حدیث نمبر: 15182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ , فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا رَأَيْتُ ابْنَ جَابِرٍ يَطْلُبُ أَرْضًا مُخَابَرَةً ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا , إِنَّ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ , وَهُوَ يَطْلُبُ أَرْضًا يُخَابِرُ بِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے کرائے سے منع کیا ہے کسی شخص نے یہ بات سیدنا ابن عمر سے ذکر کی تو اس مجلس میں موجود ایک آدمی کہنے لگا کہ میں نے تو خود سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو بٹائی پر زمین لیتے ہوئے دیکھا ہے سیدنا ابن عمر نے فرمایا : اسے دیکھو اس کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے یہ اس نوعیت کا معاملہ کرتا پھرتا ہے۔
حدیث نمبر: 15183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ , أَوْ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔
حدیث نمبر: 15184
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَسَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَلَا يُبَاشِرِ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ " ، قَالَ : فَقُلْنَا لِجَابِرٍ أَكُنْتُمْ تَعُدُّونَ الذُّنُوبَ شِرْكًا ؟ ، قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اور عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے۔ ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ گناہوں کو شرک سمجھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ۔
حدیث نمبر: 15185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ثِقَةٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَحْمُ الصَّيْدِ حَلَالٌ لِلْمُحْرِمِ , مَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : محرم کے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ وہ خود شکار نہ کر ے یا اسے اس کی خاطر شکار نہ کیا گیا ہو ۔
حدیث نمبر: 15186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ , فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ إِدَامٍ ؟ " ، فَقَالُوا : لَا , إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ , فَقَالَ : " هَلُمُّوا " ، فَجَعَلَ يَصْطَبِغُ بِهِ , وَيَقُولُ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو سرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا : سرکہ بہترین سالن ہے۔
حدیث نمبر: 15187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي إِلَى حُجْرَتِي , رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ , وَإِنَّ مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے منبر اور حجرے کے درمیان کی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر جنت کے دروازے پر لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15188
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ , الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ , فَيَقْسِمُهَا , وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشکیزے کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 15189
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ , فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ , وَسَمِعْتُ خَشْفَةً أَمَامِي , قُلْتُ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ ، قَالَ : هَذَا بِلَالٌ " ، قَالَ : " وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ , فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ ، قَالَ : هَذَا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ , فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کا ہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔
حدیث نمبر: 15190
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ بْنَ خَصَفَةَ , فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ : غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ , حَتَّى قَامَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ , فَقَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ ، قَالَ : " اللَّهُ " ، فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ , فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ " ، قَالَ : كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : لَا , وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ , وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ , فَأَتَى قَوْمَهُ , فَقَالَ : جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ . فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ , " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ " ، فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ , طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ , وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفُوا , فَكَانُوا بِمَكَانِ أُولَئِكَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ , وَانْصَرَفَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ ، فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ , فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا صحابہ نے اسے ڈرایا دھمکایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تو اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی آپ نے فرمایا : اب تجھے کون بچائے گا اس نے کہا آپ بہتر لینے والے ہیں اور کہا میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں آپ لوگوں سے قتال نہیں کر وں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گا جو آپ سے قتال کر یں گے یہ سن کر حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔
حدیث نمبر: 15191
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ أَهْلَهُ الْإِدَامَ , قَالُوا : مَا عِنْدَنَا إِلَّا الْخَلُّ ، قَالَ : فَدَعَا بِهِ , فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ , وَيَقُولُ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کے لئے کہا انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو سرکہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا : سرکہ بہترین سالن ہے۔
حدیث نمبر: 15192
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ , فَيَقُولُ : " هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ ؟ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ , فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ ، قَالَ : " فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَحْقِرَهُ قَوْمُهُ , فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : آتِيهِمْ فَأُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، فَانْطَلَقَ , وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ اور عرفات کے میدانوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش فرماتے اور ان سے فرماتے کہ کیا کوئی ایسا آدمی ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے کیونکہ قریش نے مجھے اس بات سے روک رکھا ہے کہ میں اپنے رب کا کلام اور پیغام لوگوں تک پہنچا سکوں اس دوران ہمدان کا ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے اس نے کہا ہمدان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی قوم میں کوئی اہمیت و مرتبہ حاصل ہے اس نے کہا جی ہاں پھر اس کے دل میں کھٹکا پیدا ہوا کہ کہیں اس کی قوم اسے ذلیل ہی نہ کر دے اس لئے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : پہلے میں اپنی قوم میں جا کر انہیں مطلع کرتا ہوں پھر آئندہ سال میں آپ کے پاس آؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت اچھا اس پر وہ چلا گیا اور اگلے سال سے پہلے رجب ہی میں انصار کا وفد پہنچ گیا۔
حدیث نمبر: 15193
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , قَال : َ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ , قَالَ : تَزَوَّجْتُ , فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَزَوَّجْتَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا , فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ! " ، قَالَ شُعْبَةُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , فَقَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ ! " حَدَّثَنَاهُمَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ يَعْنِي شَاذَانَ , الْمَعْنَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے شادی کر لی ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس سے شادی کی ہے میں نے عرض کیا : کہ شوہردیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا کہ تم ایک دوسرے سے کھیلتے ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ہواور وہ تم سے کھیلتی ؟ گزشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15194
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ دُورَنَا , وَنَتَحَوَّلَ قَرِيبًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الصَّلَاةِ , قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا فُلَانُ , لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , " دِيَارَكُمْ فَإِنَّهَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھربیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا : اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا بھی ثواب لکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 15195
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرْبٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِجْلِ رَجُلٍ مِنَّا مِثْلَ الدِّرْهَمِ , لَمْ يَغْسِلْهُ , فَقَالَ : " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاؤں پر ایک درہم کے برابر کی جگہ نہ ڈھل سکتی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حدیث نمبر: 15196
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ رَجُلًا دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ , فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنِ مَوْلَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبربنادیا وہ آدمی خود مقروض تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کو اس کے آقا کے قرض کی ادائیگی کے لئے بیچ دیا۔
حدیث نمبر: 15197
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاصُّ وَهُو أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ , فَإِنَّ قَوْمًا قَدْ أَرْدَاهُمْ سُوءُ ظَنِّهِمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ اللَّه وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة فصلت آية 23 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو کیونکہ کچھ لوگوں نے اللہ کے ساتھ بدگمانی کا ارادہ کیا تو اللہ نے فرمایا کہ یہ تمہارا گٹھیا گمان ہے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہے سو تم نقصان اٹھانے والے ہو گئے۔
حدیث نمبر: 15198
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا حُمَمًا فِيهَا , ثُمَّ تُدْرِكُهُمُ الرَّحْمَةُ , فَيَخْرُجُونَ فَيُلْقَوْنَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ , فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ , ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل توحید میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دیئے جائیں گے جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تو رحمت الٰہی ان کی دستگیری کر ے گی اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت کے دروازے پر ڈال دیا جائے گا اور ان پر اہل جنت پانی چھڑکے گے جس سے وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں جھاڑ جھنکار اگ آتے ہیں پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 15199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ , أَوْ لَعَنْتُهُ , أَوْ جَلَدْتُهُ , فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بنادے۔
حدیث نمبر: 15200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْمُوجِبَتَانِ ؟ ، قَالَ " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ , دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کر ے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 15201
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَرَسَ غَرْسًا , فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ , أَوْ طَيْرٌ , أَوْ سَبُعٌ , أَوْ دَابَّةٌ , فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ "
حدیث نمبر: 15202
(حديث مرفوع) 14880 حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , " مَا الْمُوجِبَتَانِ ؟ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کوئی پودالگائے یا کوئی فصل اگائے اور اس بات سے انسان پرندے درندے یا چوپائے کھائیں تو وہ اس کے لئے باعث صدقہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 15203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ , عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَطْرُقَنَّ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ لَيْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع کئے اپنے گھرمت جاؤ۔
حدیث نمبر: 15204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُخَابَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ مزابنہ اور بٹائی سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 15205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں تھے۔
حدیث نمبر: 15206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ , وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ ، وَلِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ تَمْرٌ , وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا , وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلَى قَابِلٍ ؟ " ، فَأَبَى , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّي " ، قَالَ : فَآذَنْتُهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَجَعَلْنَا نَجِدُّ , وَيُكَالُ لَهُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ , حَتَّى أَوْفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ , مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ثُمَّ أَتَيْنَاهُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ , فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا , ثُمَّ قَالَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر ایک یہو دی کا کھجور کا کچھ قرض تھا وہ ترکے میں دو باغ چھوڑ گئے تھے ان دونوں کے سارے پھل کو یہو دی کا قرض گھیرے ہوئے تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہو دی سے فرمایا : کیا یہ ممکن ہے کہ تم کچھ کھجور اس سال لے لو اور کچھ اگلے سال کے لئے موخر کر دو اس نے انکار کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کھجور کاٹنے کا وقت آئے تو مجھے بلا لو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ہمراہ تشریف لائے اور سب سے اوپر یا درمیان تشریف فرما ہوئے اور مجھ سے فرمایا : لوگوں کو ناپ کر دینا شروع کر دو اور خود دعا کرنے لگے چنانچہ میں نے سب کو ناپ کر دینا شروع کر دیا حتی کہ چھوٹے باغ ہی سے سب کا قرض پورا ہو گیا اس کے بعد میں نے کھانے کے لئے تر کھجوریں اور پینے کے لئے پانی پیش کیا انہوں نے اسے کھایا پیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا : جائے گا۔
حدیث نمبر: 15207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ , وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ , وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ , وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ ہوتے وقت اپنی رفتار آہستہ رکھی اور لوگوں کو بھی اسی کا حکم دیا لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں حکم دیا کہ شیطان کو کنکر یاں ٹھیکر ی کی بنی ہوئی مارا کرو۔
حدیث نمبر: 15208
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : وَلَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى الْجَمْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی کنکریاں ماری ہیں۔
حدیث نمبر: 15209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : " أَهَدَيْتُمِ الْجَارِيَةَ إِلَى بَيْتِهَا ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَهَلَّا بَعَثْتُمْ مَعَهُمْ مَنْ يُغَنِّيهِمْ ، يَقُولُ : أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيُّونَا نُحَيَّاكُمْ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہ پوچھا کہ کیا تم نے باندی کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا انہوں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ان کے ساتھ کسی گانے والے کو کیوں نہیں بھیجا جو یہ گاناسناتا کہ ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے سو تم ہمیں خوش آمدید کہو ہم تمہیں خوش آمدید کہیں گے کیونکہ انصار میں اس چیز کا رواج ہے۔
حدیث نمبر: 15210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ , وَأُرِيقَ دَمُهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْمُوجِبَتَانِ ؟ ، قَالَ " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کون سی نماز سب سے افضل ہے فرمایا : لمبی نماز اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! سب سے افضل جہاد کون سا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کا جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے اس نے پوچھا کہ کون سی ہجرت سب سے افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں کو ترک کر دینا۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! دو واجب کرنے والی چیزیں کون سی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 15211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا , فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔
حدیث نمبر: 15212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " أَوْ " مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔
حدیث نمبر: 15213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ , كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا , فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا , وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا , وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ , وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جو آگ جلائے اور پروانے اور پتنگے اس میں ادھرادھر گرنے لگیں اور وہ انہیں اس سے دور رکھے میں بھی اسی طرح تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہو ۔
حدیث نمبر: 15214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَيُّ الْقُرْآنِ نَزَلَ أَوَّلَ ؟ قَالَ : يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ، قُلْتُ : فَإِنِّي أُنْبِئْتُ أَنَّ أَوَّلَ سُورَةٍ نَزَلَتْ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ، قَالَ جَابِرٌ : لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا كَمَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " جَاوَرْتُ فِي حِرَاءٍ , فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي , نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ , فَنُودِيتُ , فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ وَخَلْفِي , وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي , فَلَمْ أَرَ شَيْئًا , فَنُودِيتُ أَيْضًا فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ وَخَلْفِي , وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي , فَلَمْ أَرَ شَيْئًا , فَنَظَرْتُ فَوْقِي , فَإِذَا أَنَا بِهِ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , فَجُئِثْتُ مِنْهُ , فَأَتَيْتُ مَنْزِلَ خَدِيجَةَ , فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا " ، قَالَ : " فَنَزَلَتْ عَلَيَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ سورة المدثر آية 1 - 3 " .
مولانا ظفر اقبال
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا انہوں نے سورت مدثر کا نام لیا میں نے عرض کیا : کہ سب سے پہلے سورت اقراء نازل نہیں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے یہ جواب دیا تھا اور میں نے بھی یہی سوال پوچھا : تھا تو انہوں نے فرمایا : تھا کہ میں تم سے وہ بات بیان کر رہا ہوں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تھا کہ میں ایک مہینے تک غار حرا کا پڑوس رہا جب میں ایک ماہ کی مدت پوری کر کے پہاڑ سے نیچے اترا اور بطن وادی میں پہنچا تو مجھے کسی نے آواز دی میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا لیکن مجھے کوئی نظر نہ آیا تھوڑی دیر بعد پھر وہ آواز آئی میں نے دوبارہ چاروں طرف دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تیسری مرتبہ وہ آواز آئی تو میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہاں سیدنا جبرائیل فضاء میں اپنے تخت پر نظر آئے یہ دیکھ کر مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹاکمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اور مجھ پر پانی بہایا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر قم فانذر الی آخرہ۔
حدیث نمبر: 15215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاء ، وأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ , وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ , وَأَنْ يُبَاعَ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا بِدَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ , إِلَّا الْعَرَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ مزابنہ بٹائی اور پھل پکنے سے پہلے بیچ سے منع فرمایا ہے جبکہ وہ دینار اور درہم کے بدلے میں نہ ہواور البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کر دے۔
حدیث نمبر: 15216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا , فَلَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم غلہ خریدو تو کسی دوسرے کو اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 15217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَجَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَقِلْنِي ، فَأَبَى , فَجَاءَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَوَالِيَةٍ , كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَقِلْنِي ، فَيَأْبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا وَلَّى , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ , تَنْفِي خَبَثَهَا , وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی کچھ ہی عرصے میں اسے بہت تیز بخار ہو گیا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 15218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ , وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کافرسات آنتوں میں کھاتا ہے اور مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 15219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ , فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ , وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے وہ دعوت قبول کر لینی چاہیے۔ پھر اگر وہاں خواہش ہو تو کھانا کھالے ورنہ چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 15220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کر ے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے سے رزق عطاء فرمائے۔
حدیث نمبر: 15221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سَوَّارٍ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا بَعْدَ عَامِنَا هَذَا مُشْرِكٌ , إِلَّا أَهْلُ الْعَهْدِ وَخَدَمُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سال کے بعد کوئی مشرک ہماری مسجدوں میں داخل نہ ہو سوائے اہل کتاب اور ان کے خادموں کے۔
…