حدیث نمبر: 14228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْلِقُوا أَبْوَابَكُمْ ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ ، وَأَوْكُوا أَسْقِيَتَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا ، وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً ، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً ، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ الْبَيْتَ عَلَى أَهْلِهِ " يَعْنِي : الْفَأْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کرو اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغ بجھا دیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھول سکتا، کوئی پردہ نہیں ہٹا سکتا اور کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 14229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حج کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔
حدیث نمبر: 14230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ ، وَلَا تُعْمِرُوهَا ، فَإنْ أُعْمِرَ عُمْرَى ، فَهِيَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو، اور جو شخص کسی کو زندگی بھر کے لئے کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 14231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ خَالِي يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَلَمَّا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى أَتَاهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، وَإِنِّي أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَقَالَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منتر اور جھاڑ پھونک کی ممانعت فرمائی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے، یا رسول اللہ ! آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہو، اسے ایسے ہی کرنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 14232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا أَنْ يُخَوِّنَهُمْ ، أَوْ يَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت بلا اطلاع گھر واپس آنے سے (مسافر کے لئے) منع فرمایا ہے کہ انسان ان سے خیانت کرے یا ان کی غلطیاں تلاش کرے۔
حدیث نمبر: 14233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " ، قَالَ : وَسُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ افضل جہاد کون سا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔ “ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سی نماز سب سے افضل ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لمبی نماز۔
حدیث نمبر: 14234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، فَوَزَنَ لِي ثَمَنَهُ ، وَأَرْجَحَ لِي ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " هَلْ صَلَّيْتَ ؟ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرا اونٹ خرید لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وزن کر کے پیسے دیئے اور جھکتا ہوا تولا، اور مجھ سے فرمایا کہ کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں ہیں ؟ جا کر دو رکعتیں پڑھو۔
حدیث نمبر: 14235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ ، فَقَضَانِي ، وَزَادَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر میرا کچھ قرض تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے ادا کر دیا اور زائد بھی عطاء فرمایا۔
حدیث نمبر: 14236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ ، وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے آگے چلا کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 14237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ . ح وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، أَتَزَوَّجْتَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا ؟ " قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " أَلَا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا ! " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لَدِينِهَا ، وَمَالِهَا ، وَجَمَالِهَا ، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ ، تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا : جی ہاں، پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے ؟ میں نے عرض کیا ، شوہر دیدہ سے۔ کیونکہ میری چھوٹی بہنیں اور پھوپھیاں ہیں، میں نے ان میں ان ہی جیسی بیوقوف کو لانا مناسب نہ سمجھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اسے سے کھیلتے ؟ پھر فرمایا کہ عورت سے نکاح اس کے دین، مال اور حسن و جمال کی وجہ سے کیا جاتا ہے، تم دین دار کو اپنے لئے منتخب کیا کرو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔
حدیث نمبر: 14238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ بِالْحَجِّ ، " فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً " ، فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَحِلُّوا ، فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي ، لَفَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ " فَفَعَلْنَا وَطِئْنَا النِّسَاءَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ ، حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَوْ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ ، وَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ذی الحجہ کی چار تاریخ کو گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ کا احرام بنا لیں ، اس پر ہمارے دل کچھ بوجھل ہوئے اور یہ بات ہمیں بری محسوس ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ لوگو ! احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو وہی کرتا جو تم کر و گے، چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ ہم نے اپنی عورتوں سے بھی وہی کچھ کیا جو غیر محرم کر سکتا ہے، حتیٰ تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی شام یا دن ہوا تو ہم نے مکہ مکرمہ کو اپنی پشت پر رکھا اور حج کا تلبیہ پڑھ کر روانہ ہو گئے۔
حدیث نمبر: 14239
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ بِالْحَجِّ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ ، ولَبَّيْنَا بِالْحَجِّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ ، أَنْ يُنْبَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ " كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمَهُ ، فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ابتداء نماز عشاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہی نماز پڑھا دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 14242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ، أَوْ عَجَزَ عَنْهَا ، فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُؤَاجِرْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص کے پاس زمین ہو اسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے ، اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہے تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دے دے، کرایہ پر نہ دے۔“
حدیث نمبر: 14243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمریٰ اس کے لئے جائز ہے جس کے لئے ہبہ کیا گیا ہو ۔“
حدیث نمبر: 14244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ " ، فَقَالَتْ : الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا ، قَالَ : " فَلَا إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ، تو انصار کہنے لگے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر نہیں۔
حدیث نمبر: 14245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ، قَالَ : فَقَالَ : " آتِيكُمْ " ، قَالَ : فَرَجَعْتُ ، فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ : لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا تَسْأَلِيهِ ، قَالَ : فَأَتَانَا ، فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا للَّحْمَ ! " ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ : صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا ، قَالَ : فَقَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ " ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ ؟ قَالَتْ : تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا ، وَلَا يَدْعُو لَنَا ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد صاحب کے قرض کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر آیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں تمہارے پاس آؤں گا“، میں نے واپس جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوالے سے کوئی بات کرنا اور نہ ہی سوال کرنا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم نے اپنی ایک بکری ذبح کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جابر ! ایسا لگتا ہے کہ تمہیں گوشت کے ساتھ ہمارے تعلق خاطر کا پتہ لگ گیا ہے“ ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو میری بیوی نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے دعاء فرما دیجیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کیا میں نے تمہیں منع نہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ دیکھو تو سہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہمارے لئے دعا نہ فرمائیں۔
حدیث نمبر: 14246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : الظُّهْرُ كَاسْمِهَا ، وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبُ كَاسْمِهَا ، وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ ، فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ ، وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ ، وَالْفَجْرُ كَاسْمِهَا ، وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز ظہر اپنے نام کی طرح ہے، نماز عصر سورج کے روشن اور تازہ دم ہونے کا نام ہے، نماز مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ دکھائی دیتی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے ادا فرماتے تھے، اور نماز فجر بھی اپنے نام کی طرح ہی ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر منہ اندھیرے پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 14247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ ، وَيَرْحَمُهُنَّ ، وَيَكْفُلُهُنَّ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ " ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَتْ اثْنَتَيْنِ " ، قَالَ : فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ ، أَنْ لَوْ قَالُوا لَهُ : وَاحِدَةً ، لَقَالَ : " وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، جن کی رہائش، ان پر شفقت اور کفالت وہ کرتا ہو، اس کے لئے جنت یقینی طور پر واجب ہو جائے گی“ ، کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں تو ؟ فرمایا : ”پھر بھی یہی حکم ہے“ ، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ ایک کے متعلق سوال کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرما دیتے کہ ایک بیٹی ہو تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 14248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا ، ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ ، فَقَالَ : " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ، وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، واپسی پر جب ہم شہر میں داخل ہونے لگے تو فرمایا : ”ٹھہرو ! رات کو شہر میں داخل ہوں گے“ یعنی مغرب کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع، تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کر لے۔
حدیث نمبر: 14249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقُلْنَا : لَا نُكَنِّيكَ بِهِ حَتَّى نَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا لَهُ ، فَقَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، انہوں نے اس کا نام قاسم رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کنیت نہیں رکھنے دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ کیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
حدیث نمبر: 14250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل اور ایک مد سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 14251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَاشْتَرَى مِنِّي بَعِيرًا ، فَجَعَلَ لِي ظَهْرَهُ حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ ، أَتَيْتُهُ بِالْبَعِيرِ ، فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ ، " وَأَمَرَ لِي بِالثَّمَنِ " ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَحِقَنِي ، قَالَ : قُلْتُ لعلَّه : قَدْ بَدَا لَهُ ، قَالَ : فَلَمَّا أَتَيْتُهُ ، دَفَعَ إِلَيَّ الْبَعِيرَ ، وَقَالَ : " هُوَ لَكَ " فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ يَعْجَبُ ، قَالَ : فَقَالَ : اشْتَرَى مِنْكَ الْبَعِيرَ ، وَدَفَعَ إِلَيْكَ الثَّمَنَ ، وَوَهَبَهُ لَكَ ؟ ! قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میرا اونٹ خرید لیا، اور مجھے مدینہ منورہ تک اس پر سواری کی اجازت دے دی، مدینہ واپسی کے بعد میں وہ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا، اور اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیمت ادا کر دی اور میں واپس ہو گیا، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مجھے آ ملے میں نے سوچا کہ شاید آپ کی رائے بدل گئی ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ میرے حوالے کر کے فرمایا کہ یہ بھی تمہارا ہوا ، اتفاقاً میرا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا ، میں نے اسے یہ واقعہ بتایا تو وہ تعجب کرنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے اونٹ خریدا، پھر اس کی قیمت بھی دے دی اور وہ اونٹ بھی تمہیں ہبہ کر دیا ؟ میں نے کہا جی ہاں۔
حدیث نمبر: 14252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رُمِيَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَوْمَ أُحُدٍ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ ، فَأَمَر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُوِيَ عَلَى أَكْحَلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن ایک تیر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بازو کی ایک رگ میں آ لگا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ان کے بازو کو داغ دیا گیا۔
حدیث نمبر: 14253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ ، يَنْتَظِرُ بِهَا ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا ، إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”پڑوسی اپنے پڑوسی کے مکان پر شفعہ کا زیادہ حق رکھتا ہے اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، جبکہ دونوں کا راستہ ایک ہو ۔“
حدیث نمبر: 14254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا ، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمریٰ اس کے اہل کے لئے جائز ہے اور رقبیٰ اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 14255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبِو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 14256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ ، بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي سَفَرٍ ، فَنَفِدَ زَادُنَا ، فَمَرَرْنَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْهُ ، فَمَنَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كُلُوا ، قَالَ : فَأَكَلْنَا مِنْهُ أَيَّامًا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ بَقِيَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَابْعَثُوا بِهِ إِلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سفر میں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا راستے میں ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا، اسی دوران ہمارا گزر ایک بہت بڑی مچھلی پر ہوا جو سمندر نے باہر پھینک دی تھی، ہم نے اسے کھانا چاہا لیکن سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پہلے تو ہمیں منع کر دیا، پھر فرمایا کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد اور اللہ کے راستے میں نکلے ہیں، اس لئے اسے کھا لو چنانچہ ہم کئی دن اسے کھاتے رہے اور واپس آنے کے بعد ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کا تذکر ہ کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر اس کا کچھ حصہ تمہارے پاس بچا ہوا تو وہ ہمیں بھی بھیجو۔“
حدیث نمبر: 14257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 14258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيمَ الْعَمَلُ ؟ ! أَفِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَوْ فِي شَيْءٍ نَسْتَأْنِفُهُ ؟ فَقَالَ : " بَلْ فِي شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ قَالَ " اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے، اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! عمل کس مقصد کے لئے ہے، کیا قلم اسے لکھ کر خشک ہو گئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا یا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا “ ، انہوں نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائد ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اس عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 14259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنَا ، فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 14260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةِ حَتَّى يَجْلِسَ ، فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی مریض کی عیادت کو جاتا ہے، وہ رحمت الٰہی میں گھستا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس جا کر بیٹھ جائے اور جب بیٹھ جائے تو اس میں غوطہ زنی کرنے لگتا ہے۔“
حدیث نمبر: 14261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ ، الْإِدَامُ الْخَلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“
حدیث نمبر: 14262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَكَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّوْا ، وَلَمْ يَتَوَضَّئُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، ان سب حضرات نے نیا وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حدیث نمبر: 14263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا ، وَمُوكِلَهُ ، وَشَاهِدَيْهِ ، وَكَاتِبَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے گواہوں اور منشی پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 14264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ إِنَّمَا يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ، وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ ، شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ ، فَلْيُصَلِّ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی، مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے، پہلے نبی ایک مخصوص قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے، جبکہ مجھے تمام لوگوں کی طرف عموی طور پر بھیجا گیا ہے ، میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا ہے جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لئے حلال نہیں رہا۔ رعب کے ذریعے ایک مہینے کی مسافت پر میری مدد کی گئی ہے ، اور میرے لئے روئے زمین کو پاکیزگی بخش اور مسجد قرار دیا گیا ہے، اس لئے جس شخص کو جہاں بھی نماز ملے، وہ وہیں نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 14265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَتَمَتَّعُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، نَشْتَرِكُ فِيهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں اس بات سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ مشترکہ طور پر سات آدمی ایک گائے کی قربانی دے دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 14266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ غُسْلٌ فِي سَبْعَةِ أَيَّامٍ ، كُلَّ جُمُعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ہر مسلمان پر سات دنوں میں جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے۔“
حدیث نمبر: 14267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ " . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ، قَالَ : " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْجَرِّ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، اور اگر مشیکزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر، سبز مٹکا اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
…