حدیث نمبر: 14151
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وقَالَ : اسْمُ النَّجَاشِيِّ صَحْمَةُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں نجاشی کا نام اصحمہ بھی مذکور ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1317، م: 952، وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 14152
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا نَخْلًا لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا ، " فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں داخل ہوئے وہاں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دیں جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوئے تھے اور انہیں اپنی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر وہاں سے نکل آئے اور صحابہ کو عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14153
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا ، أَنَّهُ قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَوْضُوعَةٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمٰن کا عرش بھی ہل گیا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3803، م: 2466
حدیث نمبر: 14154
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ : أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عباد نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ جبکہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا : ہاں اس گھر کے رب کی قسم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1984، م: 1143
حدیث نمبر: 14155
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2126
حدیث نمبر: 14156
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ النَّوَافِلَ فِي كُلِّ جِهَةٍ ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السُّجُودَ مِنَ الرَّكْعَةِ وَيُومِئُ إِيمَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر ہر سمت میں نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے البتہ آپ رکوع کی نسبت سجدہ زیادہ جھکتا ہوا کرتے تھے اور اشارہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14345
حدیث نمبر: 14157
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ ، وَصُرِّفَتْ الطُّرُقُ ، فَلَا شُفْعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مال میں حق شفعہ کو ثابت قرار دیا ہے جو تقسیم ہوا ہو جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ ہو جائیں تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2213
حدیث نمبر: 14158
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ ، مِنْ أَنْفُسِهِمْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ ، وَتَرَكَ دَيْنًا فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس کے لئے جو شخص مقروض ہو کر فوت ہواس کا قرض میرے ذمے ہے اور جو شخص مال و دولت چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأنظر مابعده
حدیث نمبر: 14159
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَال : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَأُتِيَ بِمَيِّتٍ ، فَسَأَلَ " هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَانِ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، فَقَالَ : أَبُو قَتَادَةَ هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھاتے تھے چنانچہ ایک میت لائی گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس پر کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ دو دینار قرض ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمے ہے اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی پھر جب اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص مقروض ہو کر میرے ذمے ہے اور جو شخص دولت چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء ہی کا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14160
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ ، قَالَ : " لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ ، وَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا ، وكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا ، وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا ، فَعَقَرُوهَا ، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهْمَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ ، إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، قِيلَ : مَن هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هُوَ أَبُو رِغَالٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ ، أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قوم ثمود کے کھنڈرات پر ہوا تو فرمایا کہ معجزات کا سوال نہ کیا کر و کیونکہ قوم صالح نے بھی اس کا مطالبہ کیا تھا (جس پر اللہ نے ایک اونٹنی ان کی فرمائش کے مطابق بھیج دی) وہ اونٹنی اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے نکل جاتی تھی لیکن قوم ثمود نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے پاؤں کاٹ ڈالے حالانکہ وہ اونٹنی ایک دن کا پانی پیتی تھی اور ایک دن وہ اس کا دودھ پیتے تھے لیکن جب انہوں نے اس کے پاؤں کاٹے تو ایک آسمانی چیخ نے انہیں پکڑا اور آسمان کے سائے تلے ایک شخص بھی زندہ نہ بچا سوائے اس آدمی کے جو حرم شریف میں تھا کسی نے پوچھا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون تھا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ " ابو رغال " تھا جب وہ حرم سے نکلا تو اسے بھی اسی عذاب نے آپکڑا جو اس کی قوم پر آیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، أبو الزبير مدلس، وقد عنعن، واختلف على ابن خثيم فيه، فرواه مرة عن أبى الزبير ، وأخرى عن عبدالرحمن بن سابط
حدیث نمبر: 14161
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ ، أَخَذُوا التَّمْرَ ، وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ نے چالیس ہزار وسق کھجوریں کٹوائیں ان کے خیال کے مطابق انہوں نے جب یہو دیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل لے لیا اور ان پر بیس ہزار وسق واجب ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 980، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن عمرو بن دينار لم يسمعه من جابر، و محمد بن مسلم الطائفي سيئ الحفظ، فأسقط الواسطة بين عمرو وبين جابر
حدیث نمبر: 14163
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : حدثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ ، فَأَتَى النِّسَاءَ ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ ، يُلْقِينَ فِيهِ النِّسَاءُ صَدَقَةً ، قَالَ : تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتْخَهَا ، وَيُلْقِينَ ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فَتْخَتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی نماز کے بعد لوگوں سے خطاب کیا اور فارغ ہو نے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اس دوران آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر ٹیک لگائی ہوئی تھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں خواتین صدقات ڈالتی جا رہیں تھیں حتی کہ بعض خواتین نے اپنی بالیاں تک ڈال دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 978، م: 885
حدیث نمبر: 14164
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نظر ایک مرتبہ ایک گدھے پر پڑھی جس کے چہرے پر داغا گیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسا کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14165
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَوْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَا أَشُكُّ أَخْبَرَهُ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ ، فَقَالَ : " حَلَالٌ ، فَقُلْتُ : أعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بجو کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اسے حلال قرار دیا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نہیں ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں !
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14166
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن زيد الصنعاني
حدیث نمبر: 14166M
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14166M
حدیث نمبر: 14166M
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14166M
حدیث نمبر: 14166M
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14166M
حدیث نمبر: 14167
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ جَابِرٌ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل منت کو پورا نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج مدلس، ولم يصرح بالسماع من سليمان بن موسى، وهذا الأخير لم يسمع من جابر، والصحيح عن جابر موقوفا، وانظر مابعده، وله مرفوعا حديث عمران بن حصين عند مسلم: 1641، وحديث عائشة عند البخاري: 6700
حدیث نمبر: 14168
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، وَلَمْ يَرْفَعَاهُ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مشتمل منت کو پورا نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ قَتْلَى أُحُدٍ حُمِلُوا مِنْ مَكَانِهِمْ ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شہدا احد کو ان کی جگہ سے اٹھایا جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا کہ شہدا کو ان کی اپنی جگہوں پر واپس پہنچا دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهذا الحديث قطعة من حديث طويل، سيأتي برقم: 15281
حدیث نمبر: 14170
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ، فَأَتَيْتُهُ كَأَنِّي شَرَارَةٌ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ لِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ : اكْتُبْ عَنِّي وَلَوْ حَدِيثًا وَاحِدًا مِنْ غَيْرِ كِتَابٍ ، فَقُلْتُ : لَا وَلَا حَرْفًا ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ وَكِيعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي وَذَكَرَ عَبْدَ الرَّزَّاقِ ، فَقَالَ : يُشْبِهُ رِجَالَ أَهْلِ الْعِرَاقِ . حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : وَمَا كَانَ فِي قَرْيَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِئْرٌ فَكُنَّا نَذْهَبُ نُبَكِّرُ عَلَى مِيلَيْنِ نَتَوَضَّأُ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْمَاءَ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے قرض کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں آگ کا شعلہ بنا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 14171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : الْإِسْكَافِ إِنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ أَنَّ سُلَيْكًا جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَجَلَسَ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سلیک آئے اور بیٹھ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے مختصر دو رکعتیں پڑھ لینی چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 930، م: 875
حدیث نمبر: 14172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا ، أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1625
حدیث نمبر: 14173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، أَنَّ مُحَمَّدًا حَدَّثَ ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ حَدَّثَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وأَبي هُريرة ، أنهم " نَهَوْا عن الصَّرْفِ " وَرَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن سعيدا- وهو ابن أبى عروبة- لم يسمعه من محمد بن سيرين، وانظر: 14179، والنهي عن الصرف محمول على ما إذا كان بالنسيئة ، أو كان بالزيادة مع اتحاد الجنس
حدیث نمبر: 14174
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625
حدیث نمبر: 14175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2226، م: 1625، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 14176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ غَيْرَ مَرَّةٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے میری شادی ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5080، م: 715
حدیث نمبر: 14177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنگ قتال کا نام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3030، م: 1739
حدیث نمبر: 14178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَرَوْحٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَلَا تَحْتَبِيَنَّ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ ، وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ ، وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ ، وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ " ، قُلْتُ : لِأَبِي الزُّبَيْرِ : أَوَضْعُهُ رِجْلَهُ عَلَى الرُّكْبَةِ مُسْتَلْقِيًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَّا الصَّمَّاءُ فَهِيَ إِحْدَى اللِّبْسَتَيْنِ ، تَجْعَلُ دَاخِلَةَ إِزَارِكَ وَخَارِجَتَهُ عَلَى إِحْدَى عَاتِقَيْكَ ، قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ ، فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ : لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ مُفْضِيًا ، قَالَ : كَذَلِكَ سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : لَا يَحْتَبِي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَمْرٌو لِي : مُفْضِيًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپنا جسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کے چلے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14179
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِح وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أبي سعيد ، وأبي هريرة ، أنهم " نَهَوْا عَنِ الصَّرْفِ " رَفَعَهُ رَجُلَانِ مِنْهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید جابر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ وہ ادھار پر سونے چاندی کی بیع سے منع کرتے تھے اور ان میں سے دو حضرات اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مطر الوراق، وانظر: 14173
حدیث نمبر: 14180
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَصَفٌّ خَلْفَهُ ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ ، وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلَهُمْ رَكْعَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو صلوۃ الخوف پڑھائی ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی ہو گئی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آپ نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ یہاں آ کر ان کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور ان لوگوں کی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں) ایک ایک رکعت ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد اختلف الرواة عن جابر فى كيفية صلاة الخوف وعدد ركعاتها لكل من الامام والمامومين، فانظر: 14436 و 14928 و 14929 و 10190 و 15019، وانظر شرح السنة للبغوي: 280/4 - 286، و زادالمعاد: 229/1-532
حدیث نمبر: 14181
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ، قَالَ : فَقَالَ : " لَوْ كُنَّا مِئَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا ، كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ "
مولانا ظفر اقبال
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم ایک لاکھ کی تعداد میں بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہو جاتا ہماری تعداد صرف ڈیڑھ ہزار تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5639، م: 1856
حدیث نمبر: 14182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، قَالَ : فَذُكِرَتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : " عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس متعہ کی اجازت دیتے تھے اور سیدنا عبداللہ بن زبیر اس کی ممانعت فرماتے تھے میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کا تذکر ہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں متعہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1217، والمتعة كانت مباحة فى أول الإسلام ثم حرمها رسول الله صلى الله عليه وسلم فى فتح مكة حرمة مؤبدة إلى يوم القيامة، وجاء ذلك صريحا فى حديث سبرة بن معبد الجهني عند مسلم: 1406، "........وان الله قد حرم ذلك الي يوم القيامة....."
حدیث نمبر: 14183
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ ، فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ ، تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصار کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار نے خوب کیا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کر و لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت مت رکھا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3114، م: 2133
حدیث نمبر: 14184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " إِذَا دَخَلْتَ لَيْلًا ، فَلَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ، وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ، ، قَالَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلْتَ ، فَعَلَيْكَ الْكَيْسَ وَالْكَيْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کر لے۔ اور فرمایا : جب گھر پہنچ جاؤ تو ہر وقت قربت کی اجازت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715
حدیث نمبر: 14185
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ ذَا ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَنَا ! " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : كَأَنَّهُ كَرِهَ قَوْلَهُ : أَنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کون ہے ؟ میں نے کہا کہ میں ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں میں لگائی ہوئی ہے ؟ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6250، م: 2155
حدیث نمبر: 14186
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ لَا أَعْقِلُ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ ، أَوْ قَالَ : صَبُّوا عَلَيَّ فَعَقَلْتُ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ لَا يَرِثُنِي إِلَّا كَلَالَةٌ ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ ؟ قَالَ : فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں اس وقت اتنا بیمار تھا کہ ہو ش و حواس سے بیگانہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے وہ پانی مجھ پر بہا دیا یا بہانے کا حکم دے دیا مجھے ہو ش آگیا اور میں نے عرض کیا : کہ میرے ورثاء میں تو سوائے " کلالہ " کے کوئی نہیں میراث کیسے تقسیم ہو گی ؟ اس پر تقسیم وراثت والی آیت نازل ہوئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5676، م: 1616
حدیث نمبر: 14187
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ أَبِي ، قَالَ : جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَنْهَوْنِي ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي ، قَالَ : فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْكِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " َتَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِكَة تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ " ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : " تُظَلِّلُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے والد صاحب شہید ہوئے تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا لوگوں نے مجھے منع کر دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا میری پھوپھی فاطمہ بنت عمرو رونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم آہ و بکاہ نہ کر و فرشتے اس پر اپنے پروں سے مسلسل سائے کئے رہے یہاں تک کہ تم نے اسے اٹھا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1244، م: 2471