حدیث نمبر: 14385
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ المعنى ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ : دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ : وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَثْعَبُ مَنْخِرَاهُ دَمًا ، قَالَ : فَقَالَ : " مَا لِهَذَا ؟ " ، قَالَ : فَقَالُوا بِهِ : الْعُذْرَةُ ، قَالَ : فَقَالَ : " عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ ، إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ ، فَفَعَلُوا فَبَرَأَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، اس وقت ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے دونوں نتھنوں سے خون جاری تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس بچے کو کیا ہوا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے گلے آئے ہوئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے بچوں کو عذاب میں کیوں مبتلا کرتی ہو ؟ تمہارے لئے تو یہی کافی ہے کہ قسط ہندی لے کر اسے پانی میں سات مرتبہ گھولو اور اس کے گلے میں ٹپکا دو، انہوں نے ایسا کر کے دیکھا تو بچہ واقعی ٹھیک ہو گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ : " أَلَا لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے، وہ اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2877
حدیث نمبر: 14387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى ، إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ ، حِينَ يَرْقُدُ ، فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ ، انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو مرد عورت بھی سوئے ، اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر وہ جاگنے کے بعد اللہ کا ذکر کر لے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے ، کھڑے ہو کر وضو کر لے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر کھڑے ہو کر نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَأْخُذْهَا ، فَلْيُمِطْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى ، وَلْيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہئے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2033
حدیث نمبر: 14389
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو، دو کا کھانا چار کو ، چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2059
حدیث نمبر: 14390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَمَصَّهَا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو جب تک اپنی انگلیاں نہ چاٹ لے اپنے تو لئے سے ہاتھ صاف نہ کرے ، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2033
حدیث نمبر: 14391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَ أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدٍ ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے، تو اسے اپنے گھر کے لئے بھی نماز کا کچھ حصہ رکھنا چاہئے، کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں خیروبرکت کا نزول فرما دیں گے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ ، فَلَمْ يَمَسَّ أَعْقَابَهُمْ الْمَاءُ ، فَقَالَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14393
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عن الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَتْ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " قَالَتْ : أُمُّ مِلْدَمٍ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ ، فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ ، فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا شِئْتُمْ ؟ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ ، فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَتَفْعَلُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالُوا : فَدَعْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بخار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیوں آئے ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ «ام ملدم» (بخار) ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اہل قباء کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، انہیں اس بخار سے جتنی پریشانی ہوئی، وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، چنانچہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بخار کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں اور وہ اسے تم سے دور کر دے اور اگر چاہو تو وہ تمہارے لئے پاکیزگی کا سبب بن جائے ؟“ اہل قباء نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں !“ اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر اسے رہنے دیجئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجالہ رجال الصحیح، و فی متنه غرابة ، وقد صح من حدیث عائشة عند البخاري: 1889، أن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم دعا للمدينه أن تنقل حماھا إلی الجحفة، والجحفة میقات أھل مصر والشام، وھی جنوب غرب المدينة قرب مدينة رابغ علی الساحل
حدیث نمبر: 14394
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَابْنُ نُمَيْر ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ، یا رسول اللہ ! اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کروں، اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 15، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14747، وفيه ذكر الصلوات المكتوبات وصيام رمضان
حدیث نمبر: 14395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے تو اسے اپنے گھر کے لئے بھی کچھ نماز کا حصہ بھی رکھنا چاہئے، کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گھر میں خیروبرکت کا نزول فرما دیں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14396
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ " ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ ! مجھے یہ بتائیں کہ کیا عمرہ کرنا واجب ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں البتہ بہتر ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 14398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، قَالَ : فَنَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال اپنے ساتھ ستر اونٹ لے کر گئے تھے، اور ایک اونٹ سات سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وأنظر: 14127
حدیث نمبر: 14399
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنَّا الصَّائِمُ ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، فَلَمْ يَكُنْ يَعِيبُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ نکلے تو کچھ نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا لیکن کسی نے دوسرے کو طعنہ نہیں دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1117
حدیث نمبر: 14400
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 3803، م: 2466
حدیث نمبر: 14401
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ ، طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے ، لیکن پاخانہ پیشاب کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے، نہ تھوک پھینکیں گے، ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14402
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر قحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اس وقت ان کے سر کے بال "ثغامہ" بوٹی کی طرح سفید ہو چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں ان کے خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ، اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو، البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 2102، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14403
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ ، أَوْ حَائِطٍ ، لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ بَاعَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مشترکہ جائیداد اور باغ میں حق شفعہ ہے اور اپنے شریک کو بتائے بغیر اسے بیچنا جائز نہیں ہے، اگر وہ بیچتا ہے تو اس کا شریک اس کا زیادہ حق دار ہے، یہاں تک کہ وہ اسے اجازت دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1608، وقد صرح أبو الزبير بسماعہ من جابر في بعض الطرق عند غیر المصنف
حدیث نمبر: 14404
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ " وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحاء تک ہے، یہ مدینہ منورہ سے تیس میل دور جگہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 388
حدیث نمبر: 14405
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَجَلَسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ لِيَجْلِسْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ "سلیک" آئے اور بیٹھ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے مختصر سی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 875
حدیث نمبر: 14406
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الْعَجْمِ ، يُمْنَعُونَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ ، قُلْنَا : مِنْ أَيْنَ ذَاكَ ؟ قَالَ : مِنْ قِبَلِ الرُّومِ ، يُمْنَعُونَ ذَاكَ ، قَالَ : ثُمَّ سَكَت هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ ، يَحْثُو الْمَالَ حَثْوًا ، لَا يَعُدُّهُ عَدًّا " ، قَالَ الْجُرَيْرِيُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ أَتَرَيَانِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ؟ فَقَالَا : لَا .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ فرمانے لگے عنقریب ایک زمانہ آئے گا جس میں اہل عراق کے پاس کوئی قفیز اور درہم باہر سے نہیں آسکے گا، ہم نے پوچھا کہ ایسا کیسے ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: یہ عجم کی طرف سے ہوگا وہ لوگ ان چیزوں کو روک لیں گے پھر، فرمایا کہ اہل شام پر بھی پھر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے یہاں بھی کوئی دینار اور مد باہر سے نہیں آسکے گا، ہم نے پوچھا کہ یہ کن کی طرف سے ہوگا؟ فرمایا کہ رومیوں کی طرف سے ہو گا وہ لوگ چیزوں کو روک لیں گے، پھر کچھ دیر وقفے کے بعد گویا ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھربھر مال دے گا اور اسے شمار تک نہیں کرے گا۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ اور ابوالعلاءسے پوچھا کہ آپ کی رائے میں وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2913
حدیث نمبر: 14407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا ، فَهُوَ لَهُ عمره حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے، خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14408
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر جیسی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہواور وہ اس میں پانچ مرتبہ روزانہ غسل کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 668
حدیث نمبر: 14409
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ ، خَالِصًا وَحْدَهُ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً " فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ : لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ ، فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى ، نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا ، فَخَطَبَنَا ، فَقَالَ : " قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ ، وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، مَا أَهْدَيْتُ ، حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً " ، قَالَ : وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ ، قَالَ " بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ " فَقَالَ : بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم یعنی صحابہ رضی اللہ عنہما نے صرف حج کا احرام باندھا، اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں، اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہو نے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آ جاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا، تم حلال ہو جاؤ اور اسے عمرہ بنا لو، وہ مزید کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ انہوں نے کہا، جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس طرح حالت احرام میں ہی رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1557، م: 1216
حدیث نمبر: 14410
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا صَائِمٌ ، فَقَالَ : " لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے، راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے، پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
حدیث نمبر: 14411
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، إِلَّا الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سدھارے ہوئے کتے کے علاوہ ہر کتے کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن أبى جعفر الجعفري، لكنه متابع، وأبو الزبير مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 14412
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى ، فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا " ، قَالَ : فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ : حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ ؟ قَالَ : لَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ میدان منیٰ کے تین دنوں کے علاوہ قربانی کا گوشت نہیں کھا سکتے تھے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اسے کھا بھی سکتے ہواور محفوظ بھی ہو سکتے ہو، چنانچہ ہم اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1719، م: 1972، ورواية مسلم وحده فيها ، قال: نعم، بدل: لا، وانظر « الفتح » : 553/9
حدیث نمبر: 14413
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا ، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہو نے کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1324
حدیث نمبر: 14414
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بن سعيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا ، طَوَافَهُ الْأَوَّلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے صفا مروہ کے درمیان صرف پہلی مرتبہ میں ہی سعی کی تھی اس کے بعد نہیں کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1215
