حدیث نمبر: 14188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مِخْوَلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ، قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ : إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ، فَقَالَ جَابِرٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنو ہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ عنہنے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أخرجه البخاري بنحوه: 252
حدیث نمبر: 14189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ عَبْدَ رَبٍّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ : " لَا تُغَسِّلُوهُمْ ، فَإِنَّ كُلَّ جُرْحٍ أَوْ كُلَّ دَمٍ ، يَفُوحُ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہدا احد کے متعلق فرمایا کہ انہیں غسل مت دو کیونکہ قیامت کے دن ان کے ہر زخم اور خون سے مشک آرہی ہو گی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1343، عبد رب: قال الحافظ ابن حجر فى "تعجيل المنفعة": وهو غلط أو تحريف من أحد الرواة......اخرج المحاملي ....."من اماليه" ......فقال فيه: عن عبد ربه بن سعيد عن الزهري، وهذا هو الصواب
حدیث نمبر: 14190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ ، وَقَدْ جَنَحَتْ الشَّمْسُ ، وَمُعَاذٌ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، فَدَخَلَ مَعَهُ الصَّلَاةَ ، فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذٌ الْبَقَرَةَ أَوْ النِّسَاءَ مُحَارِبٌ الَّذِي يَشُكُّ فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلُ ذَلِكَ ، صَلَّى ثُمَّ خَرَجَ ، قَالَ : فَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ ، قَالَ : حَجَّاجٌ يَنَالُ مِنْهُ ، قَالَ : فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ أَوْ فَاتِنٌ فَاتِنٌ فَاتِنٌ ؟ ، وَقَالَ : حَجَّاجٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ أَفَاتِنٌ ؟ فَلَوْلَا قَرَأْتَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا فَصَلَّى وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ ، وَذُو الْحَاجَةِ أَوِ الضَّعِيفُ " أَحْسِبُ مُحَارِبًا الَّذِي يَشُكُّ فِي الضَّعِيفِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری نماز کے لئے آیا اس کے ساتھ اس کے دو پانی والے اونٹ بھی تھے سورج غروب ہو چکا تھا اور سیدنا معاذ بن جبل مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے وہ بھی نماز میں شریک ہو گیا ادھر سیدنا معاذ نے سورت بقرہ یا سورت النساء شروع کی اس آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے پتہ چلا کہ سیدنا معاذ نے اس کے متعلق کچھ کہا ہے اس نے یہ بات جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا : معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے ؟ کہ تمہارے پیچھے بوڑھے ضرورت مند اور کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6106، م: 465
حدیث نمبر: 14191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ طُرُوقًا ، أَوْ قَالَ : كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت اپنے گھر واپس آنے کو (مسافر کے لئے) اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5243، م: 715
حدیث نمبر: 14192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِ الْمَسْجِدَ ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ وَزَنَ لِي قَالَ شُعْبَةُ أَوْ أَمَرَ ، فَوُزِنَ لِي فَأَرْجَحَ لِي ، فَمَا زَالَ عِنْدِي مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى أَصَابَهَا أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اونٹ بھیج دیا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ پھر آپ نے مجھے وزن کر کے پیسے دینے کا حکم دیا اور جھکتا ہوا تولا اور ہمیشہ میرے پاس اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور رہا حالانکہ حرہ کے دن اہل شام اسے لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2604، م: 715
حدیث نمبر: 14193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمًا فِي سَفَرٍ ، قَالَ : يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، قَالُوا : هَذَا رَجُلٌ صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1946، م: 1115
حدیث نمبر: 14194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلْتُمْ لَيْلًا ، فَلَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ طُرُوقًا " ، فَقَالَ جَابِرٌ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں واللہ ہم ان کے بعد رات کو اپنے گھروں میں داخل ہو نے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715
حدیث نمبر: 14195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لِي فَأَعْيَا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَيِّبَهُ ، قَالَ : فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ ، وَدَعَا لَهُ ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ " فَكَرِهْتُ أَنْ أَبِيعَهُ ، قَالَ : " بِعْنِيهِ " فَبِعْتُهُ مِنْهُ ، وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ، أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ ، فَقَالَ : " ظَنَنْتَ حِينَ مَاكَسْتُكَ أَنْ أَذْهَبَ بِجَمَلِكَ ؟ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ ، هُمَا لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں اپنے ایک تھکے ہوئے اونٹ پر چلا جارہا تھا میں نے سوچا کہ اس اونٹ کو آزاد کر کے کسی جنگل میں چھوڑ دوں کہ اتنی دیر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آپہنچے اور اسے اپنی ٹانگ سے ٹھوکر مار کر اس کے لئے دعاء کی وہ یکدم ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اونٹ مجھے ایک او قیہ چاندی کے عوض بیچ دو میں نے اسے فروخت کرنا مناسب نہ سمجھا لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ یہ مجھے بیچ دو تو میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا اور یہ شرط کر لی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا واپس پہنچنے کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس وقت میں تم سے سودا کر رہا تھا تو تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں تمہارے اونٹ کو لے جاؤں گا اپنا اونٹ اور قیمت دونوں لے جاؤ یہ دونوں چیزیں تمہاری ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5079، م: 715
حدیث نمبر: 14196
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قال : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ ، وَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْطَى أُمَّهُ حَدِيقَةً مِنْ نَخْلٍ حَيَاتَهَا ، فَمَاتَتْ ، فَجَاءَ إِخْوَتُهُ ، فَقَالُوا : نَحْنُ فِيهِ شَرْعٌ سَوَاءٌ ، فَأَبَى ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ مِيرَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار آدمی نے اپنی والدہ کو تا قیامت کھجور کا ایک باغ دے دیا جب اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو اس کے بھائی آئے اور کہنے لگے کہ ہم سب کا اس میں برابر کا حصہ ہے لیکن اس نے انکار کر دیا لوگ یہ مقدمہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سب کے درمیان وراثت کے طور پر تقسیم فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد بن إبراهيم التيمي لم يسمع من جابر، وأنظر فى مسلم: 1625، "أعمَرَتِ امرَأَة بِالمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابنًا لَهَا"
حدیث نمبر: 14198
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ أَوْ اسْتَلْقَى أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَضَعْ رِجْلَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص بیٹھے یا چت لیٹے تو ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 14200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فِي غَزْوَةِ أَنْمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ انمار میں اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4140، وانظر: 14156
حدیث نمبر: 14201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أبو الزبير قد صرح بالسماع فى الرواية الآتية برقم: 14981
حدیث نمبر: 14202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ مُعَاذًا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، فَقَرَأَ الْبَقَرَةَ فِي الْفَجْرِ ، وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ الْمَغْرِبَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَتَّانًا أَفَتَّانًا ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاذ بن جبل نے لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے ہوئے اس میں سورت بقرہ شروع کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا : معاذتم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد سلف برقم: 14190، وفيه: أن الصلاة هي المغرب
حدیث نمبر: 14203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 14204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى ، فَقَالَ " وَاحِدَةٌ ، وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوران نماز کنکر یاں ہٹانے کے متعلق پوچھا : تو فرمایا کہ صرف ایک مرتبہ برابر کر سکتے ہواور اگر یہ بھی نہ کر و تو یہ تمہارے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي المدني، ويغني عنه حديث معيقيب عند البخاري: 1207، ومسلم: 546، "إِن كُنتَ فَاعِلًا فَؤَاحِدَةً"
حدیث نمبر: 14205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي ، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا ، فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا ، وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسٍ بِعُظَمَائِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر کر کھجور کی ایک شاخ یا تنے پر گرگئے اور پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھاتے ہوئے دیکھا ہم بھی اس میں شریک ہوئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا : امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ رہا کر و جیسا کہ اہل فارس اپنے روساء اور بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 413
حدیث نمبر: 14206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ ، قَالَ : فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا ، أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " بَلَى " ، قَالَ : فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، قَالَ : فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کجھور کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ایک انصاری عورت جس کا غلام بڑھی تھا اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرا غلام بڑھائی ہے کیا میں اسے آپ کے لئے منبر بنانے کا حکم نہ دیدوں کہ اس پر خطبہ ارشاد فرمایا : کر یں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں چنانچہ منبر تیار ہو گیا اور جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خطبہ دینے کے لئے تشریف فرما ہوئے تو وہ ستون جس کے ساتھ آپ ٹیک لگایا کرتے تھے بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس لئے رو رہا ہے کہ ذکر الٰہی اس کے پاس سے مفقود ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 449
حدیث نمبر: 14207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ ، فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهُ ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ ، فَلْيُوتِرْ آخِرَهُ ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَهِيَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا، تو اسے رات کے اول حصہ ہی میں وتر پڑھ لینا چاہیے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو، تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیے کیونکہ رات کے آخری حصہ میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف، أبن أبى ليلي سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 14208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ خَلَّفْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا ، مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا ، إِلَّا شَرَكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ ، حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”تم لوگ مدینہ میں کچھ ایسے ساتھی بھی چھوڑ کر آئے ہو کہ تم جو وادی بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر بھی چلتے ہو وہ اجر و ثواب میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوتے ہیں انہیں بیماری نے روک رکھا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَه إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا ، عَصَمُوا مِنِّي بِهَا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ سورة الغاشية آية 21 - 22 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے، میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ «لا اله الا الله» نہ پڑھ لیں، جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا ، سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہو گا۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ”آپ نصیحت کیجیے کیونکہ آپ کا کام ہی نصیحت ہی کرنا ہےلیکن آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 21
حدیث نمبر: 14210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، أبو سفيان طلحة بن نافع الواسطي صدوق لا بأس به
حدیث نمبر: 14211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا ، لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنَ الْجَبَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُشُّوهَا بِالْمَاءِ " فَرَشُّوهَا ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ ، أَوْ الْمِسْحَاةَ ، ثُمَّ قَالَ : " بِاسْمِ اللَّهِ " فَضَرَبَ ثَلَاثًا ، فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ ، قَالَ جَابِرٌ : فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کھودنے کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر تین دن اس حال میں گزر گئے کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چکھی، خندق کھودتے ہوئے ایک موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہاں پر پہاڑ کی ایک چٹان آ گئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر پانی چھڑک دو، انہوں نے اس پر پانی چھڑک دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کدال پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اس پر تین ضربیں لگائیں، اسی لمحے وہ چٹان ٹوٹ کر ریت کا ٹیلہ بن گئی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے غور کیا تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھ رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4101
حدیث نمبر: 14212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ أَوْ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن محمد بن عقيل تفرد به عن جابر، ولم يتابعه أحد، ومثله لا يقبل عند التفرد
حدیث نمبر: 14213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا " قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَحَرُوا جَزُورًا ، أَوْ بَقَرَةً ، وَقَالَ مَرَّةً : نَحَرْتُ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگوں نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3089
حدیث نمبر: 14214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنِي مَنْ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی ایسے غلام کو بیچے جس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع (بچنے والا) کا ہو گا۔ الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن جابر، لكنه متابع
حدیث نمبر: 14215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاعَ الْمُدَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو بیچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7616، م: 997
حدیث نمبر: 14216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاعَ الْمُدَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو بیچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2230، م: 997، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14217
(حديث مرفوع) حَدَثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عليُّ بن حَكِيم ألأوْديُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَاعَ الْمُدَبَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو بیچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7616، م: 997، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك ، لكنه متابع، وأنظر: 14215
حدیث نمبر: 14218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أبو الزبير صرح بالسماع فيما سيأتي برقم: 14418، بأنه سمع حجة النبى صلى الله عليه وسلم من جابر، وهو متابع أيضا
حدیث نمبر: 14219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا ، وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہیئں اور شیطان کو کنکریاں ٹھیکری کی بنی ہوئی مارا کرو۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَمَّا حَفَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الْخَنْدَقَ أَصَابَهُمْ جَهْدٌ شَدِيدٌ ، حَتَّى رَبَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا مِنَ الْجُوعِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کھودنے کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر بڑے سخت حالات آئے حتیٰ کہ بھوک کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھ رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4101
حدیث نمبر: 14221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ فِي الْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو جب تک اپنی انگلیاں خود نہ چاٹ لے یا کسی کو چاٹنے کا موقع نہ دے دے، اپنے ہاتھ تولیے سے صاف نہ کرے، کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2033
حدیث نمبر: 14222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا کھانا چار آدمیوں کو اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2059، وانظر مأبعده
حدیث نمبر: 14223
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُمِطْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى ، وَلْيَأْكُلْهَا ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دو چیز کو ہٹا کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2033
حدیث نمبر: 14225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ ، الْأُدْمُ الْخَلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2052
حدیث نمبر: 14226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجْتُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا ؟ قَالَ : قُلْتُ : أَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ " وَأَنَا أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي نَمَطَكِ ، فَتَقُولُ : أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ " ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے شادی کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اونی کپڑے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارے پاس کہاں ! فرمایا : ”عنقریب تمہیں اونی کپڑے ضرور ملیں گے“ اب آج جب وہ مجھے مل گئے۔ تو میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ یہ اپنے اونی کپڑے اپنے پاس ہی رکھو، تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ تمہیں اونی کپڑے ملیں گے (یہ سن کر میں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں )۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3631، م: 2083
حدیث نمبر: 14227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ، أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو کیونکہ میں ابوالقاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133