حدیث نمبر: 15852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ ، يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ ، يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ : كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا بلال بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بعض اوقات انسان اللہ کی رضامندی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے کہ جس کے متعلق اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے لیکن اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے قیامت تک رضامندی کا پروانہ لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے جس کے متعلق اسے خبر بھی نہیں ہو تی کہ اس کی کیا حثیت ہو گی لیکن اللہ اس کی وجہ سے اس کے لئے قیامت تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔ راوی حدیث علقمہ کہتے ہیں کہ کتنی ہی باتیں جنہیں کرنے سے مجھے سیدنا بلال کی یہ حدیث روک دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن علقمة
حدیث نمبر: 15853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ : " بَلْ لَنَا خَاصَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا بلال بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! حج کا فسخ ہو نا ہمارے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمارے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة الحارث بن بلال، فقد انفرد ربيعة فى رواية هذا الحديث عنه
حدیث نمبر: 15854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مُتْعَةَ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ فَقَالَ : " لَا بَلْ لَنَا خَاصَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا بلال بن حارث سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! حج تمتع کا یہ طریقہ ہمارے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمارے ساتھ خاص ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه