حدیث نمبر: 14346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارِيَةً ، وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَائسنا ، أَطُوفُ عَلَيْهَا ، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، قَالَ : " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، قَالَ : فَلَبِثَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ ، قَالَ : " قَدْ أَخْبَرْتُكَ ، أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے ، میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں، لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہو تو اس سے عزل کر لیا کرو ، ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا ، چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1439 ، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
حدیث نمبر: 14347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَمُطِرْنَا قَالَ : " لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے تو راستے میں بارش ہو نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے، وہ وہیں نماز پڑھ لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن صح الحديث عن غير واحد من الصحابة
حدیث نمبر: 14348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً ، إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”وہی جانور ذبح کیا کرو جو سال بھر کا ہو چکا ہو ، البتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کر سکتے ہو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 1963
حدیث نمبر: 14349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا غُولَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بیماری متعدی ہونے بدشگونی اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2222، وقد صرح أبو الزبير بسماعه من جابر فيما سيأتي برقم: 15103
حدیث نمبر: 14350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَطِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1536، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وهو متابع
حدیث نمبر: 14351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أبوالزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُصِيبُ مِنَ الْبُسْرِ ، وَمِنْ كَذَا ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُحْرِثْهَا أَخَاهُ ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم لوگ زمین کو بٹائی پر دے دیتے تھے جس سے ہمیں کچی اور دوسری کھجوریں مل جاتی تھیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ جس شخص کے پاس زمین ہو ، اسے خود کاشت کرنی چاہیے یا اپنے بھائی کو اجازت دے دے، ورنہ چھوڑ دے (کرائے پر نہ دے )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 14353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ سَأَلْتُ جَابِرًا " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ ، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ : وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عباد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اس گھر کے رب کی قسم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1984، م: 1143
حدیث نمبر: 14354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ الْأُولَى يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، وَرَمَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولیٰ کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1299، وفيه: « وأما بعد، فإذا زالت الشمس » وانظر الحديث الآتي برقم: 14435
حدیث نمبر: 14355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا ، إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ ، وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”روزانہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلم کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو دعا بھی کرے گا ، وہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 757
حدیث نمبر: 14356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَدِمَتْ عِيرٌ مَرَّةً الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ اثْنَا عَشَرَ ، فَنَزَلَتْ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک قافلہ آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، سب لوگ قافلے کے پیچھے نکل گئے اور صرف بارہ آدمی مسجد میں بیٹھے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا» الخ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2064، م: 863
حدیث نمبر: 14357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي ، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے، وہ میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت اختیار کرے وہ میرے نام پر اپنا نام نہ رکھے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 14183
حدیث نمبر: 14358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَالْمُعَاوَمَةِ ، وَالثُّنْيَا ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ، مزابنہ ، بٹائی ، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کر دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو الزبير قد توبع، م: 1536
حدیث نمبر: 14359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَعْنِي أَبَاهُ أَوْ اسْتُشْهِدَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا ، فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ ، وَعِذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ ، وَأَصْنَافَهُ ، ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ : " كِلْ لِلْقَوْمِ " ، قَالَ : فَكِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ ، وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا ، میں نے قرض خواہوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے قرض معاف کرنے کی درخواست کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ”جا کر کھجوروں کو مختلف قسموں میں تقسیم کر کے عجوہ الگ کر لو، عذق زید الگ کر لو اسی طرح دوسری اقسام کو بھی الگ الگ کر لو پھر مجھے بلا لو“ میں نے ایسا ہی کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان میں تشریف فرما ہو گئے اور مجھ سے فرمایا : ”لوگوں کو ماپ کر دینا شروع کرو “ چنانچہ میں نے لوگوں کو ماپ کر دینا شروع کر دیا حتیٰ کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں گویا کہ اس میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2127
حدیث نمبر: 14360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَعْنِي أَنَّهُ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور ابن زبیر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1299
حدیث نمبر: M14360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ رَمَى بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکر ی کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: M14360
حدیث نمبر: 14361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ يعني بْنِ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً لَهُ بِهَا أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتْ مِنْهُ الْعَافِيَةُ فَلَهُ بِهِ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے، اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي خَادِمًا تَسْنَى ، وَقَالَ مَرَّةً : تَسْنُو عَلَى نَاضِحٍ لِي ، وَإِنِّي كُنْتُ أَعْزِلُ عَنْهَا ، وَأُصِيبُ مِنْهَا ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَدَّرَ اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ يَخْلُقَهَا ، إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کرتی ہے اور پانی بھی بھر کر لاتی ہے ، میں رات کو اس کے پاس جا کر چکر بھی لگاتا ہوں اور عزل بھی کرتا تھا ، اس کے باوجود اس کے یہاں بچہ پیدا ہو گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ نے جس نفس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہ تو پیدا ہو کر رہے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14318
حدیث نمبر: 14363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنِّي جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه ، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 14364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ : " أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ " قَالُوا : يَوْمُنَا هَذَا ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً " ، قَالُوا : شَهْرُنَا هَذَا ، قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً " ، قَالُوا : بَلَدُنَا هَذَا ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کون سا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : آج کا دن۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے ؟“ صحابہ نے عرض کیا : رواں مہینہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا کون سا شہر ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہمارا یہی شہر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر یاد رکھو ! تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14440
حدیث نمبر: 14366
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب دوبارہ نمازی اس کی پوجا کر سکیں گے، البتہ وہ ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2812، وفيه: « ۔۔۔ أن يعبده المصلون فى جزيره العرب... »
حدیث نمبر: 14367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى مَاءً ، فَقَالَ رَجُلٌ أَلَا أَسْقِيكَ نَبِيذًا ؟ قَالَ : " بَلَى " ، قَالَ : فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَى ، قَالَ فَجَاءَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ ! وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ عُودًا " ، قَالَ : ثُمَّ شَرِبَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب فرمایا ، ایک آدمی نے کہا کہ میں آپ کو نبیذ نہ پلاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیوں نہیں“ وہ آدمی دوڑتا ہوا گیا اور ایک برتن لے آیا جس میں نبیذ تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے کسی چیز سے ڈھک کیوں نہ لیا ؟ اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دیتے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5606، م: 2011
حدیث نمبر: 14368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل نماز کون سی ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لمبی نماز ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 756
حدیث نمبر: 14369
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، قَالَ : ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ ، فَخَطَبَهُنَّ ، وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ ، قَالَ : فَجَعَلْنَ يَطْرَحْنَ الْقِرَطَةَ ، وَالْخَوَاتِيمَ وَالْحُلِيَّ إِلَى بِلَالٍ ، قَالَ : وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الصَّلَاةِ ، وَلَا بَعْدَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہو نے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، اس دوران آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے، دوسرا کوئی نہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے لگیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
حدیث نمبر: 14370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ ، فلَبَّينا عن الصبيان ، وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے، بچوں کی طرف سے ہم نے تلبیہ پڑھا اور کنکریاں بھی ہم نے ماری تھیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أشعث، وهو ابن سوار
حدیث نمبر: 14371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ النَّخْلُ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین سال کے لئے پھلوں کی پیشیگی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حجاج وأبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا، لكنهما قد توبعا، وانظر: 14320 و 15083
حدیث نمبر: 14372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عن الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ ، يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل) فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2538
حدیث نمبر: 14373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص جس حال میں فوت ہو گا ، اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2878، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن الأعمش، لكن هذا المبهم قد توبع
حدیث نمبر: 14374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي ، وَحَوَارِيَّ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”زبیر میری پھوپھی کے بیٹے اور میری امت میں سے میرے حواری ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14297
حدیث نمبر: 14375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ هِشَامٌ : وَحَدَّثْتُ بِهِ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ لَحَدَّثَنِي ، قَالَ : اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ ؟ " فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ ، فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ، ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا ، فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ حَوَارِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2847 م: 2415
حدیث نمبر: 14376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي ، قَالَ : " أَفَتَزَوَّجْتَ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ عَلَيَّ جَوَارِيَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ ، فَقَالَ : " لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طُرُوقًا " ، قَالَ : وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ ، فَاعْتَلَّ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي آخِرِ النَّاسِ ، قَالَ : فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا جَابِرُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : اعْتَلَّ بَعِيرِي ، قَالَ : فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ ، ثُمَّ زَجَرَهُ ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَهُمُّنِي رَأْسُهُ ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا فَعَلَ الْجَمَلُ ؟ " ، قُلْتُ : هُوَ ذَا ، قَالَ : " فَبِعْنِيهِ " قُلْتُ : لَا ، بَلْ هُوَ لَكَ ، قَالَ : " بِعْنِيهِ " قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ ، قَالَ : " لَا ، قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ ، ارْكَبْهُ ، فَإِذَا قَدِمْتَ ، فَأْتِنَا بِهِ " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، جِئْتُ بِهِ فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، زِنْ لَهُ وُقِيَّةً ، وَزِدْهُ قِيرَاطًا " ، قَالَ : قُلْتُ : هَذَا قِيرَاطٌ زَادَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا حَتَّى أَمُوتَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ ، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ ، فَأَخَذُوهُ فِيمَا أَخَذُوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا ، جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، آپ مجھے جلدی گھر جانے کی اجازت دے دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے ؟ میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کیا کہ والد صاحب شہید ہو گئے اور مجھ پر چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری آ پڑی، میں نے ان پر ان جیسی ہی کسی ناسمجھ کو لانا مناسب نہ سمجھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلا اطلاع رات کو اپنے اہل خانہ کے پاس واپس نہ جاؤ ۔“ میں جس اونٹ پر سوار تھا وہ انتہائی تھکا ہوا تھا جس کی وجہ سے میں سب سے پیچھے تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ تھکا ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دم سے پکڑ کر اسے ڈانٹ پلائی، اس کے بعد میں سب سے آگے نکل گیا ، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ا”ونٹ کا کیا بنا ؟ “ میں نے عرض کیا : وہ یہ رہا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے بیچ دو، میں نے عرض کیا کہ یہ آپ ہی کا ہے ، دو مرتبہ اسی طرح ہوا ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے ایک اوقیہ چاندی کے عوض خرید لیا ، تم اس پر سواری کرو ، مدینہ پہنچ کر اسے ہمارے پاس لے آنا ، مدینہ پہنچ کر میں اس اونٹ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال ! اسے ایک اوقیہ وزن کر کے دے دو اور ایک قیراط زائد دے دینا ، میں نے سوچا کہ یہ ایک قیراط جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زائد دیا ہے، مرتے دم تک میں اپنے سے جدا نہ کروں گا ، چنانچہ میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ دیا اور وہ ہمیشہ میرے پاس رہا ۔ تاآنکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
حدیث نمبر: 14377
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ، قَالَ : وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ ، قَالَ : فَيُدْنِيهِ مِنْهُ أَوْ قَالَ : فَيَلْتَزِمُهُ ، وَيَقُولُ : نِعْمَ ، أنتَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً : " فَيُدْنِيهِ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے، پھر اپنے لشکر کو روانہ کرتا ہے، ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو، ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کر دیا ، ابلیس کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا ، دوسرا آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرا دی ، ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2813
حدیث نمبر: 14378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَالَ : " هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ " ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں تھے کہ اچانک تیز ہوا چلنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ کسی منافق کی موت کی علامت ہے “ ، چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے تو پتہ چلا کہ واقعی منافقین کا ایک بہت بڑا سرغنہ مرگیا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 14379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا ، فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا ، ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طبیب سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا ، اس نے ان کی بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2207
حدیث نمبر: 14380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 1651
حدیث نمبر: 14381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ، ثمَّ لْيَرْقُدْ ، ومَن طَمعَ منكم في أنْ يقومَ مِن آخرِ اللَّيلِ فَلْيُوتِرْ مِن آخرِ اللَّيلِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیئں اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخری حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیئں ، کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14382
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ : فَأَتَاهُ خَالِي وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، قَالَ : فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ ، وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، قَالَ : فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا أَرَى بَأْسًا ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتر کے ذریعے علاج سے منع فرمایا ہے ، دوسری سند سے یہ اضافہ ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتر اور جھاڑ پھونک کی ممانعت فرما دی تو آل عمرو بن حزم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، یا رسول اللہ ! آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرتا ہوں ؟ اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو، اسے ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2199
حدیث نمبر: 14383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ، كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ ، فَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ ، فَأَخَذْتُهُ ، فَأَعَدْتُهُ مَكَانَهُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ ، فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا ، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن مار دی گئی ہے، میرا سر الگ ہو گیا ہو، میں اس کے پیچھے گیا اور اس کو پکڑ کر اس کی جگہ پر واپس رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم شیطان کے کھیل تماشوں کو (جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے) دوسروں کے سامنے مت بیان کیا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2268
حدیث نمبر: 14384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبَو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَعْتَدِلْ ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازؤ کتے کی طرح نہ بچھائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي