حدیث نمبر: 15102
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ , وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْقِيهِ ؟ ، فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈس لیا دوسرے نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اسے جھاڑ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہواسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2199
حدیث نمبر: 15103
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا عَدْوَى , وَلَا صَفَرَ , وَلَا غُولَ " ، وَسَمِعْت أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ , أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ : " لَا صَفَرَ " ، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : الصَّفَرُ الْبَطْنُ ، قِيلَ لِجَابِرٍ : كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ ؟ ، فَقَالَ : دَوَابُّ الْبَطْنِ ، قَالَ : وَلَمْ يُفَسِّرْ الْغُولَ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ , الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیماری متعدد ہو نے صفر کا مہینہ منحوس ہو نے اور بھوت پریت کی کوئی حقیقت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه، م: 2222
حدیث نمبر: 15104
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ , وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ , وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو کا چار کو چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2059
حدیث نمبر: 15105
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْخِصَاءِ , فَقَالَ : " صُمْ , وَسَلْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہو نے کی اجازت دیتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزہ رکھا کر و اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن جابر
حدیث نمبر: 15106
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ : أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ ، قَالَ : " بَلَى , قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ , إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ , وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یہو دیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے ہوئے کہا السام علیک یا ابا قاسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف وعلیکم کہا سیدنا عائشہ نے پردے کے پیچھے سے غصے میں کہا کہ آپ سن نہیں رہے کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں میں نے سنا بھی ہے اور انہیں جواب بھی دیا ہے ان کے خلاف ہماری بددعا قبول ہو جائے گی لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعا قبول نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2166
حدیث نمبر: 15107
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ , ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ يَنْزِعَهُ , وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , فَقِيلَ : قَدْ أَوْشَكْتَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ " ، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ , فَمَا لِي ؟ ، فَقَالَ : " لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ , إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ " ، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی لباس زیب تن فرمایا : جو آپ کو کہیں سے ہدیہ میں آیا تھا پھر اسے تار سیدنا عمر کے پاس بھجوا دیا کسی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے اسے کیوں اتار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل نے اسے منع کیا ہے اسی اثناء میں سیدنا عمر بھی روتے ہوئے آ گئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ایک چیز کو آپ ناپسند کرتے ہیں اور مجھے دیدیتے ہیں میرا کیا گناہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا میں نے تمہیں یہ اس لئے دیا ہے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ چنانچہ انہوں نے اسے دوہزار درہم میں فروخت کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2070
حدیث نمبر: 15108
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ , فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ : مَا مِنْ مَبِيتٍ وَلَا عَشَاءٍ هَاهُنَا ، وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ , قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوا اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہارے رات گزارنے کی کوئی جگہ ہے اور نہ کھانا اور اگر وہ گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں رات گزارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت بھی اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں ٹھکانہ اور کھانا دونوں مل گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2018
حدیث نمبر: 15109
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْفَتْحِ , وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا , وَلَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے زمانے میں جب مقام بطحاء میں تھے سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تصاویر کو مٹا نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15110
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ , فَهُوَ يَتَجَحْدَلُ وَأَنَا أَتْبَعُهُ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يَقُصَّهَا عَلَى أَحَدٍ , وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے خواب میں ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن ماردی گئی ہو وہ لڑھکتے ہوئے آگے آگے ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ کسی کے سامنے اسے بیان نہ کر ے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2268
حدیث نمبر: 15111
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1819
حدیث نمبر: 15112
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خِيَارُ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کر لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14945
حدیث نمبر: 15113
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا , وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ قبیلہ غفار کی بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2515
حدیث نمبر: 15114
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْر ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا , قَالَ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، قَالَ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15115
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنِ الْوُرُودِ , قَالَ : " نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَذَا وَكَذَا " , انْظُرْ أَيْ ذَلِكَ فَوْقَ النَّاسِ , قَالَ : " فَتُدْعَى الْأُمَمُ بِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ , الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ , فَيَقُولُ : مَنْ تَنْتَظِرُونَ ؟ ، فَيَقُولُونَ : نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْكَ ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ يَضْحَكُ " ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَيَنْطَلِقُ بِهِمْ وَيَتَّبِعُونَهُ , وَيُعْطَى كُلُّ إِنْسَانٍ مُنَافِقٍ أَوْ مُؤْمِنٍ نُورًا ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ , عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ ، وَحَسَكٌ تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِ , ثُمَّ يَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ , وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ , سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ , ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ , ثُمَّ كَذَلِكَ , ثُمَّ تَحِلُّ الشَّفَاعَةُ , حَتَّى يَخْرُجَ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً , فَيُجْعَلُونَ بِفِنَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَرُشُّونَ عَلَيْهِمِ الْمَاءَ , حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ , ثُمَّ يَسْأَلُ حَتَّى يُجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهَا مَعَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آ کر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہو گا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکا مومن ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھا جائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق بھی پیچھے پیچھے پل صراط پر چڑھیں گے جس میں کانٹے اور چبھنے والی چیزیں ہوں گی جو لوگوں کو اچک لیں گی اس کے بعد منافقین کا نور بجھ جائے گا اور مسلمان اس پر پل صراط سے نجات پاجائیں گے نجات پانے والے مسلمانوں کا پہل اگر وہ اپنے چہروں میں چودہو یں رات کے چاند کی طرح ہو گا یہ لوگ ستر ہزار ہوں گے اور ان کا کوئی حساب نہ ہو گا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوں گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دیدی جائے گی اور لوگ سفارش کر یں گے جس کی بناء پر ہر وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہو جائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا کہ اور انہیں دنیا اور اس سے دس گنا زیادہ عطا فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 191، وقوله: « نحن يوم القيامة ... فوق الناس » تصحیف وتغیر واختلاط في اللفظ، وصوابه: نجیئ یوم القيامه علی کوم
حدیث نمبر: 15116
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ , وَخَبَّأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعاء تھی جو انہوں نے اپنی امت کے لئے مانگی تھی جبکہ میں نے اپنی امت کے لئے اپنی دعاء شفاعت کی صورت میں قیامت کے دن کے لئے اٹھا رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 201
حدیث نمبر: 15117
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ , وَلَا يَتَمَخَّطُونَ , وَلَا يَتَغَوَّطُونَ , وَلَا يَبُولُونَ , وَيَكُونُ طَعَامُهُمْ ذَلِكَ جُشَاءً , وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب نہ کر یں گے اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بےاختیار سانس لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2835
حدیث نمبر: 15118
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَدْ يَئِسَ الشَّيْطَانُ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُسْلِمُونَ , وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات سے شیطان مایوس ہو گیا کہ اب دوبارہ نمازی اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے سے درپے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2812
حدیث نمبر: 15119
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ , ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ , فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ , أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2813
حدیث نمبر: 15120
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ , فَإِنْ لَمْ تَجِدُونِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ , وَالْحَوْضُ قَدْرُ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ , وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ فَلَا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا " مَوْقُوفٌ وَلَمْ يَرْفَعْهُ
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو مرفوع، وإن كان صورته صورة الوقف، فمثله لا يمكن أن يقوله إلا النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 15121
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ , قَالَ : فَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي , فَأَقُولُ : يَا رَبِّ , مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي ، قَالَ : فَيُقَالُ : وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ ؟ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ جَابِرٌ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ , وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ يَعْنِي عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ , وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ , وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کر وں گا اگر تم مجھے نہ دیکھ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہو گا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں حوض کوثر پر آنے والوں کا انتظار کر وں گا کچھ لوگوں کو میرے پاس پہنچے سے پہلے ہی اچک لیا جائے گا میں عرض کر وں گا کہ پروردگار یہ میرے ہیں اور میرے امتی ہیں جواب آئے گا کہ آپ کو کیا خبر انہوں نے آپ کے پیچھے کیا کیا یہ تو آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹ گئے تھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : تھا کہ حوض کوثر ایک ماہ کی مسافت پر پھیلا ہوا ہے اس کے دونوں کونے برابر ہیں یعنی اس کی چوڑائی بھی لمبائی جتنی ہے اس کے گلاس آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں اس کا پانی مشک سے زیادہ مہکنے والا اور دودھ سے زیادہ سفید ہو گا جو ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وللشطر الأول انظر ما قبله، ويشهد للشطر الثاني حديث عبد الله بن عمرو عند البخاري: 6579، ومسلم: 2212
حدیث نمبر: 15122
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , وَالْمُزَفَّتِ , وَالدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ " , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا لَمْ يَجِدْ لَهُ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ ، نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دبا، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1998، 1999
حدیث نمبر: 15123
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مینگنی یا ہڈی سے اسنتجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 263
حدیث نمبر: 15124
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنِ الْحَصْبَاءِ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِائَةُ نَاقَةٍ , كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ , فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ , فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی کنکر یوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹیوں سے بہتر ہے جن سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ برابر کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وانظر: 14514
حدیث نمبر: 15125
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ , وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے اور بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15126
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ , وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ , أَنْ يَكُونَ لَهُ ذَلِكَ زَكَاةً وَأَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ وعدہ لے رکھا ہے کہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تذکیہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2602
حدیث نمبر: 15127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ , ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ , فَيَقُولُ : أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا ، فَيَقُولُ : لَا , إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ , تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ سیدنا عیسیٰ نازل ہو جائیں گے تو ان کا امیر عرض کر ے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرماسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 156
حدیث نمبر: 15128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ : " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ , وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ , وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ , مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال سے ایک ماہ قبل یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2538
حدیث نمبر: 15129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : يَا لَلْأَنْصَارِ ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ , دَعُوا الْكَسْعَةَ , فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑ پڑے جن میں سے ایک مہاجر کا دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آواز سن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا : ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا : یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3518، م: 2584
حدیث نمبر: 15130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ , قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْت أَبِي مَرَّةً ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ الْعَامِرِيُّ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا , فَقُلْنَا : لَا نَدَعُكَ تُسَمِّيهِ مُحَمَّدًا بِاسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى الرَّجُلُ بِابْنِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ , وَإِنِّي سَمَّيْتُهُ بِاسْمِكَ , فَأَبَى قَوْمِي أَنْ يَدْعُونِي ، قَالَ : " بَلَى , تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي , فَإِنِّي قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھ دیا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے نام پر نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کر و کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والابنا کر بھیجا گیا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 15131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ , وَثِيَابٌ لَهُ عَلَى السَّرِيرِ , أَوِ الْمِشْجَبِ , " فَقَامَ مُتَوَشِّحًا بِثَوْبِهِ , ثُمَّ صَلَّى " , ثُمَّ قَالَ لَهُمْ حِينَ انْصَرَفَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
عاصم بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا نماز کا وقت ہوا تو وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسرے کپڑے ان کے قریب ہی چار پائی پر پڑے تھے جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 15132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ قَوْمًا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا مَرَضٌ , فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجُوا حَتَّى يَأْذَنَ لَهُمْ , فَخَرَجُوا بِغَيْرِ إِذْنِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ , تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر لی اس وقت مدینہ میں وباپھیلی ہوئی تھی اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا اجازت مدینہ منورہ سے نکلنے سے منع کر دیا لیکن وہ بغیر اجازت لینے مدینہ سے چلے گئے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے جو اپنے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، والحارث بن أبى يزيد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان فى الثقات
حدیث نمبر: 15133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : " ارْمِ , وَلَا حَرَجَ " ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : " اذْبَحْ , وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں، پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ! میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کر وا لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15134
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ : فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ , وَيَقُولُ : قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ كَانَ حِمَايَ لَحِمًى لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ مُبَارِزٌ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لِهَذَا ؟ " ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا وَاللَّهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ , قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ ، قَالَ : " فَقُمْ إِلَيْهِ , اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ " ، فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ , دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ عُمْرِيَّةٌ مِنْ شَجَرِ الْعُشَرِ , فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ , كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ , حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ , وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ , مَا فِيهَا فَنَنٌ , ثُمَّ حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَى بِالدَّرَقَةِ , فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا فَعَضَّتْ بِهِ فَأَمْسَكَتْهُ , وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرحب یہو دی اپنے قلعے سے نکلا اس نے اسلحہ زیب تن رکھا تھا اور وہ یہ رجز اشعار پڑھ رہا تھا کہ پورا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پوش، بہادر اور تجربہ کار ہوں کبھی نیزے سے لڑتاہوں اور کبھی تلوار کی ضرب لگاتاہوں جب شیر شعلہ بن کر آگے بڑھتے ہیں گویا کہ میرا حریم ہی اصل حریم ہے جس کے قریب کوئی نہیں آسکتا اور وہ یہ نعرہ لگارہا تھا کہ ہے کوئی میرا مقابلہ کرنے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا مقابلہ کون کر ے گا سیدنا محمد بن مسلمہ نے آگے بڑھ کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس کا مقابلہ کر وں گا اور واللہ میں اس کے جوڑ کا ہوں انہوں نے کل میرے بھائی کو بھی قتل کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگے بڑھو اور دعا کی کہ اے اللہ اس کی مدد فرما۔ جب دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو درمیان میں ایک درخت حائل ہو گیا اور ان میں سے ایک اپنے مد مقابل سے بچنے کے لئے اس کی آڑ لینے لگا وہ جب بھی اس کی آڑ لیتا تو دوسرا اس پر تلوار سے وار کرتا ہوں یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور اب ان کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں رہی اس کے بعد مرحب نے محمد بن مسلمہ پر تلوار سے حملہ کیا اور اس کا وار کیا انہوں نے اسے ڈھال پر روکا تلوار اس پر پڑی اور اسے کاٹتی ہوئی نکل گئی لیکن محمد بن مسلمہ بچ گئے پھر محمد بن مسلمہ نے اپنی تلوار سے اس پر حملہ کیا تو اسے قتل کر کے ہی دم لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وفي الباب عن سلمة بن الأكوع عند مسلم: 1807، وعن بريدة الأسلمي، وسيأتي برقم: 23031، وفيهما أن الذى قتل مرحبا هوعلي بن ابي طالب: قال النووي فى شرح مسلم: 186/12: « هذا هو الأصح: أن عليا هو قاتل مرحب »
حدیث نمبر: 15135
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ قَالَ سُرَيْجٌ : الْأَهْلِيَّةُ يَوْمَ خَيْبَرَ وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں پالتو گدھوں سے منع فرمایا : تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4219، م: 1941
حدیث نمبر: 15136
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ , وَلَا تَقْسِمُوهَا , فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أَعْمَرَهَا حَيًّا وَمَيِّتًا , وَلِعَقِبِهِ تَقْسِمُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ ہو یا مر جائے یا اس کی اولاد کو مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15137
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ , فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعْبَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور اپنے بچوں کو گھروں سے نکلنے نہ دو کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2013
حدیث نمبر: 15138
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ " ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِأَبِي الزُّبَيْرِ : وَأَنَا أَسْمَعُ الْمَكْتُوبَةَ ؟ ، قَالَ : الْمَكْتُوبَةُ , وَغَيْرُ الْمَكْتُوبَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھی کسی نے ابوالزبیر سے پوچھا کہ اس سے مراد فرض نماز ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ فرض اور غیر فرض سب کو شامل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 518
حدیث نمبر: 15139
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ , وَتَزَوَّدْنَا حَتَّى بَلَغْنَا بِهَا الْمَدِينَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ان کے ساتھ کھایا اور اسے زاد راہ کے طور پر بھی لے آئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالسماع، وانظر: 15168
حدیث نمبر: 15140
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِنَّ لِي جَارِيَةً , وَهِيَ خَادِمُنَا وَسَائِسَتُنَا , أَطُوفُ عَلَيْهَا , وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فَقَالَ : " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ , فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، قَالَ : فَلَبِثَ الرَّجُلُ , ثُمَّ أَتَاهُ , فَقَالَ : إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ ، قَالَ : " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری ایک باندی ہے جو ہماری خدمت بھی کر تی ہے اور پانی بھر کر بھی لاتی ہے میں رات کو اس کے پاس چکر بھی لگاتاہوں لیکن اس کے ماں بننے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہتے ہواس سے عزل کر لیا کر وں ورنہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا چنانچہ کچھ عرصے بعد وہی آدمی دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ وہ باندی بوجھل ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تو تمہیں پہلے ہی بتادیا تھا کہ جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1439، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، وهو متابع
حدیث نمبر: 15141
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع نہ کر ے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے کا رزق عطاء فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1522