حدیث نمبر: 15387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلَ ، الْبَيْتَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وِجَاهَكَ حِينَ تَدْخُلُ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عثمان بن طلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر دو رکعتیں پڑھیں تھیں دوسری سند کے مطابق داخل ہوتے وقت بالکل سامنے دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں سیدنا عثمان بن طلحہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے اندر داخل ہوتے وقت بالکل سامنے دوستونوں کے درمیان دو رکعتیں پڑھی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، عروة بن الزبير لم يسمع من عثمان بن طلحة
حدیث نمبر: 15388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ جَوْشَنٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ نَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ ، وَحْدَهُ " , قَالَ : هُشَيْمٌ مَرَّةً أُخْرَى : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُعَدُّ وَتُدَّعَى ، وَكُلَّ دَمٍ أَوْ دَعْوَى مَوْضُوعَةٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ ، إِلَّا سِدَانَةَ الْبَيْتِ ، وَسِقَايَةَ الْحَاجِّ ، أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ , قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ ، مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا " ، وَقَالَ مَرَّةً : " أَرْبَعُونَ مِنْ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهُنَّ خَلِفَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے بندے کی مدد فرمائی ہے اور اکیلے ہی تمام لشکر وں کو شکست سے دوچار کیا ہے یاد رکھو زمانہ جاہلیت میں جو چیز بھی قابل فخر سمجھتی تھی اور ہر خون کا یا عام دعوی آج میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے البتہ بیت اللہ کی کنجی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کا منصب برقرار رہے گا یاد رکھو ہر وہ شخص جو شبہ عمد کے طور پر کسی کوڑے لاٹھی یا پتھر سے مارا جائے اس میں دیت مغلظہ واجب ہو گئی یعنی سو ایسے اونٹ جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۔ قاسم بن ربیعہ سے گزشتہ حدیث میں یہ منقول ہے کہ ہر وہ شخص جو شبہ عمد کے طور پر کسی کو کوڑے لاٹھی یا پتھر سے مارا جائے اس میں دیت مغلظہ واجب ہو گی یعنی سو ایسے اونٹ جن میں چالیس حاملہ اونٹیناں ہوں گی جو شخص اس میں ایک اونٹ کا بھی اضافہ کر ے وہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں میں سے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 15389
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : " وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ مِئَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا ، فَمَنْ ازْدَادَ بَعِيرًا ، فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے اسی کے قریب قریب مروی ہے کہ البتہ اس میں سو اونٹوں کی تفصیل اس طرح ہے کہ تین حقے تین جذعے تیس بنت لبون اور چالیس حاملہ اونٹنیاں واجب ہوں گی جو آئندہ سال بچہ جنم دے سکیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو متصل بالاسناد الذى قبله
حدیث نمبر: 15390
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَرِيبٍ مِنْ ذَلِكَ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِئَةٌ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثُونَ حِقَّةً ، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً ، وَثَلَاثُونَ بَنَاتُ لَبُونٍ ، وَأَرْبَعُونَ ثَنِيَّةً خَلِفَةً إِلَى بَازِلِ عَامِهِ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، القاسم بن ربيعة يروي عن عقبة بن أوس، عن رجل من أصحاب النبى ﷺ