا بلال تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 16038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 16039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَلَى ظَهْرِ كُلِّ بَعِيرٍ شَيْطَانٌ ، فَإِذَا رَكِبْتُمُوهَا ، فَسَمُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ لَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حمزہ اسلمی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر اونٹ کی پشت پر ایک شیطان ہوتا ہے اس لئے جب تم اس پر سوار ہوا کر و تو اللہ کا نام لے کر سوار ہوا کر و پھر اپنی ضرورتوں میں کوتاہی نہ کیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 16039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن