حدیث نمبر: 15261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كَانَ فِي الْكَعْبَةِ صُوَرٌ , " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنْ يَمْحُوَهَا , فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاهَا بِهِ , فَدَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَا فِيهَا مِنْهَا شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے زمانے میں سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن،
حدیث نمبر: 15262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ رَجُلٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غزوہ خیبر میں حدیبیہ میں شریک ہو نے والے کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر: 14484
حدیث نمبر: 15263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْمَرُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَذْكُرُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ فَدَعَا بِهَا , وَإِنِّي اسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکر م سرور دوعالم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعاء تھی جو انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی تھی جبکہ میں نے اپنی امت کے لئے اپنی دعاء شفاعت کی صورت میں قیامت کے دن کے لے اٹھا رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 201، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن الحسن البصري لم يسمع جابرا
حدیث نمبر: 15264
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّمَا الصِّيَامُ جُنَّةٌ , يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ , هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ ایک ڈھال ہے جس سے انسان جہنم سے اپنا بچاؤ کرتا ہے اور وہ روزہ خاص میرے لئے ہے لہذا اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد حسن، ورواية عبدالله بن المبارك عن ابن لهيعة صالحة
حدیث نمبر: 15265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمِ الْغَيْبَةَ , فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جب تم کافی عرصے کے بعد رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5244، م: 715
حدیث نمبر: 15266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : قَالَ لِي جَابِرٌ : دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ لِأَذْبَحَهَا , فَثَغَتْ , فَسَمِعَ ثَغَوْتهَا , فَقَالَ : يَا جَابِرُ " لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا " ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّمَا هِيَ عَتُودَةٌ , عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف لائے میں نے اپنی بکری کو ذبح کرنے کے لئے اس کی طرف قدم بڑھائے تو وہ چلانے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں اس کی آواز پہنچی تو مجھ سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی یا نسل دینے والی بکری کو ذبح نہ کرنا میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بکری کا بچہ ہے جسے میں نے کچی پکی کھجوریں اتنی کھلائی ہیں کہ یہ صحت مند ہو گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمر بن سلمة وأبوه مجهولان، ويغني عنه ما رواه مسلم: 2038 من حديث أبى هريرة: أن النبى صلى الله عليه وسلم قال لأبي الهيثم الأنصاري الذى أراد أن يذبح لهم: « إياك ! والحلوب »
حدیث نمبر: 15267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كَانَ لِأَبِي شُعَيْبٍ غُلَامٌ لَحَّامٌ , فَلَمَّا رَأَى مَا بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْجَهْدِ , أَمَرَ غُلَامَهُ أَنْ يَجْعَلَ لَهُ طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً , فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ ائْتِنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ , فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى بَابِهِ , قَالَ : " إِنَّكَ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَكَ خَامِسَ خَمْسَةٍ , وَإِنَّ هَذَا قَدْ اتَّبَعَنَا , فَإِنْ أَذِنْتَ لَهُ دَخَلَ , وَإِلَّا رَجَعَ " ، قَالَ : فَإِنِّي قَدْ أَذِنْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَخَلَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام قصائی تھا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کر وں جو کہ پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو جائے چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا : یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے کیا تم اسے بھی اجازت دیتے ہواس نے اجازت دیدی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م:2036
حدیث نمبر: 15268
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی سیدنا ابومسعود سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2036، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15269
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا الْخَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا , أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً , بَعَثَ إِلَيْهَا مَلَكًا , فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , مَا رِزْقُهُ ؟ ، فَيُقَالُ لَهُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , مَا أَجَلُهُ ؟ ، فَيُقَالُ لَهُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ فَيُعْلَمُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , شَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَيُعْلَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب ماں کے رحم میں نطفہ قرار پکڑ لیتا ہے اور اس پر چالیس دن گزر جاتے ہیں تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو پوچھتا ہے کہ پروردگار اس کا رزق کیا ہو گا اسے بتادیا جاتا ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار اس کی عمر کتنی ہو گی اسے بتادی جاتی ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ مذکر ہو گا یا مونث اسے وہ بھی بتادیا جاتا ہے پھر وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار یہ شقی ہو گا یا سعادت مند اسے وہ بھی بتادیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف خصيف الجزري، ويشهد له حديث حذيفة بن أسيد عند مسلم: 2645، وسيأتي فى المسند: 16142
حدیث نمبر: 15270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ , تَعْدِلُ حَجَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا , أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ , إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ , وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 15272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ , فَدَعَوْنَاهُ إِلَى عَجْوَةٍ بَيْنَ أَيْدِينَا عَلَى تُرْسٍ , فَأَكَلَ مِنْهَا , وَلَمْ يَكُنْ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی سے قضا حاجت کر کے لوٹتے ہوئے ہمارے پاس سے گزرے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عجوہ کھجور کی دعوت دی جو ہمارے سامنے ایک ڈھال پر رکھی ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمالیا اور کھانے سے پہلے وضو نہیں فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وتوبع، لكن أبا الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 15273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ , وَفِينَا الْعَجَمِيُّ وَالْأَعْرَابِيُّ , قَالَ : فَاسْتَمَعَ , فَقَالَ : " اقْرَءُوا , فَكُلٌّ حَسَنٌ , وَسَيَأْتِي قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ , يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کر یم کی تلاوت کر رہے ہیں ہم میں عجمی اور دیہاتی بھی تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرآن کر یم کی تلاوت کیا کر و اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آ جائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے گی اور وہ جلد بازی کر یں گے اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صَبِيحٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا عَنْ أَكْلِ الْكُرَّاثِ وَالْبَصَلِ " ، قَالَ الرَّبِيعُ فَسَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا ہے۔ ربیع کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے اس کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 564، وهذا إسناد ضعيف، الربيع بن صبيح سيئ الحفظ، وقد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف، وقد توبع أيضا
حدیث نمبر: 15275
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ وہ دوبارہ حجر اسود پر آ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1263
حدیث نمبر: 15276
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لَهُ : " قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَكَ بِأَرْبَعَةِ الدَّنَانِيرِ , وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَة " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارا اونٹ چار دینار میں لے لیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو نے کی بھی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2309، م: 715
حدیث نمبر: 15277
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَخَطَّ خَطًّا هَكَذَا أَمَامَهُ , فَقَالَ : " هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، وَخَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ , وَخَطَّيْنِ عَنْ شِمَالِهِ , قَالَ : " هَذِهِ سَبِيلُ الشَّيْطَانِ " ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطَ , ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ سورة الأنعام آية 153 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکیر کھینچ کر فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے پھر دو لکیریں اس کے دائیں بائیں کھینچ کر فرمایا کہ یہ شیطان کا راستہ ہے پھر درمیان والی لکیر پر ہاتھ رکھ کر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے اسی کی اتباع کر و دوسرے راستوں کے پیچھے نہ جانا ورنہ تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے یہی اللہ کی تمہیں وصیت ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، واختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 15278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَفْصٌ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر حاضر شوہر والی عورت کے پاس جانے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وانظر: 14324
حدیث نمبر: 15279
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ شَرِيكًا فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ , فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ , فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ , وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو وہ اپنے شریک کے ساتھ پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے تاکہ اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے ورنہ چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأبو الزبير قد صرح بالتحديث عند غير المصنف، وانظر: 14292
حدیث نمبر: 15280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَمُطِرْنَا , فَقَالَ : " مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُصَلِّ فِي رَحْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے راستے میں بارش ہو نے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اپنے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو یہیں نماز پڑھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 698، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر: 14503
حدیث نمبر: 15281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ , وَقَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ : يَا جَابِرُ , لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا , فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي , لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ , إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ , فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِتَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا , إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى , فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ ، فَرَجَعْنَا بِهِمَا فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا ، فَبَيْنَمَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ , إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عَمَلُ مُعَاوِيَةَ , فَبَدَا , فَخَرَجَ طَائِفَةٌ مِنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ , فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتُهُ , لَمْ يَتَغَيَّرْ , إِلَّا مَا لَمْ يَدَعِ الْقَتْلُ , أَوْ الْقَتِيلُ , فَوَارَيْتُهُ . قَالَ : وَتَرَكَ أَبِي عَلَيْهِ دَيْنًا مِنَ التَّمْرِ , فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي , فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا , وَتَرَكَ عَلَيَّ دَيْنًا مِنَ التَّمْرِ , وَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي , فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ , لَعَلَّه أَنْ يُنَظِّرَنِي طَائِفَةً مِنْ تَمْرِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ ، فَقَالَ : " نَعَمْ , آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ " ، وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّهُ , ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَدَخَلَ , وقَدْ قُلْتُ لِامْرَأَتِي : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنِي الْيَوْمَ وَسَطَ النَّهَارِ , فَلَا أَرَيَنَّكِ , وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي بِشَيْءٍ , وَلَا تُكَلِّمِيهِ ، فَدَخَلَ ، فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً , فَوَضَعَ رَأْسَهُ , فَنَامَ ، قَالَ : وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِيَ : اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ , وَالْوَحَا وَالْعَجَلَ , افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا مَعَكَ . فَلَمْ نَزَلْ فِيهَا , حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهَا , وَهُوَ نَائِمٌ , فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ , وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ حَتَّى تَضَعَ الْعَنَاقَ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَلَمَّا قَامَ , قَالَ : " يَا جَابِرُ , ائْتِنِي بِطَهُورٍ " ، فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طُهُورِهِ , حَتَّى وَضَعْتُ الْعَنَاقَ عِنْدَهُ , فَنَظَرَ إِلَيَّ , فَقَالَ : " كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا لِلَّحْمِ , ادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ " ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا حَوَارِيَّيْهِ اللَّذَيْنَ مَعَهُ , فَدَخَلُوا , فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَهُ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ , كُلُوا " ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا , وَفَضَلَ لَحْمٌ مِنْهَا كَثِيرٌ ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلِمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ , وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرُبُهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ , مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ , فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ , فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ , وَكَانَ يَقُولُ : " خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ " ، وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ ، قَالَ : وَأَخْرَجَتِ امْرَأَتِي صَدْرَهَا , وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَقِيفٍ فِي الْبَيْتِ , قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ , وَعَلَى زَوْجِكِ " ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُ لِي فُلَانًا " , لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ ، قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ : " أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ , إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ " ، قَالَ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ ، وَاعْتَلَّ , وَقَالَ : إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى ، فَقَالَ : " أَيْنَ جَابِرٌ ؟ " ، فَقَالَ : أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كِلْ لَهُ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ " فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ , فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ ، قَالَ : " الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ " ، فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَقُلْتُ : قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ ، فَكِلْتُ لَهُ مِنَ الْعَجْوَةِ , فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا , فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ , كَأَنِّي شَرَارَةٌ , فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ فَوَفَّاهُ اللَّهُ , وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؟ " ، فَجَاءَ يُهَرْوِلُ , فَقَالَ : " سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ " ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِسَائِلِهِ , قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ , إِذْ أَخْبَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ : مَا أَنَا بِسَائِلِهِ ، وَكَانَ لَا يُرَاجِعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ , فَقَالَ : يَا جَابِرُ , مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : وَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا ، فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ , فَقَالَ : أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : أَكُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي , ثُمَّ يَخْرُجُ وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے قتال کے لئے مدینہ منورہ سے نکلے مجھ سے میرے والد صاحب عبداللہ نے کہہ دیا تھا کہ جابر رضی اللہ عنہ تم اس وقت تک نہ نکلنا جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا واللہ اگر میں نے اپنے پیچھے بیٹیاں نہ چھوڑی ہو تیں تو میری خواہش ہو تی کہ تمہیں میرے سامنے شہادت نصیب ہو چنانچہ میں اپنے باغ میں ہی رہا کہ اچانک میری پھوپھی میرے والد اور میرے ماموں کو اونٹ پر لاد کر لے آئیں وہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کر دیں اچانک ایک آدمی منادی کرتا ہوا آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنے مقتولین کو واپس لے جا کر اس جگہ دفن کر و جہاں وہ شہید ہوئے تھے چنانچہ ہم ان دونوں کو لے کر واپس لوٹے اور مقام شہادت میں انہیں دفن کر دیا۔ سیدنا امیر معاویہ کے دور خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے جابر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ کے گورنروں نے آپ کے والد کی قبر کھودی ہے اور وہ اپنی قبر میں نظر آرہے ہیں میں وہاں پہنچا تو اسی حال میں پایا جس حال میں میں نے انہیں دفن کیا تھا ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی سوائے اس معمولی چیز کے جو قتل کی وجہ سے ہو ہی جاتی ہے پھر میں نے ان کی مکمل تدفین کی۔ میرے والد صاحب نے اپنے اوپر کھجوروں کا کچھ قرض بھی چھوڑا تھا قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی سے کرنا شروع کر دیا مجبو رہو کر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد صاحب فلاں موقع پر شہید ہو گئے اور مجھ پر کھجور کا قرض چھوڑ گئے قرض خواہوں نے اس کا تقاضا مجھ سے سختی کے ساتھ کرنا شروع کر دیا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ کچھ تعاون کر یں کہ وہ مجھے ایک سال کی مہلت دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا میں تمہارے پاس نصف النہار کے وقت ان شاء اللہ آؤں گا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ آ گئے اور اجازت لے کر گھر میں داخل ہوئے میں نے اپنی بیوی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ نصف النہار کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے لیکن تم مجھے نظر نہ آنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچانا اور نہ ہی ان سے کوئی فرمائش کرنا بہرحال اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ رکھا جس پر سر رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ میں نے اپنے ایک غلام سے کہا کہ جلدی سے یہ بکری ذبح کر و اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہو نے سے پہلے اس سے فارغ ہو جاؤ میں بھی تمہارا ساتھ دیتا ہوں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہو نے سے پہلے ہی ہم اس سے فارغ ہو گئے میں نے اس سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوں تو وضو کے لئے پانی منگوائیں گے جب وہ وضو سے فارغ ہوں توفورا ہی ان کے سامنے کھانا پیش کر دیا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نیند سے بیدار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور ابھی وضو فرما کر فارغ بھی نہ ہو نے پائے تھے کہ کھانا سامنے رکھ دیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا : شاید تمہیں بھی گوشت کی طرف ہماری رغبت کا اندازہ ہو گیا ہے ابوبکر کو بلاؤ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والے دیگر صحابہ کو بھی بلا لیا وہ آ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیا اور فرمایا : بسم اللہ کھاؤ ان سب نے خوب سیراب ہو کر کھایا پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا واللہ بنوسلمہ کے لوگ بیٹھے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے یہ منظر ان کے لئے بڑا محبوب تھا لیکن وہ صرف اس بناء پر قریب نہ آتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کھڑے ہو گئے صحابہ آگے آگے چل رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دو میں بھی ان کے پیچھے چل پڑا جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو میری بیوی نے ایک ستون کی آڑ سے کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعا کر دیجیے اللہ آپ پر درود بھیجے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تم اور تمہارے شوہر پر اپنی رحمتیں نازل کر ے پھر میرے قرض خواہ کا نام لے کر فرمایا : اسے بلا کر لاؤ یہ وہی شخص تھا جو بڑی سختی سے قرض کا مطالبہ کر رہا تھا وہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ پر اگلے سال تک کے لئے تھوڑی دیر آسانی کر دو اس نے کہا میں تو ایسا نہیں کر وں گا وہ مزید بدک گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو یتمیوں کا مال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں یہاں ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ماپ کر دینا شروع کرو، اللہ تعالیٰ پورا کروا دے گا، میں نے آسمان پر نگاہ ڈالی تو سورج ڈھل چکا تھا، میں نے عرض کیا: اے ابوبکر ! نماز کا وقت ہو گیا ہے، چنانچہ وہ لوگ مسجد چلے گئے اور میں نے قرض خواہ سے کہا کہ اپنا بر تن لاؤ، اور میں نے اسے ماپ کر عجوہ کھجور دے دی، اللہ نے اسے پورا کروا دیا اور اتنی مقدار بچ بھی گئی، میں دوڑتا ہوا مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیکھیے تو سہی کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجور ماپ کر دی تو اللہ نے اسے پورا کروا دیا اور وہ اتنی مقدار میں بچ بھی گئی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر بن خطاب کہاں ہیں؟ وہ دوڑتے ہوئے آئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جابر سے اس کے قرض خواہ اور کھجوروں کے متعلق پوچھو، انہوں نے عرض کیا کہ میں نہیں پوچھوں گا ، اس لئے کہ جب آپ نے یہ فرما دیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ پورا کر دے گا، تین مرتبہ اسی طرح تکرار ہوا، تیسری مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنا اچھا نہ سمجھا اور پوچھ لیا کہ جابر ! تمہارے قرض خواہ اور کھجور کا کیا معاملہ بنا؟ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ نے پورا کر دیا بلکہ اتنی کھجور بچ بھی گئی ، پھر میں نے گھر آ کر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا ۔ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا؟ اس نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے گھر لے کر آئے اور وہ جانے لگیں تو میں ان سے اپنے لیے اور اپنے شوہر کے لئے دعاء کی درخواست بھی نہ کروں گی؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ , قَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ يَصُومَ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے (پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
حدیث نمبر: 15283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ , أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ , وَلَا تَبِيعُوهَا " ، فَسَأَلْتُ سَعِيدًا : " مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی زائد زمین ہو یا پانی ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 15284
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ , النَّاسُ غَادِيَانِ فَغَادٍ بَائِعٌ نَفْسَهُ وَمُوبِقٌ رَقَبَتَهُ , وَغَادٍ مُبْتَاعٌ نَفْسَهُ وَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا کعب بن عجرہ سے فرمایا کہ اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی سے کیا مراد ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئے گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کر یں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کر یں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق نہ کر یں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کر یں نہ کر یں تو وہی لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ۔ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایساوجود داخل نہیں ہو سکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی اور جہنم اس کی زیادہ حقدار ہو گی اے کعب بن عجرہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوں گے کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر اسے آزاد کر دیں گے اور کچھ اسے خرید کر ہلاک کر دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ , عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا , فَلَا يَطْرُقَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھرمت جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ , حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ سَنَةَ مِائَةٍ , عَمَّنْ حَدَّثَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ , أَوْ يُبْنَى عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبر کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 970، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نصر بن راشد، وإبهام الراوي عن جابر
حدیث نمبر: 15287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ , حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ رَاشِدٍ , عَمَّنْ حَدَّثَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ , فَقُبِرَ لَيْلًا , " فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ , إِلَّا أَنْ يَضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بنو عذرہ کا ایک آدمی فوت ہو گیا لوگوں نے اسے راتوں رات ہی قبر میں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم ہو نے پر رات کو قبر میں کسی بھی شخص کو اتارنے سے منع فرما دیا تاآنکہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی جائے الاّ یہ کہ مجبوری ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نصر بن راشد، وإيهام الراوي عن جابر، وانظر: 14145
حدیث نمبر: 15288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مُجَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي أَتَيْتُ بِكُتْلَةِ تَمْرٍ , فَعَجَمْتُهَا فِي فَمِي , فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً آذَتْنِي , فَلَفَظْتُهَا , ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى , فَعَجَمْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً , فَلَفَظْتُهَا , ثُمَّ أَخَذْتُ أُخْرَى فَعَجَمْتُهَا , فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً فَلَفَظْتُهَا " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ دَعْنِي فَلْأَعْبُرْهَا ؟ ، قَالَ : قَالَ : " اعْبُرْهَا " ، قَالَ : هُوَ جَيْشُكَ الَّذِي بَعَثْتَ , يَسْلَمُ وَيَغْنَمُ , فَيَلْقَوْنَ رَجُلًا , فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ , فَيَدَعُونَهُ ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا , فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ , فَيَدَعُونَهُ , ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلًا , فَيَنْشُدُهُمْ ذِمَّتَكَ فَيَدَعُونَهُ ، قَالَ : " كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میرے پاس کھجوروں کی ایک ٹوکر ی لائی گئی میں نے اسے منہ میں رکھ کر چباڈالی تو مجھے اس میں گھٹلی محسوس ہوئی جس سے مجھے اذیت ہوئی اور میں نے اسے پھینک دیا میں نے پھر کھجور کو اٹھا کر منہ میں رکھا اس مرتبہ بھی ایساہی ہوا تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا سیدنا صدیق اکبر نے عرض کیا : کہ اس کی تعبیر مجھے بتانے کی اجازت دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کی تعبیر بیان کر و انہوں نے عرض کیا : کہ اس سے مراد آپ کا لشکر وہ ہے جو آپ نے ہمیں بھیجا ہوا ہے وہ صحیح سالم مال غنیمت لے کر آئے گا انہیں ایک آدمی ملے گا جو انہیں آپ کی داڑھی کا واسطہ دے گا اور وہ اسے چھوڑ دیں گے تین مرتبہ اسی طرح ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے نے بھی یہی تعبیر دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 15289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ , فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ , وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم نہ ہوا ہو جب حدبندی ہو جائے اور راستے الگ ہو جائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2214
حدیث نمبر: 15290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَا : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ , فَقَالَ : " قَدْ أَعْطَيْتُكَهَا وَعَقِبَكَ مَا بَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدٌ , فَإِنَّمَا هِيَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِمَنْ أَعْطَاهَا , وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ لِمَنْ أُعْطِيَهَا , وَإِنَّهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ أَعْطَاهَا عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہو گی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس سے جداہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15291
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى , وَرَمَى فِي سَائِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ بَعْدَمَا زَالَتِ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذالحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکر یاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1299
حدیث نمبر: 15292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ سَعِيدٍ , أَنْبَأَنَا قَتَادَةُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ " ، قَالُوا : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " النَّجَاشِيُّ صْحَمَةُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : فَصَفَفْتُمْ عَلَيْهِ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ , كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّالِثِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ اپنے اس بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو دوسرے شہر میں انتقال کر گیا صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کون ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نجاشی اصحمہ میں نے پوچھا کہ پھر فرمایا کہ آپ نے صفیں باندھیں تو انہوں نے فرمایا : ہاں اور میں تیسری صف میں تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد سقطت الواسطة بين يزيد بن هارون وقتادة، وانظر: 14150 و 14151
حدیث نمبر: 15293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ , فَلَمَّا انْتَهَى قَالَ : " مَا مِنْ غَدَاءٍ ؟ " أَوْ " عَشَاءٍ " شَكَّ طَلْحَةُ ، قَالَ : فَأَخْرَجُوا فَلْقًا مِنْ خُبْزٍ , قَالَ : " مَا مِنْ أُدْمٍ ؟ " ، قَالُوا : لَا , إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ ، قَالَ : " أَدْنِيهِ , فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدْمُ هُوَ " ، قَالَ جَابِرٌ : مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ طَلْحَةُ : مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے چلتے کسی حجرے پر پہنچے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے کچھ روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن ہے انہوں نے عرض کیا : البتہ تھوڑا ساسر کہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ سرکہ تو بہترین سالن ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت سے سرکہ کو پسند کرتا ہوں جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2052
حدیث نمبر: 15294
رقم الحديث: 14997 (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ , فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ , أَوْ جَلَدْتُهُ , أَوْ لَعَنْتُهُ , فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " ۔
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی آ کر م صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی ایک انسان ہوں اے اللہ میرے منہ سے جس مسلمان کے لیے سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بنادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2602، وانظر ما بعدہ
حدیث نمبر: 15295
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ مِثْلَهُ , غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " زَكَاةً وَرَحْمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2602، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کر ے تو اسے طاق عدد میں پتھر استعمال کرنے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 15297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ , وَلَا مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ , يُصِيبُهُ مَرَضٌ , إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مؤمن مرد اور عورت اور جو مسلمان مرد اور عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , قِرَاءَةً عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ، فَقُدَّ قَمِيصُهُ مِنْ جَيْبِهِ حَتَّى أَخْرَجَهُ مِنْ رِجْلَيْهِ , فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنِّي أَمَرْتُ بِبُدْنِي الَّتِي بَعَثْتُ بِهَا أَنْ تُقَلَّدَ الْيَوْمَ , وَتُشْعَرَ الْيَوْمَ عَلَى مَاءِ كَذَا وَكَذَا , فَلَبِسْتُ قَمِيصًا وَنَسِيتُ , فَلَمْ أَكُنْ أُخْرِجُ قَمِيصِي مِنْ رَأْسِي " ، وَكَانَ قَدْ بَعَثَ بِبُدْنِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ نے اپنی قمیص چاک کر دی اور اسے اتار دیا کسی نے پوچھا : تو فرمایا کہ میں نے لوگوں سے یہ وعدہ لے کر رکھا تھا کہ وہ آج ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھیں گے میں وہ بھول گیا تھا اسی لئے قمیص نہیں اتار سکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو بھیج دیا اور خود مدینہ منورہ میں ہی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سلف الكلام عليه عند الحديث رقم: 14129
حدیث نمبر: 15299
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ وَسَمَّاهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , حَدَّثَنِي عَطَاءٌ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ زَعَمَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا ، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ قَالَ : فَلْيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص پیاز یا لہسن کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے اپنے گھر میں بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 855و 5452، م: 564
حدیث نمبر: 15299M
a
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15299M