حدیث نمبر: 15872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي رَوْحٍ الْكَلَاعِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، فَقَرَأَ فِيهَا سُورَةَ الرُّومِ ، فَلَبَسَ عَلَيْهِ بَعْضُهَا ، فَقَالَ : " إِنَّمَا لَبَسَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ الْقِرَاءَةَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ يَأْتُونَ الصَّلَاةَ بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، فَإِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوروح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ پر کچھ اشتباہ ہو گیا نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لوگ جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کر و تو خوب اچھی طرح وضو کیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله، وإرساله ، أبوروح الكلاعي تابعي
حدیث نمبر: 15873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحَ ، فَقَرَأَ فِيهَا الرُّومَ ، فَأَوْهَمَ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شَبِيبًا أَبَا رَوْحٍ مِنْ ذِي الْكَلَاعِ , أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّومِ ، فَتَرَدَّدَ فِي آيَةٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّهُ يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أَنَّ أَقْوَامًا مِنْكُمْ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الْوُضُوءَ ، فَمَنْ شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَلْيُحْسِنْ الْوُضُوءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوروح سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ پر کچھ اشتباہ ہو گیا نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ لوگ جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کر و تو خوب اچھی طرح وضو کیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإرساله، أبو روح ليست له صحبة