حدیث نمبر: 15222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " اشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي بَعِيرًا عَلَى أَنْ يُفْقِرَنِي ظَهْرَهُ سَفَرَهُ أَوْ سَفَرِي ذَلِكَ , ثُمَّ أَعْطَانِي الْبَعِيرَ وَالثَّمَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے میر اونٹ خرید لیا اور یہ شرط کر لی کہ میں اپنے گھر تک اسی پر سوار ہو کر جاؤں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ اور اس کی قیمت دونوں چیزیں مجھے دے دیں۔
حدیث نمبر: 15223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرٍو , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ , قَالَ : يَرَوْنَ أَنَّهَا غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ , فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ , وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ , فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ " ، فَقِيلَ : رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا . فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، قَالَ جَابِرٌ : وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ أَقَلَّ مِنَ الْأَنْصَارِ , ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا , فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ , فَقَالَ : فَعَلُوهَا , وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ , دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں غالباً بنو مصطلق میں تھے کہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا : ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا : یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں کہ مہاجرین جب مدینہ منورہ آئے تھے تو ان کی تعداد انصار سے کم تھی لیکن بعد میں ان کی تعداد بڑھ گئی۔ عبداللہ بن ابی کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ ایسا ہو گیا ہے واللہ ہم جب مدینہ منورہ پہنچیں گے جو زیادہ معزز ہو گا وہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا سیدنا عمر نے یہ بات سن لی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑادوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر رہنے دو کہیں لوگ یہ باتیں نہ کرنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ ، وَقَالَ : " لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹ لینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے کسی کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
حدیث نمبر: 15225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ , فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان کی چیز کو خوفزدہ کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 15226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرْبٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حدیث نمبر: 15227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَأَنْ يَكُفَّ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصَى , خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ , فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمِ الشَّيْطَانُ , فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی کنکر یوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ برابر کر لے۔
حدیث نمبر: 15228
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ شُرَحْبِيلَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصَى " .
مولانا ظفر اقبال
گزشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُ , فَرَدَّهُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے غلام کو مدبر بنایا وہ آدمی خود مقروض تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو اس کے آقا کے قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا اور نعیم بن نحام نے اسے خرید لیا۔
حدیث نمبر: 15230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ يَعْنِي الْأَحْزَابَ , فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَقَامَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَدْعُو عَلَيْهِمْ , وَلَمْ يُصَلِّ " , قَالَ : " ثُمَّ جَاءَ وَدَعَا عَلَيْهِمْ وَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد احزاب میں تشریف لائے اپنی چادر رکھی کھڑے ہوئے اور ہاتھوں کو پھیلا کر دعا کرنے لگے لیکن نماز جنازہ نہیں پڑھی پھر کچھ دیر بعد دوبارہ آئے تو دعا بھی کی اور نماز جنازہ بھی پڑھی۔
حدیث نمبر: 15231
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى فِي الْعُمْرَى أَنَّهَا لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی ہو گی۔
حدیث نمبر: 15232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنِ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ , فَقَالَ : كُنَّا نَطُوفُ ، فَنَمْسَحُ الرُّكْنَ الْفَاتِحَةَ وَالْخَاتِمَةَ , وَلَمْ نَكُنْ نَطُوفُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ , حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ ، وَقَالَ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلَى قَرْنَي الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے طواف کعبہ کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا : ہم لوگ طواف کرتے ہوئے پہلے اور آخری رکن کو ہاتھ لگاتے تھے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک ہم طواف نہیں کرتے تھے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 15233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْمَدِينَةِ كَالْكِيرِ , وَحَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ , وَأَنَا أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ , وَهِيَ كَمَكَّةَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا وَحِمَاهَا كُلُّهَا , لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ , إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ رَجُلٌ مِنْهَا , وَلَا يَقْرَبُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الطَّاعُونُ , وَلَا الدَّجَّالُ , وَالْمَلَائِكَةُ يَحْرُسُونَهَا عَلَى أَنْقَابِهَا وَأَبْوَابِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے سیدنا ابراہیم نے مکہ مکر مہ کو حرام قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو حرم قرار دیتا ہوں لہذا مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیانی حصہ اور اس کی چراگاہیں مکمل طور پر حرم ہیں جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو کھلائے اور ان شاء اللہ طاعون اور دجال اس کے قریب بھی نہ آسکے گا اس کے تمام سوراخوں اور دروازوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 15233
قَالَ : وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحْمِلُ فِيهَا سِلَاحًا لِقِتَالٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ میں کسی کے لئے قتال کی نیت سے اسلحہ اٹھاناجائز اور حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنِ الرُّقْيَةِ , فَقَالَ : أَخْبَرَنِي خَالِي أَحَدُ الْأَنْصَارِ , أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ بِشَيْءٍ , فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ ! کیا میں بچھو کے ڈنک کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کر سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہواسے ایساہی کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 15235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ دُعِيَ لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ لَدَغَتْهَا حَيَّةٌ لَيَرْقِيَهَا , فَأَبَى , فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَاهُ , فَقَالَ عَمْرٌو : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ تَزْجُرُ عَنِ الرُّقَى ، فَقَالَ : " اقْرَأْهَا عَلَيَّ " ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا بَأْسَ , إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ , فَارْقِ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک عورت کو سانپ نے ڈس لیا لوگوں نے عمرو بن حزم کو بلایا تاکہ اسے جھاڑ دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو عمرو کو بلایا انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ جھاڑ پھونک سے منع فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنا منتر میرے سامنے پڑھو انہوں نے پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں تو کوئی حرج نہیں تم ان سے جھاڑ پھونک کر سکتے ہو ۔
حدیث نمبر: 15236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُدْخِلُ أَحَدَكُمِ الْجَنَّةَ عَمَلُهُ , وَلَا يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ مِنَ النَّارِ " ، قِيلَ : وَلَا أَنْتَ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " وَلَا أَنَا , إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال جنت م ہیں داخل اور جہنم سے بچاسکیں گے صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں فرمایا : مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
حدیث نمبر: 15237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَسَقَطَتْ لُقْمَتُهُ , فَلْيُمِطْ مَا أَرَابَهُ مِنْهَا , ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ , وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ , فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْصُدُ ابْنَ آدَمَ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ , حَتَّى عِنْدَ طَعَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
حدیث نمبر: 15238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ , وَسَدِّدُوا , وَأَبْشِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضر جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر و راہ راست اختیار کر و اور خوشخبری حاصل کر و۔
حدیث نمبر: 15239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْخَرْصِ ، وَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ إِنْ هَلَكَ الثَّمْرُ , أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ مَالَ أَخِيهِ بِالْبَاطِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اندازے سے کھجوریں بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے آپ فرما رہے تھے یہ بتاؤ اگر کھجوریں ضائع ہو جائیں تو کیا کر و گے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے بھائی کا مال باطل طریقے سے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 15240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہو گا۔
حدیث نمبر: 15241
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کر وں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔
حدیث نمبر: 15242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنَيْ جَابِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَى الْمُحَدَّثُ الْمُحَدِّثَ يَتَلَفَّتُ , فَهِيَ أَمَانَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔
حدیث نمبر: 15243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ , وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ عَادَ إِلَى الْحَجَرِ , ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْهَا , وَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ , ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الصَّفَا , فَقَالَ : " ابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود تک تین چکر وں میں رمل کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر دوبارہ حجر اسود پر آئے پھر زم زم کے کنویں پر گئے اس کا پانی پیا اور سر مبارک پر ڈالا پھر واپس آ کر حجر اسود کا استلام کیا پھر صفامروہ کی طرف چل پڑے اور فرمانے لگے کہ یہیں سے ابتداء کر و جہاں سے اللہ نے ابتداء کی ہے۔
حدیث نمبر: 15244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا , فَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ , حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ , حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ , قَالَ : فَقُلْنَا : حِلُّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ " ، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ , وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ , وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ , ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ . ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي , فَقَالَ : " مَا شَأْنُكِ ؟ " ، قَالَتْ : شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ , وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ , وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ , وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ ، قَالَ : " فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ " ، فَفَعَلَتْ , وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا , حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ , طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ قَالَ : " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا " ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ ، قَالَ : " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " ، وَذَلِك لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کے ارادہ سے مکہ مکر مہ روانہ ہوئے سیدنا عائشہ نے عمرے کا احرام باندھا مقام سرف میں پہنچ کر انہیں ایام آ گئے ہم نے تو مکہ مکر مہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور ہم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حلال ہو نے کا حکم دیا ہم نے حلال ہو نے کی نوعیت پوچھی تو فرمایا کہ مکمل حلال ہو جاؤ چنانچہ ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی جبکہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں پھر ہم نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام حج باندھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رورہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول چکے ہیں لیکن میں اب تک نہیں کھول پائی لوگوں نے طواف کر لیا لیکن میں اب تک نہیں کر سکی اور حج کے ایام سر پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں میں لکھ دی ہے اس لئے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو اور حج کر لو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لو اس طرح تم اپنے حج اور عمرے کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جاؤ گی وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہا انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ یہی حصبہ کی رات تھی۔
حدیث نمبر: 15245
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ , مَرَّةً تَسْتَقِيمُ , وَمَرَّةً تَمِيلُ وَتَعْتَدِلُ , وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ , مُسْتَقِيمَةً لَا يَشْعُرُ بِهَا حَتَّى تَخِرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ گر جاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا) ۔
حدیث نمبر: 15246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ , عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءً , أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ بَاعَ ثَمَرَ أَرْضٍ لَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ , فَسَمِعَ بِذَلِكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فِي نَاسٍ , فَقَالَ فِي الْمَسْجِدِ : " مَنَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَ الثَّمَرَةَ حَتَّى تَطِيبَ " .
مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبدللہ بن زبیر نے تین سال کے ٹھیکے پر ایک زمین کا پھل فروخت کر دیا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے کانوں تک جب یہ بات پہنچی تو وہ مسجد کی طرف نکلے اور مسجد میں لوگوں سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پھل پکنے سے قبل بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 15247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ قَدْ سَرَقَتْ , فَعَاذَتْ بِرَبِيبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ , لَقَطَعْتُ يَدَهَا " , فَقَطَعَهَا ، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ : وَكَانَ رَبِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَمَةَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ , وَعُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ , فَعَاذَتْ بِأَحَدِهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سے چوری سرزد ہو گئی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب کے ذریعے سفارش کر وا کر بچاؤ کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا : اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کر تی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا ابن ابی زناد کہتے ہیں کہ ربیب سے مراد سلمہ بن ابوسلمہ یا عمر بن ابوسلمہ ہیں۔
حدیث نمبر: 15248
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَنْ يُبَاشِرَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , وَالْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ "
حدیث نمبر: 15249
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " إِذَا أَعْجَبَتْ أَحَدَكُمُ الْمَرْأَةُ , فَلْيَقَعْ عَلَى أَهْلِهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کپڑے میں کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس آئے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس طرح اس کے دل میں جو خیالات ہوں گے وہ دور ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 15250
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ جَابِرٌ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطُّرُوقِ إِذَا جِئْنَا مِنَ السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت بلا اطلاع کے اپنے گھر واپس آنے سے (مسافر کے لئے) ممانعت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 15251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : وُثِئَتْ رِجْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ , فَخَرَجَ إِلَيْنَا , أَوْ وَجَدْنَاهُ فِي حُجْرَتِهِ جَالِسًا بَيْنَ يَدَيْ غُرْفَةٍ , فَصَلَّى جَالِسًا , وَقُمْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّيْنَا , فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ , قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُ جَالِسًا , فَصَلُّوا جُلُوسًا , وَإِذَا صَلَّيْتُ قَائِمًا , فَصَلُّوا قِيَامًا , وَلَا تَقُومُوا كَمَا تَقُومُ فَارِسُ لِجَبَابِرَتِهَا , أَوْ لِمُلُوكِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آگئی ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو وہاں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ہم بھی اس میں شریک ہو گئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا : اگر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھوں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر میں بیٹھ کر نماز پڑھوں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور اس طرح کھڑے نہ رہا کر و جیسے اہل فارس اپنے روسا اور بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین سالوں کے لئے پھلوں کی پیشگی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 15253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى , وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ , فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ , وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا , فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جسے جوتیاں نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔
حدیث نمبر: 15254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً , فَلَيْسَ مِنَّا " ، حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ آدَمَ , وَأَبُو النَّضْرِ أَيْضًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ " ، حَدَّثَنَاه أَبُو النَّضْرِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ , وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ , وَخَمِّرُوا الْآنِيَةَ , وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا , وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً , وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً , وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ , وَلَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ , حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ , فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تُبْعَثُ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کر و اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و اور چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹا سکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اور جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور بچوں کو گھروں سے نہ نکلنے دیا کر و کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : قَالَ لِي جَابِرٌ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي تَرَكَ دَيْنًا لِيَهُودَ ، فَقَالَ : " سَآتِيكَ يَوْمَ السَّبْتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، وَذَلِكَ فِي زَمَنِ التَّمْرِ مَعَ اسْتِجْدَادِ النَّخْلِ , فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ يَوْمِ السَّبْتِ , جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ فِي مَاءٍ لِي , دَنَا إِلَى الرَّبِيعِ , فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ دَنَوْتُ بِهِ إِلَى خَيْمَةٍ لِي , فَبَسَطْتُ لَهُ بِجَادًا مِنْ شَعْرٍ , وَطَرَحْتُ خُدَيَّةً مِنْ قَتَبٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا مِنْ لِيفٍ , فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا , فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ فَكَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى مَا عَمِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ عُمَرُ , فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , كَأَنَّهُ نَظَرَ إِلَى صَاحِبَيْهِ , فَدَخَلَا , فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رَأْسِهِ , وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے والد صاحب یہو دیوں کا کچھ قرض چھوڑ کر گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ان شاء اللہ ہفتہ کے دن تمہارے پاس آؤں گا یہ کھجوریں کٹنے کا زمانہ تھا ہفتہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لے آئے باغ میں پانی کھڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور نالی کے قریب کھڑے ہو کر وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے خیمے میں آیا اور بالوں کا بنا ہوا بستر بچھایا اور پیچھے بالوں کا بنا ہوا ایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ٹیک لگائی تھوڑی دیر بعد صدیق اکبر بھی تشریف لائے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جب ہی انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سیدنا عمر بھی آ گئے اور انہوں نے بھی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھیں گویا انہوں نے اپنے سے پہلے دونوں کو دیکھ لیا تھا پھر وہ دونوں بھی خیمے میں تشریف لائے اور سیدنا صدیق اکبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جانب بیٹھ گئے اور سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی جانب بیٹھ گئے۔
حدیث نمبر: 15258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَعَتَّابٌ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ , فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ , فَقُلْنَ : اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ , فَادْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ , قَالَ : فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي , فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ , فَدَعَانِي , وَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ " ، فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد غزہ احد میں شہید ہو گئے میری بہنوں نے مجھے اپنے پانی کھینچنے والے اونٹ کے ساتھ بھیجا اور کہا کہ جا کر والد صاحب کو اونٹ پر رکھو اور بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کر آؤ چنانچہ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی تو اس وقت آپ احد پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے انہیں بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا چنانچہ انہیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہی احد کے دامن میں دفن کر دیا گیا۔
حدیث نمبر: 15259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ جَابِرٍ , قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ آخِذًا بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاثِقُنَا , فَلَمَّا فَرَغْنَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ " ، قَالَ : فَسَأَلْتُ جَابِرًا يَوْمَئِذٍ كَيْفَ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَعَلَى الْمَوْتِ ؟ ، قَالَ : لَا , وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ ، قُلْتُ لَهُ : أَفَرَأَيْتَ يَوْمَ الشَّجَرَةِ ؟ ، قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّى بَايَعْنَاهُ ، قُلْتُ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ ، قَالَ : كُنَّا أَرْبَعَ عَشَرَ مِائَةً , فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرٍ , وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنَ الْبُدْنِ , لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بیعت عقبہ کے متعلق کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ سیدنا عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس دن موت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس بات پر کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ بیعت رضوان کے موقع پر کیا ہوا تھا انہوں نے فرمایا : میں نے سیدنا عمر کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنے تھے انہوں نے فرمایا : چودہ سو افراد جد بن قیس کے علاوہ سب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی وہ ایک اونٹ کے نیچے چھپ گئے تھے اس دن ہم نے ستر اونٹ قربان کئے جن میں سے ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔
حدیث نمبر: 15260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي , فَلَا يَبْصُقْ أَمَامَهُ , وَلَا عَنْ يَمِينِهِ , وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ , أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یاپاؤں کے نیچے تھوکے۔
…