حدیث نمبر: 15062
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ حَدِيثًا فَالْتَفَتَ , فَهِيَ أَمَانَةٌ " ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي مَجْلِسِهِ بِحَدِيثٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
حدیث نمبر: 15063
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَيَوَانِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ : " لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ , وَلَا يَصْلُحُ نَسَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خریدو فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج - وهو ابن أرطاة- وأبو الزبير مدلسان، ولم يصرحا بالسماع، وانظر لزاما: 14331
حدیث نمبر: 15064
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ , حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا , فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا ؟ ، قَالَ جَابِرٌ : فَخَرَجْتُ فِي فِئَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ , وَبَيْنَهُمَا قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِيلًا , فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا , حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ , فَقَالَ : " أَوْرِدْ ؟ " فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَوْرَدَ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا , " فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ , وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ , ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آرہے تھے ہم نے پانی کی جگہ پر پڑاؤ کیا سیدنا معاذ بن جبل کہنے لگے کہ ہمارے مشکیزوں کو کون پانی سے بھر کر لائے گا یہ سن کر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم لوگ مقام اثایہ میں پانی تک پہنچے ان دونوں جگہوں کے درمیان تقریبا ٦٣ میل کا فاصلہ تھا ہم نے اپنے مشکیزوں میں پانی بھرا اور جب نماز عشاء ہو چکی تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنے اونٹ کو ہانکتا ہوا حوض کی طرف لے جارہا ہے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹ پر پہنچے میں نے اونٹنی کی لگام پکڑ لی اور اسے بٹھادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز عشاء پڑھنے لگے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م- بنحوه-: 3010، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي، وعلى ضعفه قد اختلف عليه فيه، وقد جاء عند جميع من خرجه أن الذى قال: من يسقينا ۔۔۔ ؟ھو النبي صلى الله عليه وسلم ولیس معاذ بن جبل، وھوالصواب
حدیث نمبر: 15065
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ " , أَوْ قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ ، أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ شَابٌّ - يُرِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ , اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا , اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا " ، قَالَ : فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله النخعي، لكنه متابع، عبدالله بن محمد بن عقيل حديثه حسن فى الشواهد والمتابعات
حدیث نمبر: 15066
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : أُتِيَ بِضَبٍّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ , وَقَالَ : " لَا أَدْرِي , لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الْأُولَى الَّتِي مُسِخَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوہ لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا : مجھے معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کر دی گئی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر قول السندي على هذا الحديث برقم: 14460
حدیث نمبر: 15067
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَارْكَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 15068
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ , كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً , فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْ إِزَارَكَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ , وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَامَ فَقَالَ : " إِزَارِي , إِزَارِي " ، فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس بھی پتھر اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس کہنے لگے کہ کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش ہو کر گرپڑے اور آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھی کی اٹھی رہ گئیں پھر جب ہو ش میں آئے تو فرمایا کہ میرا تہبند، میرا تہبند اور اسے اچھی طرح مضبوطی سے باندھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3829، م: 340
حدیث نمبر: 15069
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : زَعَمَ لِي عَطَاءٌ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ هَذِهِ الشَّجَرَةَ قَالَ يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس بدبو دار درخت سے (لہسن) کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 854، م: 564
حدیث نمبر: 15070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ : قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُنْتَهِبِ قَطْعٌ , وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً مَشْهُورَةً فَلَيْسَ مِنَّا " ، وَقَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْخَائِنِ قَطْعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوٹ مار کرنے والے کا ہاتھ تو نہیں کاٹا جائے گا البتہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 15071
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ " يُصَلِّي النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ , وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ مِنَ الرَّكْعَةِ ، وَيُومِئُ إِيمَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر ہر سمت میں نفل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے البتہ آپ رکوع کی نسبت سجدہ زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے اور اشارہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15072
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَذَكَرُوا الْعَزْلَ , فَقَالَ : " كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں عزل کر لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5207، م: 1440، وانظر: 1532
حدیث نمبر: 15073
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ عَطَاءٌ : حِينَ قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مُعْتَمِرًا , فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ , فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ ، ثُمَّ ذَكَرُوا لَهُ الْمُتْعَةَ , فَقَالَ : " نَعَمْ ، اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
عطاء کہتے ہیں کہ جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ عمرے کے لئے تشریف لائے تو ہم ان کے گھر حاضر ہوئے لوگوں نے ان سے مختلف سوالات پوچھے پھر متعہ کے متعلق پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر وعمر کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے حتی کے بعد میں سیدنا عمر نے اس کی ممانعت فرما دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1405
حدیث نمبر: 15074
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِمَكَّةَ , فَلَمْ يُصَلِّ الْمَغْرِبَ حَتَّى أَتَى سَرِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام سرف سے غروب آفتاب کے وقت روانہ ہوئے لیکن نماز مکہ مکر مہ میں پہنچ کر پڑھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أرطاة وأبو الزبير مدلسان وقد عنعنا ، وقد خالف الحجاج بن أرطاة فى متن هذا الحديث فرواه مقلوبا، وصوابه قد سلف، برقم: 14274
حدیث نمبر: 15075
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , سَمِعَهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ , بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ , فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ , وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا اور اسے قبر میں اتارا جا چکا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اور اسے اپنی قمیض پہنا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1270، م: 2773
حدیث نمبر: 15076
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے کانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم سے کچھ لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6558، م: 191
حدیث نمبر: 15077
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , أَنَّ أَمِيرًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ : طَارِقٌ , " قَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ " , عَلَى قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک گورنر تھا جس کا نام طارق تھا اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ عمری کا حق وارث کے لئے ہو گا اور اسنے اس کی دلیل اس نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دی تھی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر صحيح مسلم: 1625
حدیث نمبر: 15078
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ : " لَمْ نُبَايِعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ , إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1856
حدیث نمبر: 15079
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ , فَقَالَ : " اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگانے کی اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ان پیسوں کا چارہ خرید کر اپنے اونٹ کو کھلادو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15080
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا , فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا : اور تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وهو متابع
حدیث نمبر: 15081
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ , حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً , فَهِيَ لَهُ , وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهُ , لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کر ے وہ اس کی ہو گی اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15082
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا , أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَطَاءٍ , وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ كَيْلًا "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه، لكنه متابع
حدیث نمبر: 15083
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا , أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَطَاءٍ , وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثِّمَارُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , وَأَنْ تُبَاعَ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کی کٹی ہوئی کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچا جائے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل پکنے سے پہلے اور کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح كسابقه، م: 1536
حدیث نمبر: 15084
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَطَاءٍ , وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ مَكِيلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو کٹی ہوئی کھجوروں کے عوض ناپ کر بیچا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو مكرر: 15082
حدیث نمبر: 15085
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ , " بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ , بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885، وانظر: 15101
حدیث نمبر: 15086
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ , عَنِ الْمُثَنَّى , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافَ طَوَافًا وَاحِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی طواف کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المثنى بن الصباح ضعيف، ويحيى بن يمان شيخ أحمد ليس بذاك القوي، وانظر: 14900
حدیث نمبر: 15087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَخِي مَاتَ , فَكَيْفَ أُكَفِّنُهُ ؟ ، قَالَ : " أَحْسِنْ كَفَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میر ابھائی فوت ہو گیا ہے میں اسے کس طرح کفن دوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اچھے طریقے سے کفناؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي ، وانظر: 14145
حدیث نمبر: 15088
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ الْيَشْكُرِيِّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ حَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ , فَهِيَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی زمین پر چاردیواری کر کے باغ بنالے وہ زمین اسی کی ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات رجال الشيخين غير سليمان بن قيس اليشكري، وهو ثقة، لكن رواية قتاده عنه صحيفة، ولم يسمع منه، وانظر: 14271
حدیث نمبر: 15089
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَا ابْنَ أَخِي , أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا الْحَدِيثِ , كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ يَعْنِي مَاعِزًا , إِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاهُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ , فَقَالَ : أَيْ قَوْمِ , رُدُّونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِنَّ قَوْمِي هُمْ قَتَلُونِي وَغَرُّونِي مِنْ نَفْسِي ، وَقَالُوا : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ قَاتِلِكَ ، قَالَ : فَلَمْ نَنْزَعْ عَنِ الرَّجُلِ حَتَّى فَرَغْنَا مِنْهُ , قَالَ : فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا لَهُ قَوْلَهُ , فَقَالَ : " أَلَا تَرَكْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُونِي بِهِ " , إِنَّمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَثَبَّتَ فِي أَمْرِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حسن بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سیدنا ماعز کے رجم کا واقعہ پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے اس حدیث کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کیونکہ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے انہیں پتھر مارے جب ہم انہیں پتھر مارنے لگے اور انہیں اس کی تکلیف ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ لوگو مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں واپس لے چلو میری قوم نے تو مجھے مار ہی ڈالا اور مجھے دھوکے میں رکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کسی صورت میں قتل نہیں کر یں گے لیکن ہم نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا یہاں تک کہ انہیں ختم کر ڈالا جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو ہم نے ان کی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا اور میرے پاس کیوں نہ لائے دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ رہے تھے اس سے اس معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15090
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ , حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ الصَّيْقَلَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ , وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى , فَانْتَزَعَهَا وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا جو نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ اٹھا کر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحجاج بن أبى زينب الصيقل فيه ضعف، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 15091
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ فِي الْخِصْبِ , فَأَمْكِنُوا الرَّكْبَ أَسِنَّتَهَا , وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ , وَإِذَا كُنْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَاسْتَنْجُوا , وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ , فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ , فَإِذَا تَغَوَّلَتْ بِكُمُ الْغِيلَانُ فَبَادِرُوا بِالْأَذَانِ , وَلَا تُصَلُّوا عَلَى جَوَادِ الطُّرُقِ , وَلَا تَنْزِلُوا عَلَيْهَا , فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ , وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَوَائِجَ فَإِنَّهَا الْمَلَاعِنُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کر و تو اپنی سواریوں کو وہاں کی شادابی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا کر و اور منزل سے آگے نہ بڑھا کر و اور جب خشک زمین پر سفر کرنے لگو تو وہاں سے تیزی سے گزر جایا کر و اور اس صورت میں رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کو ترجیح دو کیونکہ رات کے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا زمین لپٹی جارہی ہے اور اگر راستے میں بھٹک جاؤ تو اذان دیا کر و نیز راستے کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھا کر و اور نہ ہی وہاں پڑاؤ کر و کیونکہ وہ سانپوں اور درندوں کے ٹھکانے ہوتے ہیں اور یہاں قضاء حاجت بھی نہ کیا کر و کیونکہ یہ لعنت کا سبب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة الغيلان، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 15092
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنٍ أَوْ قَالَ نَكَحَ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به عبدالله بن محمد ابن عقيل ولم يتابع عليه، والقاسم بن عبدالواحد المكي مقبول، وهو متابع
حدیث نمبر: 15093
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي , عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت میں سے سب سے زیادہ اندیشہ جس چیز کا ہے وہ قوم لوط کا عمل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، القاسم بن عبدالواحد وعبدالله بن محمد بن عقيل يقبل حديثهما عند المتابعة، وقد تفردا بهذا الحديثين فلم يتابعهما عليه أحد
حدیث نمبر: 15094
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَيَوَانِ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ : " لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ , وَلَا خَيْرَ فِيهِ نَسَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خریدو فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج- وهو ابن أرطاة- وأبو الزبير مدلسان ولم يصرحا بالسماع، وانظر لزاما: 14331
حدیث نمبر: 15095
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ مُزَارَعَةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا , فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى صَاحِبِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی زمین یا باغ میں شریک ہو تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے اگر اس کی مرضی ہو تو وہ لے لے ورنہ چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا الإسناد فيه عنعنة الحجاج بن أرطاة وأبي الزبير، لكن حجاجا قد توبع، وأبو الزبير قد صرح بالسماع عند غير المصنف
حدیث نمبر: 15096
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ , ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَنَحْنُ نُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دیکھائی دے رہی ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15097
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، وَكَثِيرُ بنُ هِشَامٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْء كَانَ بِوَرِكِهِ أَوْ ظَهْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 15098
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " خَسَفَتِ الشَّمْسِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ , فَأَطَالَ الْقَيَّامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ , فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو طویل نماز پڑھائی یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے پھر طویل رکوع کیا اور پھر دیر تک سر اٹھا کر کھڑے رہے پھر دو سجدے کئے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا یوں اس نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 904، وأبو الزبير قد عنعنه، وهو متابع
حدیث نمبر: 15099
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5108
حدیث نمبر: 15100
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : " أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُقْيَةِ الْحُمَةِ لِبَنِي عَمْرٍو " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمر کے لئے ڈنک سے جھاڑ پھونک کرنے کی رخصت دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2199
حدیث نمبر: 15101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ , " بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ , بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885، وانظر: 15085