حدیث نمبر: 15672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّ فِي السُّبْحَةِ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا ، م: 701
حدیث نمبر: 15673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْقَبْرُ ؟ " قَالُوا : قَبْرُ فُلَانَةَ , قَالَ : " أَفَلَا آذَنْتُمُونِي ؟ " قَالُوا : كُنْتَ نَائِمًا ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلُوا ، فَادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ " , فَصَفَّ عَلَيْهَا فَصَلَّى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی قبر پر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ کس کی قبر ہے لوگوں نے بتایا فلاں عورت کی قبر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں لوگوں نے عرض کیا : کہ آپ سوئے ہوئے تھے آپ کو جگانا ہمیں اچھا معلوم نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا نہ کیا کر و بلکہ جنازے میں بلالیا کر و اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی قبر پر صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ : قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ " , قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى جَنَازَةً , قَامَ حَتَّى تُجَاوِزَهُ ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ ، وَلَّى ظَهْرَهُ الْمَقَابِرَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے سیدنا ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا ، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک جوتی سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْثُرُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ ، فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ ، إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ , وَمَا لَا أُحْصِي : " يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ " , وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 15679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ ، قَالَ : فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : ذَاكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ , قَالَ شُعْبَةُ , فَقُلْتُ لَهُ : كَأَنَّهُ أَجَازَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : كَأَنَّهُ أَجَازَهُ , قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ ، فَقَالَ : " أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ ؟ " فَقَالَتْ : رَأَيْتُ ذَاكَ ، فَقَالَ : " وَأَنَا أَرَى ذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس بات کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : کیا تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دو جوتیوں پر راضی ہواس نے کہا جی ہاں شعبہ نے عاصم سے اس کا مطلب پوچھا کہ اس سے اجازت مراد ہے انہوں نے کہا ہاں دوسری مرتبہ ملاقات ہو نے پر عاصم نے اس میں عورت کا جواب یہ نقل کیا کہ میں اسے صحیح سمجھتی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میری بھی یہی رائے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 15680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً ، لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا صَلَّى عَلَيَّ ، فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
حدیث نمبر: 15681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا ، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ ، فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ ، فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ " , قُلْتُ لَهُ : مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیآ کر یں گے اور کبھی تاخیر کر دیآ کر یں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کر دیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ ، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15683
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا، م: 701
حدیث نمبر: 15685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَإِنْ لَمْ تَكُ مَاشِيًا مَعَهَا , فَقُمْ لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكَ أَوْ تُوضَعَ " , قَالَ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رُبَّمَا تَقَدَّمَ الْجِنَازَةَ فَقَعَدَ ، حَتَّى إِذَا رَآهَا قَدْ أَشْرَفَتْ , قَامَ حَتَّى تُوضَعَ ، وَرُبَّمَا سَتَرَتْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے سیدنا ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1093، م: 701
حدیث نمبر: 15687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ ، فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
حدیث نمبر: 15688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَسْتَاكُ مَا لَا أَعُدُّ , وَلَا أُحْصِي وَهُوَ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا صَلَّى عَلَيَّ أَحَدٌ صَلَاةً إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ يُصَلِّي عَلَيَّ ، فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
حدیث نمبر: 15690
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً " فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
حدیث نمبر: 15691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ ، فَأَجَازَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا , قَالَ : لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ ، فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً ، حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ ؟ قَالَ : لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ ، فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا ، فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر بن ربیعہ جو بدری صحابی تھے مروی ہے کہ بعض مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ فرماتے تو بیٹا ہمارے پاس سوارئے چند کھجوروں کے اور کوئی چیز نہ ہو تی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ایک ایک مٹھی تقسیم کر دیتے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آجاتی عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اباجان ایک کھجور آپ کے کس کام آتی ہو گی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یوں نہ کہو جب ہمیں ایک کھجور بھی نہ ملی تو ہمیں اس کی قدر آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاختلاط المسعودي
حدیث نمبر: 15693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ بَعْدِي يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا ، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ ، فَلَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ ، فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ فَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ " قُلْتُ : مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُخْبِرُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیآ کر یں گے اور کبھی تاخیر کر دیآ کر یں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کر دیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پوچھا : یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ حدیث عبداللہ بن عامر نے اپنے والد کے حوالے سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ تسلسل سے کیا کر و کیونکہ ان دونوں کے درمیان تسلسل فقر و فاقہ اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتا ہے کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله ، وقد اضطرب فى هذا الحديث، و ابن جريج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 15695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى الرَّاحِلَةِ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر اپنی سواری پر ہی سر کے اشارے سے نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی دوسری طرف ہی ہوتا البتہ فرض نمازوں میں اس طرح نہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1097، م: 701
حدیث نمبر: 15696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحُسَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَلَيْسَتْ عَلَيْهِ طَاعَةٌ ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، فَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ ، لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ , أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، إِلَّا مَحْرَمٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ " , قَالَ حُسَيْنٌ : " بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس پر کسی کی اطاعت کا ذمہ نہ ہواور مر جائے تو جاہلیت کی موت مرا اور اگر کسی اطاعت کا عہد کرنے بعد اپنے گلے سے اتار پھینکے تو اللہ اسے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ خبردار کوئی مرد کسی غیر محرم کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شخص شیطان ہوتا ہے الاّ یہ کہ وہ محرم ہو کیونکہ شیطان ایک کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور دو سے دور ہوتا ہے۔ جسے اپنا گناہ ناگوارگزرے اور اپنی نیکی سے خوشی ہو تو وہ مؤمن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَسْوَدُ : وَرُبَّمَا ذَكَرَ شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ وَالرِّزْقِ ، وَتَنْفِيَانِ الذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ تسلسل سے کیا کر و کیونکہ ان دونوں کے درمیان تسلسل فقر وفاقہ اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتا ہے کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: تزيد فى العمر والرزق، وهذا إسناد ضعيف علته عاصم، وقد اضطرب فيه، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 15698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , يُحَدِّثُ , عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ ، وَقَالَ مَرَّةً , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَنْفِيَانِ الذُّنُوبَ وَالْفَقْرَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ " , قَالَ سُفْيَانُ : لَيْسَ فِيهِ أَبُوهُ " ويزيد في العمر " مئة مرة .
مولانا ظفر اقبال
عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ تسلسل سے کیا کر و کیونکہ ان دونوں کے درمیان تسلسل فقر و فاقہ اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتا ہے کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: ويزيد فى العمر، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
حدیث نمبر: 15699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ , أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَحَدُ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ , فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م:958
حدیث نمبر: 15700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا , أَبِي , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ : انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ ، قَالَ : فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخَمَرَ , قَالَ : فَوَضَعَ عَامِرٌ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ صُوفٍ ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي ، فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ فَرْقَعَةً ، فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا ، فَلَمْ يُجِبْنِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ ، قَالَ : فَضَرَبَ صَدْرَهُ بيده ، ثُمَّ قَال : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا " قَالَ : فَقَامَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ ، أَوْ مِنْ نَفْسِهِ ، أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ ، فَلْيُبَرِّكْهُ ، فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف غسل کے ارادے سے نکلے وہ دونوں کسی آڑ کی تلاش میں تھے سیدنا عامر نے اپنے جسم سے اون کا بنا ہوا جبہ اتارا میری نظر ان پر پڑی تو وہ پانی میں اترچکے تھے اور غسل کر رہے تھے اچانک میں نے پانی میں ان کے پکارنے کی آواز سنی میں فورا وہاں پہنچا تو انہیں تین مرتبہ آواز دی لیکن انہوں نے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور اس واقعہ کی خبردی نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے اس جگہ پر تشریف لائے اور پانی میں غوطہ لگایا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی اب تک اپنی نظروں میں پھرتی محسوس ہو تی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اے اللہ اس کی گرمی سردی اور بیماری کو دور فرما وہ اس وقت کھڑے ہو گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی جان میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے تعجب میں مبتلا کر دے تو اس کے لئے برکت کی دعا کر ے کیونکہ نظر لگ جانا برحق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف مع وهم فيه ، أمية بن هند مجهول الحال
حدیث نمبر: 15701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جُرْجَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : رَأَى عَامِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1093، م: 701، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُرَيْجٌ : ابْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عمرہ دوسرے عمرے تک درمیان کے گناہوں اور لغزشوں کا کفارہ ہوتا ہے اور حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن