حدیث نمبر: 14983
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ الْمَكِّيُّ ، عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا الْجِمَارَ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ شیطان کو کنکر یاں ٹھیکر ی کی بنی ہوئی مارا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رباح المكي، لكنه توبع، وانظر: 14219
حدیث نمبر: 14984
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ ، وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، وَيَقُولُ : " مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ , وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ , إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ , وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ " ، وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ , وَعَلَا صَوْتُهُ , وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ ، " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَرَثَةِ , وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا , أَوْ دَيْنًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ ، وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا : اللہ جس شخص کو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں کر سکتا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیزیں نو چیزیں ہیں اور ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور پھر فرمایا کہ تم پر صبح کو قیامت آگئی یا شام کو جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے اور میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 867
حدیث نمبر: 14985
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَى جَابِرٍ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا ، فَقَالَ : كُلُوا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ ، فَيَحْتَقِرَ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ , وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے یہ بات انسان کے لئے باعث ہلاکت ہے کہ اس کے پاس اس کے بھائی آئیں اور اس کے پاس جو کچھ گھر میں موجود ہو وہ اسے ان کے سامنے پیش کرنے میں اپنی تحقیر سمجھے اور لوگوں کے لئے بھی یہ بات باعث ہلاکت ہے کہ ان کے سامنے جو کچھ پیش کیا جائے وہ اسے حقیر سمجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبيدالله ابن الوليد الوصافي متفق على ضعفه ، وقد اضطرب فى إسناد هذا الحديث، وقوله ﷺ: « نعم الإدام الخل » صحيح من غير هذا الطريق انظر: 14225
حدیث نمبر: 14986
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ ، فَقَالَ : " أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ ! " فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ ، فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی مرگیا تو اس کے صاحبزادے جو مخلص مسلمان تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! اگر آپ نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تو لوگ ہمیں ہمیشہ عار دلاتے رہیں گے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے دیکھا تو اسے قبر میں اتارا جا چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے قبر میں اتارنے سے پہلے مجھے کیوں نہ بتایا پھر اسے قبر سے نکلوایا اس کی پیشانی سے پاؤں تک اپنا لعاب دہن ملا اسے اپنی قمیض پہنا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1270، م: 2773، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع، لكنه متابع، وانظر: 15075
حدیث نمبر: 14987
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو مَذْكُورٍ ، وَكَانَ لَهُ عَبْدٌ قِبْطِيٌّ فَأَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ , وَكَانَ ذَا حَاجَةٍ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ ذَا حَاجَةٍ , فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ " ، قَالَ : فَأَمَرَهُ أَنْ يَسْتَنْفِعَ بِهِ ، فَبَاعَهُ مِنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامِ الْعَدَوِيِّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کر ے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 997، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرح بالتحديث عند البيهقي، وانظر: 14133 و 14273
حدیث نمبر: 14988
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , قَالَ : دَخَلَ إِلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا ، فَقَالَ : كُلُوا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ تشریف لائے انہوں نے اس کے سامنے روئی اور سرکہ پیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبيدالله بن الوليد الوصافي، لكن تابعه عليه غير واحد
حدیث نمبر: 14989
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا , فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طبیب سیدنا ابی بن کعب کے پاس بھیجا اس نے ان کے بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2207
حدیث نمبر: 14990
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ " ، فَقَالُوا : يَوْمُنَا هَذَا ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ " ، قَالُوا : شَهْرُنَا هَذَا ، قَالَ : " أَيُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَةً ؟ " ، قَالُوا : بَلَدُنَا هَذَا ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ ، وَأَمْوَالَكُمْ ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں دس ذی الحجہ کو صحابہ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا دن کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا : آج کا دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کونسا ہے صحابہ نے عرض کیا : ہمارا یہی شہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ رہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14991
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14992
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ قَالَ : أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَبِيعُوا دِيَارَهُمْ ، يَنْتَقِلُونَ قُرْبَ الْمَسْجِدِ , فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " دِيَارَكُمْ , إِنَّمَا تُكْتَبُ آثَارُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ اپنا گھر بیچ کر مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا : اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 665
حدیث نمبر: 14993
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَلِيَ أَخَاهُ ، فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 943
حدیث نمبر: 14994
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي شِبْلٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر اور ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1536
حدیث نمبر: 14995
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ " ، قَالَ أَبِي : وَحَدَّثَنَاه وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا : کہ کون سا اسلام افضل ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوسرے مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 14996
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمزم کا پانی جس نیت سے بھی پیا جائے وہ پوری ہو تی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن المؤمل ضعيف، لكنه متابع، انظر: 14849
حدیث نمبر: 14997
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ بِمَكَّةَ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن متابع، وانظر: 14350
حدیث نمبر: 14998
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ لِي , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَضَحَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أُوصِي لِأَخَوَاتِي بِالثُّلُثَيْنِ ، قَالَ : " أَحْسِنْ " ، قُلْتُ : بِالشَّطْرِ ، قَالَ : " أَحْسِنْ " ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي , ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ , إِنِّي لَا أَرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لِأَخَوَاتِكَ ، فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ " ، قَالَ : فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِيَّ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہو گیا میرے پاس میری سات بہنیں تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں عیادت کے لئے تشریف لائے مجھے ہو ش آگیا اور میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اپنی بہنوں کے لئے دو تہائی کی وصیت کر دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر طریقہ اختیار کر و میں نے نصف کے لئے پوچھا : تو پھر یہی فرمایا : تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے چلے گئے پھر واپس آ کر فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ میں نہیں سمجھتا کہ تم اس بیماری میں مرجاؤگے تاہم اللہ تعالیٰ نے ایک حکم نازل فرما دیا ہے جس نے تمہاری بہنوں کا حصہ متعین کر دیا ہے یعنی دوتہائی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت کلالہ میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وأبو الزبير لم يصرح بالتحديث، لكن تابعه محمد بن المنكدر فيما سلف برقم: 14186
حدیث نمبر: 14999
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالشُّفْعَةِ ، مَا لَمْ تُقْسَمْ أَوْ يُوقَفْ حُدُودُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جب تک تقسیم نہ ہوا ہو یا حدبندی نہ کی جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، فيه صالح بن أبى الأخضر ، وهو ضعيف يعتبر به، وقد توبع، انظر: 14157
حدیث نمبر: 15000
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : " جَاءَ عَبْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعَهُ ، فَجَاءَهُ مَوْلَاهُ فَعَرَّفَهُ , فَاشْتَرَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَعْتَقَهُ ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى يَسْأَلَهُ حُرٌّ أَوْ عَبْدٌ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں چلا تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اس کو تلاش کرتے ہوئے یہاں پر آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید کر آزاد کر دیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سے لے کر تب تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیں کہ وہ غلام ہے یا آزاد ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14772
حدیث نمبر: 15001
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا بِعَبْدَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلاموں کے بدلے خریدا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه ، والعبد الذى اشتراه النبى صلى الله عليه وسلم هو المذكور فى الحديث السالف قبله ، انظر: 14772
حدیث نمبر: 15002
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُنِي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ " ، قَالَ : " وَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ ، قَالَ : هَذَا بِلَالٌ " ، قَالَ : " وَرَأَيْتُ قَصْرًا أَبْيَضَ بِفِنَائِهِ جَارِيَةٌ " ، قَالَ : " قُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ ، قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ " ، قَالَ : " فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَعَلَيْكَ أَغَارُ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں مجھے ابوطلحہ کی بیوی رمیصاء نظر آئی پھر میں نے اپنے آگے کسی کے جوتوں کی آہٹ سنی میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ بلال ہیں پھر میں نے ایک سفید رنگ کا محل دیکھا جس کے صحن میں ایک لونڈی پھر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محل عمربن خطاب کا ہے پہلے میں نے سوچا کہ اس میں داخل ہو کر اسے دیکھوں لیکن پھر مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3679، م: 2457
حدیث نمبر: 15003
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ , حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ : " فَسَمِعْتُ خَشْفًا أَمَامِي " يَعْنِي صَوْتًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 15004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي بَشِيرَ بْنَ عُقْبَةَ الدَّوْرَقِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ : غَازِيًا ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا قَافِلِينَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ فَلْيَتَعَجَّلْ " ، وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ أَرْمَكَ لَيْسَ فِي الْجُنْدِ مِثْلُهُ ، فَانْدَفَعْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا النَّاسُ خَلْفِي , فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ , إِذْ قَامَ جَمَلِي فَجَعَلَ لَا يَتَحَرَّكُ ، فَإِذَا صَوْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُ جَمَلِكَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَا أَدْرِي مَا عَرَضَ لَهُ ! ، قَالَ : " اسْتَمْسِكْ ، وَأَعْطِنِي السَّوْطَ " ، فَأَعْطَيْتُهُ السَّوْطَ ، فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً ، فَذَهَبَ بِيَ الْبَعِيرُ كُلَّ مَذْهَبٍ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : " يَا جَابِرُ , أَتَبِيعُنِي جَمَلَكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَقْدِمْ الْمَدِينَةَ " ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ فِي طَوَائِفَ مِنْ أَصْحَابِهِ الْمَسْجِدَ ، فَعَقَلْتُ بَعِيرِي ، فَقُلْتُ : هَذَا جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخَرَجَ ، فَجَعَلَ يُطِيفُ بِهِ ، وَيَقُولُ : " نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلِي " ، فَقَالَ " يَا فُلَانُ ، انْطَلِقْ فَائْتِنِي بِأَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ " ، فَقَالَ : " أَعْطِهَا جَابِرًا " ، فَقَبَضْتُهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَوْفَيْتَ الثَّمَنَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَلَكَ الثَّمَنُ ، وَلَكَ الْجَمَلُ " ، أَوْ " لَكَ الْجَمَلُ , وَلَكَ الثَّمَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر جہاد میں شریک تھا واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص جلدی جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے میں ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار تھا پورے لشکر میں اس جیسا اونٹ نہیں تھا میں نے اسے دوڑایا تو سب لوگ مجھ سے پیچھے رہ گئے اچانک چلتے چلتے میر اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا تھا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز آئی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کیا ہوا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کوڑا دو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مدینہ پہنچ کر ۔ مدینہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے میں نے اپنے اونٹ کو باندھا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ رہا آپ کا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر اس کے گرد چکر لگانے اور فرمانے لگے میر اونٹ کتناخوبصورت ہے پھر فرمایا : اے فلاں جا کر چند اوقیہ سونا لے آؤ اور جابر رضی اللہ عنہ کو دیدو جب میں نے قیمت وصول کر لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں قیمت پوری پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا : جی یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہ قیمت بھی تمہاری ہوئی اور اونٹ بھی تمہارا ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2470 و 2861، م: 715
حدیث نمبر: 15005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، قَالَ : أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تُوُفِّيَ وَالِدِي وَتَرَكَ عَلَيْهِ عِشْرِينَ وَسْقًا تَمْرًا دَيْنًا , وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتَّى وَالْعَجْوَةُ لَا يَفِي بِمَا عَلَيْنَا مِنَ الدَّيْنِ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَبَعَثَ إِلَى غَرِيمِي , فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الْعَجْوَةَ كُلَّهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ " ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرِيشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَةٌ لِي , فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا , وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُهَا مِنَ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ , إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَيْنَا , إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ , فَقُلْتُ : مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَرْحَبًا يَا عُمَرُ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ , انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَطُوفَ فِي نَخْلِكَ هَذَا " ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَطُفْنَا بِهَا , وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ , ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَةٍ , فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِسَادَةٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ , فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَهُ مِنْ وِسَادَةٍ , ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَةٍ لَنَا عَلَيْهَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ , فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ ، فَأَكَلَا وَكُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِيِّ الْحَيَاءُ , فَلَمَّا ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ , قَالَتْ صَاحِبَتِي : يَا رَسُولَ اللَّهِ , دَعَوَاتٌ مِنْكَ ، قَالَ : " نَعَمْ ، فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ " ، قَالَ : " نَعَمْ , فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ " ، ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى غُرَمَائِي , فَجَاءُوا بِأَحْمِرَةٍ وَجَوَالِيقَ , وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُمْ مِنَ الْعَجْوَةِ ، أُوفِيهِمُ الْعَجْوَةَ الَّذِي عَلَى أَبِي , فَأَوْفَيْتُهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنَ الْعَجْوَةِ ، وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُهُ بِمَا سَاقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ ، فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ , اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ " ، فَقَالَ لِعُمَرَ : " إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفَى غَرِيمَهُ " ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَحْمَدُ اللَّهَ .
مولانا ظفر اقبال
ابومتوکل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا : کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جس کا آپ نے مشاہدہ کیا ہوانہوں نے فرمایا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ان پر کچھ وسق کھجوروں کا قرض تھا ہمارے پاس مختلف قسم کی چند کھجوریں اور کچھ عجوہ تھی جس سے ہمارا قرض ادا نہیں ہو سکتا تھا چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات ذکر کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قرض خواہ کے پاس بھیجا لیکن اس نے سوائے عجوہ کے کوئی دوسری کھجور لینے سے انکار کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جا کر اسے عجوہ ہی دیدو چنانچہ میں اپنے خیمے میں پہنچا اور کھجوروں کو کاٹنا شروع کر دیا ہمارے پاس ایک بکری بھی تھی جسے ہم گھاس پھوس کھلایا کرتے تھے اور وہ خوب صحت مند ہو گئی تھی۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ دو آدمی چلے آرہے ہیں قریب آئے تو دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر تھے میں نے ان دونوں کو خوش آمدید کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ چلو ہم تمہارے باغ کا ایک چکر لگانا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا : بہت بہتر چنانچہ ہم نے باغ کا ایک چکر لگایا ادھر میں نے اپنی بیوی کو حکم دیا اور اس نے بکری کا بچہ ذبح کر لیا پھر ہم ایک تکیہ لائے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک لگائی وہ بالوں کا بنا ہوا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن سیدنا عمر کے لئے دوسرا تکیہ نہ مل سکا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دسترخوان بچھایا اور اس پر دو طرح کھجوریں اور گوشت لا کر رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر کے سامنے پیش کیا ان دونوں نے کھانا تناول فرمایا : مجھ پر فطری طور حیاء کا غلبہ تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر جانے لگے تو میری بیوی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے برکت کی دعا کی اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو بلا بھیجا وہ درانتیاں اور قینچیاں لے کر آ گئے لیکن اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے میں نے انہیں اس باغ میں بیس وسق عجوہ کھجور ادا کر دی اور اس کے باوجود بھی وہ بڑی مقدار میں بچ گئی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوش خبری سنانے چلا گیا کہ اللہ نے مجھ پر کتنی مہربانی فرمائی ہے جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوش خبری سنائی تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا : اللھم لک الحمد پھر سیدنا عمر سے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے قرض خواہوں کا ساراقرض اتاردیا سیدنا عمر بھی اللہ کا شکر کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 15006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي ، خ: 2340، م: 1536
حدیث نمبر: 15007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسودوالے کونے سے حجراسود والے کونے تک رمل کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1263
حدیث نمبر: 15008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَضْحَى يَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّيًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایک دن میں حالت احرام میں تلبیہ کہتا ہوا گزرے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے تو وہ اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہو گا اور وہ ایساصاف ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عاصم بن عمر ، وعاصم بن عبيد الله ضعيفان، وقد اضطربا فى إسناده
حدیث نمبر: 15009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ حِينَ قَدِمُوا ، لَمْ يَزِيدُوا عَلَى طَوَافٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ مکر مہ آئے تو انہوں نے ایک سے زیادہ طواف نہیں کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حجاج بن أرطاة، وقد صرح بالتحديث عند الدارقطني ، وانظر: 14900
حدیث نمبر: 15010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي وَمَالِي حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا أَنْ تَدَعَ دَيْنًا لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاءٌ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ! جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 15011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، لَيْسَ بِرَاكِبٍ بَغْلًا ، وَلَا بِرْذَوْنًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اس وقت وہ خچر پر سوار تھے اور نہ ہی گھوڑے پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5664، م: 1616
حدیث نمبر: 15012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْبَحْرِ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے متعلق فرمایا کہ اس کا پانی پاکیزہ اور اس کا مردار ( مچھلی) حلال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ عَلَى نَاضِحٍ لِي فِي أُخْرَيَاتِ الرِّكَابِ ، فَضَرَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرْبَةً ، أَوْ قَالَ : فَنَخَسَهُ نَخْسَةً ، قَالَ : فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَكُونُ فِي أَوَّلِ الرِّكَابِ ، إِلَّا مَا كَفَفْتُهُ , قَالَ : فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا , وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَزَادَنِي ، قَالَ : " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَلَا أَدْرِي كَمْ مِنْ مَرَّةٍ ، قَالَ : " أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا ؟ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ بَعْدَ أَبِيكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " أَلَا تَزَوَّجْتَهَا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا , وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ کسی سفر میں شریک تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اچانک چلتے چلتے میرا اونٹ ایک جگہ کھڑا ہو گیا اب وہ حرکت بھی نہیں کر رہا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی دی کہ جابر رضی اللہ عنہ تمہارے اونٹ کو کیا ہوا ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اسے کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکڑ کر رکھو اور مجھے کو ڑادو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوڑا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ضرب لگائی اور وہ مجھے سب سے آگے لے گیا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ کیا تم اپنا اونٹ مجھے بیچتے ہو میں نے عرض کیا : جی یا رسول اللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مدینہ پہنچ کر ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اپنے والد صاحب کی شہادت کے بعد شادی کر لی میں نے عرض کیا : جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری سے کیوں نہیں کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2718، م: 715
حدیث نمبر: 15014
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ ، فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَةُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور لہسن کھانے سے منع فرمایا : تھا لیکن جب ہم اپنی ضرورت سے مغلوب ہو گئے تو ہم نے اسے کھالیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے وہ ہماری مساجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جن چیزوں سے انسانوں کو اذیت ہو تی ہے فرشتوں کو بھی ہو تی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 854، م: 564، وأبو زبیر قد صرح بالسماع عند أبي عوانة: 411/1، وھو متابع أیضاً
حدیث نمبر: 15015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ ، وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهِ بِعُودٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کو سوتے ہوئے دروازے بند کر لیا کر و برتنوں کو ڈھانپ دیا کر و خواہ ایک لکڑی ہی رکھ دو چراغ بجھادیا کر و اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2012، وأبو زبیر قد صرح بالسماع عند غیر المصنف
حدیث نمبر: 15016
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کر ے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 93
حدیث نمبر: 15017
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ ، وَلَا تُعْمِرُوهَا , فَإِنَّ مَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا : اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہو جاتی ہے زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 15018
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ , فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ , ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ , ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ ، ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ , فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ , وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , ثُمَّ قَالَ : " إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ , فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ " أَوْ قَالَ " تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا ، فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ " ، شَكَّ هِشَامٌ (حديث مرفوع) ، " وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ , فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا , فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ " ، " وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ , فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ , وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُرِيكُمُوهَا , فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں شدید گرمی میں سورج گرہن ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی اور طویل قیام کیا حتی کہ لوگ مرنے لگے پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھا کر طویل قیام کیا دوبارہ اسی طرح کیا دو سجدے کئے اور پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھائی پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چنانچہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا میں اگر اس کے پھلوں کا کوئی گچھا توڑنا چاہتا تو توڑ سکتا تھا پھر میرے سامنے جہنم کو بھی لایا گیا یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ تمہیں نہ لگ جائے۔ میں نے جہنم میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی حتی کہ اس حال میں وہ مرگئی اسی طرح میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو بھی جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا اور چاند سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تمہیں دکھاتا ہے لہذاجب انہیں گہن لگ جائے تو نماز پڑھا کر و یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م : 904، وأبو زبیر لم یصرح بالسماع، لکن تابعه عطاء بن أبيرباح، انظر: 14417
حدیث نمبر: 15019
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الظُّهْرِ ، قَالَ : فَهَمَّ بِهِمُ الْمُشْرِكُونَ ، قَالَ : فَقَالَ : " دَعُوهُمْ ، فَإِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ " ، قَالَ : فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ ، فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ , فَكَبَّرُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ ، فَلَمَّا رَفَعَ الَّذِينَ سَجَدُوا رُءُوسَهُمْ ، سَجَدَ الْآخَرُونَ ، فَلَمَّا قَامُوا فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ تَأَخَّرَ الَّذِينَ يَلُونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ ، فَقَامَ أَهْلُ الصَّفِّ الثَّانِي , وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ إِلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ , فَرَكَعُوا جَمِيعًا , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ , سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی نخلہ میں تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز ظہر پڑھائی مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور کہنے لگے کہ انہیں چھوڑ دو اس نماز کے بعد یہ ایک اور نماز پڑھیں جوان کے نزدیک ان کی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے سیدنا جبرائیل نے نازل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے مطلع کیا چنانچہ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو صفوں میں تقسیم کر دیا اور خود سب سے آگے کھڑے ہو گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آ گئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آ گئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ - معلقا -: 4130، م: 840
حدیث نمبر: 15020
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَخِي بَنِي سَلِمَةَ ، وَمَعِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأَبُو الْأَسْبَاطِ مَوْلًى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ كَانَ يَتْبَعُ الْعِلْمَ ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْوُضُوءِ ، مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ ، فَقَالَ : خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِهِ ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقِيلَ لِي : هُوَ بِالْأَسْوَافِ عِنْدَ بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي بَلْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، يَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ أَبِيهِنَّ , قَالَ : وَكُنَّ أَوَّلَ نِسْوَةٍ وَرِثْنَ مِنْ أَبِيهِنَّ فِي الْإِسْلَامِ , قَالَ : فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ الْأَسْوَافَ وَهُوَ مَالُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ قَدْ رُشَّ لَهُ فَهُوَ فِيهِ , قَالَ : فَأُتِيَ بِغَدَاءٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ قَدْ صُنِعَ لَهُ ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ ، قَالَ : ثُمَّ بَالَ , ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلظُّهْرِ , وَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ مَعَهُ , قَالَ : ثُمَّ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ , قَالَ : ثُمَّ قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا بَقِيَ مِنْ قِسْمَتِهِ لَهُنَّ ، حَتَّى حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، وَفَرَغَ مِنْ أَمْرِهِ مِنْهُنَّ , قَالَ : فَرَدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلَ غَدَائِهِ مِنَ الْخُبْزِ وَاللَّحْمِ , فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ مَعَهُ , قَالَ : ثُمَّ نَهَضَ ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ، وَمَا مَسَّ مَاءً وَلَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ محمد بن عمرو اور اسباطھی تھے جو حصول علم کے لئے نکلے تھے ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کا مسئلہ پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نے کے لئے مسجد نبوی پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہ ملے میں نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ مقام اسوف میں سعد بن ربیع کی بچیوں کے پاس گئے ہیں تاکہ ان کے درمیان ان کے والد کی وراثت تقسیم کر یں یہ پہلی خواتین تھیں جنہیں زمانہ اسلام میں اپنے والد کی میراث ملی۔ میں وہاں سے نکل کر مقام اسوف میں پہنچا جہاں سعد بن ربیع کا مال تھا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھجور کا ایک بستر پر پانی چھڑک کر اسے نرم کر دیا گیا اور آپ اس پر تشریف فرما ہیں اتنی دیر میں کھانا لایا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا جو خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا : اور دوسرے لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کر کے نماز ظہر کے لئے وضو کیا لوگوں نے بھی وضو کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز ظہر ادا کر وائی نماز سے فراغت ہو نے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ بیٹھ گئے اور تقسیم وراثت کا جو کام بچ گیا تھا اسے مکمل کر لیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے معاملے سے فارغ ہو گئے پھر ان لوگوں نے بھی کھایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ہمیں نماز پڑھائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو ہاتھ لگایا اور نہ ہی لوگوں میں سے کسی نے اسے ہاتھ لگایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسین لأجل عبد اللہ بن محمد بن عقیل، وحديثه حسن في المتابعات والشواھد
حدیث نمبر: 15021
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي بَشِيرٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , يَسْأَلُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ أَخَا بَنِي سَلِمَةَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرِفُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ " ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ : إِنَّ شَعْرَ رَأْسِي كَثِيرٌ ، وَأَخْشَى أَنْ لَا تَغْسِلَهُ ثَلَاثُ غَرَفَاتٍ بِيَدَيَّ ، فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ : رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ مِنْ رَأْسِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حسن بن محمد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بشیر بن أبي بشیر، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 15022
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ يَوْمَ الْعِيدِ كَبْشَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ حِينَ وَجَّهَهُمَا : " إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ , لَا شَرِيكَ لَهُ , وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ , بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن دو مینڈھے ذبح کئے جب انہیں قبلہ رخ کرنے لگے تو فرمایا : میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا سب سے کٹ کر اور مسلمانوں ہو کر میں مشرکین میں سے نہیں ہوں میری نماز قربانی زندگی اور موت سب اللہ رب العالمین کے لئے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان، بسم اللہ، اللہ اکبر اے اللہ یہ تیری جانب سے ہے اور تیرے لئے اسے محمد اور ان کی امت کی طرف سے قبول فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 15022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسین، أبو عیاض المعافري روی عنه ثلاثة، وابن إسحاق صدوق، حسن الحدیث