حدیث نمبر: 15311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ ، لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ ، ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنَ السُّوقِ ، فَقَالَ : " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : ہے یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ يُحَدِّثُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ ، وَلَيْسَ عِنْدِي ، أَفَأَبِيعُهُ ؟ قَالَ : " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر اس شرط سے بیعت کی تھی کہ میں ساری رات خراٹے لے کر نہیں گزاروں گا بلکہ قیام کر وں گا۔ سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : ہے یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: بايعت رسول الله ﷺ على أن لا أخر إلا قائما، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي " , قَالَ : أَيُّوبُ أَوْ قَالَ : سِلْعَةً لَيْسَتْ عِنْدِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع فرمایا ہے جو چیز میرے پاس نہیں ہے اسے فروخت کر وں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا ، رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سعيد ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُطْلَبُ مِنِّي الْمَتَاعُ وَلَيْسَ عِنْدِي ، أَفَأَبِيعُهُ لَهُ ؟ قَالَ : " لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ , أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَصْمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَشْتَرِي بُيُوعًا ، فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْهَا ، وَمَا يُحَرَّمُ عَلَيَّ ، قَالَ : " فَإِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا ، فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ یا رسول اللہ ! میں خریدو فروخت کرتا رہتا ہوں اس میں میرے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی چیز خریدا کر و تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کر و جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری باقی رکھ کر کیا جائے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ ، وَصِلَةِ رَحِمٍ ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَف مِنْ خَيْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانہ جاہلیت سے قبل از نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ " , وَالتَّحَنُّثُ : التَّعَبُّدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانہ جاہلیت سے قبل نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15320
(حديث مرفوع) قال : عَبْد اللَّهِ بن أحمد , قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ , أَيُّهَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ " عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو قریبی ضرورت مند رشتہ دار پر ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين
حدیث نمبر: 15321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ ؟ فَأَلْحَفْتُ ، فَقَالَ : " يَا حَكِيمُ ، مَا أنْكَرَ مَسْأَلَتَكَ يَا حَكِيمُ ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، وَإِنَّمَا هُوَ مَعَ ذَلِكَ أَوْسَاخُ أَيْدِي النَّاسِ ، وَيَدُ اللَّهِ فَوْقَ يَدِ الْمُعْطِي ، وَيَدُ الْمُعْطِي فَوْقَ يَدِ الْمُعْطَى ، وَأَسْفَلُ الْأَيْدِي يَدُ الْمُعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حکیم مجھے تمہاری درخواست پر تمہیں دینے میں کوئی انکار نہیں ہے لیکن حکیم یہ مال سرسبز شیریں ہوتا ہے نیز اس کے ساتھ لوگوں کے ہاتھوں کا میل بھی ہوتا ہے اللہ کا ہاتھ دینے والے ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے اوپر ہوتا ہے اور سب سے نچلا ہاتھ لینے والے کا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا ، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ , قَالَ : كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ فِي النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ ، فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ ، فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً ، فَأَبَى ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ " , فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں بھی مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے جب آپ نے اعلان نبوت فرمایا : اور مدینہ منورہ چلے گئے تو ایک مرتبہ حکیم موسم حج میں جبکہ وہ کافر ہی تھے شریک ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ذی یزن کا ایک قیمتی جوڑا فروخت ہو رہا ہے انہوں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کے لئے پچاس دینار میں خرید لیا اور وہ لے کر مدینہ منورہ پہنچتے تو انہوں نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے وصول کر یں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ ہم مشرکین کی کوئی چیز قبول نہیں کرتے البتہ اگر تم چاہتے ہو تو ہم سے قیمت لے لو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وہ جوڑا ہدیتہ لینے سے انکار کر دیا تو میں نے قیمتا ہی وہ آپ کو دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابيِ : الْخِيَارُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا ، فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں عبداللہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد صاحب کی کتاب میں یہ اضافہ بھی پایا ہے کہ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا ، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2108، م: 1532، محمد بن جعفر سمع من ابن أبي عروبة بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 15326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَعْف يُعِفَّهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کیا کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں اور جو شخص استغناء کرتا ہے اللہ اسے مستغنی کر دیتا ہے۔ اور جو بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچالیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ ، مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا ، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا ، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا ، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا " , وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : مُحِقَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شعبه , عَنْ مِثْلِهِ , قَالَ : " مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ مَوْهَبٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ يَأْتِنِي أَوَلَمْ يَبْلُغْنِي ، أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنَّكَ تَبِيعُ الطَّعَامَ ، قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلَا تَبِعْ طَعَامًا حَتَّى تَشْتَرِيَهُ وَتَسْتَوْفِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ جیسے مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم غلے کی خریدو فروخت کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب غلہ خریدا کر و تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کر و جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال صفوان بن موهب، وعبدالله بن محمد مجهول، لكنهما توبعا
حدیث نمبر: 15329M
قَالَ : عَطَاءٌ , وَأَخْبَرَنِيه أَيْضًا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَصْمَةَ الْجُشَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكيين / حدیث: 15329M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن