حدیث نمبر: 14308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : عَمْرٌو ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنگ ”چال“ کا نام ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3030، م: 1739
حدیث نمبر: 14309
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَلَّيْتَ ؟ " قَالَ : لَا قَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھی ہے انہوں نے کہا : نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 14310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرٍو : أَسَمِعْتَ جَابِرًا ، يَقُولُ : مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے پوچھا کہ آپ نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد نبوی میں گزر رہا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ تیر تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس کے پھل کا رخ سامنے کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف پھیر لو ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 451، م: 2614، وقوله: « فقال: نعم » لم يرد فى رواية البخاري برقم: 451، وورد برقم: 7073 « قال: نعم » وفي مسلم بغير سؤال ولا جواب، وانظر « الفتح » :1/ 546، 547
حدیث نمبر: 14311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، " بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مُدَبَّرًا فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ ، عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، دَبَّرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام کو بیچا جسے ابن نحام نے خرید لیا وہ قبطی غلام تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر کی خلافت کے پہلے سال ہی فوت ہو گیا تھا اسے ایک انصاری نے مدبر بنا لیا تھا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2231، م: 997
حدیث نمبر: 14312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُخْرِجُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ النَّارِ قَوْمًا ، فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6558، م: 191
حدیث نمبر: 14313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر ہماری تعداد چودہ سو نفسوں پر مشتمل تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ آج تم لوگ روئے زمین کے تمام لوگوں سے بہتر ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4154، م: 1856
حدیث نمبر: 14314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعْ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ " فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ، وَقَالَ : غَيْرُ عَمْرٍو َتَخَلَّى مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شہید ہو گیا تو کہاں جاؤں گا ؟ تو فرمایا کہ جنت میں یہ سن کر اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوروں کو ایک طرف رکھ دیا اور میدان کار زار میں کود پڑا حتی کہ جام شہادت نوش کر لیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4046، م: 1899
حدیث نمبر: 14315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَأَقَمْنَا عَلَى السَّاحِلِ حَتَّى فَنِيَ زَادُنَا ، حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، ثُمَّ إِنَّ الْبَحْرَ أَلْقَى دَابَّةً ، يُقَالُ لَهَا : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ ، وَنَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ بَعِيرٍ ، فَجَازَ تَحْتَهُ ، وَكَانَ رَجُلٌ يَجْزُرُ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ، ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ، ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ، ثُمَّ ثَلَاثَةَ جُزُرٍ ، فَنَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سفر میں تین سو سواریوں کے ساتھ بھیجا تھا ہمارے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح تھے، ہم نے ساحل پر قیام کیا ہمارا زاد راہ ختم ہو گیا اور ہمیں درختوں کے پتے کھانے پڑے، سمندر نے عنبر نامی ایک مچھلی باہر پھینک دی جسے ہم نصف ماہ تک کھاتے رہے یہاں تک کہ ہمارے جسم خوب صحت مند ہو گئے، ایک دن سیدنا عبیدہ نے اس کی ایک پسلی لے کر کھڑی کی اور سب سے لمبے اونٹ کو اس کے نیچے سے گزارا تو وہ گز رگیا اور ایک دن تین دن تک تین تین اونٹ ذبح کرتا رہا ، پھر سیدنا ابوعبیدہ نے اسے منع کر دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4361، م: 1935
حدیث نمبر: 14316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، لَمَّا نَزَلَتْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ " فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ " فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ : هَذِهِ أَهْوَنُ أو َأَيْسَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ» ‏ کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اے اللہ میں تیری ذات کی پناہ میں آتا ہوں“ پھر جب اگلا ٹکڑا نازل ہوا «أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ» یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ”اے اللہ میں تیری ذات کی پناہ چاہتا ہوں“ پھر جب اگلا ٹکڑا نازل ہوا «‏أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ» یا تمہیں مختلف حصوں میں خلط ملط کر دے اور ایک دوسرے کے ذریعے عذاب کا مزہ چکھائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے کی نسبت زیادہ ہلکا اور آسان ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7313
حدیث نمبر: 14317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ذَكَرُوا الرَّجُلَ يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ فَيَحِلُّ ، هَلْ لَهُ أَنْ يَأْتِيَ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟ فَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَا ، حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ قَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
مولانا ظفر اقبال
عمرو کہتے ہیں کہ علماء میں ایک مرتبہ اس بات کا ذکر ہوا کہ اگر کوئی آدمی عمرہ کا احرام باندھے پھر حلال ہو جائے تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کئے بغیر آ سکتا ہے ؟ میں نے یہ مسئلہ پوچھا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، تو انہوں نے فرمایا کہ جب تک صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کر لے اس وقت تک حلال نہیں ہو گا ، یہی سوال میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کے سات چکر لگائے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی تھی پھر فرمایا کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 395، 396، م- الشطر الثاني-: 1234، وانظر: 4641
حدیث نمبر: 14318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں جبکہ قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا ہم اس وقت بھی عزل کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5208، م: 1440، وعمرو لم يسمعه من جابر كما صرح هو بذلك فيما سيأتي برقم: 14957، والواسطة بينهما عطاء بن أبى رباح كما برقم: 15032
حدیث نمبر: 14319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مدینہ منورہ لے آتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2980، م: 1972
حدیث نمبر: 14320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ مَكِّيّ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ ، وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی بیع سے اور مشتری (خریدنے والا) کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1536 و 1554
حدیث نمبر: 14321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سمعا جابرا يزيد أحدهما على الآخر ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا فَسَمِعْتُ فِيهَا صَوْتًا ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ لِعُمَرَ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهَا ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ " فَبَكَى عُمَرُ ، وَقَالَ : مَرَّةً فَأَخْبَرَ بِهَا عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَعَلَيْكَ يُغَارُ ؟ ! قَالَ سُفْيَانُ : سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، وَعَمْرٍو ، سَمِعَا جَابِرًا ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ إِلَى آخِرِ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا : ”میں جنت میں داخل ہوا تو ایک محل نظر آیا تو وہاں مجھے ایک آواز سنائی دی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے فرمایا گیا کہ یہ عمر کا ہے میں اس میں داخل ہو نا چاہا لیکن اے ابوحفص ! مجھے تمہاری غیرت کا خیال آ گیا“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! کیا آپ پر غیرت کا اظہار کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5226، م: 2394
حدیث نمبر: 14322
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا لَكِ تَبْكِينَ ؟ " قَالَتْ : أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوا ، وَلَمْ أَحْلِلْ ، وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ ، وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ ، قَالَ : " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ، فَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَحُجِّي " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَلَمَّا طَهُرْتُ ، قَالَ : " طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَمِنْ عُمْرَتِكِ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ ! قَالَ : " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول کر حلال ہو چکے لیکن میں اب تک نہیں ہو سکی لوگوں نے طواف کر لیا لیکن میں اب تک نہ کر سکی اور حج کے ایام سر پر ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے اس لئے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو اور حج کر لو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لو اس طرح تم اپنے حج اور عمرہ کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاؤ گی ۔ وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا کہ انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرواؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1213
حدیث نمبر: 14323
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : " مَتَى تُوتِرُ ؟ " قَالَ : أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ ، قَالَ : " فَأَنْتَ يَا عُمَرُ ؟ " ، قَالَ : آخِرَ اللَّيْلِ ، قَالَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ ، فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا : نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں ، یہی سوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر سے پوچھا : تو انہوں نے عرض کیا : رات کے آخری پہر میں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14324
(حديث مرفوع) قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ " ، قُلْنَا : وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَمِنِّي ، وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ غیر حاضر شوہر والی عورت کے پاس مت جایا کرو کیونکہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے ۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ کے جسم میں بھی ؟ فرمایا : ”ہاں، اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ تابع فرمان ہو گیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وقد جمع مجالد فى هذا المتن ثلاثة أحاديث، وهى صحيحة ، 1- « لا تلجوا على المغيبات » 2- « إن الشيطان يجري۔۔۔ » 3- « لكن الله أعانني۔۔۔ »
حدیث نمبر: 14325
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، حَدَّثَنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَحَدَّثَنَاهُ الْحَكَمُ بن موسى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ ، فَلَهُ مَالُهُ ، وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ، ومَن أَبَّرَ نخلًا ، فباعَه بعدَ تَوْبيرِه ، فله ثمرَتُه إلا أن يشترط المُبتاعُ " ، قال عبد الله : إلى ها هنا وجدت في كتاب أبي ، والباقي سَمَاعٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے غلام کو بیچے جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے ۔ ( اور جو شخص کھجور کی پیوند کاری کر کے اسے بیچے تو پھل اس کی ملکیت میں ہو گا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) درخت کے پھل سمیت خریدنے کی شرط لگا دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبى وهب الكلاعي
حدیث نمبر: 14326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا قَوْمٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ رِبَاعَةٌ أَوْ دَارٌ ، فَأَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَبِيعَ نَصِيبَهُ ، فَلْيَعْرِضْهُ عَلَى شُرَكَائِهِ ، فَإِنْ أَخَذُوهُ فَهُمْ أَحَقُّ بِهِ بِالثَّمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو اور وہ اپنا حصہ بیچنا چاہے تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیش کش کئے بغیر کسی دوسرے کے سامنے اسے فروخت نہ کرے، اگر وہ اس کو خرید لیں تو قیمت کے بدلے وہی اس کے زیادہ حق دار ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زياد بن عبدالله ليس بالقوي فى غير ابن إسحاق، والحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، وانظر: 14292 و 15095
حدیث نمبر: 14327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5246، م: 715، وهذا إسناد ضعيف جداً، من أجل نصر بن باب الخراساني المروزي
حدیث نمبر: 14328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " يَا جَابِرُ ، لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالٌ ، لَحَثَيْتُ لَكَ ، ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ " ، قَالَ : فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْجِزَ لِي تِلْكَ الْعِدَةَ ، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَنَحْنُ لَوْ قَدْ جَاءَنَا شَيْءٌ لَحَثَيْتُ لَكَ ، ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ ، ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ ، قَالَ : فَأَتَاهُ مَالٌ ، فَحَثَى لِي حَثْيَةً ثُمَّ حَثْيَةً ، ثُمَّ قَالَ : لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا صَدَقَةٌ حَتَّى يَحُولَ الْحَوْلُ ، قَالَ : فَوَزَنْتُهَا فَكَانَتْ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا اور اتنا اور اتنا دوں گا ، لیکن بحرین کا مال غنیمت آنے سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا دوں گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لے لو چنانچہ میں نے ان سے مال لے لیا ، پھر انہوں نے فرمایا کہ سال گزرنے سے پہلے تم پر اس کی کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔ میں نے انہیں گنا تو وہ پندرہ سو درہم تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جداً كسابقه، وانظر: 14301
حدیث نمبر: 14329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَنَا ، ثُمَّ نَزَلَ ، فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہو نے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے کرنے لگیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 960، م: 886
حدیث نمبر: 14330
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ ؟ قَالَ : كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ
مولانا ظفر اقبال
ذیال بن حرملہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری تعداد صرف چودہ سو افراد تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4154، م: 1856، وهذا إسناد ضعيف جداً من أجل نصر بن باب، وحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 14330M
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنَ الصَّلَاةِ .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے نماز میں ہر تکبیر کے ساتھ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14330M
حدیث نمبر: 14331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ ، وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خرید و فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، وحجاج بن أرطاة وأبو الزبير مدلسان، ولم يصرحا بالسماع
حدیث نمبر: 14331M
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قُلْتُ لِأَبِي : سَمِعْتُ أَبَا خَيْثَمَةَ ، يَقُولُ : نَصْرُ بْنُ بَابٍ كَذَّابٌ ! فَقَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، كَذَّابٌ ؟ ! إِنَّمَا عَابُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ، وَإِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ ، فَلَا يُنْكَرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد سے عرض کیا : میں نے ابوخیثمہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نصر بن باب نامی راوی کذاب ہیں اس پر انہوں نے استغفر اللہ کہا اور تعجب کرنے لگے کہ کذاب ۔ محدثین کے انہیں مطعون کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ابراہیم الصائغ سے حدیث روایت کی ہے اور ابراہیم الصائغ ان کے اہل شہر میں سے ہیں لہذا ان سے سماع کوئی تعجب کی چیز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14331M
حدیث نمبر: 14332
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَار ، سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ ، وَعَلَيْهِ إِزَارٌ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا ، عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے ، اے بھتیجے ! اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش کر گر پڑے اور اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم نہیں دیکھا گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 364، م: 340
حدیث نمبر: 14333
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ، حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ ، إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ ، فَدَعَا الْبَعِيرَ ، فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ ، حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَاتُوا خِطَامَه " فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، قَالَ : ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آ رہے تھے جب ہم نجار کے ایک باغ کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اس باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہو نے والے ہر شخص پر حملہ کر دیتا ہے۔ لوگوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں تشریف لائے اور اس اونٹ کو بلایا وہ اپنی گردن جھکائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی لگام لاؤ ، وہ لگام اس کے منہ میں ڈال کر اونٹ اس کے مالک کے حوالے کر دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان جتنی چیزیں ہیں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، مصعب بن سلام مختلف فيه، لكنه متابع، والذیال بن حرملة روی عنه جمع، ووثقه ابن حبان، فحديثه حسن
حدیث نمبر: 14334
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " ، ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ ، وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ ، وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ ، إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ، قَالَ ، ثُمَّ يَقُولُ : " أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ ، مَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ " وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا : سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے ، سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے، بدترین چیز نو ایجاد ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرمانے لگے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی ، پھر فرمایا : قیامت تم پر آ گئی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا ، تم پر صبح کو قیامت آ گئی ہے یا شام کو ، جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ دے وہ میرے ذمہ ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 867، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14335
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، وَسَمِعْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ ، فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ ، قَالَ جَابِرٌ : فَنِمْنَا بِهَا نَوْمَةً ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا ، فَأَتَيْنَاهُ ، فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفَهُ ، وَأَنَا نَائِمٌ ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا ، فَقَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ فَقُلْتُ : اللَّهُ ، فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ فَقُلْتُ : اللَّهُ فَشَامَ سَيْفَه وَجَلَسَ ، فَلَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب نجد کی طرف جہاد کے لئے گیا اور واپسی میں بھی ہم رکاب تھا ، واپسی پر ایک بڑی خاردار درختوں والی وادی میں دوپہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اتر گئے ۔ سب لوگ ادھر ادھر درختوں کے سایہ میں چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لئے اترے درخت سے تلوار لٹکا دی اور ہم سب سو گئے ، تھوڑی دیر سوئے تھے کہ بیدار ہو گئے کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سوتے میں اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچی ، میں جاگ اٹھا دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اس نے کہا : اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا : اللہ بچائے گا خوف کے مارے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بدلہ نہ لیا حالانکہ اس نے ایسا کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2910، م: 843
حدیث نمبر: 14336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ ، يُقَالُ لَهُ : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ ، وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ ، فَكَانَ الرَّاكِبُ يَمُرُّ تَحْتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جیش خبط کے ساتھ جس کے امیر سیدنا ابوعبیدہ تھے جہاد میں شریک ہوئے راستے میں بھوک کی شدت نے ہمیں بہت تنگ کیا اسی اثناء میں سمندر نے ہمارے لئے اتنی بڑی مچھلی باہر پھینک دی کہ ہم نے اس سے پہلے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ، ہم اسے نصف ماہ تک کھاتے رہے ۔ سیدنا ابوعبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر اسے گاڑا تو سوار بھی اس کے نیچے سے بآسانی سے گزر جاتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4362، م: 1935
حدیث نمبر: 14337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ حديث عَمْرٍو هَذَا ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ : وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً ، ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا ، وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ ، ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ ، فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا ، فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ ، فَكُلُوا ، فَأَكَلْنَا ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ ، وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا ، وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، قَالَ جَابِرٌ ، فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ ، فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ " ، قَالَ : فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَأَكَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ سیدنا ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے ۔ راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا ۔ پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ۔ ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے ، سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی ، پہلے تو سیدنا ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے ، پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ۔ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے ۔ سیدنا ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گزر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کا روغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ“ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ مختصرا-: 4362، م: 1935
حدیث نمبر: 14338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ ، لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ ، قَالَ : فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا ؟ قَالَ : نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ ، فَيَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ ، قَالَ : وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ ، فَنَأْكُلُهُ ، قَالَ : وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ يُدْعَى الْعَنْبَرُ ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَيْتَةٌ ، قَالَ حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثُمَّ قَالَ : لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : لَا بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا ، وَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنَيْهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ ، وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ ، قَالَ : وَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ ، وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا ، قَالَ حَسَنٌ ، ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ كَانَ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا ، وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا " ، قَالَ : فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ، فَأَكَلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے ۔ راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے، پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھا لیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ۔ ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے ، سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی نکالی ، پہلے تو سیدنا ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے ۔ پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ، ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ۔ ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گزر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ۔ ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کا روغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہو گئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکر ہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔ “ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے تناول فرمایا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَهُ ، وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے نہ ہو تو چھوڑ دے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1608
حدیث نمبر: 14340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کر ے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1522
حدیث نمبر: 14341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ فَلَا تُفْسِدُوهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى ، فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیدے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دو کیونکہ جب سورج غروب ہو جاتا ہے تورات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے رہتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2013
حدیث نمبر: 14343
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ ، ثُمَّ وَرِمَتْ ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیر سے داغا ، وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغ دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2208
حدیث نمبر: 14344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أبو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ : الْمَكْتُوبَةَ وَغَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھی، کسی نے ابوزبیر سے پوچھا کہ اس سے مراد فرض نماز ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ فرض اور غیر فرض سب کو شامل ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 14345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ ، فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ بِيَدِهِ : هَكَذَا ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ بِيَدِهِ : هَكَذَا ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا ، میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا ، دو مرتبہ اس طرح ہوا ، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے ، نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا ؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540