حدیث نمبر: 15740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : تَزَوَّجَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ , فَقَالَ : مَهْ لَا تَقُولُوا ذَلِكَ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " قُولُوا : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ ، وَبَارَكَ لَكَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب کی شادی ہوئی اور پہلی رات کے بعد جب وہ باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہوا اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے انہوں نے فرمایا کہ رکو یوں نہ کہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے اور کہا ہے یوں کہا کر و اللہ تمہارے لئے اسے مبارک کر ے تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے۔
حدیث نمبر: 15741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ ، فَقَالُوا : بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ ، فَقَالَ : لَا تَقُولُوا ذَاكُمْ ، قَالُوا : فَمَا نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ ؟ قَالَ : " قُولُوا : بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ . إِنَّا كَذَلِكَ كُنَّا نُؤْمَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب نے بنوجعشم کی ایک عورت سے شادی کر لی لوگ انہیں مبارک باد دینے کے لئے آئے اور کہنے لگے کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو گا اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے انہوں نے فرمایا : رکو یوں نہ کہو لوگوں نے پوچھا کہ اے ابویزید پھر کیا کہیں انہوں نے فرمایا : یوں کہا کر و اللہ تمہارے لئے اسے مبارک کر ے تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے ہمیں اسی کا حکم دیا گیا تھا۔