حدیث نمبر: 14425
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بن عبد الله ، فَقُلْتُ : الضَّبُعَ آكُلُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَسَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا کہ میں اسے کھا سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! میں نے پوچھا : کیا یہ شکار ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں! میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے انہوں نے فرمایا : جی ہاں۔
حدیث نمبر: 14426
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ زِحَامٌ ، قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : صَائِمٌ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ أَوْ الْبِرَّ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے، پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14427
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ . ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ ، فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ ! قَالَ : " إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ ، فَقُومُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے؛ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ تو ایک یہو دی کا جنازہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موت کی ایک پریشانی ہو تی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کرو۔
حدیث نمبر: 14428
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا " أَوْ " جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمری“ اس کے اہل کے لئے جائز ہے، یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔
حدیث نمبر: 14429
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ مِثْلَهُ ، كَذَا قَالَ يَحْيَى .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14430
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : قَالَ لِي جَابِرٌ : قَالَ : سَأَلَنِي ابْنُ عَمِّكَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ، فَقُلْتُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا " فَقَالَ : إِنِّي كَثِيرُ الشَّعْرِ ، فَقُلْتُ : مَهْ يَا ابْنَ أَخِي ، كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا : انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے، وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حدیث نمبر: 14431
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ : " إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ " ، قَالَ يَحْيَى : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : " وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا " وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ أَعْلَى بِهَا صَوْتَهُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ " وَأَوْمَأَ وَصَفَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا : سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے،سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے، بدترین چیز نوایجاد ہیں، پھر جوں جوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کا تذکرہ فرماتے جاتے، آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی، اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 14432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي مُحَارِبٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ ، فَقَضَانِي ، وَزَادَنِي ، وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ لِي : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام پر میرا کچھ قرض تھا، نبی علیہ السلام نے وہ ادا کر دیا اور مجھے مزید بھی عطا فرمایا، اس وقت نبی علیہ السلام مسجد میں تھے اس لئے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ آؤ۔
حدیث نمبر: 14433
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ ، فَقُومُوا ، فَصَلُّوا عَلَيْهِ " فَقَامَ ، فَأَمَّنَا ، فَصَلَّى عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی اصحمہ کا انتقال ہو گیا ہے، آؤ صفیں باندھو، چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
حدیث نمبر: 14434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَغْلِقْ بَابَكَ ، وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ ، وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ ، وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ ، وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ ، وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دروازے بند کر لیا کر و اور اس وقت اللہ کا نام لیا کر و کیونکہ جس دروازے پر اللہ کا نام لیا جائے اسے شیطان نہیں کھول سکتا چراغ بجھادیا کر و اور اس پر اللہ کا نام لیا کر و اور اللہ کا نام لے کر مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و اور بسم اللہ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و خواہ کسی لکڑی سے ہی ہو ۔
حدیث نمبر: 14435
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَحْدَهُ ، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرۂ اولٰی کو کنکر یاں ماریں، اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔
حدیث نمبر: 14436
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، وَذَكَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ كَانُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، وَإِنَّا صَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ سَجَدَ ، وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ ، فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ ، وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ ، وَجَلَسَ ، انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا ، قَالَ جَابِرٌ : كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھنے کا موقع ملاہے، اس وقت دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھا، ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکبیر کہی، پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا، جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والے سجدے میں چلے گئے، اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آ گئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آ گئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کر لیا اور سب نے اکٹھے ہی سلام پھیرا، جیسے آج کل تمہارے حفاظتی دستے اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14437
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِحَصَى الْخَذْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی۔
حدیث نمبر: 14438
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى تُشَقِّحَ " ، قُلْتُ : مَتَى تُشَقِّحُ ؟ قَالَ : تَحْمَارُّ وتَصْفَارُّ ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14439
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ : " أَنَا أَنَا ! " كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے میں نے کہا کہ میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں میں لگا رکھی ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 14440
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي بَنِي سَلِمَةَ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ ، قَالَ : فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَفْعَلَ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ ؟ قَالَ : " اغْتَسِلِي ، ثُمَّ اسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ ، ثُمَّ أَهِلِّي " ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ " وَلَبَّى النَّاسُ ، وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ ، وَنَحْوَهُ مِنَ الْكَلَامِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُمْ شَيْئًا ، فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي ، وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ شِمَالِهِ مِثْلُ ذَلِكَ ، قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ ، وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ ، فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ ، حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ ، فَاسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةً ، وَمَشَى أَرْبَعَةً ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي جَعْفَرًا فَقَرَأَ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، ثُمَّ قَالَ : " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا ، حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ ، وَصَدَقَ عَبْدَهُ ، وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " ، ثُمَّ دَعَا ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ ، ثُمَّ نَزَلَ ، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ ، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى ، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ ، فَرَقِيَ عَلَيْهَا ، حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا ، فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ ، قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً " فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ ، فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ ، فَقَالَ : " لِلْأَبَدِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَدِمَ بِهَدْيٍ ، وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنَ الْمَدِينَةِ هَدْيًا ، فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا ، وَاكْتَحَلَتْ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ جَعْفَرٌ ، قَالَ أَبِي : هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ ، قُلْتُ : إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ ، وَقَالَتْ : أَمَرَنِي بِهِ أَبِي ! قَالَ : " صَدَقَتْ ، صَدَقَتْ ، صَدَقَتْ ، أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ " ، قَالَ جَابِرٌ ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ : " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُمَّ ، إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ ، قَالَ : وَمَعِي الْهَدْيُ ، قَالَ : " فَلَا تَحِلَّ " ، قَالَ : فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ ، وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِئَةً ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ ، فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ نَحَرْتُ هَاهُنَا ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ " وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : " وَقَفْتُ هَاهُنَا ، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، فَقَالَ : " قَدْ وَقَفْتُ هَاهُنَا ، وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
امام باقر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ بنو سلمہ میں تھے، ہم نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا: انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نو برس مدینہ میں رہے حج نہیں کیا (ہجرت کے بعد) دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ اللہ کے رسول حج کرنے والے ہیں تو مدینہ میں بہت لوگ آئے، ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور تمام اعمال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانند کریں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیس ذیقعدہ کو نکلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، تو انہوں نے کسی کو بھیج کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا کروں ؟ فرمایا : ”نہا لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لو۔ “ خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی مقام بیداء میں سیدھی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ توحید پکارا اور یہ کہا: «لبيك اللهم لبيك . . . . . . . . .» اور لوگوں نے بھی یہی تلبیہ کیا جو آپ نے کیا، کچھ لوگوں نے اس میں ”ذاالمعارج“ وغیرہ کا بھی اضافہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنتے بھی رہے لیکن انہیں کچھ کہا نہیں، میں نے تاحد نگاہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں پیدل اور سوار دیکھے، یہی حال پیچھے کا ، دائیں اور بائیں کا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ، ان پر قرآن نازل ہوتا تھا وہ اس کا مطلب جانتے تھے، لہٰذا وہ جو بھی کرتے ہم بھی اس طرح کرتے تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہماری نیت صرف حج کی تھی، جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعتیں پڑھ کر فرمایا : «واتخذو من مقام ابراهيم مصلي» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں میں «قل ياايها الكافرون» اور «قل هو الله احد» پڑھی، پھر بیت اللہ کے قریب واپس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دروازے سے صفا کی طرف نکلے، جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی «ان الصفا والمروة من شعائر الله» ہم بھی اسی سے ابتداء کریں گے جسے اللہ نے پہلے ذکر فرمایا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی صفا پر چڑھے جب بیت اللہ پر نظر پڑی تو تکبیر کہہ کر فرمایا : «لا اله الله وحده لاشريك . . . . . . . . الخ » پھر اس کے درمیان یہ دعا کی اور یہی کلمات تین بار دہرائے پھر وہ مروہ کی طرف اترے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشیب میں رمل کیا (کندھے ہلا کر تیز چلے) جب اوپر چڑھنے لگے تو پھر معمول کی رفتار سے چلنے لگے اور مروہ پر بھی وہی کیا جو صفا پر کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر ساتواں چکر لگا لیا، تو فرمایا : ”اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج کو عمرہ کر دیتا، تو تم میں سے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے اور اس حج کو عمرہ بنا لے۔ “ تو سب لوگ حلال ہو گئے ۔ پھر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی یہ حکم ہمیں اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر فرمایا : ”عمرہ حج میں اس طرح داخل ہو گیا ہے۔ “ پھر تین مرتبہ فرمایا : ”ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیاں لے کر پہنچے تو دیکھا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حلال ہو کر رنگین کپڑے پہنے ہوئے سرمہ لگائے ہوئے ہیں، تو انہیں اس پر تعجب ہوا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نے مجھے یہی حکم دیا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بعد میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، فاطمہ عنہا کے اس عمل پر غصہ کی حالت میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات پوچھنے کے لئے جو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے حوالہ سے ذکر کی کہ ایام حج میں حلال ہو کر رنگین کپڑے پہنیں اور سرمہ لگائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس نے سچ کہا میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا“ ، پھر فرمایا : ”اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا“ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں جو آپ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ساتھ تو ہدی ہے، تو تم بھی حلال مت ہونا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے جو اونٹ لائے تھے سب ملا کر سو ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے اور باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیئے جو انہوں نے نحر کیے اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق ہر اونٹ سے گوشت کا ایک پارچہ لے کر ایک دیگ میں ڈال کر پکایا گیا، پھر آپ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربہ پیا ۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے قربانی یہاں کی ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے“ اور عرفات میں وقوف کر کے فرمایا : ”میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا عرفات ہی وقوف کی جگہ ہے “ اور مزدلفہ میں وقوف کر کے فرمایا : ”میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔ “
حدیث نمبر: 14441
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : " أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ " ، قَالَ : وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ؟ قَالَ : " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي ، وَلَسْتُ مِنْهُمْ ، وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ ، وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ ، أَوْ قَالَ : بُرْهَانٌ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ ، النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا ، وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے“ انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی کیا ہے، اس سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئیں گے میرے طریقے کی پیروی نہ کریں گے اور میری سنت کو اختیار نہ کریں گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آ سکیں گے لیکن جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کریں گے اور ان کے ظلم میں تعاون نہ کر یں گے تو وہ لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے ۔ اے کعب بن عجرہ ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے یا یہ فرمایا کہ دلیل ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! جنت میں کوئی ایسا وجود داخل نہیں ہو سکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی ہو اور جہنم اس کی زیادہ حقدار ہو گی ، اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو گے کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر اسے آزاد کر دیں گے اور کچھ اسے خرید کر ہلاک کر دیں گے ۔
حدیث نمبر: 14442
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا ، وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا ، وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ ، إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ ، فَأَنَا عَنْهُ أَغْنَى مِنْكَ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ ، سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ ، فَقَضَمَهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا وہ اونٹ قیامت کے دن سب سے زیادہ تنومند ہو کر آئیں گے اور ان کے لئے نرم زمین بچھائی جائے گی جس پر وہ اپنے مالک کو اپنے پیروں اور کھروں سے روندیں گے اور گایوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے ان کے لئے نرم زمین بچھائی جائے گی وہ اسے سینگ ماریں گی اور اپنے پاؤں تلے روندیں گی اور بکریوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا وہ قیامت کے دن پہلے سے صحت مند نظر آئیں گی ان کے لئے نرم زمین بچھائی جائے گی اور وہ اسے سینگ ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی، ان بکریوں میں کوئی بھی بے سینگ یا ٹوٹے ہوئے سینگ والی نہ ہو گی اور خزانے کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا ، جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچے گا تو وہ اسے دیکھ کر بھاگے گا، اس وقت پروردگار عالم اسے پکار کر کہیں گے اپنے اس خزانے کو پکڑ تو سہی جسے تو جمع کر کر کے رکھتا تھا ، میں تو تجھ سے بھی زیادہ اس سے مستغنی تھا، جب وہ شخص دیکھے گا کہ اس سانپ سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا وہ سانپ اس کے ہاتھ کو اس طرح چبا جائے گا جیسے بیل چبا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14442M
قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَقُّ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا ، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا ، وَمَنِيحَتُهَا ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا : " وَقَعَدَ لَهَا " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : هَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایک آدمی نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پر اس کا دودھ دوہنا، اس کا ڈول کسی کو مانگنے پر دینا، اس کا نر مانگنے پر کسی کو دینا، اسے ہبہ کر دینا، اور جہاد فی سبیل اللہ کے موقع پر اس پر سوار ہونا۔