حدیث نمبر: 14415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ ، وَلِيَسْأَلُوهُ ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تھی، تاکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ سکیں اور مسائل باآسانی معلوم کر سکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1273
حدیث نمبر: 14416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّاسُ : إِنَّمَا كَسَفَتْ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ ، وَتَأَخَّرَتْ الصُّفُوفُ مَعَهُ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ ، وَتَقَدَّمَتْ الصُّفُوفُ ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ ، إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ ، وَلَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ ، فَذَلِك حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ ، مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا ، حَتَّى قُلْتُ : أَيْ رَبِّ ، وَأَنَا فِيهِمْ ؟ وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ ، فَإِنْ فُطِنَ بِهِ ، قَالَ : إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَتْرُكْهَا ، تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا ، وَجِيءَ بِالْجَنَّةِ ، فَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي ، فَمَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا یہ وہی دن تھا جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم کا انتقال ہوا اور لوگ آپس میں کہنے لگے کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج کو بھی گرہن لگ گیا ، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوع کے ساتھ چار سجدے کرائے، چنانچہ پہلی رکعت میں تکبیر کہہ کر طویل قرأت کی پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر پہلے کچھ کم طویل قرأت کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھا کر دوسری قرأت سے کچھ کم طویل قرأت کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر سر اٹھا کر سجدے میں چلے گئے دو سجدے کئے اور پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت کے سجدے میں جانے سے قبل حسب مذکور تین مرتبہ رکوع کیا جس میں پہلا رکوع بعد والے کی نسبت زیادہ لمبا تھا البتہ ہر رکوع بقدر قیام ہوتا تھا، پھر دوران نماز ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹنے لگے جس پر لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹنے لگیں کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں جب نماز مکمل ہوئی تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا اور سورج نکل آیا تھا۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگو چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی انسان کی موت سے نہیں گہن ہوتیں جب تم کوئی ایسی چیز دیکھا کرو تو اس وقت نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہو جائے کیونکہ تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ جہنم کو بھی لایا گیا ہے یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ مجھے نہ لگ جائے حتی کہ میں نے عرض کیا : پروردگار ابھی تو میں ان کے درمیان موجود ہوں پھر جہنم کا اتنا زیادہ قرب ؟ میں نے جہنم میں ایک لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی گھسیٹ رہا تھا یہ اپنی لاٹھی کے ذریعے حجاج کرام کا مال چراتا تھا اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو یہ کہہ دیتا کہ یہ سامان میری لاٹھی سے چپک کر آگیا ہے اور اگر کوئی غافل ہوتا تو یہ اس پر سامان اس طرح لے جاتا میں نے اس میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا ہے جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے نہ کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ پالتی حتی کہ اس حال میں وہ مر گئی اسی طرح میرے سامنے جنت کو بھی لایا گیا۔ یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے ہوئے دیکھا تھا میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ارادہ کیا کہ اس کے کچھ پھل توڑ لوں تاکہ تم بھی دیکھ سکو لیکن پھر مجھے ایسا کرنا مناسب نہ لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 904
حدیث نمبر: 14418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمَرَنَا بَعْدَ مَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ ، قَالَ : " فإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى ، فَأَهِلُّوا " فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجۃ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منیٰ کی طرف روانگی کا ارادہ کر و تو دوبارہ احرام باندھ لینا چنانچہ ہم نے وادی بطحاء سے احرام باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1214
حدیث نمبر: 14419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، يَقُولُ : " لَتَأخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر سوار ہو کر رمی جمرات کرتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے کہ مجھ سے مناسک حج سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ سال دوبارہ حج کر سکوں گا یا نہیں؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1297
حدیث نمبر: 14420
رقم الحديث: 14131 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ ، وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ، ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَوَعَظَهُنَّ ، وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " تَصَدَّقْنَ ، فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ " ، فَقَالَتْ : امْرَأَةٌ مِنْ سَفَلَةِ النِّسَاءِ ، سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ ، يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ، يَتَصَدَّقْنَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اللہ کی حمد وثناء بیان کی، لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر عورتوں کی طرف گئے اور وہاں بھی اللہ کی حمدوثناء بیان کی، انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تم صدقہ کیا کر و کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے، ایک نچلے درجے کی دھنسے ہوئے رخساروں والی عورت نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ تم شکوہ بہت زیادہ کر تی ہو، اپنے خاوند کی ناشکر ی بہت کر تی ہو، یہ سن کر عورتیں اپنے زیور، ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتاراتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
حدیث نمبر: 14421
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعٍ ، نَشْتَرِكُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس بات سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ مشترکہ طور پر سات آدمی ایک گائے کی قربانی دے دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1318
حدیث نمبر: 14423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر مارا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1959
حدیث نمبر: 14424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ، وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2116