حدیث نمبر: 15529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحَبْرَانِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِبْلٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن پڑھا کر و اس میں حد سے زیادہ غلونہ کر و اس سے جفاء نہ کر و اسے کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اس سے اپنے مال و دولت کی کثرت حاصل نہ کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 15530
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمْ الْفُجَّارُ " قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ ؟ قَالَ : " بَلَى , وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ ، وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اکثرتجار ' فاسق وفجار ہوتے ہیں کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا اللہ نے بیع کو حلال نہیں قرار دیا فرمایا : کیوں نہیں لیکن یہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسم اٹھا کر گنہگار ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 15531
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّار " ِقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَنْ الْفُسَّاقُ ؟ قَالَ : " النِّسَاءُ " قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجَنَا ؟ قَالَ : " بَلَى , وَلَكِنَّهُمْ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ ، وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فساق ہی دراصل جہنم ہیں کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! فساق سے کون لوگ مراد ہیں فرمایا : خواتین سائل نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا خواتین ہی ہماری مائیں بہنیں اور بیویاں نہیں ہو تیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں لیکن بات یہ ہے کہ انہیں جب کچھ ملتا ہے تو یہ شکر نہیں کر تیں اور جب مصیبت آتی ہے تو صبر نہیں کر تیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 15532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَنْهَى عَنْ ثَلَاثٍ : عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ ، وَعَنِ افْتِرَاشِ السَّبُعِ ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے دسنا ہے کوے کی طرح سجدے میں ٹھونگیں مارنے سے درندے کی طرح سجدے میں بازو بچھانے سے اور ایک جگہ نماز کے لئے متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کر لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف تميم بن محمود
حدیث نمبر: 15533
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ , أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى فِي الصَّلَاةِ عَنْ ثَلَاث : نَقْرِ الْغُرَابِ ، وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ الْوَاحِدَ كَإِيطَانِ الْبَعِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے دسنا ہے کوے کی طرح سجدے میں ٹھونگیں مارنے سے درندے کی طرح سجدے میں بازو بچھانے سے اور ایک جگہ نماز کے لئے متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کر لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف تميم بن محمود
حدیث نمبر: 15534
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثَةٍ ؛ فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف تميم بن محمود
حدیث نمبر: 15535
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن پڑھا کر و اس میں حد سے زیادہ غلونہ کر و اس سے جفاء نہ کر و اسے کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اس سے اپنے مال و دولت کی کثرت حاصل نہ کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي