حدیث نمبر: 15895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْشِرُ قَوْمِي ؟ قَالَ : " إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ، وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 15896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ خَالِهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ لَهُ أَشْيَاءَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : أَعْشِرُهَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ، وَلَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ عُشُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
بکر بن وائل کے ایک صاحب اپنے ماموں سے نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اپنی قوم سے ٹیکس وصول کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد اختلف فيه على عطاء
حدیث نمبر: 15897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي أُميِّهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
ابوامیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٹیکس تو یہو د و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، راجع ما قبله