حدیث نمبر: 14268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخِيرًا يَعْنِي النِّسَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے، حتی کہ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی ممانعت فرما دی۔
حدیث نمبر: 14269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا ، أَوْ عَجَزَ عَنْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو، اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے، کرایہ پر نہ دے۔“
حدیث نمبر: 14270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمریٰ اس کے لئے جائز ہے، جسے وہ ہبہ کیا گیا ہو ۔“
حدیث نمبر: 14271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ مِنْهَا يَعْنِي أَجْرًا وَمَا أَكَلَتْ الْعَوَافِي مِنْهَا ، فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے، اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے، اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔“
حدیث نمبر: 14272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ ، نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے، لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 14273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ ، يُقَالُ لَهُ : يَعْقُوبُ ، عَنْ دُبُرٍ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ ، مَنْ يَشْتَرِيهِ ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، وَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا ، فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا ، فَعَلَى عِيَالِهِ ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا فَعَلَى ذَوِي قَرَابَتِهِ ، أَوْ قَالَ : عَلَى ذِي رَحِمِهِ ، وَإِنْ كَانَ فَضْلًا ، فَهَهُنَا وَهَهُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام ”مذکور“ تھا، اپنا غلام ”جس کا نام یعقوب تھا“ یہ کہہ کر آزاد کر دیا ”جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا کوئی مال نہ تھا“ کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اس شخص کو دے دیئے اور فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کرے، اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر، پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 14274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَتَى سَرِفَ ، وَهِيَ تِسْعَةُ أَمْيَالٍ مِنْ مَكَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مکہ سے غروب آفتاب کے وقت روانہ ہوئے، لیکن نماز مقام ”سرف“ میں پہنچ کر پڑھی، جو مکہ سے نو میل کی مسافت پر واقع ہے۔
حدیث نمبر: 14275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ الْمَكْتُوبَاتِ ، كَمَثَلِ نَهَرٍ جَارٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے، جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو، اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔
حدیث نمبر: 14276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے بازو کتے کی طرح نہ بچھائے۔“
حدیث نمبر: 14277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سِرْتُمْ فِي الْخِصْبِ ، فَأَمْكِنُوا الرِّكَابَ أَسْنَانَهَا ، وَلَا تُجَاوِزُوا الْمَنَازِلَ ، وَإِذَا سِرْتُمْ فِي الْجَدْبِ ، فَاسْتَجِدُّوا ، وَعَلَيْكُمْ بِالدَّلْجِ ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ، وَإِذَا تَغَوَّلَتْ لَكُمْ الْغِيلَانُ ، فَنَادُوا بِالْأَذَانِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّلَاةَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ ، وَالنُّزُولَ عَلَيْهَا ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ ، وَقَضَاءِ الْحَاجَةِ ، فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو، تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کرو اور منزل سے آگے نہ بڑھا کرو، اور جب خشک زمین میں سفر کرنے کا اتفاق ہو تو تیزی سے وہاں سے گزر جایا کرو اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دیا کرو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جا رہی ہے اور اگر راستے سے بھٹک جاؤ، تو اذان دیا کرو، نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے اور وہاں پڑاؤ کرنے سے گریز کیا کرو ، کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں، اور یہاں قضاے حاجت بھی نہ کیا کرو کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔
حدیث نمبر: 14278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ ، قَالَ جَعْفَرٌ ، قَالَ أَبِي : وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ بِالْعِرَاقِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : كَانَ أَبِي قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : وَلَمْ يُوَافِقْ أَحَدٌ الثَّقَفِيَّ عَلَى جَابِرٍ ، فَلَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَرَأَهُ عَلَيَّ وَكَتَبَ عَلَيْهِ صَحَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کی موجودگی میں مدعی سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیا (گویا قسم کو دوسرا گواہ تسلیم کر لیا)۔
حدیث نمبر: 14279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قال : حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ هو وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ ، وَكَانَ عَلِيٌّ قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ الْهَدْيُ ، فَقَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَيَطُوفُوا ثُمَّ يُقَصِّرُوا وَيَحِلُّوا ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " ، فَقَالُوا : نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ ! فَبَلَغَ ذَلك النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ أَنِّي أَسْتَقْبِلتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتُدْبِرَتُ ، مَا أَهْدَيْتُ ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ ، لَأَحْلَلْتُ " ، وَأَنَّ عَائِشَةَ حَاضَتْ ، فَنَسَكَتْ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ ، أَنَّهَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ ، فَلَمَّا طَهُرَتْ طَافَتْ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ ؟ ! فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، وَأَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَةِ وَهُوَ يَرْمِيهَا ، فَقَالَ : أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ لِلْأَبَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا، اس دن سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے کسی کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا، البتہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، تو ان کے پاس بھی ہدی کا جانور تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ میں نے اسی نیت سے احرام باندھا ہے جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر طواف و سعی کر لیں، پھر بال کٹوا کر حلال ہو جائیں، البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو، وہ ایسا نہ کریں، اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آ جاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس دوران مجبوری میں تھیں، چنانچہ انہوں نے سارے مناسک حج تو ادا کر لئے البتہ طواف نہیں کیا اور جب فارغ ہو گئیں، تو طواف کر لیا اور کہنے لگیں، یا رسول اللہ ! آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا۔ اور سراقہ بن مالک ج رضی اللہ عنہ مرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! یہ حکم آپ کے لئے خاص ہے ؟ فرمایا : ”یہی حکم ہمیشہ کے لئے ہے۔“
حدیث نمبر: 14280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ رَوْحٌ : ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، مِنْ وَثْءٍٍ كَانَ بِوَرِكِهِ ، أَوْ ظَهْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کولہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آ جانے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔
حدیث نمبر: 14281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِقَلِيلٍ أَوْ بِشَهْرٍ : " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ أَوْ مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ الْيَوْمَ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے چند دن یا ایک ماہ قبل فرمایا تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے ، سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حدیث نمبر: 14282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ، أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا ، قَالَ : فَحَنَّ الْجِذْعُ ، قَالَ جَابِرٌ : حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ، حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ ، فَسَكَنَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ لَمْ يَأْتِهِ ، لَحَنَّ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ یا تنے پر سہارا لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا تو لکڑی کا وہ تنا اس طرح رونے لگا کہ مسجد میں موجود سارے لوگوں نے اس کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس چل کر آئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہوا ، بعض راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ جاتے تو وہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔
حدیث نمبر: 14283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . ح وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْمَعْنَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ ، وَنُهَاقَ الْحَمِيرِ مِنَ اللَّيْلِ ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ ، وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتْ الرِّجْلُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ فِي لَيْلِهِ مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ ، وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَوْكُِوا الْأَسْقِيَةَ ، وَغَطُّوا الْجِرَارَ ، وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ " ، قَالَ يَزِيدُ : وَأَوْكُِوا القِِرَبَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم رات کے وقت کتے کے بھونکنے یا گدھے کے چلانے کی آواز سنو، تو اللہ کی پناہ مانگا کرو، کیونکہ یہ جانور وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھ سکتے، جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کرو کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بہت سی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے جیسے چاہتا ہے، دروازے بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا کرو، کیونکہ جس دروازے کو بند کرتے وقت اللہ کا نام لے لیا جائے، اسے شیطان نہیں کھول سکتا، مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو، مٹکے ڈھک دیا کر و اور برتنوں کو اوندھا کر دیا کرو۔
حدیث نمبر: 14284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَوُعِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَأَبَى ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَأَبَى ، فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : خَرَجَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَينْْصَعُ طَيِّبَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کر لی، کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا، چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ وہ مدینہ سے چلا گیا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے ، جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 14285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَانِ " ، قَالَ مَحْمُودٌ : فَقُلْتُ لِجَابِرٍ أَرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ : وَاحِدٌ ؟ لَقَالَ : َوَاحِدٌ ، قَالَ : وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَاكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہو گا، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اگر کسی کے دو بچے فوت ہو جائیں تو ؟ فرمایا : ”تب بھی یہی حکم ہے“ ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ ایک کا بھی یہی حکم ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واللہ ! میر ابھی یہی خیال ہے۔
حدیث نمبر: 14286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَنَفِدَ زَادُنَا ، فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ ، فَجَعَلَهُ فِي مِزْوَدٍ ، فَكَانَ يُقِيتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَمَا كَانَتْ تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ ؟ قَالَ : قَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ ذَهَبَتْ ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّاحِلِ ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ الْعَظِيمِ ، قَالَ : فَأَكَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْجَيْشُ ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، ثُمَّ أَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُمَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَِة فَرُحِلَتْ ، فَمَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ يُصِبْهَا شَيْءٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو افراد پر مشتمل ایک دستہ بھیجا اور ان پر سیدنا ابوعبید بن جراح رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کر دیا، راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، سیدنا ابوعبید رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کا توشہ ایک برتن میں اکٹھا کیا اور اس میں سے ہمیں کھانے کے لئے دیتے رہے ، ہمیں روزانہ کی صرف ایک کھجور ملتی تھی ، ایک آدمی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : اے ابوعبداللہ ! ایک کھجور سے آپ کا کیا بنتا ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : یہ تو ہمیں اس وقت پتہ چلا جب وہ ایک کھجور بھی ملنا ختم ہو گئی، اسی دوران ہمارا گزر بڑے ٹیلے کی مانند ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا، جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی، لشکر اسے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے، پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس مچھلی کی دو پسلیاں لے کر انہیں نصب کیا، پھر ایک سواری کو اس کے نیچے سے گزارا تو پھر بھی وہ اس کی پسلی سے نہیں ٹکرایا۔
حدیث نمبر: 14287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى . ح وَوَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، الْمَعْنَى ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ ؟ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، قَالَ يَحْيَى ، فَقُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ أَوْ اقْرَأْ ؟ فَقَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ ؟ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، فَقُلْتُ : أَوْ اقْرَأْ ، فَقَالَ جَابِرٌ : أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ ، فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي ، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي ، وَخَلْفِي ، وَعَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، ثُمَّ نُودِيتُ " ، قَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ : فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ ، فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ ، وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا : " فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي ، فَدَثَّرُونِي ، وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ سورة المدثر آية 1 - 4 .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا ؟ انہوں نے سورۃ مدثر کا نام لیا، میں نے عرض کیا کہ سب سے پہلے سورۃ اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا پوچھا تھا ، تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہا ہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں ایک مہینہ تک غار حراء کا پڑوسی رہا، جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں سب طرف دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا، تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی، میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تیسری مرتبہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا، وہاں جبرائیل علیہ السلام فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے، یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو، چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی بہایا، اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «يا ايها المدثر قم فانذر» الی آخرہ ۔
حدیث نمبر: 14288
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حدثنا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ ؟ فَقَالَ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1 فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا ، أَنَّهُ قَالَ : " فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِي ، فَنُودِيتُ " ، فَذَكَرَ أَيْضًا ، قَالَ : " فَنَظَرْتُ فَوْقِي ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ ، فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ ، فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ " كَانَ يُنْتَبَذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ ، فإذا لم يكن سِقَاءٌ ، فَتْورٌ مَنْ حِجارَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، اور اگر وہ مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 14290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، فَقَالَ : " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلا دینا۔“
حدیث نمبر: 14291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کرے، لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔“
حدیث نمبر: 14292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ ، فَلَا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو، وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کیے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے۔“
حدیث نمبر: 14293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ ! قَالَ : " لِمَ يُحَدِّثُ أَحَدُكُمْ بِلَعِبِ الشَّيْطَانِ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن مار دی گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم شیطان کے کھیل تماشوں کو ”جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے“ دوسروں کے سامنے کیوں بیان کرتے ہو ؟“
حدیث نمبر: 14294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ ، فَقَالَ : لَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کسی چیز کے متعلق سوال کی گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نہیں“ کبھی نہیں فرمایا ۔
حدیث نمبر: 14295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْ وَجْهِهِ ، وَيَنْهَانِي قَوْمِي ، فَسَمِعَ بَاكِيَةً وَقَالَ مَرَّةً : صَوْتَ صَائِحَةٍ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَقَالُوا : ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو ، قَالَ : " فَلِمَ تَبْكِينَ أَوْ قَالَ أَتَبْكِينَ ؟ فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہوئے اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھا گیا، ان پر کپڑا ڈھانپ دیا گیا تھا تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا ، لوگوں نے مجھے منع کرنا شروع کر دیا ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے رونے کی آواز سنی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یہ کون ہے“، لوگوں نے بتایا : بنت عمرو یا اخت عمرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم کیوں رو رہی ہو، فرشتے اس پر مسلسل سایہ کئے رہے یہاں تک کہ اسے اٹھا لیا گیا۔“
حدیث نمبر: 14296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا : غُلَامٌ ، فَأَسْمَاهُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْنَا : لَا نُكَنِّيكَ أَبَا الْقَاسِمِ ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام ”قاسم“ رکھ دیا، ہم نے اس سے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم رکھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی نہ کریں گے، اس پر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور ساری بات ذکر کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ دو ۔
حدیث نمبر: 14297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " ، قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو (دشمن کی خبر لانے کے لئے) تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرے حواری زبیر ہیں۔“
حدیث نمبر: 14298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : مَرِضْتُ ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ ، وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْهُ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ ، فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ، وَلِي أَخَوَاتٌ ؟ قَالَ : فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ سورة النساء آية 176 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے میرے یہاں تشریف لائے، میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہوش و حواس سے بھی بیگانہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا، مجھے ہوش آ گیا اور میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء میں تو سوائے بہنوں کے کوئی نہیں، میراث کیسے تقسیم ہو گی ؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔
حدیث نمبر: 14299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ غَيْرَ مَرَّةٍ ، يَقُولُ : عَنْ جَابِرٍ ، وَكَأَنِّي سَمِعْتُه يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا ، فَظَنَنْتُهُ سَمِعَهُ مِنَ ابنِ عَقيلٍ ، ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَكَلَ لَحْمًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَأَنَّ عُمَرَ أَكَلَ لَحْمًا ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت تناول فرمایا اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بکری کی پیوسی نوش فرمائی، اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی ، اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گوشت تناول فرمایا اور تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 14300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَسْلَمَ ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ حُمَّ فجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَقَالَ : " لَا أُقِيلُكَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَقَالَ : " لَا أُقِيلُكَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَقَالَ : " لَا " ، قال : فَفَرَّ ، فَقَالَ : " الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَيَنْصَعُ طَيِّبَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر ہجرت کی بیعت کر لی، کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا ، چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ سے فرار ہو گیا ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 14301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ ، لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، قَالَ فَلَمَّا جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِا ، قَالَ : فَجِئْتُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ ، لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ثَلَاثًا ، قَالَ : فَخُذْ ، قَالَ : فَأَخَذْتُ قَالَ بَعْضُ مَنْ سَمِعَهُ : فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ فَأَخَذْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَلَمْ يُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَلَمْ يُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ ، فَلَمْ يُعْطِنِي ، فَقُلْتُ : إِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي ، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي ، قَالَ : أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي ؟ وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ؟ ! مَا سَأَلْتَنِي مَرَّةً إِلَّا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا ، اور اتنا، اور اتنا دوں گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کروا دیا کہ جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ دینے کا وعدہ فرما رکھا ہو، وہ ہمارے پاس آئے ، چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا، اگر بحرین سے مال آ گیا تو میں تمہیں اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لے لو ، چنانچہ میں نے ان سے مال لے لیا، بعض سننے والے کہتے ہیں کہ میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو درہم تھے، جو میں نے لے لئے۔ پھر میں دوبارہ تین مرتبہ ان کے پاس آیا لیکن انہوں نے مجھے کچھ نہ دیا، تیسری مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ یا تو آپ مجھے عطاء کریں، ورنہ میں سمجھوں گا کہ آپ میرے سامنے بخل کر رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تم مجھ سے بخل کرنے کا کہہ رہے ہو ، بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے ؟ تم نے جب پہلی مرتبہ مجھ سے درخواست کی تھی، میں نے اسی وقت ارادہ کر لیا تھا کہ تمہیں ضرور دوں گا۔
حدیث نمبر: 14302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورا سال روزے رکھے۔
حدیث نمبر: 14303
حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ ، ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے ۔
حدیث نمبر: 14305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شہدا احد کو ان کی جگہ سے اٹھایا جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ شہدا کو ان کی اپنی جگہوں پر واپس پہنچا دو ۔
حدیث نمبر: 14306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ نَكَحْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبِكْرًا ، أَمْ ثَيِّبًا ؟ " قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ! " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ ، وَتَرَكَ تِسعَ بَنَاتٍ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ ، وَلَكِنْ امْرَأَةً تُمَشِّطُهُنَّ ، وَتُقِومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَصَبْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! پوچھا : کنواری سے یا شوہر دیدہ سے ؟ میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے والد صاحب غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور انہوں نے سات بیٹیاں چھوڑیں میں نے ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا میں نے سوچا کہ ایسی عورت ہو جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے صحیح کیا ۔
حدیث نمبر: 14307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا وَقَالَ مَرَّةً : ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي بِقَوْمِهِ فَأَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ، قال مرةً : الصَّلَاةَ ، وَقَالَ مَرَّةً : الْعِشَاءَ ، فَصَلَّى مُعَاذٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ يؤُمُّ قَوْمَهُ ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ ، فَاعْتَزَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَصَلَّى ، فَقِيلَ : نَافَقْتَ يَا فُلَانُ ، قَالَ : مَا نَافَقْتُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ ، وَنَعْمَلُ بِأَيْدِينَا ، وَإِنَّهُ جَاءَ يَؤُمُّنَا ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ ؟ اقْرَأْ بِكَذَا وَكَذَا " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ، فَذَكَرْنَا لِعَمْرٍو ، فَقَالَ : أُرَاهُ قَدْ ذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ابتداء نماز عشاء کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھا دیتے تھے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو موخر کر دیا ۔ سیدنا معاذ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آ کر سورت بقرہ کی تلاوت شروع کر دی، ایک آدمی نے یہ دیکھا ، اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہو گئے ہو اس نے کہا : میں تو منافق نہیں ہوں، پھر اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ذکر کی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آکر ہماری امامت کرتے ہیں ، ہم لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آکر ہمیں نماز پڑھائی تو سورت بقرہ شروع کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا : ”معاذ تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت شمس کیوں نہیں پڑھتے ؟“
…