حدیث نمبر: 15142
حَدَّثَنَاه مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15143
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , وَابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النَّقِيرِ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالدُّبَّاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء نقیر اور مزفت کے تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1998
حدیث نمبر: 15144
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : رُمِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ , " فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بِمِشْقَصٍ " , قَالَ : ثُمَّ وَرِمَتْ ، قَالَ : " فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیر سے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2208
حدیث نمبر: 15145
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ , وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ , وَخَمِّرُوا الْإِنَاءَ , وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غُلُقًا , وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً , وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً , فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کر و اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و اور چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2012
حدیث نمبر: 15146
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ , وَلَا مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ , يَمْرَضُ مَرَضًا , إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مؤمن مرد عورت اور جو مسلمان مرد عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15147
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ , أَنَّ مَوْلًى لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمْ ، وَهُمْ يَجْتَنُونَ أَرَاكًا , فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ جَنْيَ أَرَاكٍ , فَقَالَ : " لَوْ كُنْتُ مُتَوَضِّئًا أَكَلْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو وہ پیلو چن رہے تھے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چنے ہوئے پیلو پیش کئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں وضو سے ہوتا تو تب بھی کھالیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولجهالة مولي جابر. وقد تفرد الإم أحمد بھذا الحدیث، واللہ أعلم
حدیث نمبر: 15148
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَالسِّنَّوْرِ , فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کتے اور بلی کی قیمت کا حکم پوچھا : تو انہوں نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1569 ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سیئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 15149
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ , فَعَاذَتْ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " فَقَطَعَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت سے چوری سرزد ہو گئی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے سیدنا اسامہ بن زید کے ذریعے سفارش کر وا کر بچنا چاہا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کر تی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوادیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1689، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وفي الباب عن عائشة عند البخاري : 6788، ومسلم: 1688
حدیث نمبر: 15150
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا , عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ , فَقَالَ : طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ , فَأَتَى عُمَر ُرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُرَاجِعْهَا , فَإِنَّهَا امْرَأَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کا حکم دریافت کیا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدے انہوں نے فرمایا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر نے بھی ایک مرتبہ ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی سیدنا عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا تذکر ہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے رجوع کر لینا چاہیے کیونکہ وہ اس کی بیوی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ويغني عنه في هذه القصة حديث ابن عمر نفسه السالف برقم: 4500
حدیث نمبر: 15151
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ , رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ , وَرَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ , وَامْرَأَةً , وَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : " نَحْنُ نَحْكُمُ عَلَيْكُم الْيَوْمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو ایک یہو دی مرد کو ایک عورت کو رجم فرمایا : تھا اور یہو دی سے فرمایا : تھا کہ آج ہم تم پر فیصلہ کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله : وقال لليهودي: « نحن نحكم عليكم اليوم »، م: 1701، وهذا الإسناد ضعیف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 15152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ قَالَ : " زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2126، وهذا إسناد ضعیف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 15153
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے کی ممانعت فرمائی ہے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھانا کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2099، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، لكنه قد توبع فيما سلف برقم: 14587
حدیث نمبر: 15154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ , تَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَتَخِرُّ مَرَّةً , وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ , لَا تَزَالُ مُسْتَقِيمَةً حَتَّى تَخِرَّ وَلَا تَشْعُرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ گر جاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ نہیں چلتا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن الهيعة قد روي عنه هذا الحديث عبد الله بن وهب، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 15155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، كَمْ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا والْمَرْوَةِ ؟ ، فَقَالَ : مَرَّةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک ہی مرتبہ سعی کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 15156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِتَابٍ أَصَابَهُ مِنْ بَعْضِ أَهْلِ الْكُتُبِ , فَقَرَأَهُ عَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَغَضِبَ , وَقَالَ : " أَمُتَهَوِّكُونَ فِيهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً , لَا تَسْأَلُوهُمْ عَنْ شَيْءٍ فَيُخْبِرُوكُمْ بِحَقٍّ فَتُكَذِّبُوا بِهِ , أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوا بِهِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا , مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک کتاب لے کر حاضر ہوئے جو انہیں کسی کتابی سے ہاتھ لگی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھنا شروع کر دیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم اس میں گھسنا چاہتے ہواس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے پاس ایک ایسی شریعت لے کر آیا ہوں جو روشن اور صاف ستھری ہے تم ان اہل کتاب سے کس چیز کے متعلق سوال نہ کیا کر و اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں صحیح بات بتائیں اور تم اس کی تکذیب کر و اور غلط بتائیں تو تم اس کی تصدیق کر و اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 15157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ مَكَّةَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکر مہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م 1358، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي ضعيف، وهو متابع، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع
حدیث نمبر: 15158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا لَحْمَ الصَّيْدِ , وَأَنْتُمْ حُرُمٌ , مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حالت احرام میں تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کر و یا اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 15159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى زَمَنَ خَيْبَرَ عَنِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ , فَأَكَلَهُمَا قَوْمٌ , ثُمَّ جَاءُوا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أَنْهَ عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْمُنْتِنَتَيْنِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنْ أَجْهَدَنَا الْجُوعُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَحْضُرْ مَسْجِدَنَا , فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے زمانے میں پیاز اور لہسن سے منع فرمایا : تھا لیکن کچھ لوگوں نے اسے کھالیا پھر وہ مسجد میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو بدبو دار درختوں سے کھانے سے منع نہیں کیا تھا لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ !۔ لیکن ہم بھوک سے مغلوب ہو گئے تھے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کو اذیت ہو تی ہے فرشتوں کو بھی ہو تی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 564، وانظر: 15014
حدیث نمبر: 15160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ " يُصَلِّي مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ ، فَقُلْنَا لَهُ : تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ ؟ ، قَالَ : لِيَدْخُلَ عَلَيَّ مِثْلُكَ , فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے قریب پڑی ہوئی تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے مسئلہ پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 352، 353
حدیث نمبر: 15161
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ , وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ , وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ , وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ , يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ , لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مردوں کی صفوں میں سے سب سے بہترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے کم ترین صف آخری صف ہو تی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہو تی ہے پھر فرمایا : اے گروہ خواتین جب مرد سجدے میں جائیں تو اپنی نگاہیں پست رکھا کر و اور تہنبدوں کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 15162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : مَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , فَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ : " لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ عُمَرُ , فَقَالَ : " لَيَدْخُلَنَّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ , فَاجْعَلْهُ عَلِيًّا " ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ ، ثُمَّ أُتِينَا بِطَعَامٍ , فَأَكَلْنَا , فَقُمْنَا إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ , وَلَمْ يَتَوَضَّأْ أَحَدٌ مِنَّا , ثُمَّ أُتِينَا بِبَقِيَّةِ الطَّعَامِ , ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الْعَصْرِ , وَمَا مَسَّ أَحَدٌ مِنَّا مَاءً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں دعوت کھانے میں شریک تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے پھر کھانالایا گیا جو ہم نے کھالیا پھر ہم نماز ظہر کے لئے اٹھے اور ہم میں سے کسی نے بھی وضو نہیں کیا نماز کے بعد باقی ماندہ کھانا لایا گیا پھر نماز عصر کے لئے اٹھے تو ہم میں سے کسی نے پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين من أجل عبدالله ابن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 15163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ , فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً , إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ " ، قَالَ : فَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ , وَوُقِعَتِ النِّسَاءُ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ , أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ، قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , عُمْرَتُنَا هَذِهِ , أَلِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ ؟ ، قَالَ : لَا , بَلْ لِلْأَبَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔ آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اسی دوران سیدنا سراقہ بن مالک بھی آ گئے اور کہنے لگے یارسول اللہ کیا عمرہ کا صرف حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل
حدیث نمبر: 15164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , نَهَيْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت اور یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کر دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 15165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ : " مَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ , أَوْ قَالَ عَلَى الْبَحْرِ , حَوْلَهُ حَيَّاتٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ عَرْشُ إِبْلِيسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا کہ میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں جس کے اردگرد سانپ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ابلیس کا تخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: « حوله حيات » ، م- بنحوه مطولا-: 2926، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل بن إسماعيل، ولضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 15166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ , فَلَمَّا رَجَعْتُ , سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , سَلَّمْتُ عَلَيْكَ , فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ ! قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے جواب نہیں دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور جانب قبلہ رخ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 15167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمِّرُوا الْآنِيَةَ , وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ , وَأَجِيفُوا الْبَابَ , وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ , فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتِ الْفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتِ الْبَيْتَ , وَأَكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ , فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے وقت دروازے بند کر لیا کر و اور برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و اور چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و کیونکہ شیطان بند دروازہ کو نہیں کھول سکتا کوئی پردہ نہیں ہٹاسکتا کوئی بندھن نہیں کھول سکتا اور بعض اوقات ایک چوہا پورے گھر کو جلانے کا سبب بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3316، م: 2012، وهذا إسناد حسن كسابقه
حدیث نمبر: 15168
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ , ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ : " كُلُوا , وَتَزَوَّدُوا , وَادَّخِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا بعد میں فرمایا کہ اب اسے کھاؤ زاد راہ بناؤ اور ذخیرہ کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، من 1972، وانظر: 15139
حدیث نمبر: 15169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ , حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ , ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود پر آ گئے اس طرح تین چکر وں میں رمل کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1263
حدیث نمبر: 15170
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . ح , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ , وَهُوَ يُرِيدُ الصَّفَا , وَهُوَ يَقُولُ : " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام سے نکل کر صفا کی طرف جانے لگے تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم وہیں سے ابتداء کر یں گے جہاں سے اللہ نے ابتداء کی ہے (پہلے ذکر کیا ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15171
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . ح , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَقَفَ عَلَى الصَّفَا يُكَبِّرُ ثَلَاثًا ، وَيَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَصْنَعُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , وَيَدْعُو , وَيَصْنَعُ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی صفامروہ پہاڑی پر کھڑے ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور پھر یہ کلمات پڑھتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے ایک دوسری سند میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اس طرح کرنے کے بعد دعا فرماتے اور مروہ پر بھی یہی دہراتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والحديث قطعة من حديث جعفر السالف برقم: 14440
حدیث نمبر: 15172
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا نَزَلَ مِنَ الصَّفَا مَشَى , حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي , سَعَى حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق تفصیلات میں یہ بھی مذکور ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے اترے اور وادی کے بیچ میں جب آپ کے مبارک قدم اترے تو آپ نے سعی فرمائی یہاں تک کہ جب دوسرے حصے پر ہم لوگ چڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم معمول کی رفتار سے چلنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1218
حدیث نمبر: 15173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ , وَبَعْضُهُ نَحَرَهُ غَيْرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے لئے جن اونٹوں کو لے کر گئے تھے ان میں کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے تھے اور کچھ کسی اور نے ذبح کئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارِيَةً , وَأَنَا أَعْزِلُ عَنْهَا ، فَقَالَ لَهُ : " مَا يُقَدَّرْ يَكُنْ " ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ حَمَلَتْ , فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا حَمَلَتْ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قَضَى اللَّهُ لِنَفْسٍ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کر تی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتا ہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہواس سے عزل کر لیا کر وں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14362
حدیث نمبر: 15175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الْمَشْرِقِ , وَيُومِئُ إِيمَاءً عَلَى رَاحِلَتِهِ , السُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , قَالَ : فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ , قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا ؟ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا، میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر مشرق کی جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا، دو مرتبہ اس طرح ہوا، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے، نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا : میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا ؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 15176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ , وَلَا تُعْطُوهَا أَحَدًا , فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو، کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ , وَالرُّطَبِ وَالْبُسْرِ " يَعْنِي أَنَّ يُنْبَذَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5601، م: 1986
حدیث نمبر: 15178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ , وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کر ے تو اعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15179
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ , فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لِيَرْقُدْ , وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ , فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ , فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ , وَذَلِكَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے اور جسے آخری رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے کیونکہ رات کے آخر حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد قوي كسابقه
حدیث نمبر: 15180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ السُّلَيْكِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ , فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب امام خطبہ دے رہا ہواسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي م: 875
حدیث نمبر: 15181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ , لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کر لی دس ذالحجہ کو پھر ہم صفامروہ کے قریب بھی نہیں گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجاج بن أرطاة، وانظر: 15009