حدیث نمبر: 15753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : سَلَامٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، فِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " . وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ وَأَنْتُمْ إِخْوَانُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا ، فَلَا تَسْبِقُونَا حَتَّى نَخْتَارَ لِأَنْفُسِنَا .
مولانا ظفر اقبال
حسن بصری کہتے ہیں کہ جب یزید کا انتقال ہو گیا تو سیدنا ضحاک بن قیس نے قیس بن ہیثم کے نام خط میں لکھاسلام علیک امابعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھویں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ان فتنوں میں انسان کے جسم کی طرح اس کا دل بھی مر جائے گا انسان صبح کو مومن اور شام کو کافر ہو گا اسی طرح شام کو مومن اور صبح کو کافر ہو گا لوگ اپنے اخلاق اور دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے بدلے بیچ دیآ کر یں گے۔ اور یزید بن معاویہ فوت ہو گیا ہے تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے سگے ہواس لئے تم پر سبقت لے جا کر کسی حکمران کو منتخب نہ کر لینا یہاں تک کہ ہم خود اپنے لئے کسی کو منتخب کر لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، دون قوله : "فتنا كقطع الدخان، يموت فيها ....... بدنه" وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن البصري لم يذكر له سماع من الضحاك بن قيس