حدیث نمبر: 14443
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو (بلکہ تبادلے ہی کو مہر فرض کر لیا گیا ہو ) ۔
حدیث نمبر: 14444
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِي ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا ، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بَلَى ، فَجُدِّي نَخْلَكِ ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي ، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میری ایک خالہ کو طلاق ہو گئی، انہوں نے اپنے درختوں کے پھل کاٹنے کے لئے نکلنا چاہا لیکن کسی آدمی نے انہیں سختی سے باہر نکلنے سے منع کر دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا : تم جا کر اپنے درختوں کا پھل کاٹ سکتی ہو کیونکہ ہو سکتا ہے تم اسے صدقہ کرو یا کسی نیک کام میں استعمال کر و۔
حدیث نمبر: 14445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَرَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ كَتَبَ : أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ " ، قَالَ رَوْحٌ " يُتَوَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں۔
حدیث نمبر: 14446
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : " كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا حَيٌّ ، لَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنی ان باندیوں کو جو ہمارے بچوں کی مائیں ہو تی تھیں، فروخت کر دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 14447
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ ، وَرَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ ، وَامْرَأَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو، ایک یہودی مرد کو اور ایک عورت کو رجم فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 14448
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14449
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ عَنِ الضَّبُعِ ، قُلْتُ : آكُلُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : سَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا کہ میں اسے کھاسکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے پوچھا کیا یہ شکار ہے ؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 14450
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ ، " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا تھا البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں سے منع فرمایا تھا۔
حدیث نمبر: 14451
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ؟ ! وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، البتہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے، سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حدیث نمبر: 14452
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَلَا تَحْتَبِ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ ، وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ ، وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ ، وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 14453
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ ، فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ ، فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا جَفْنَةٌ ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : أَمَامَنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ ، وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ ، فَأَكَلَ عُمَرُ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گوشت پیش کیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کر کے نماز ظہر ادا کی، پھر باقی ماندہ کھانا منگوایا اور اسے تناول فرمایا : اور پھر وضو کئے بغیر نماز کے لئے کھڑے ہوئے اسی طرح ایک مرتبہ میں سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو ان کے دستر خوان پر ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں روٹی اور گوشت تھا اور ایک پیالہ وہاں رکھا گیا اس میں بھی روٹی اور گوشت تھا سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے اسے تناول فرمایا : اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔
حدیث نمبر: 14454
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صفوں کی درستگی اتمام نماز کا حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 14455
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ ، فَقَالَ : " غَيِّرُوهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس وقت ان کے سر کے بال ”ثغامہ“ بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے بالوں کا رنگ بدل دو، البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔
حدیث نمبر: 14456
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ ، وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى ، يَقُولُ : " مَنْ يُؤْوِينِي ؟ مَنْ يَنْصُرُنِي ؟ حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي ، وَلَهُ الْجَنَّةُ " حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ كَذَا قَالَ : فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ ، فَيَقُولُونَ : احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ ، لَا يَفْتِنُكَ ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ ، فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا ، فَيُؤْمِنُ بِهِ ، وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا ، فَقُلْنَا : حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا ، حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ ، فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ ، فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ ، حَتَّى تَوَافَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ ، لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي ، فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ ، وَلَكُمْ الْجَنَّةُ " ، قَالَ : فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ ، وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ ، فَقَالَ : رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ ، أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً ، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ ، وَأَنَّ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ ، فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ ، وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِينَةً ، فَبَيِّنُوا ذَلِكَ ، فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ، قَالُوا : أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ ، فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا ، وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا ، قَالَ : فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ ، فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ ، وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منیٰ میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا ؟ کون میری مدد کرے گا کہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے ؟ بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا ، کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گزرتے تو وہ انگلیوں سے ان کی طرف اشارہ کرتے، حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھا دیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی، چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے، حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو ، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف کے عالم میں رہیں ؟ چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے ، یہاں تک کہ جب ہم پورے ہو گئے، تو ہم نے عرض کی، یا رسول اللہ ! ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی ، اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی“ چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو سب سے چھوٹے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے : اے اہل یثرب ! ٹھہرو، ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں (یہ سمجھ لو) کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے، اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے، اگر تم اس پر صبر کر سکو تو تمہارا اجر و ثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہو جائے، اس پر تمام انصار نے کہا : اسعد ! پیچھے ہٹو ، بخدا ! ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے، چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پر ہم سے بیعت لے لی۔
حدیث نمبر: 14457
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُد يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : " حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مِصْرَ وَمِنْ الْيَمَنِ " ، وَقَالَ : " مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ " ، وَقَالَ " تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً " ، وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ : " لَا نَسْتَقِيلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14458
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مِصْرَ مِنَ الْيَمَنِ " ، وَقَالَ : " مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ " ، وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ : " تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً " ، وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ : " لَا نَسْتَقِيلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14459
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ لَا يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ ، لَا يَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مرتبہ ایک گدھے پر نظر پڑی جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں میں دھواں بھرا گیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کس نے کیا ہے؟ چہرے پر کوئی نہ داغے اور چہرے پر کوئی نہ مارے۔
حدیث نمبر: 14460
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أبَو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ، وَقَالَ : " إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا : مجھے معلوم نہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کر دی گئی تھیں۔
حدیث نمبر: 14461
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ظلم کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہو گا، اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلی قوموں کو ہلاک کر دیا تھا اور اسی بخل نے انہیں آپس میں خون ریزی اور محرمات کو حلال سمجھنے پر برانگیختہ کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 14462
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبِكَ جُنُونٌ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " أَحْصَنْتَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ ، فَرَّ فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرًا ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے متعلق بدکاری کا اعتراف کیا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا، جب اس طرح چار مرتبہ وہ اپنے متعلق گواہی دے چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم مجنوں تو نہیں ہو؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اسے عید گاہ میں سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا لوگوں نے اسے پکڑ کر اتنے پتھر مارے کہ وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق اچھے جملے کہے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائی۔
حدیث نمبر: 14463
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ، فَأَخَذُوا الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ ، فَذَبَحُوهَا وَمَلَئُوا مِنْهَا الْقُدُورَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ جَابِرٌ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَأْنَا الْقُدُورَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَأْتِيكُمْ بِرِزْقٍ هُوَ أَحَلُّ لَكُمْ مِنْ ذَا ، وَأَطْيَبُ مِنْ ذَا " ، قَالَ : فَكَفَأْنَا يَوْمَئِذٍ الْقُدُورَ وَهِيَ تَغْلِي ، فَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطُّيُورِ ، وَحَرَّمَ الْمُجَثَّمَةَ ، وَالْخِلْسَةَ ، وَالنُّهْبَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لوگ بھوک کا شکار ہو گئے، انہوں نے پالتوں گدھوں کو پکڑ کر ذبح کیا اور ہانڈیاں بھر کر چڑھا دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو انہوں نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اپنی ہانڈیاں الٹا دیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تمہیں ایسا رزق عطاء فرمائے گا جو اس حلال اور زیادہ پاکیزہ ہو گا، چنانچہ اس دن ہم نے ابلتی ہوئی ہانڈیاں اٹھا دی تھیں، اور اسی موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتوں گدھوں اور خچروں کا گوشت، کچلی والے ہر درندے اور پنجے والے ہر پرندے، باندھ کر نشانہ بنائے جانے والے جانور اور جانور کے منہ سے چھڑائے ہوئے مرنے والے جانور اور جانور سے چھین کر مر جانے والے جانور کو حرام قرار دے دیا۔
…