حدیث نمبر: 15592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَجُلًا , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَأَنَا أَرْحَمُهَا ، أَوْ قَالَ : إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا ، فَقَالَ : " وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ ، وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں جب بکری ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر ترس آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا : اگر تم بکری پر ترس کھاتے ہو تو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مہینے تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا کہ یہ روزانہ روزہ رکھنے کے اور کھولنے کے مترادف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15594
حدیث نمبر: 15595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ ؟ " قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ : " أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ ؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا ؟ قَالَ : " بَلْ لِكُلِّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس شخص سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنے بیٹے سے محبت ہے اس نے کہا یا رسول اللہ ! جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں اللہ بھی آپ سے اسی طرح محبت کر ے پھر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غائب رہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں شخص کا کیا بنا لوگوں نے بتایا کہ اس کا بیٹافوت ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم کیا اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے یا ہم سب کے لئے ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سب کے لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ ، وَلَا يَزَالُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفرومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ , لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا قرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفرومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح