حدیث نمبر: 15855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَلَّامِ أَبِي شُرَحْبِيلَ ، عَنْ حَبَّةَ وَسَوَاءَ ابني خالد ، قَالَا : دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصْلِحُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ ، فَقَالَ : " لَا تَأْيَسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا ، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ ، ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حبہ اور سواء جو خالد کے بیٹے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کوئی چیز ٹھیک کر رہے تھے لیکن اس نے آپ کو تھکا دیا آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب تک تمہارے سر حرکت کر سکتے ہیں کبھی بھی رزق سے مایوس نہ ہو نا کیونکہ انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو وہ چوزے کی طرح ہوتا ہے جس پر کوئی چھلکا نہیں ہوتا اس کے بعد اللہ اسے رزق عطا فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال سلام أبى شرحبيل
حدیث نمبر: 15856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَبَّةَ وَسَوَاءَ ابني خالد يقولان : أتينا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلًا ، أَوْ يَبْنِي بِنَاءً ، فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا لَنَا ، وَقَالَ : " لَا تَأْيَسَا مِنَ الْخَيْرِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا ، إِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ ، ثُمَّ يُعْطِيهِ اللَّهُ وَيَرْزُقُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حبہ اور سواء جو خالد کے بیٹے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کوئی چیز ٹھیک کر رہے تھے لیکن اس نے آپ کو تھکا دیا آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب تک تمہارے سرحرکت کر سکتے ہیں کبھی بھی رزق سے مایوس نہ ہو نا کیونکہ انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو وہ چوزے کی طرح ہوتا ہے جس پر کوئی چھلکا نہیں ہوتا اس کے بعد اللہ اسے رزق عطا فرماتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه