حدیث نمبر: 14863
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا ، لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ ، وَلَا عَشِيرَةٌ ، فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ ، أَوْ الثَّلَاثَةَ " ، فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ ، قَالَ : فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ ، وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ مِنْ جَمَلِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوے کا ارادہ کیا تو فرمایا : اے گروہ مہاجرین و انصار تمہارے بھائی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس کوئی مال و دولت اور قبیلہ نہیں ہے اس لئے تمہیں اپنے ساتھ دو تین آدمیوں کو ملا لینا چاہیے چنانچہ اس موقع پر ہمیں اپنے اونٹ کی پیٹھ پر صرف اتنی دیر ملتی جتنی دیر اس کی باری رہتی میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین آدمی ملا لئے اور میرا بھی اپنے اونٹ میں باری کا وہی حق تھا جو ان میں سے کسی کا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14864
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ العَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً ، فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " مَا لَكَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَقَدْتُ جَمَلِي ، أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " هَذَا جَمَلُكَ ، اذْهَبْ فَخُذْهُ " ، قَالَ : فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا وَجَدْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ " ، قَالَ : فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي ، فَلَمْ أَجِدْهُ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " عَلَى رِسْلِكَ " ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ ، أَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ ، قَالَ : " هَذَا جَمَلُكَ " ، قَالَ : وَقَدْ سَارَ النَّاسُ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي ، قَالَ : وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا لَهْفَ أُمِّي ، أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ ! قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ ، قَالَ : فَسَمِعَ مَا قُلْتُ ، قَالَ : فَلَحِقَ بِي ، فَقَالَ : " مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ ؟ " ، قَالَ : فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، يَا لَهْفَاهُ ، أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ ! قَالَ : فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ ، أَوْ بِسَوْطِي ، قَالَ : فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ ، أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ ، وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ . قَالَ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكَمْ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : بِوُقِيَّةٍ ، قَالَ : قَالَ لِي : " بَخٍ بَخٍ ، كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ ! " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَخَذْتُهُ بِوُقِيَّةٍ " ، قَالَ : فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : جَمَلُكَ ، قَالَ : قَالَ لِي : " ارْكَبْ جَمَلَكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا هُوَ بِجَمَلِي ، وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ ، قَالَ : كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ ، فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ ، لَمْ نُرَاجِعْهُ ، قَالَ : فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ ، حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : وَقُلْتُ لَهَا : أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ ؟ ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ ، قَالَ : وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ ، أَوْجَرْتُهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ ، فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ ، قَالَ : قُلْتُ : دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جَمَلَكَ ، قَالَ : فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ ، ثُمَّ نَادَى بِلَالًا ، فَقَالَ : " زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ " ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ ، فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنَ الْوَزْنِ ، قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ ، قَالَ : فَنَادَى " أَيْنَ جَابِرٌ ؟ " ، قَالُوا : ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ : " أَدْرِكْ ، ائْتِنِي بِهِ " ، قَالَ : فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى ، قَالَ : يَا جَابِرُ ، يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " فَخُذْ جَمَلَكَ " ، قُلْتُ : مَا هُوَ جَمَلِي ، وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ " ، قُلْتُ : مَا هُوَ جَمَلِي ، إِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ " , قَالَ : فَأَخَذْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ " ، قَالَ : فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي بِالنَّاضِحِ مَعِي ، وَبِالْوَقِيَّةِ ، قَالَ : فَقُلْتُ لَهَا : مَا تَرَيْنَ ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً ، وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہو گیا میں اسے تلاش کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اس وقت وہ سیدنا عائشہ کے لئے سواری تیار کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : جابر رضی اللہ عنہ کیا ہوا میں نے عرض کیا : اس اندھیری رات میں میرا اونٹ گم ہو گیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا اونٹ یہ رہا جاؤ اسے لے جاؤ میں اس طرف چلا گیا جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تھا لیکن مجھے وہاں وہ نہ ملا میں نے واپس آ کر عرض کیا : کہ مجھے تو اونٹ نہیں ملا دوسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ٹھہرنے کے لئے فرمایا : اور فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے یہاں تک کہ ہم اونٹ کے پاس گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے حوالے کر کے فرمایا : یہ رہا تمہارا اونٹ۔ لوگ چل رہے تھے میں بھی اپنی باری پر اپنے اونٹ پر سوار ہو چل رہا تھا میرا اونٹ سست رفتار تھا میری زبان سے نکل گیا افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو ایسا سست نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتفاقا مجھ سے کچھ ہی پیچھے تھے انہوں نے بات سن لی وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جابر رضی اللہ عنہ کیا کہہ رہے ہواس وقت تک میں اپنی بات بھول چکا تھا اس لئے کہہ دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کہا تھوڑی دیر بعد مجھے یاد آیا تو عرض کیا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ کہا تھا کہ افسوس مجھے اونٹ بھی ملا تو وہ بھی سست اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑے سے اونٹ کی دم پر ضرب لگائی وہ اسی وقت ایسا تیز رفتار ہو گیا کہ اس سے پہلے میں اس سے زیادہ کسی تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں سے نکلاجا رہا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اونٹ میرے ہاتھوں بیچتے ہو میں نے اثبات میں سرہلایا تو آپ نے قیمت پوچھی میں نے ایک اوقیہ چاندی بتائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واہ واہ ایک اوقیہ میں تو اتنے اتنے اونٹ آجاتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمارے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اونٹ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے خرید لیا اس پر میں اپنی سواری سے زمین پر اتر گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا ہوا میں نے عرض کیا : کہ اونٹ تو آپ کا ہو چکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے اونٹ پر سوار ہو جا میں نے عرض کیا : کہ اب یہ میرا اونٹ نہیں ہے آپ کا اونٹ ہے ہم نے دو مرتبہ اسی طرح تکرار کیا تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حکم دیا تو میں نے تکرار نہیں کیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں مدینہ منورہ میں اپنی پھوپھی کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ دیکھیں تو سہی میں نے اپنا اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اوقیہ میں فروخت کر دیا ہے انہوں نے کہا میں نے اس سے زیادہ تعجب خیز بات کبھی نہیں دیکھی کیونکہ ہمارا اونٹ بہت تھکا ہوا تھا۔ پھر میں نے رسی لے کر اس کے منہ میں لگام ڈالی اور لے کر کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے کسی سے باتیں کر رہے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ اپنا اونٹ لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی لگام پکڑ کر سیدنا بلال کو آوازی دی اور فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو وزن کر کے ایک اوقیہ چاندی دیدو اور پورا تولنا چنانچہ میں سیدنا بلال کے ساتھ چلا گیا اور انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول کر دی میں واپس آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہوئے باتیں کر رہے تھے میں نے عرض کیا : کہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ چاندی پوری پوری تول دی ہے یہ کہہ کر میں بےخودی کے عالم میں اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر کہا اے جابر رضی اللہ عنہ کہاں گیا ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھرچلا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اسے بلا کر لاؤ چنانچہ قاصد میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا جابر رضی اللہ عنہ تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ اپنا اونٹ تو لے لو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ میرا اونٹ نہیں ہے وہ تو آپ کا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا اونٹ لے لو۔ چنانچہ میں نے اسے لے لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری زندگی کی قسم ہم نے تمہیں فائدہ اس لئے نہیں پہنچایا تھا کہ تمہیں سواری سے اتاریں چنانچہ میں وہ اونٹ اور ایک اوقیہ چاندی لے کر اپنی پھوپھی کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14865
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، فِيمَا يَذْكُرُ مِنِ اجْتِهَادِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِبَادَةِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهَ : قَالَ أَبِي : وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ مِنْ نَجْدٍ ، فَأَصَابَ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى نَجْدٍ ، فَغَشِينَا دَارًا مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ ، قَالَ : فَأَصَبْنَا امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنْهُمْ ، قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا ، وَجَاءَ صَاحِبُهَا وَكَانَ غَائِبًا ، فَذُكِرَ لَهُ مُصَابُهَا ، فَحَلَفَ لَا يَرْجِعُ ، حَتَّى يُهْرِيقَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمًا ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، نَزَلَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ ، وَقَالَ : " مَنْ رَجُلَانِ يَكْلَآَنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ مِنْ عَدُوِّنَا ؟ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَحْنُ نَكْلَؤُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَخَرَجَا إِلَى فَمِ الشِّعْبِ دُونَ الْعَسْكَرِ ، ثُمَّ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ : أَتَكْفِينِي أَوَّلَ اللَّيْلِ ، وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ ، أَمْ تَكْفِينِي آخِرَهُ ، وَأَكْفِيكَ أَوَّلَهُ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ : بَلْ اكْفِنِي أَوَّلَهُ ، وَأَكْفِيكَ آخِرَهُ ، فَنَامَ الْمُهَاجِرِيُّ ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي ، قَالَ : فَافْتَتَحَ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، فَبَيْنَا هُوَ فِيهَا يَقْرَأُ إِذْ جَاءَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَ قَائِمًا ، عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ ، فَيَنْتَزِعُ لَهُ بِسَهْمٍ ، فَيَضَعُهُ فِيهِ ، قَالَ : فَيَنْزِعُهُ ، فَيَضَعُهُ وَهُوَ قَائِمٌ يَقْرَأُ فِي السُّورَةِ الَّتِي هُوَ فِيهَا ، وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ بِسَهْمٍ آخَرَ ، فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ ، فَوَضَعَهُ ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، وَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَقْطَعَهَا ، قَالَ : ثُمَّ عَادَ لَهُ زَوْجُ الْمَرْأَةِ الثَّالِثَةَ بِسَهْمٍ ، فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ ، فَوَضَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ : اقْعُدْ ، فَقَدْ أُوتِيتُ ، قَالَ : فَجَلَسَ الْمُهَاجِرِيُّ ، فَلَمَّا رَآهُمَا صَاحِبُ الْمَرْأَةِ هَرَبَ ، وَعَرَفَ أَنَّهُ قَدْ نُذِرَ بِهِ ، قَالَ : وَإِذَا الْأَنْصَارِيُّ يَمُوجُ دَمًا مِنْ رَمْيَاتِ صَاحِبِ الْمَرْأَةِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَخُوهُ الْمُهَاجِرِيُّ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ ، أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَاكَ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : كُنْتُ فِي سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ قَدْ افْتَتَحْتُهَا أُصَلِّي بِهَا ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَهَا ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ہم کر یں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایسا کر و کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کر و کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کر وں۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آپہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیر مارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کئے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہو نے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہو تی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عقيل بن جابر فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 14866
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِذَلِكَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لأجل محمد بن إسحاق، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 14867
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَمْرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ بِعَشَرَةِ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دس وسق کھجور کاٹنے والے کے ذمے ہے کہ ایک خوشہ مسجد میں لا کر غربا کے لئے لٹکائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، محمد بن إسحاق قد صرح بالتحديث فى الحديث السابق، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14868
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَذِنَ لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يَبِيعُوهَا بِخَرْصِهَا ، يَقُولُ : " الْوَسْقَ وَالْوَسْقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرایا والوں کو اندازے سے بیچنے کی اجازت دی تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک وسق ہو یا دو تین اور چار سب کا یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن لأجل محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 14869
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ ، فَقَدِرَ أَنْ يَرَى مِنْهَا بَعْضَ مَا يَدْعُوهُ إِلَيْهَا ، فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بناء پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسا کر لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وسلف الكلام على إسناده برقم: 14586
حدیث نمبر: 14870
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا فَوْرَةَ الْعِشَاءِ " ، كَأَنَّهُ لِمَا يُخَافُ مِنَ الِاحْتِضَارِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نماز عشاء کے وقت سے احتیاط کیا کر و غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آنے والے جنایات اور بلاؤں سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الذى روى عنه إبراهيم بن سعد، ولجهالة أبيه يعقوب، وانظر: 14343
حدیث نمبر: 14871
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، وَقَدْ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْمَرُهَا ، قَدْ بَتَّهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي أَعْمَرَهَا ، مَا وَقَعَ مِنْ مَوَارِيثِ اللَّهِ وَحَقِّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جس شخص کو عمربھر کے لئے کوئی چیز دے دی گئی ہو وہ اس کی اور اس کی اولاد کی ہو گی اور جس نے دی وہ اس کی اس بات کی وجہ سے جداہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1620
حدیث نمبر: 14872
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " نَهَانَا عَنْ أَنْ نَسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةَ ، أَوْ نَسْتَقْبِلَهَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَهْرَقْنَا الْمَاءَ " ، قَالَ : ثُمَّ رَأَيْتُهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ ، يَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا : تھا کہ جب ہم پانی بہانے کے لئے جائیں تو خانہ کعبہ کی جانب شرمگاہ کا رخ یا پشت کر یں لیکن اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے وصال سے ایک سال قبل میں نے خود قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 14873
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَّ الزُّرَقِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ ، وَسُوِّيَ عَلَيْهِ ، سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَكَبَّرْنَا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ سَبَّحْتَ ، ثُمَّ كَبَّرْتَ ؟ ، قَالَ : " لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ ، حَتَّى فَرَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا سعد بن معاذ فوت ہو گئے تو ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز جنازہ سے فارغ ہوئے انہیں قبر میں رکھ کر اینٹیں برابر کر دی گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر تک تسبیح کی ہم بھی تسبیح کرتے رہے پھر تکبیر کہی ہم بھی تکبیر کہتے رہے کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ تسبیح اور تکبیر کیوں کہی فرمایا کہ اس بندہ صالح پر قبر تنگ ہو گئی تھی بعد میں اللہ نے کشادہ کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وانظر: 15029
حدیث نمبر: 14874
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جوتی کثرت سے پہنا کر و کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنا رہے گا گویا وہ سواری پر سوار رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2096، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14875
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ ، كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ ، وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو طاعون کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون سے بھاگنے والا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہوتا ہے اور اس میں صبر کرنے والے شخص کو شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي
حدیث نمبر: 14876
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَبَيْعِ الثَّمَرِ ، حَتَّى يُطْعَمَ إِلَّا الْعَرَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ ' مزابنہ ' بٹائی کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت منع فرمایا ہے البتہ اس بات کی اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اپنے باغ کو عاریۃ کسی غریب کو حوالے کر دے۔ فائدہ : ان فقہی اصطلاحات کے لئے کتب فقہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2381، م: 1536
حدیث نمبر: 14877
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پانی ڈال دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، خ- الشطر الأول-: 6021، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنكدر بن محمد بن المنكدر
حدیث نمبر: 14878
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " طَائِرُ كُلِّ إِنْسَانٍ فِي عُنُقِهِ " ، قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : يَعْنِي الطِّيَرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر بندہ کا پرندہ (نامہ اعمال) اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14879
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أَحَدٌ يَدْعُو بِدُعَاءٍ ، إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ ، مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ بِقَطِيعَةِ رَحِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انسان جو دعاء بھی مانگتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے یا اس سے اسی جیسی کوئی مصیبت یا کوئی پریشانی ٹال دیتا ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14880
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ جَيْشَانَ ، وَجَيْشَانُ مِنَ الْيَمَن ، ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ ، يُقَالُ لَهُ : الْمِزْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمُسْكِرٌ هُوَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَإِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ ، أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ ؟ ، قَالَ : " عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ ، أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن کے علاقے " جیشان " سے ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : وہ لوگ اپنے علاقے میں جو سے بننے والی شراب جسے " مزر " کہا جاتا ہے پیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ نشہ آور ہو تی ہے اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہو تی ہے اور نشہ آور چیز پینے والے کے لئے اللہ کے ذمے ہے کہ اسے طینۃ الخبال پلائے صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! طینۃ الخبال سے کیا مراد ہے فرمایا : اہل جہنم کا پسینہ یا پیپ وغیرہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر، م: 2002
حدیث نمبر: 14881
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ أَحْيَا أَبَاكَ ، فَقَالَ لَهُ : تَمَنَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ : أُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا ، فَأُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : إِنِّي قَضَيْتُ الْحُكْمَ أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ نے تمہارے باپ کو زندگی عطا کی اور اس سے پوچھا کہ کسی چیز کی خواہش ہو تو بتائے ؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ ایک مرتبہ پھر شہید ہو سکوں اللہ نے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ دنیا میں آنے والے دوبارہ لوٹ کر نہیں جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل متابع
حدیث نمبر: 14882
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول نے ارشاد فرمایا : رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل عبدالجبار بن محمد الخطابي، وقد توبع
حدیث نمبر: 14883
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْيَهُودِ : " إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ " ، فَسَأَلَهُمْ ، فَقَالُوا : هِيَ خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخُبْزَةُ مِنَ الدَّرْمَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہو دیوں کے حوالے سے فرمایا کہ میں ان سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھنے لگا ہوں جو کہ خالص سفید ہو گی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : تو وہ کہنے لگے کہ اے بوقاسم وہ روٹی جیسی ہو گی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خالص روٹی جیسی ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 14884
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقَحَ " ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِيدٍ : مَا تُشْقَحُ ؟ ، قَالَ : تَحْمَارُّ ، وَتَصْفَارُّ ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2196، م: 1536
حدیث نمبر: 14885
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وَحُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار (بغیر نیام کے) ایک دوسرے کو پکڑانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده من جهة أبى الزبير صحيح، ومن جهة الحسن منقطع، فإنه لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمربھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دینا جائز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625
حدیث نمبر: 14887
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا ، فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَالْجَنَادِبُ يَقَعْنَ فِيهَا ، قَالَ : " وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا " ، قَالَ : " وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اور دیگر انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جو آگ جلائے اور پروانے اور پتنگے ادھرادھر اس میں گرنے لگیں اور وہ انہیں اس سے دور رکھے میں بھی اسی طرح تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں جہنم سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جاتے ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2285
حدیث نمبر: 14888
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَعْجَبُونَ ، وَيَقُولُونَ : لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اور دیگر انبیاء کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی نے کوئی مکان بنایا ہے اور اسے مکمل کر کے خوبصورت بنایا لیکن ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور خوش ہوتے اور کہتے کہ اگر یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ چھوڑی جاتی تو یہ عمارت مکمل ہو جاتی وہ ایک اینٹ کی جگہ میں ہوں کہ میں نے آ کر انبیاء کرام کا سلسلہ ختم کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3534، م: 2287
حدیث نمبر: 14889
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی اصحمہ کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیریں کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1334، م: 952
حدیث نمبر: 14890
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے زمانہ میں پالتو گدھوں سے منع فرمایا : تھا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4219، م: 1941
حدیث نمبر: 14891
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف ہدی کے طور پر بکری بھیجی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14892
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَرْهَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَنْ بَقِيَ مَعَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : بَقِيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَمَّا سَلَمَةُ ، فَقَدْ ارْتَدَّ عَنْ هِجْرَتِهِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : لَا تَقُلْ ذَلِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَسْلَمَ : " ابْدُوا يَا أَسْلَمُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ نَرْتَدَّ بَعْدَ هِجْرَتِنَا ؟ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ أَنْتُمْ تُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں آپ کے ساتھ اب کون باقی بچا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ سیدنا انس اور سلمہ بن اکوع بچے ہیں اس شخص نے کہا کہ سیدنا سلمہ تو ہجرت کے بعد مرتد ہو گئے تھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ایسا مت کہو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبیلہ اسلم کے لئے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے قبیلہ اسلم اپنے آپ کو ظاہر کر و انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں ہم ہجرت کے بعد واپس ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جہاں بھی رہو گے مہاجر ہی رہو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالله بن الحصين وشيخه عمر ، كلاهما فى عداد المجهولين، وانظر قول ابن الأكوع للحجاج عند ما قال له الحجاج: ارتددت على عقبك، تعربت؟ فى البخاري: 7087، ومسلم: 1862: لا، ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن لي فى البدو
حدیث نمبر: 14893
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ ، أَتَى بِكَبْشٍ ، فَذَبَحَهُ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي ، وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی ہے نماز اور خطبہ سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا : اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے تمام ان لوگوں کے لئے جو قربانی نہیں کر سکتے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله بن جابر، وانظر: 14837
حدیث نمبر: 14894
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ قَالَ سَعِيدٌ : وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ، مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے خشکی کا شکار حلال ہے بشرطیکہ کہ تم خود شکار نہ کر و اسے تمہاری خاطر شکار نہ کیا گیا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله من جابر ، وقد اختلف على عمرو فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 14895
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَضْحَى بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ ، نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ ، وَأَتَى بِكَبْشٍ ، فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی ہے نماز اور خطبہ سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا : اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے تمام ان لوگوں کے لئے جو قربانی نہیں کر سکتے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، إن صح سماع المطلب بن عبدالله بن جابر، وانظر : 14837
حدیث نمبر: 14896
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنْتُ أَتَعَجَّلُ ، قُلْتُ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ ، قَالَ : " ثَيِّبًا أَمْ بِكْرًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَأَلَّا كَانَتْ بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ ؟ " ، قَالَ : " انْطَلِقْ وَاعْمَلْ عَمَلًا كَيِّسًا " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَعْنِي لَا تَطْرُقْهُنَّ لَيْلًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی جانے کی اجازت مانگی اور عرض کیا : کہ میری شادی ہو گئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کنواری سے یا شوہر دیدہ سے میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ؟ اور وہ تم سے کھیلتی پھر فرمایا کہ جاؤ اور اپنی بیوی سے قربت کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، وانظر: 14132 و 14184
حدیث نمبر: 14897
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ أَحَدُنَا فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کر چلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14898
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " احْبِسُوا صِبْيَانَكُمْ حَتَّى تَذْهَبَ فَوْعَةُ الْعِشَاءِ ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تَخْتَرِقُ فِيهَا الشَّيَاطِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک اپنے جانوروں اور اپنے بچوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیا کر و کیونکہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو رات کی سیاہی دور ہو نے تک شیاطین اترتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3280، م: 2012، وانظر: 14342
حدیث نمبر: 14899
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغْلِقَ الْأَبْوَابَ ، وَأَنْ نُوكِئَ الْأَسْقِيَةَ ، وَأَنْ نُطْفِئَ الْمَصَابِيحَ ، وَأَنْ نَكُفَّ فَوَاشِيَنَا ، حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ ، وَنَهَانَا أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ ، وَأَنْ يَمْشِيَ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ ، وَعَنِ الصَّمَّاءِ ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دروازے بند کر دیا کر یں مشکیزوں کا منہ باندھ دیآ کر یں اور رات کی سیاہی دور ہو نے تک بچوں کو روک کر رکھا کر یں اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے ایک جوتی پہن کر چلے نہ ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا گوٹ مار کر بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14900
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَافُوا وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار ذی الحجہ کو مکہ مکر مہ پہنچے جب ہم بیت اللہ کا طواف اور سعی کر چکے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہو جائیں البتہ جن کے پاس ہدی کا جانور ہو وہ ایسا نہ کر یں جب آٹھ ذی الحجہ ہوئی تو لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا اور دس ذی الحجہ کو صرف طواف زیارت کیا صفامروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والأسانيد التى جاء فيها: أن النبى صلى الله عليه وسلم طاف طوافين، أصح وأثبت، وانظر: 14943
حدیث نمبر: 14901
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا ، وَقَارِبُوا ، وَلَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " ، قُلْنَا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریب قریب رہا کر و اور صحیح بات کیا کر و کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں فرمایا کہ مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد أبى هريرة صحيح، وإسناد جابر قوي، م: 2817
حدیث نمبر: 14902
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ ، وَالْبِغَالَ ، وَالْحَمِيرَ " فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ ، وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خچروں اور پالتو گدھوں سے منع فرمایا ہے لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح