حدیث نمبر: 14903
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَابِرٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، قَالَ : وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي ، فَقَالَ : " مَا شَأْنُكَ يَا جَابِرُ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَعِيرِي قَدْ رَزَمَ ، قَالَ : فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ عَجُزِهِ ، وَقَالَ عَفَّانُ : وَعَجُزُهُ سَوَاءٌ ، فَدَعَا وَزَجَرَهُ ، قَالَ : فَلَمْ يَزَلْ يَقْدُمُ الْإِبِلَ ، قَالَ : فَأَتَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا فَعَلَ الْبَعِيرُ ؟ " ، قُلْتُ : مَا زَالَ يَقْدُمُهَا ، قَالَ : " بِكَمْ أَخَذْتَهُ ؟ " ، فَقُلْتُ : بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِينَارًا ، قَالَ : " فَبِعْنِي بِالثَّمَنِ ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، خَطَمْتُهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْطَانِي الثَّمَنَ ، وَأَعْطَانِي الْبَعِيرَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا اور اس نے انہیں تھکا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو پوچھا : جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا تمہیں انہوں نے ساراماجرا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر اونٹ کے پاس آ گئے اور اس اونٹ کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور اونٹ اچھل کر کھڑا ہو گیا پھر وہ سب سے آگے ہی رہا بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کہ اونٹ کا کیا بنا انہوں نے عرض کیا : کہ سب سے آگے رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ کتنے کا لیا تھا میں نے عرض کیا : تیرہ دینار کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اتنی قیمت کے عوض یہ مجھے بیچ دو تمہیں مدینہ تک سوار ہو نے کی اجازت ہے میں نے کہا بہت اچھا مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے اس کے منہ میں لگام ڈالی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیمت بھی دیدی اور اونٹ بھی دے دیا۔
حدیث نمبر: 14904
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکر مہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔
حدیث نمبر: 14905
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مِنْ رَمْيَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ دیا۔
حدیث نمبر: 14906
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " أَصَلَّيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ ؟ " ، فَقَالَ : لَا ، قَالَ : " فَصَلِّهِمَا " ، قَالَ : وَكَانَ جَابِرٌ ، يَقُولُ : إِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ ، يُعْجِبُهُ إِذَا دَخَلَ أَنْ يُصَلِّيَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک آدمی آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے دو رکعتیں پڑھ لی ہیں اس نے کہا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر دو رکعتیں پڑھ لو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھ لی ہوں تب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی کہ مسجد میں آنے کے بعد بھی یہ دو رکعتیں پڑھ جائیں۔
حدیث نمبر: 14907
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، قَالَ : فَجَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ ، قَالَ : فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَسَكَتَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ لَمَّا فَرَغَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " ، قَالَ : فَصَلَّى حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیجا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حدیث نمبر: 14908
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آنے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔
حدیث نمبر: 14909
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَقَقْتُ الْبَابَ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : " أَنَا ، أَنَا ! " كَأَنَّهُ كَرِهَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر میں نے اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کون ہے میں نے کہا میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں میں لگا رکھی ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 14910
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی اصمحہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چارتکبریں کہیں۔
حدیث نمبر: 14911
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مَطَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ أَحْسَبُهُ الْحَسَنَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اس شخص کو معاف نہیں کر وں گا جو دیت لینے کے بعد بھی قاتل کو قتل کر دے۔
حدیث نمبر: 14912
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا دَعْوَةً مِنَ الْمَصْرِ ، أَوْ رَمْيَةً مِنَ الْمَصْرِ ، فَهِيَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کر ے وہ اس کی ہو گئی۔
حدیث نمبر: 14913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الحَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدِ ، وَيُخْرِجُ أَهْلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں خود بھی نکلتے تھے اور اپنے اہل خانہ کو بھی لے جاتے تھے۔ (عیدگاہ میں )
حدیث نمبر: 14914
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ گائے کی قربانی دیدیتے تھے۔
حدیث نمبر: 14915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : " إِنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا أَتَى الْمَدِينَةَ ، أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ ، فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا مدینہ منورہ واپس پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ کر آؤ۔
حدیث نمبر: 14916
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَتَيْنِ الْحَجَّ ، وَالنِّسَاءَ " ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : مُتْعَةَ الْحَجِّ ، وَمُتْعَةَ النِّسَاءِ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ ، نَهَانَا عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ، سیدنا عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔
حدیث نمبر: 14917
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَطَاءً ، وَأَنَا شَاهِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَكَ جَابِرٌ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا ، وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا " ؟ ، قَالَ عَطَاءٌ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14918
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، وَأَنَا شَاهِدٌ : وَقَالَ لَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، وَأَنَا شَاهِدٌ : حَدَّثَكَ جَابِرٌ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ، وَلَا يُكْرِيهَا " ؟ ، قَالَ : عَطَاءٌ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دیدے کرایہ پر نہ دے۔
حدیث نمبر: 14919
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَوْمَ الْفَتْحِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ مَكَّةَ أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : " صَلِّ هَاهُنَا " ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " صَلِّ هَاهُنَا " ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " شَأْنَكَ إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فتح مکہ کے دن عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کے ہاتھوں مکہ مکر مہ کو فتح کر وادیا تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہیں نماز پڑھ لو اس نے پھر سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری مرضی۔
حدیث نمبر: 14920
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزُ قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ بَهْزُ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ : قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ: إِنَّ هَذَا - يَعْنِي الزُّهْرِيَّ - لَا يَدَعُنَا نَأْكُلُ شَيْئًا إِلَّا أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْهُ - يَعْنِي مَا مَسَّتْهُ النَّارُ - قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : سَأَلْتُ عَنْهُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: إِذَا أَكَلْتَهُ، فَهُوَ طَيِّبٌ، لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ وُضُوءٌ ، فَإِذَا خَرَجَ فَهُوَ خَبِيثُ، عَلَيْكَ فِيهِ الْوُضُوءُ . قَالَ : فَهَلْ بِالْبَلَدِ أَحَدٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ، أَقْدَمُ رَجُلٍ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ عِلْمًا . قَالَ : مَنْ؟ قُلْتُ : عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ - قَالَ بَهْرٌ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَجِيءَ بِهِ - قَالَ : فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَقَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ : أَنَّهُمْ أَكَلُوا مَعَ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ خُبْزًا وَلَحْمًا ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأُ . قَالَ : قَالَ لِعَطَاءِ : مَا تَقُولُ - يَعْنِي - فِي الْعُمْرَى ؟ قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ»
مولانا ظفر اقبال
قتادہ کہتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ہشام نے کہا ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں امام زہری ہمیں حکم دیتے ہیں کہ نیا وضو کر یں میں نے ان سے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے یہ مسئلہ پوچھا کہ انہوں نے فرمایا کہ تم جو حلال چیز کھاؤ اسے کھانے کے بعد تم پر وضو نہیں ہے اور جب تمہارے جسم سے کوئی چیز نکلے تو وہ گندگی ہے اور اس میں تم وضو کر و انہوں نے پوچھا کہ شہر میں کسی اور کی بھی رائے ہے یہ والی۔ میں نے کہا جزیرہ عرب میں سے قدیم عالم کی۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں میں نے بتایا عطابن ابی رباح چنانچہ انہوں نے عطاء کے پاس پیغام بھجوایا انہوں نے فرمایا کہ مجھے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ گوشت اور روٹی کھائی پھر انہوں نے یوں ہی نماز پڑھا دی اور تازہ وضو نہیں کیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14921
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُعَاوَمَةِ ، وَقَالَ أَحَدُهُمَا : وَبَيْعِ السِّنِينَ ، وَعَنْ بَيْعِ الثُّنْيَا ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، بٹائی، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کے حوالے کر دے۔
حدیث نمبر: 14922
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ ، طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ ، وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب نہ کر یں گے اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا۔
حدیث نمبر: 14923
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ " ، قَالَ : فَخَرَجْنَا إِلَى الْبَطْحَاءِ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ عَهْدِي بِأَهْلِي الْيَوْمَ ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مِنْهُ ، لَأَحْلَلْتُ " ، وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ سَاقَ الْهَدْيَ ، فَأَحْرَمْنَا حِينَ تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں۔ اس پر بطحاء کی طرف ہم نکلے اور ایک آدمی کہنے لگا کہ آج میں اپنی بیوی کے پاس جاؤں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا تو میں بھی حلال ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 14924
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سترہ اونٹ ذبح کئے ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔
حدیث نمبر: 14925
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَبَ ، وَسَأَلَ أَهْلَهُ الْأُدْمَ ، قَالُوا : مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ ، قَالَ : فَدَعَا بِهِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بِهِ ، وَيَقُولُ : " نِعْمَ الْأُدْمُ الْخَلُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن لانے کو کہا انہوں نے کہا ہمارے پاس تو سرکہ ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوا کر کھایا اور ارشاد فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔
حدیث نمبر: 14926
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ ، حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کی عادت یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 14927
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَتُودًا جَذَعًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " ، وَنَهَى أَنْ يَذْبَحُوا حَتَّى يُصَلُّوا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے قبل اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید ادا کر یں اپناچھ ماہ کا بکری کا بچہ ذبح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف سے یہ کفایت نہیں کر ے گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے قبل جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14928
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ ، تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرَطَهُ ، ثُمَّ قَالَ : لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي ؟ ، قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ ، قَالَ : " اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ " ، قَالَ : فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ، وَتَأَخَّرُوا ، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔
حدیث نمبر: 14929
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِرَّةً ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ ، فَقَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ ، قَالَ : " اللَّهُ " ، فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ " ، قَالَ : كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ ، وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ ، قَالَ : فَذَهَبَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، قَالَ : قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ ، فَلَمَّا كَانَ الظُّهْرُ ، أَوْ الْعَصْرُ ، صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ ، وَطَائِفَةً صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، فَكَانَ لِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ذات الرقاع میں پہنچ کر ہم نے ایک سایہ دار درخت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا ایک مشرک آیا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار لے کر اسے سونت لیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھ سے ڈرتے ہیں میں نے کہا نہیں اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا یہ سن کر اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا پھر صحابہ نے اسے ڈرایا اور حضور نے تلوار کو نیام میں ڈال لیا اور پھر نماز کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور لوگوں کی دو رکعتیں ہوئیں۔
حدیث نمبر: 14930
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْعَالِيَةَ ، فَمَرَّ بِالسُّوقِ ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَتَنَاوَلَهُ فَرَفَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّ هَذَا لَكُمْ ؟ " ، قَالُوا : مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ ؟ ! ، قَالَ : " بِكَمْ تُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ ؟ ! " ، قَالُوا : وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا ، لَكَانَ عَيْبًا فِيهِ أَنَّهُ أَسَكُّ ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ ! ، قَالَ : " فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ کسی بازار سے گزر رہے تھے وہاں ایک بہت چھوٹے کانوں والی مردار بکری پڑی ہوئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ کر اٹھایا اور لوگوں سے فرمایا : تم اسے کتنے میں خریدنا چاہتے ہو لوگوں نے کہا ہم تو اسے کسی چیز کے عوض نہیں خریدنا چاہتے ہم نے اس کا کیا کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنی بات دہرائی لوگوں نے کہا کہ اگر یہ زندہ ہو تی تو تب بھی اس میں چھوٹے کانوں والی ہو نا ایک عیب ہے اب جبکہ مرادار بھی تو ہم اسے کیسے خرید سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بخدا یہ بکری تمہاری نگاہوں میں جتنی حقیر ہے اس سے زیادہ اللہ کی نگاہوں میں دنیا حقیر ہے۔
حدیث نمبر: 14931
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نَقُولُ : لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا۔
حدیث نمبر: 14932
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ بِالْخُمُسِ ؟ ، قَالَ " كَانَ يَحْمِلُ الرَّجُلَ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ الرَّجُلَ ، ثُمَّ الرَّجُلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ خمس کا کیا کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : کسی مجاہد کو سواری مہیا کر دیتے تھے پھر کسی دوسرے کو اللہ کے راستہ میں سواری دیتے تھے پھر کسی تیسرے کو۔
حدیث نمبر: 14933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، وَعَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سمعا سالما ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ : أَصَابَنَا عَطَشٌ ، فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَوَضَعَ يَدَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ مَاءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَثُورُ مِنْ خِلَالِ أَصَابِعِهِ ، كَأَنَّهَا عُيُونٌ " ، وَقَالَ عَمْرٌو وحُصَيْنٌ : كِلَاهُمَا قَالَ : " خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ " ، حَتَّى وَسِعَنَا وَكَفَانَا ، وَقَالَ لِجَابِرٍ : كَمْ كُنْتُمْ ؟ ، قَالَ : كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ ، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے مقام پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا : بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگا ہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے فرمایا : پندرہ سو اور اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو تب بھی وہ پانی ہمارے لئے کافی ہوتا۔
حدیث نمبر: 14934
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ يَعْنِي ابْنَ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وأبى الزبير ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ ، وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ ، فَبَاعُوهُ بِثَمَانِ مِائَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا اس نے ایک مدبر غلام چھوڑا اور مقروض ہو کر مرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے غلام کو اس کے قرض کے عوض بیچ دو چنانچہ لوگوں نے اسے آٹھ سو درہم کے عوض فروخت کر دیا۔
حدیث نمبر: 14935
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ ، وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ ، فَلَا يَبْلُغُ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ مَعِي لِكَيْلَا يُفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ ، فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ، ثُمَّ دَعَا ، وَجَلَسَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ ؟ " ، فَأَوْفَاهُمْ الَّذِي لَهُمْ ، وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام شہید ہوئے تو ان پر کچھ قرض تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : کہ میرے والد فوت ہو گئے ہیں ان پر کچھ قرض تھا اور ہمارے پاس تو صرف وہی ہے جو ہمارے درخت کی پیدوار ہے لیکن وہ تو ان کے قرض کے چھٹے حصے کو بھی نہیں پہنچتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ تشریف لے گئے تاکہ قرض خواہ مجھ سے بدتمیزی نہ کر ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ڈھیر کے گرد چکر لگایا وہیں تشریف لے گئے اور دعا کر کے فرمایا کہ قرض خواہوں کو بلاؤ حتی کہ سب کا قرض پورا کر دیا اور میری کھجوریں اسی طرح رہ گئیں جتنی پہلے تھیں۔
حدیث نمبر: 14936
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ ؟ " ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ " ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا ، قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو دشمن کی خبر لانے کے لئے تین مرتبہ ترغیب دی اور تینوں مرتبہ سیدنا زبیر نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حدیث نمبر: 14937
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِلْنِي ، فَأَبَى ، ثُمَّ جَاءَ مِنَ الْغَدِ مَحْمُومًا ، فَقَالَ : أَقِلْنِي ، فَأَبَى ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : " الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ ، تَنْفِي خَبَثَهَا ، وَتَنْصَعُ طَيِّبَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے دست مبارک پر بیعت کر لی کچھ عرصے میں اسے بہت تیز بخار تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت فسخ کر دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا چوتھی مرتبہ وہ نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا تو صحابہ نے بتایا کہ وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو میل کچیل کو دور کر دیتا ہے اور عمدہ چیز کو چمکدار اور صاف ستھرا کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 14938
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ لُقْمَةٌ ، فَلْيُمِطْ مَا أَصَابَهَا مِنَ الْأَذَى ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پوچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کسی حصے میں برکت ہے۔
حدیث نمبر: 14939
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ۔
حدیث نمبر: 14940
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " ، حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب نمازی دوبارہ اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے درپے ہے۔
حدیث نمبر: 14941
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جس حال میں فوت ہو گا اللہ اسے اسی حال میں اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 14942
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا ، لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ ، حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا سَرِفَ حَاضَتْ عَائِشَةُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا لَكِ تَبْكِينَ ؟ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَنِي الْأَذَى ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ ، يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ " ، قَالَ : وَقَدِمْنَا الْكَعْبَةَ فِي أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَيَّامًا أَوْ لَيَالِيَ ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا ، فَأَحْلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ ، قَالَ : فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا ، فَقُلْنَا : خَرَجْنَا حُجَّاجًا ، لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ ، وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ أَوْ لَيَالٍ ، خَرَجْنَا إِلَى عَرَفَاتٍ ، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنَ النِّسَاءِ ! قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ ، وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ ، وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ " ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَبِّرْنَا خَبَرَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ ، أَلِعَامِنَا هَذَا ، أَمْ لِلْأَبَدِ ؟ ، قَالَ : " لَا ، بَلْ لِلْأَبَدِ " ، قَالَ : فَأَتَيْنَا عَرَفَاتٍ وَانْصَرَفْنَا مِنْهَا ، ثُمَّ إِنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي ، قَدْ اعْتَمَرُوا ! ، قَالَ : " إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لَهُمْ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي ، فَوَقَفَ بِأَعْلَى وَادِي مَكَّةَ ، وَأَمَرَ أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْدَفَهَا حَتَّى بَلَغَتِ التَّنْعِيمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا مقام سرف میں پہنچے تو سیدنا عائشہ کو ایام آ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے۔ ہم لوگ چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مکمل حلال ہو گئے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! یہ حکم اس سال کے لئے خاص ہے یا ہمیشہ کے لئے فرمایا : ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے پھر ہم عرفات پہنچے وہاں سے واپسی ہوئی تو سیدنا عائشہ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ! آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چنانچہ سیدنا عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا اور تنعیم سے عمرہ کر کے واپس آگئیں۔
…