حدیث نمبر: 14943
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَحِلُّوا " ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حِلُّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : " حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ " ، قَالَ : فَغُشِيَتِ النِّسَاءُ ، وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ ، قَالَ خَلَفٌ : وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ : يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا ! قَالَ : فَخَطَبَهُمْ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ ، أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ " ، قَالَ : فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى ، أَهَلُّوا بِالْحَجِّ ، قَالَ : فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ ، وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ ، وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ الْجَزُورَ بَيْنَ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ بَيْنَ سَبْعَةٍ ، وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا ، وَسَعْيًا وَاحِدًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہم لوگ چارذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے بیت اللہ کا طواف دوگانہ طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے بال چھوٹے کر وا لئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حلال ہو جاؤ ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کس طرح فرمایا : جس طرح ایک غیر محرم کے لئے عورت خوشبو حلال ہو جاتی ہے چنانچہ لوگوں نے اپنے عورتوں سے خلوت کی اور انگھٹیاں خوشبو اڑانے لگیں کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرے ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے بات پہلے ہی سے آجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے مجھ سے مناسک حج سیکھ لو پھر لوگوں کو غیر محرم ہو نے کی حالت میں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی تاریخ آئی اور منیٰ کی طرف روانگی کا حکم ہوا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اس سفر میں جس کے پاس ہدی کا جانور موجود تھا اس پر قربانی رہی اور جس کے پاس نہیں تھا اس پر روزے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات آدمیوں کو شریک کرایا اور یاد رہے کہ حج اور عمرے کے لئے انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی مرتبہ کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی ایک مرتبہ ہی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14943
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: طوافا واحدا، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل الربيع بن صبيح، فإنه يعتبر به
حدیث نمبر: 14944
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ نُودِيَ فِينَا : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ " ، قَالَ : فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ ، إِلَّا مَنْ كَانَ سَاقَ الْهَدْيَ ، قَالَ : وَبَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِائَةُ بَدَنَةٍ ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ ، فَقَالَ لَهُ : " بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَعْطَاهُ نَيِّفًا عَلَى الثَّلَاثِينَ مِنَ الْبُدْنِ ، قَالَ : ثُمَّ بَقِيَا عَلَى إِحْرَامِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ ہم حج کرنے جارہے ہیں جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو وہاں اعلان ہو گیا کہ تم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہواسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور جس کے پاس ہدی کا جانور ہواسے اپنے احرام پر باقی رہنا چاہیے چنانچہ لوگ عمرہ کر کے احرام سے فارغ ہو گئے الاّ یہ کہ کسی کے پاس ہدی کا جانور ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حالت احرام میں ہی رہے آپ کے پاس اونٹ سو تھے ادھر سیدنا علی بھی یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا انہوں نے عرض کیا : کہ میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی احرام باندھتاہوں جو آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیس سے زائد اونٹ دیئے اور وہ دونوں حالت احرام میں ہی رہے یہاں تک کہ ہدی کا جانور اپنے ٹھکانہ تک پہنچ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14944
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقطن هذا لم نتبينه، ولعله محرف عن فطر وهو ابن خليفة - فإن كان كذلك فهو تحريف قديم، لكن للحديث طرق أخرى يصح بها، وانظر: 14116 و 14409
حدیث نمبر: 14945
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ مختلف کانوں کی طرح ہیں چنانچہ ان میں سے جو زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ علم دین کی سمجھ بوجھ پیدا کر لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد صرح أبو الزبير بالسماع فيما يأتي برقم: 15112، وله شاهد من حديث أبى هريرة فى الصحيحين ، سلف برقم: 7496
حدیث نمبر: 14946
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ ، وَأَرَاهُمْ مِثْلَ حَصَا الْخَذْفِ ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ ، وَقَالَ : " لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنَاسِكَهَا ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں ٹھیکر ی جیسی کنکر یاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1297
حدیث نمبر: 14947
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْمُصَبِّحِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ کے راستہ میں جس شخص کے پاؤں غبارآلود ہوئے ہوں وہ آگ پر حرام ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14947
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن حرملة المهري، وله شاهد من حديث أبى عبس عند البخاري: 907
حدیث نمبر: 14948
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْزِلِي شَاسِعٌ ، وَأَنَا مَكْفُوفُ الْبَصَرِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ الْأَذَانَ ، قَالَ : " فَإِنْ سَمِعْتَ الْأَذَانَ ، فَأَجِبْ ، وَلَوْ حَبْوًا أَوْ زَحْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میرا گھر دور ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا البتہ اذان کی آواز ضرور سنتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اذان کی آواز سنتے ہو تو اس کی پکار پر لبیک ضرور کہا کر و خواہ تمہیں گھٹنوں کے بل ہی گھس کر ہی آنا پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14948
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عيسي بن جارية ، قال ابن معين: ليس بذاك ، عنده مناكير ، وقال أبوداود: منكر الحديث، وذكره ابن حبان فى الثقات، وقال الحافظ : فيه لين، ويعقوب القمي، قال الحافظ : صدوق يهم، وفي الباب عن أبى هريرة عند مسلم: 653 أتى النبى صلى الله عليه وسلم رجل أعمى
حدیث نمبر: 14949
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا لَيْلَةً ، حَتَّى ذَهَبَ نِصْفُ اللَّيْلِ ، أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " قَدْ صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا ، وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ ، أَمَا إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو تیار کر رہے تھے اس کام میں آدھی رات گزر گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے جتنی دیر تک تم نے نماز کا انتظار کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14950
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ ، فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص روزہ رکھنا چاہے اسے کسی چیز سے سحری کر لینی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وعبدالله بن محمد بن عقيل ضعيف، وكلاهما يعتبر به
حدیث نمبر: 14951
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کر چلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، م: 2099، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فِي صَدْرِهِ ، أَوْ قَالَ : فِي جَوْفِهِ ، فَمَاتَ ، فَأُدْرِجَ فِي ثِيَابِهِ كَمَا هُوَ " ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے سینے یا پیٹ میں کہیں سے آ کر تیر لگا اور وہ فوت ہو گیا اسے اس کے کپڑوں میں اس طرح لپیٹ دیا گیا اس وقت ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر ، وانظر: 14189
حدیث نمبر: 14953
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : أَفَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا ، وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ ، قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي " ، فَقَالُوا : بِهَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ ، قَدْ أَخَذْنَا ، فَاخْرُجُوا عَنَّا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبر کو خیبر کے مال غنیمت کے طور پر عطاء فرما دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہو دیوں کو وہاں ہی رہنے دیا اور اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن رواحہ کو بھیجا انہوں نے وہاں پہنچ کر پھل کاٹا اور اس کا اندازہ لگالیا پھر ان سے فرمایا کہ اے گروہ یہو د تمام مخلوق میں میرے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض تم ہی لوگ ہو تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وں کو شہید کیا اور اللہ پر جھوٹ باندھا لیکن یہ نفرت مجھے تم پر زیادہ نہیں کرنے دے گی میں نے بیس ہزار وسق کھجوریں کاٹیں ہیں اگر تم چاہو تو تم لے لو اور اگر چاہو تو میں لے لیتا ہوں وہ کہنے لگے کہ اسی پر زمین آسمان قائم رہیں گے کہ ہم نے انہیں لے لیا اب آپ لوگ چلے جاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14954
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ ، وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ ، فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ ، الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ ، وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ، ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ ، وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ ، عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا . فَيَقُولُ لِلنَّاسِ : أَنَا رَبُّكُمْ . وَهُوَ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّاةٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ ، كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ ، يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ ، إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَقَامَتْ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا ، وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ ، وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ ، وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهَرٌ يَقُولُ : الْجَنَّةُ ، وَنَهَرٌ يَقُولُ : النَّارُ ، فَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ ، وَمَنْ أُدْخِلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ " ، قَالَ : " وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ ، وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ ، يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ ، وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسُ ، لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ النَّاسِ ، وَيَقُولُ : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ ؟ " ، قَالَ : فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ ، فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ ، فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ ، وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ، ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ ، فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ ؟ ، فَيَقُولُونَ : هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ ، فَيَنْطَلِقُونَ ، فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، فَتُقَامُ الصَّلَاةُ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ ، فَيَقُولُ : لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ ، فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، خَرَجُوا إِلَيْهِ " ، قَالَ : " فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ ، يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ، فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ ، حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ ، وَالْحَجَرَ يُنَادِي : يَا رُوحَ اللَّهِ ، هَذَا يَهُودِيٌّ ، فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کا خروج اس وقت میں ہو گا جب دین میں سستی اور علم میں تنزل آ جائے گا وہ چالیس راتوں میں ساری زمین پھر جائے گا جس کا ایک دن سال کے برابر دوسرا مہینے کے برابر، تیسرا ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے ہی ایام کی طرح ہوں گے اس کے پاس ایک گدھا ہو گا جس پر وہ سواری کر ے گا اور جس کے دونوں کانوں کے درمیان چوڑائی چالیس گز کے برابر ہو گی اور وہ لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہی ہوں حالانکہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان حروف تہجی سے کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مسلمان خواہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ پڑھ لے گا وہ مدینہ اور مکہ جنہیں اللہ نے اس پر حرام قرار دیا ہے کے علاوہ ہر پانی اور گھاٹ پر اترے گا اس کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ ہوں گے اس کے پیروکار کے علاوہ وہ تمام لوگوں اتنہائی پریشان ہوں گے اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی جن کی در حقیقت میں اس سے زیادہ جانتا ہوں ایک نہر کو وہ جنت اور دوسری نہر کو جہنم کہتا ہو گا جسے وہ اپنی جنت میں داخل کر ے گا وہ درحقیقت جہنم ہو گی اور جسے وہ اپنی جہنم میں داخل کر ے گا وہ جنت ہو گی۔ اللہ اس کے ساتھ شیاطین کو بھیج دے گا جو لوگوں سے باتیں کر یں گے اس کے ساتھ ایک عظیم فتنہ ہو گا وہ آسمان کو حکم دے اور لوگوں کو یوں محسوس ہو گا کہ جیسے بارش ہو رہی ہے وہ ایک آدمی کو قتل کر ے گا پھر لوگوں کی آنکھوں کے سامنے اسے دوبارہ زندہ کر ے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ لوگوں یہ کام کوئی ایسا شخص کر سکتا ہے جو پروردگار نہ ہواس وقت حقیقی مسلمان بھاگ جائیں گے اور جا کر شام کے جبل دخان میں پناہ لیں گے دجال ان کا انتہائی سخت محاصرہ کر ے گا اور مسلمان انتہائی پریشان ہوں گے۔ پھر سیدنا عیسیٰ کا نزول ہو گا اور وہ سحری کے وقت لوگوں کو پکار کر کہیں گے لوگو تمہیں اس کذاب خبیث کی طرف نکلنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے لوگ کہیں گے یہ کوئی جن معلوم ہوتا ہے لیکن نکل کر دیکھیں گے تو وہ سیدنا عیسیٰ ہوں گے نماز کھڑی ہو گی اور ان سے کہا جائے گا کہ روح آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں وہ فرمائیں گے تمہارے امام ہی کو آگے بڑھ کر نماز پڑھانی چاہیے نماز فجر کے بعد وہ دجال کی طرف نکلیں گے جب وہ کذاب سیدنا عیسیٰ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے سیدنا عیسیٰ بڑھ کر اسے قتل کر یں گے اور اس وقت وہ شجر اور حجر پکار اٹھیں گے اے روح اللہ یہ یہو دی یہاں چھپا ہوا ہے چنانچہ وہ دجال کے کسی پیروکار کو نہیں چھوڑیں گے اور سب کو قتل کر دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14955
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ ، طَالِعَةٌ نَاتِئَةٌ ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَاخْرُجْ إِلَيْهِ ، فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ، لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا ابْنَ صَائِدٍ ، مَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : فَلُبِسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَقَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " ، ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ، لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ " ، قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا ، فَيَعْلَمُ هُوَ هُوَ أَمْ لَا ، قَالَ : " يَا ابْنَ صَائِدٍ ، مَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ هُوَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ " ، فَلُبِسَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ، ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَأَنَا مَعَهُ ، قَالَ : فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا ، وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا ، فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ ، لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ " ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ صَائِدٍ ، مَا تَرَى ؟ " ، قَالَ : أَرَى حَقًّا ، وَأَرَى بَاطِلًا ، وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " ، فَلُبِسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ابْنَ صَائِدٍ ، إِنَّا قَدْ خَبَّأْنَا لَكَ خَبِيئًا ، فَمَا هُوَ ؟ قَالَ : الدُّخُّ ، الدُّخُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ ، اخْسَأْ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ائْذَنْ لِي ، فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَإِنْ لَا يَكُنْ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ " ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک یہو دی عورت کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کی ایک آنکھ پونچھی تو ہوئی تھی اور دوسری روشن ابھری ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک چادر میں لیٹے ہوئے دیکھا کہ وہ کچھ گنگنارہا ہے لیکن اس کی ماں نے اسے بروقت مطلع کر دیا کہ عبداللہ یہ ابوقاسم آئے ہیں ان کے پاس آؤ چنانچہ وہ اپنی چادر سے نکل کر آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کو کیا ہو گیا ہے اس پر اللہ کی مار ہواگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ اپنی حقیقت ضرور واضح کر دیتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اے ابن صائد تو کیا دیکھتا ہے اس نے کہا میں حق بھی دیکھتاہوں اور باطل بھی اور میں پانی پر ایک تخت دیکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر معاملہ مشتبہ ہو گیا پھر پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے پلٹ کو پوچھا کہ آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں میں اللہ کا رسول ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور یہی حالات پیش آئے پھر تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ مہاجرین انصار کی ایک جماعت کے ساتھ جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر بھی تھے اور میں بھی تھا تشریف لائے اور یہی حالات پیش آئے البتہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اے ابن صائد ہم نے تیرے امتحان کے لئے اپنے ذہن میں ایک چیز چھپائی ہوئی ہے بتاوہ کیا ہے اس نے دخ، دخ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دور ہواس پر سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے میں اسے قتل کر دوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو اس کے اہل نہیں ہواس کے اہل سیدنا عیسیٰ ہیں اور اگر وہ نہیں ہے تو تمہیں کسی ذمی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ یہ اندیشہ رہا کہ کہیں یہ دجال نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، وأخرجه مسلم بأخصر مما هنا: 2926، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حج کے قربانی کا گوشت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بھی مدینہ منورہ لے آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2980، م: 1972
حدیث نمبر: 14957
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْعَزْلَ " ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمْرٍو آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ ؟ ، قَالَ : لَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم عزل کرتے تھے آب حیات کا باہر خارج کر دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5208، م: 1440، والواسطة بين عمرو بن دينار و بين جابر، هو عطاء بن أبى رباح، انظر : 14318
حدیث نمبر: 14958
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ : أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ ، فَدَعَا بِه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی نے اپنا غلام یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر بیچ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2534، م: 997
حدیث نمبر: 14959
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ، فَقَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ خَرَجَ الْإِمَامُ ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے جب کہ امام نکل چکا ہواسے پھر بھی دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 54، 875
حدیث نمبر: 14960
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ ، قَالَ : فَصَلَّى بِهِمْ مَرَّةً الْعِشَاءَ ، فَقَرَأَ : سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فَعَمَدَ رَجُلٌ فَانْصَرَفَ ، فَكَانَ مُعَاذٌ يَنَالُ مِنْهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " فَتَّانٌ ، فَتَّانٌ " ، أَوْ قَالَ : " فَاتِنٌ ، فَاتِنٌ ، فَاتِنٌ " ، وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ ، قَالَ عَمْرٌو : لَا أَحْفَظُهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ابتدا نماز عشاء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں جا کر انہیں وہیں نماز پڑھا دیتے تھے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو مؤخر کر دیا سیدنا معاذ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی اور اپنی قوم میں آ کر سورت بقرہ شروع کر دی ایک آدمی نے یہ دیکھ کر اپنی نماز پڑھی اور چلا گیا بعد میں اسے کسی نے کہا کہ تم منافق ہو گئے ہواس نے کہا کہ میں تو منافق نہیں ہوں پھر اس نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ذکر کر دی کہ معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں پھر واپس آ کر ہماری امامت کرتے ہیں ہم لوگ کھیتی باڑی کرنے والے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے والے ہیں انہوں نے آ کر ہمیں نماز پڑھائی تو سورة بقرہ شروع کر دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو مرتبہ فرمایا : معاذ کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو تم سورت اعلی اور سورت الشمس کیوں نہیں پڑھتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 701، م: 465
حدیث نمبر: 14961
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا ، وَتُلَاعِبُكَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5080، م: 715
حدیث نمبر: 14962
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ قَالَ : " صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ بِلَادِكُمْ " ، قَالَ : فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، قَالَ جَابِرٌ فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوْ الثَّالِثِ ، قَالَ : وَكَانَ اسْمُهُ أَصْحَمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہو گیا ہے آؤ صفیں باندھو چنانچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دوسری یا تیسری صف میں تھا اور اس کا نام اصحمہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1317، م: 952
حدیث نمبر: 14963
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ : " سَمُّوا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي ، فَإِنِّي بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اس نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و کیونکہ میں تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6196، م: 2133
حدیث نمبر: 14964
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ ، فَحَمَلَهُ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ہم نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کیفیت نہیں دیں گے تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں چنانچہ اس نے اپنے بیٹے کو کندھے پر بٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام تو رکھ لو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14965
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ أَبِي كَرِبٍ ، أَوْ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي كَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14966
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ؟ " ، فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ : " ارْكَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : کیا تم نے نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 14967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، فَإِنْ عَجَزَ عَنْهَا ، فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا وَلَا يُكَارِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہئے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے اگر خود نہیں کر سکتا یا اس سے عاجز ہو تو اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پردے دے کرایہ پر نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2340، م: 1536، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل مطر الوراق
حدیث نمبر: 14968
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : " وَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجوریں کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5601، م: 1986، وإسناده حسن فى المتابعات والشواهد كسابقه
حدیث نمبر: 14969
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا ، وَأَحْيَانًا يُعَجِّلُ ، وَكَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدْ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ ، وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ قَالَ : كَانُوا ، أَوْ قَالَ : كَانَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حجاج کرام آئے ہم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا : انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر دوپہر کو پڑھتے تھے عصر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج چمک رہا ہوتا مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا نماز عشاء کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھتے تھے جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلد پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ لوگ اب تک نہیں آئے تو مؤخر کر دیتے اور صبح کی نماز منہ اندھیرے ہی پڑھ لیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 560، م: 646
حدیث نمبر: 14970
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَعْتَقَ أَبُو مَذْكُورٍ غُلَامًا لَهُ ، يُقَالُ لَهُ : يَعْقُوبُ الْقِبْطِيُّ ، عَنْ دُبُرٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ خَتَنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِثَمَانِ مِائَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْفِقْهَا عَلَى نَفْسِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ فَعَلَى أَهْلِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ ، فَعَلَى أَقَارِبِكَ ، فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ ، فَهَهُنَا وَهَهُنَا وَهَهُنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک انصاری آدمی جس کا نام مذکور تھا اپنا غلام جس کا نام یعقوب تھا یہ کہہ کر آزاد کر دیا جس کے علاوہ اس کے پاس کسی قسم کا مال نہ تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت زار کا پتہ چلا تو فرمایا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدے گا ؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیسے اسے دے دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تنگدست ہو تو وہ اپنی ذات سے صدقے کا آغاز کر ے اگر بچ جائے تو اپنے بچوں پر پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر اور پھر دائیں بائیں خرچ کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 997
حدیث نمبر: 14971
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ إِلَى مَنَازِلِنَا وَهِيَ مِيلٌ ، وَأَنَا أُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز مغرب پڑھ کر ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو ہمیں تیر گرنے کی جگہ بھی دکھائی دے رہی ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14972
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ ، فَبَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبْدَ بِثَمَانِ مِائَةٍ ، وَدَفَعَهُ إِلَى مَوَالِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ ان کے کسی صحابی نے اپنے مدبر غلام کو آزاد کر دیا ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی بھی مال نہ تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے بدلے بیچ دیا اور اسے اس کے آقا کے حوالے کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7186، م: 997
حدیث نمبر: 14973
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : وَاللَّهِ لَا نُكَنِّيكَ بِهِ أَبَدًا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَثْنَى عَلَى الْأَنْصَارِ خَيْرًا ، ثُمَّ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام قاسم رکھنا چاہا تو انصار نے کہا کہ واللہ ہم تو تمہیں اس نام کی کنیت سے نہیں پکاریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بات پتہ چلی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنانام رکھ لیا لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 14974
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ يَحْمِلُهُ مَكْشُوفًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا كُنْتَ خَمَّرْتَهُ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوحمید صبح سویرے ایک برتن میں دودھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے اگرچہ لکڑی سے ہی ڈھک کر لے آتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5605، م: 2011
حدیث نمبر: 14975
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ شُعْبَة أَخْبَرَنَا ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ : إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ ، فَقَالَ جَابِرٌ : إِنَّ شَعْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرماتے تھے انہوں نے جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اپنے سر سے پانی بہاتے تھے بنوہاشم کے ایک صاحب کہنے لگے کہ میرے توبال بہت لمبے ہیں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أخرجه البخاري بنحوه: 252
حدیث نمبر: 14976
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُجْزِئُ مِنَ الْوَضُوءِ الْمُدُّ مِنَ الْمَاءِ ، وَمِنَ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا يَكْفِينِي ، فَقَالَ جَابِرٌ : قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ، وَأَكْثَرُ شَعْرًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وضو کے لئے ایک مد پانی اور غسل ت کے لئے ایک صاع پانی کافی ہو جاتا ہے ایک آدمی نے کہا کہ مجھے تو کافی نہیں ہوتا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اتنی مقدار تو اس ذات کو کفایت کر جاتی تھی جو تجھ سے بہتر تھی اور ان کے بال بھی مجھ سے زیادہ تھے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم الواسطي، ولضعف يزيد بن أبى زياد، لكنهما قد توبعا
حدیث نمبر: 14977
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ شُحُومُهَا ، فَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہو دیوں پر اللہ کی لعنت ہواللہ نے جب ان پر چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2236، م: 1581 ، أبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14472
حدیث نمبر: 14978
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا ، قَالَ : فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن مدینہ منورہ میں ایک قافلہ آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے سب لوگ قافلے کے پیچھے نکل گئے اور صرف بارہ آدمی مسجد میں بیٹھے رہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی، واذاراو تجارۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2058، م: 863
حدیث نمبر: 14979
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ ، أَوْ الشِّرْكِ تَرْكُ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بندے اور کفر و شرک کے درمیان حد فاصل نماز کو چھوڑنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 82
حدیث نمبر: 14980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ ، غَيْرَ مَغْمُودٍ ، فَقَالَ : " أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا ؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ السَّيْفَ ، فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ " ۔
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھی تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسي الأشدق لم يسمع من جابر، لكن تابعه أبو الزبير كما فى الحديث الآتي بعدہ
حدیث نمبر: 14981
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14982
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ ؟ ، قَالَ : حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَبَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَمَرِضَ ، فَجَزِعَ ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ ، فَرَآهُ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ ؟ ، قَالَ : غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَمَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ ؟ ، قَالَ : قَالَ لِي : لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ ، قَالَ : فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ کو کسی مضبوط قلعے اور پناہ کی ضرورت ہے زمانہ جاہلیت میں قبیلہ دوس کا ایک قلعہ تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا کہ یہ فضیلت اللہ نے انصار کے لئے چھوڑ رکھی ہے چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کر کے آ گئے ان کے ساتھ ان کا ایک اور آدمی بھی ہجرت کر کے آگیا وہاں ان کو مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی اور وہ شخص بیمار ہو گیا اور گھبراہٹ کے عالم میں قینچی پکڑ کر اپنی انگلیاں کاٹ لیں جس اسے اس کے ہاتھ خون سے بھر گئے اور اتناخون بہا کہ وہ مرگیا۔ خواب میں اسے عمرو بن طفیل نے دیکھا وہ بڑی اچھی حالت میں دکھائی دیا البتہ اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے طفیل نے اس سے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہجرت کی برکت سے اللہ نے مجھے معاف کر دیا انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے تمہارے ہاتھ ڈھکے ہوئے نظر آرہے ہیں اس نے جواب دیا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم نے جس چیز کو خود خراب کیا ہے ہم اسے صحیح نہیں کر سکتے اگلے دن طفیل نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کا گناہ معاف فرمادے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 116