حدیث نمبر: 15023
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي أَبَاهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَعَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ , وَهُوَ " يُصَلِّي مُلْتَحِفًا وَرِدَاؤُهُ عَلَى جَدْرِ مَسْجِدِهِ " ، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ لَنَا : إِنَّمَا صَلَّيْتُ لِتَرَيَانِي ، إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبدالرحمن اور حسن بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر بھی مسجد کے قریب دیوار پر تھی جب انہوں نے سلام پھیرا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کہا ہے کہ تم دونوں دیکھ لو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عكرمة المخزومي معروف النسب مجھول الحال، وانظر: 14120
حدیث نمبر: 15024
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ , وَنَحْنُ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا امْرِئٍ مِنَ النَّاسِ حَلَفَ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا حَقَّ مُسْلِمٍ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ ، وَإِنْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارے اللہ اسے جہنم میں ضرور داخل کر ے گا اگرچہ ایک تازہ مسواک ہی کی وجہ سے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عكرمة، والرجل من جهينة
حدیث نمبر: 15025
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ : " أَمَا وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِ نُحْصِ الْجَبَلِ " ، يَعْنِي سَفْحَ الْجَبَلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اصحاب احد کا ذکر فرماتے تو میں انہیں یہ فرماتے ہوئے سنتا کہ کاش پہاڑ کی چوٹی والوں کے ساتھ دھوکے کے حملے میں شہید ہو نے والوں میں میں بھی شامل ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قوله: «أني غودرت» أي لیتني ترکت مع قتلی أحد، وأبقیت فیھم أي لیتني استشھدت معھم، وفيه دلالة على زيادة شرف شھداء أحد من بین الشھداء واللہ تعالی أعلم
حدیث نمبر: 15026
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مُرْتَحِلًا عَلَى جَمَلٍ لِي ضَعِيفٍ ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَعَلَتِ الرِّفَاقُ تَمْضِي ، وَجَعَلْتُ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أَدْرَكَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا لَكَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْطَأَ بِي جَمَلِي هَذَا ، قَالَ : " فَأَنِخْهُ " ، وَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَعْطِنِي هَذِهِ الْعَصَا مِنْ يَدِكَ " ، أَوْ قَالَ : " اقْطَعْ لِي عَصًا مِنْ شَجَرَةٍ " , قَالَ : فَفَعَلْتُ ، قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَخَسَهُ بِهَا نَخَسَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " ارْكَبْ " ، فَرَكِبْتُ ، فَخَرَجَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ يُوَاهِقُ نَاقَتَهُ مُوَاهَقَةً ، قَالَ : وَتَحَدَّثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ هَذَا يَا جَابِرُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَلْ أَهَبُهُ لَكَ ، قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ بِعْنِيهِ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَسُمْنِي بِهِ ، قَالَ : " قَدْ قُلْتُ أَخَذْتُهُ بِدِرْهَمٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَا , إِذًا يَغْبِنُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَبِدِرْهَمَيْنِ " ، قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ الْأُوقِيَّةَ , قَالَ : قُلْتُ : فَقَدْ رَضِيتُ ، قَالَ : " قَدْ رَضِيتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، قُلْتُ : هُوَ لَكَ ، قَالَ : " قَدْ أَخَذْتُهُ " ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا جَابِرُ , هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : " أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ , وَتَرَكَ بَنَاتٍ لَهُ سَبْعًا , فَنَكَحْتُ امْرَأَةً جَامِعَةً تَجْمَعُ رُءُوسَهُنَّ , وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَصَبْتَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، قَالَ : " أَمَا إِنَّا لَوْ قَدْ جِئْنَا صِرَارًا ، أَمَرْنَا بِجَزُورٍ فَنُحِرَتْ ، وَأَقَمْنَا عَلَيْهَا يَوْمَنَا ذَلِكَ ، وَسَمِعَتْ بِنَا فَنَفَضَتْ نَمَارِقَهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ نَمَارِقَ ، قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ ، فَإِذَا أَنْتَ قَدِمْتَ ، فَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا " ، قَالَ : فَلَمَّا جِئْنَا صِرَارًا ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَزُورٍ ، فَنُحِرَتْ ، فَأَقَمْنَا عَلَيْهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَلَمَّا أَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ وَدَخَلْنَا ، قَالَ : فَأَخْبَرْتُ الْمَرْأَةَ الْحَدِيثَ ، وَمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَدُونَكَ ، فَسَمْعًا وَطَاعَةً ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَخَذْتُ بِرَأْسِ الْجَمَلِ ، فَأَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَنَخْتُهُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَرِيبًا مِنْهُ ، قَالَ : وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى الْجَمَلَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا جَمَلٌ جَاءَ بِهِ جَابِرٌ ، قَالَ : " فَأَيْنَ جَابِرٌ ؟ " ، فَدُعِيتُ لَهُ ، قَالَ : " تَعَالَ أَيْ يَا ابْنَ أَخِي ، خُذْ بِرَأْسِ جَمَلِكَ , فَهُوَ لَكَ " ، قَالَ : فَدَعَا بِلَالًا ، فَقَالَ : " اذْهَبْ بِجَابِرٍ ، فَأَعْطِهِ أُوقِيَّةً " ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَزَادَنِي شَيْئًا يَسِيرًا , قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَنْمِي عِنْدَنَا , وَنَرَى مَكَانَهُ مِنْ بَيْتِنَا ، حَتَّى أُصِيبَ أَمْسِ فِيمَا أُصِيبَ النَّاسُ ، يَعْنِي يَوْمَ الْحَرَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذات الرقاع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنے ایک کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکلا واپسی پر سواریاں چلتی گئی اور میں پیچھے رہ گیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ تمہیں کیا ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میر اونٹ سست ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بٹھادو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی اسے بٹھایا اور فرمایا : اپنے ہاتھ کی لاٹھی مجھے دیدو اس درخت سے توڑ کر دیدو میں نے ایسا ہی کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چند مرتبہ وہ چبھو کر فرمایا : اب اس پر سوار ہو جا چنانچہ میں سوار ہو گیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ اب دوسری اونٹنیوں سے مقابلہ کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں آپ کو ہبہ کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں تم بیچ دو میں نے عرض کیا : پھر مجھے اس کی قیمت بتا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے ایک درہم میں لیتا ہوں میں نے کہا پھر نہیں یہ تو نقصان کا سودا ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہم کہا لیکن میں نے پھر بھی انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بڑھاتے ہوئے ایک اوقیہ تک پہنچ گئے تب میں نے کہا میں راضی ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : راضی ہو میں نے کہا جی ہاں یہ اونٹ آپ کا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے لے لیا۔ تھوڑی دیر بعد مجھ سے پوچھا کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری سے یا شوہردیدہ سے میں نے کہا شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری سے کیوں نہیں کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! غزوہ احد میں میرے والد صاحب شہید ہو گئے اور سات بیٹیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ایسی عورت سے نکاح کیا جو ان کی دیکھ بھال کر سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا پھر فرمایا کہ اگر ہم کسی بلند ٹیلے پر پہنچ گئے تو اونٹ ذبح کر یں گے اور ایک دن یہیں قیام کر یں گے خواتین کو ہماری آمد کا علم ہو جائے تو وہ بستر جھاڑ لیں گے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! واللہ ہمارے پاس تو ایسی چادریں نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب ہوں گی اور جب تم گھر پہنچ جاؤ تو اپنی بیوی کے قریب جا سکتے ہو چنانچہ ایک بلند ٹیلے پر پہنچ کر ایسا ہی ہوا اور شام کو ہم مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ میں نے اپنی بیوی کو یہ سارا واقعہ بتایا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کیا فرمایا ہے اس نے کہا بہت اچھا سر آنکھوں پر چنانچہ صبح ہوئی تو میں نے اونٹ کا سرا پکڑا اور اسے لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بٹھادیا اور خود قریب جا کر مسجد میں بیٹھ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکلے تو دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسا ہے ان لوگوں نے بتایا یا رسول اللہ ! جابر رضی اللہ عنہ لے کر آیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ خود کہاں ہے مجھے بلایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بھتیجے یہ اونٹ تمہارا ہے تم لے جاؤ اور سیدنا بلال کو بلا کر حکم دیا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جاؤ اور ایک اوقیہ چاندی دیدد چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا انہوں نے مجھے ایک اوقیہ اور اس میں بھی کچھ جھکتا ہوا دے دیا واللہ وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہا حتی کہ حرہ کے دن لوگ اسے لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2406 و 3631، م: 715 و 2083
حدیث نمبر: 15027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ : انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ , إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا , قَالَ : وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ , وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ ، وَفِي أَجْنَابِهِ ، وَمَضَايِقِهِ , قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا , قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ ، إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ , وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ , فَاسْتَمَرُّوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى أَحَدٍ ، وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ الْيَمِينِ , ثُمَّ قَالَ إِلَيَّ : أَيُّهَا النَّاسُ , هَلُمَّوا إِلَيَّ , أَنَا رَسُولُ اللَّهِ , أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " ، قَالَ : فَلَا شَيْءَ , احْتَمَلَتِ الْإِبِلُ بَعْضُهَا بَعْضًا , فَانْطَلَقَ النَّاسُ , إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ , وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ , وَفِيمَنْ ثَبَتَ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ , وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ , وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ , وأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ , وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ , فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ طَوِيلٍ لَهُ أَمَامَ النَّاسِ , وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ , فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ , وَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَهُ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ , عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ , إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ , قَالَ : فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ , فَضَرَبَ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَوَقَعَ عَلَى عَجُزِهِ , وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ , فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ وَاجْتَلَدَ النَّاسُ , فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ حَتَّى وَجَدُوا الْأَسْرَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم وادی حنین کے سامنے پہنچے تو تہامہ کی ایک جوف دار وادی میں اترے ہم اس میں لڑھکتے ہوئے اترتے جارہے تھے صبح کا وقت تھا دشمن کے لوگ ہماری تاک میں گھاٹیوں، کناروں اور تنگ جگہوں میں گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے وہ لوگ متفق اور خوب تیاری کے ساتھ آئے ہوئے تھے واللہ ابھی ہم لوگ اتر ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہمیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور یکجان ہو کر تمام لشکر وں نے ہم پر حملہ کر دیا لوگ شکست کھا کر پیچھے کو پلٹنے لگے اور کسی کو کسی کی ہو ش نہ تھی۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب سمٹ گئے اور لوگوں کو آوازیں دینے لگے کہ اے لوگو میرے پاس آؤ میں اللہ کا رسول ہوں میں محمد بن عبداللہ ہوں اس وقت اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگے پھر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار اور اہل بیت کے افراد بہت کم رہ گئے تھے ان ثابت قدم رہنے والوں میں سیدنا ابوبکر ، عمر بھی تھے اور اہل بیت میں سیدنا علی اور سیدنا عباس ان کے صاحبزادے فضل ابوسفیان بن حارث، ربیعہ بن حارث، ایمن بن عبید جو ام ایمن کے صاحبزادے تھے اور سیدنا اسامہ بن زید تھے جبکہ بنو ہوازن کا یک آدمی سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا جو ایک لمبے نیزے کے سر پر بندھا ہوا تھا وہ لوگوں سے آگے تھے اور بقیہ ہوازن اس کے پیچھے پیچھے تھے جب وہ کسی کو پاتا تو اپنے نیزے سے اسے مار دیتا جب کوئی نظر نہ آتا تو وہ اسے اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کر دیتا اور وہ اس کے پیچھے چلنے لگتے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابھی بنوہوازن کا وہ آدمی جو علمبردار تھا اپنے اونٹ پر ہی سوار تھا اور وہ سب کچھ کرتا جارہا تھا جو کر رہا تھا کہ اچانک اس کا سامنا سیدنا علی اور ایک انصاری سے ہو گیا وہ دونوں اس کے پیچھے لگ گئے چنانچہ سیدنا علی نے پیچھے سے آ کر اس کے اونٹ کی ایڑیوں پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ اس کی دم کے بل گرپڑا ادھر سے انصاری نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس پر ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی تک چر گیا وہ اپنی سواری سے گرگیا اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے واللہ لوگ اپنی شکست سے جان بچا کر جہاں بھی بھاگے بالا آخر وہ قیدی بنا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 15028
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ , قَالَ : فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ , قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي , فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ ، وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا , وَذَبَحَتْ تِلْكَ الشَّاةَ ، فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِانْصِرَافَ عَنِ الْخَنْدَقِ , قَالَ : وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا ، فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا , وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ , فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي ، وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ , قَالَ : فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ ، قَالَ : " نَعَمْ " , ثُمَّ " أَمَرَ صَارِخًا ، فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ , قَالَ : فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ , قَالَ : " فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ , وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ , كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ , حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی کھدائی کر رہے تھے میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ تھا میں نے دل میں سوچا کہ کیوں نہ اسے بھون کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانے کا انتظام کر لیں چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہا اس نے کچھ جو پیسے اور اس سے روٹیاں پکائیں اور بکری ذبح کی جسے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھون لیا۔ جب شام ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خندق سے واپسی کا ارادہ کرنے لگے کہ ہم لوگ دن بھر کام کرتے تھے اور شام کو گھر واپس آجاتے تھے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے تھوڑا ساگوشت بھونا ہے جو ہمارے پاس تھا اور اس کے ساتھ جو کی کچھ روٹیاں پکائی ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں میرا ارادہ یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تنہا میرے ساتھ چلیں گے لیکن جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چلنے کے لئے کہا تو آپ نے فرمایا : اچھا اور ایک منادی کو حکم دیا کہ جس نے پورے لشکر میں اعلان کر وا دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر چلو میں نے اپنے دل میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے لوگ آ گئے اور آ کر بیٹھ گئے ہم نے جو کچھ پکایا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور بسم اللہ پڑھ کر اسے تناول فرمایا : لوگ آتے جاتے تھے اور کھاتے تھے حتی کہ تمام اہل خندق نے سیر ہو کر وہ کھانا کھالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ- بنحوه-: 3070، م: 2039، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق، وهو متابع
حدیث نمبر: 15029
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : لَمَّا دُفِنَ سَعْدٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا , ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرَ النَّاسُ , ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مِمَّ سَبَّحْتَ ؟ ، قَالَ : " لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ , حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ کی تدفین ہو چکی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہو رہی تھی بعد میں اللہ نے اسے کشادہ کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15030
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَبَخْتُمُ اللَّحْمَ ، فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ ، فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم گوشت پکایا کر و تو اس میں شوربہ بڑھا لیا کر و کہ اس سے پڑوسیوں کے لئے کشادگی پیدا ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فالأعمش لم يسمعه من جابر، وله شاهد من حديث أبي ذر الغفاري عند مسلم: 2625، وسيأتي برقم: 21326
حدیث نمبر: 15031
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرتا ہے وہ بدکاری کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبد الله بن محمد بن عقيل، وهو ضعيف إذا لم يتابع
حدیث نمبر: 15032
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ ، قَالَ : فَقَالَ " قَدْ كُنَّا نَصْنَعُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے عزل کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے (آب حیات کا باہر خارج کر دینا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5207، م: 1440، ابن جريج مدلس، وقد عنعنه هنا، لكن سيأتي تصريحه بالسماع برقم: 15072
حدیث نمبر: 15033
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حُبِسَ الْوَحْيُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ , وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ , فَجَعَلَ يَخْلُو فِي حِرَاءٍ , فَبَيْنَمَا هُوَ مُقْبِلٌ مِنْ حِرَاءٍ " إِذَا أَنَا بِحِسٍّ مِنْ فَوْقِي , فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الَّذِي أَتَانِي بِحِرَاءٍ فَوْقَ رَأْسِي عَلَى كُرْسِيٍّ " , قَالَ : " فَلَمَّا رَأَيْتُهُ جُئِثْتُ عَلَى الْأَرْضِ , فَلَمَّا أَفَقْتُ أَتَيْتُ أَهْلِي مُسْرِعًا , فَقُلْتُ : دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي ، فَأَتَانِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد ایک دن میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن أبى حفصة، وهو متابع، وانظر: 14287
حدیث نمبر: 15034
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ أَبُو سَلَمَةَ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ , قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ , فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ , وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب قریش نے میرے بیت المقدس کی سیر کرنے کی تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی علامات بتانے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3886، م: 170، وانظر: 15035 م
حدیث نمبر: 15035
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ , فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : " فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي , سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ , فَرَفَعْتُ رَأْسِي , فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ , فَجُئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا , فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ، فَدَثَّرُونِي , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ سورة المدثر آية 1 - 3 إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 5 , قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ " وَهِيَ الْأَوْثَانُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انقطاع وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد ایک دن میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھ پر کپکپی طاری ہوئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آ کر کہا کہ مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھا دو چنانچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اس موقع پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی یا ایھا المدثر اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4925، م: 161
حدیث نمبر: 15035
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَقُمْتُ فِي الْحِجْرِ حِينَ كَذَّبَنِي قَوْمِي , فَرُفِعَ لِي بَيْتُ الْمَقْدِسِ , حَتَّى جَعَلْتُ أَنْعَتُ لَهُمْ آيَاتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب قریش نے میرے بیت المقدس کے سیر کرنے کی تکذیب کی تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا اور میں اسے دیکھ دیکھ کر انہیں اس کی علامات بتانے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، ومتصل بالإسناد الذى قبله، ومتنه قطعة من الحديث السالف برقم: 15034
حدیث نمبر: 15036
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ ؟ ، فَقَالَ : " صُمْ , وَسَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ کیا آپ مجھے خصی ہو نے کی اجازت دیتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزہ رکھا کر و اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة راويه عن جابر
حدیث نمبر: 15037
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ , قَالَ : كُنْتُ مَعَ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ , فَسَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ , فَقَالَ : تَبُلُّ الشَّعْرَ , وَتَغْسِلُ الْبَشَرَ ، قَالَ : رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنَ الْمَاءِ " ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ : رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ ، قَالَ : كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ بالوں کو خوب تربتر کر لو اور جسم کو دھو ڈالو انہوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل کرتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے توبال لمبے بہت ہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال لمبے تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ لمبے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15038
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ فِي السَّفَرِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَكْتُوبَةَ ، نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل اپنی سواری پر ہی مشرق کی جانب رخ کر کے بھی پڑھ لیتے تھے لیکن جب فرض پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 400
حدیث نمبر: 15039
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمَرَنَا بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى , فَأَهِلُّوا " ، فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجۃ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منیٰ کی طرف روانگی کا ارادہ کر و تو دوبارہ احرام باندھ لینا چنانچہ ہم نے وادی بطحاء سے احرام باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1214
حدیث نمبر: 15040
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا , وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ , فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعتوں کے ساتھ ادا کی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت کے ساتھ پڑھی رات وہیں پر قیام کیا اور نماز فجر پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1546
حدیث نمبر: 15041
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ , يَقُولُ : " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ , فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں ٹھیکر ی جیسی کنکر یاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور فرمایا : میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1297
حدیث نمبر: 15042
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَحَجَّاجٌ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنَ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى , فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا وَتَزَوَّدُوا " ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کی قربانی کے جانور کا گوشت صرف منیٰ کے تین دنوں میں کھاتے تھے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا : کھاؤ اور ذخیرہ کر و (چنانچہ ہم نے ایساہی کیا) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1719، م: 1972
حدیث نمبر: 15043
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : " اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ , فَنَحَرْنَا سَبْعِينَ بَدَنَةً يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے حج اور عمرے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے مشترکہ طور پر ایک اونٹ ذبح کیا تھا اس طرح ہم نے کل ستر اونٹ ذبح کئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1318
حدیث نمبر: 15044
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سیدنا عائشہ کی طرف سے ایک گائے ذبح کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1319
حدیث نمبر: 15045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ ، قَالَ : فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ، وَيَجْتَمِعُ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْهَدِيَّةِ ، وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ حَجَّتِهِمْ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حجۃ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منیٰ کی طرف روانگی کا اردہ کرو تو دوبارہ احرام باندھ لینا اور ایک اونٹ میں کئی لوگ مشترک ہو جانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15045
حدیث نمبر: 15046
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ، وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2116
حدیث نمبر: 15047
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : زَوَّدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ , فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً , ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً , فَنَمُصُّهَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ , فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا , فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ فَكُلُوا ، فَأَكَلْنَا , فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ , فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَا " ، فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ , فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ , فَأَكَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ میں بھیجا اور سیدنا ابوعبیدہ کو ہمارا امیر مقرر کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں سیدنا ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا پھر جب کھجوریں ختم ہو گئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھالیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہو گئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی پہلے تو سیدنا ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہو گئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ مدینہ واپسی پر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکر ہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا فرمایا : اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوادیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے تناول فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4362، م: 1935
حدیث نمبر: 15048
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ , حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَقْوَامًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا مُحِشُوا فِيهَا , فَيُنْطَلَقُ بِهِمْ إِلَى نَهْرٍ فِي الْجَنَّةِ , يُقَالُ لَهُ : نَهْرُ الْحَيَاةِ , فَيَغْتَسِلُونَ فِيهِ , فَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَمْثَالَ الثَّعَارِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگوں کو جب جہنم سے نکالا جائے گا تو اس وقت تک ان لوگوں کے چہرے جھلس چکے ہوں گے پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دلایا جائے گا جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو وہ ککڑیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وانظر: 14491
حدیث نمبر: 15049
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " النَّاسُ لِقُرَيْشٍ تَبَعٌ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 1819، وانظر ما بعدہ
حدیث نمبر: 15050
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عن جابر , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 1819، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15051
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، وَمُوسَى بنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ " ، وَقَالَ مُوسَى : " وَلَوْ بِشَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص روزہ رکھنا چاہے اسے کسی چیز سے سحری کر لینی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي سيئ الحفظ، و عبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف، و كلاهما يعتبر به
حدیث نمبر: 15052
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ " ، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي , كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال لمبے بہت ہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے تم سے زیادہ بال لمبے تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ لمبے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 256، م: 329
حدیث نمبر: 15053
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ بُرْدٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ , فَنَسْتَمْتِعُ بِهِمْ , فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال و غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے لیکن کوئی ہمیں اس کا طعنہ نہ دیتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 15054
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد توبع ، وأبو الزبير سلف تصريحه بالسماع برقم: 14136، لكن ذكر هناك أن جابرا هو الذى رأى النبى صلى الله عليه وسلم وهو كذلك في: 14120، وسلف حديث أبى سعيد الخدري برقم: 11072
حدیث نمبر: 15055
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ , ثُمَّ يَخْطُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز پڑھاتے تھے نماز کے بعد لوگوں سے خطاب فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، حجاج بن أرطاة النخعي مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، انظر: 14163
حدیث نمبر: 15056
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ , يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تھا کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2538
حدیث نمبر: 15057
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَاحِبِ السِّقَايَةِ , عَنْ جَابِرٍ , بِمِثْلِهِ , فَفَسَّرَ جَابِرٌ نُقْصَانٌ مِنَ الْعُمُرِ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15058
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَيْنَبَ , قَال : سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ نَافِعٍ أَبَا سُفْيَانَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : كُنْتُ فِي ظِلِّ دَارِي , فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَثَبْتُ إِلَيْهِ ، فَجَعَلْتُ أَمْشِي خَلْفَهُ , فَقَالَ : " ادْنُ " ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ , فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَى بَعْضَ حُجَرِ نِسَائِهِ , أُمِّ سَلَمَةَ أَوْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , فَدَخَلَ ثُمَّ أَذِنَ لِي , فَدَخَلْتُ وَعَلَيْهَا الْحِجَابُ , فَقَالَ : " أَعِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ؟ " ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَأُتِيَ بِثَلَاثَةِ أَقْرِصَةٍ , فَوُضِعَتْ عَلَى نَقِيٍّ , فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ أُدُمٍ ؟ " ، فَقَالُوا : لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ ، قَالَ : " هَاتُوهُ " ، فَأَتَوْهُ بِهِ , فَأَخَذَ قُرْصًا فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ , وَقُرْصًا بَيْنَ يَدَيَّ , وَكَسَرَ الثَّالِثَ بِاثْنَيْنِ , فَوَضَعَ نِصْفًا بَيْنَ يَدَيْهِ , وَنِصْفًا بَيْنَ يَدَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے گھر کے سائے میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کود کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہو لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے قریب ہو جاؤ چنانچہ میں قریب ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم دونوں چلتے ہوئے کسی زوجہ محترمہ ام سلمہ یا سیدنا زینب بن جحش کے حجرے میں داخل ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندرچلے گئے اور تھوڑی دیر بعد مجھے بھی آنے کی اجازت دیدی میں اندر داخل ہوا تو ام المومنین حجاب میں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں اور تین روٹیاں لا کر دسترخوان پر رکھ دی گئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی سالن بھی ہے انہوں نے عرض کیا : نہیں البتہ تھوڑا ساسر کہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ چنانچہ سرکہ پیش کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک میرے سامنے رکھی اور ایک روٹی کے دو ٹکڑے کئے جن میں سے آدھا اپنے سامنے رکھا اور آدھا میرے سامنے رکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2052، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل حجاج بن أبى زينب، وقد توبع
حدیث نمبر: 15059
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ , فَإِذَا لَمْ يَكُنْ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ بِرَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنالی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1999
حدیث نمبر: 15060
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ , وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ , وَالْحَنْتَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه، م: 1998
حدیث نمبر: 15061
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ , فَجِئْتُ وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَوَجْهُهُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ , وَهُوَ يُومِئُ إِيمَاءً , فَكَلَّمْتُهُ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540