حدیث نمبر: 14823
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَحُجَيْنٌ قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَبَايَعْنَاهُ، وَعُمَرُ آخِذُ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَهِيَ سَمُرَةٌ ، وَقَالَ : بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم چودہ سو افراد نے صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ببول کے درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کر یں گے موت پر بیعت نہیں کی تھی۔
حدیث نمبر: 14824
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْطَى امْرَأَةً صَدَاقًا مِلْءَ يَدَيْهِ طَعَامًا ، كَانَتْ لَهُ حَلَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کوئی آدمی کسی عورت کو دونوں ہاتھ بھر کر آٹا ہی بطور مہر کے دیدے تو وہ اس کے لئے حلال ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 14825
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي حَائِطٍ ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ ؟ وَإِلَّا كَرَعْنَا " ، قَالَ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى الْعَرِيشِ ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَاتَ فِي شَنٍّ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَقَى صَاحِبَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لائے اور جا کر سلام کیا اور فرمایا : اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے اسے پی لیا۔
حدیث نمبر: 14826
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ، جَعَلَ يَقُولُ بِيَدِهِ : " السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ ، السَّكِينَةَ عِبَادَ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے روانہ ہوئے تو اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرماتے جارہے تھے اللہ کے بندوں اطمینان سے چلو اللہ کے بندو اطمینان سے چلو۔
حدیث نمبر: 14827
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے صفیں باندھ لیں۔
حدیث نمبر: 14828
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ يَحْتَرِقُونَ فِيهَا إِلَّا دَارَاتِ ، وُجُوهِهِمْ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم سے ایک ایسی جماعت نکلے گی جس کے چہرے کی گولائی کے علاوہ سب کچھ جل چکا ہو گا حتی کہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 14829
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غَطُّوا الْإِنَاءَ ، وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ ، فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً ، يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ ، لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَمْ يُغَطَّ ، وَلَا سِقَاءٍ لَمْ يُوكَ ، إِلَّا وَقَعَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے برتن ڈھانپ دیا کر و اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کر و کیونکہ سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں وہ بلائیں اترتی ہیں وہ ایسے برتن پر جسے ڈھانپا نہ گیا ہو یا وہ مشکیزہ جس کا منہ باندھا گیا گزرتی ہیں اس میں داخل ہو جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 14830
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّهُ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةٍ ، فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا يَبُثُّهُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكَلْبِ ، أَوْ نُهَاقَ الْحَميرِ ، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ " ، وَقَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : قَالَ يَزِيدُ ، وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ شُرَحْبِيلُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب رات ڈھل جائے تو گھر سے کم نکلا کر و کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو پھیلا دیتا ہے اور جب تم کتے بھونکنے کی آواز یا گدھے کی چلانے کی آواز سنو تو شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ میں آجایا کر و
حدیث نمبر: 14831
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیکر ی کی کنکر یوں سے رمی فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 14832
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " لَا أَدْرِي بِكَمْ رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی کنکر یاں ماری تھیں۔
حدیث نمبر: 14833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ نَقُولُ : لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ ، فَأَمَرَنَا ، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ کا احرام بنالیا۔
حدیث نمبر: 14834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا مُتْعَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ ، فَنَهَانَا عُمَرُ عَنْهُمَا ، فَانْتَهَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ سیدنا عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔
حدیث نمبر: 14835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ ، قَالَ : فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ ، فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ ، قَالَ : فَقَالَتْ : أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرَكَ وَتُخْبِرَنَا ؟ ، قَالَ : إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَكَّةَ ، حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا ، وَمَنَعَ مِنَ الْفِرَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں سب سے پہلی جو خبر ملی تھی وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا کوئی جن تابع تھا وہ ایک مرتبہ اس کے پاس پرندے کی شکل میں آیا اور ایک درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا اس عورت نے اسے کہا کہ تم نیچے کیوں نہیں آتے کہ تم ہمیں اپنی خبر دو ہم تمہیں اپنی خبر دیں اس نے جواب دیا کہ مکہ مکر مہ میں ایک آدمی ظاہر ہوا جس نے ہم پر بدکاری کو حرام قرار دیا ہے اور ہمیں اس طرح ٹھہرنے سے منع کر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 14836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُبَاشِرِ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، وَلَا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے۔
حدیث نمبر: 14837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَخْبَرَنِي مَوْلَايَ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَ الْأَضْحَى ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتَي بِكَبْشٍ ، فَذَبَحَهُ ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالاضحی کی نماز پڑھی نماز سے فراغت کے بعد ایک مینڈھا لایا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا : اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان تمام لوگوں کی طرف سے جو قربانی نہیں کر سکتے ۔
حدیث نمبر: 14838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا السُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَطَلَعَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَبِثَ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا السُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَطَلَعَ عُمَرُ ، قَالَ : فَهَنَّأْنَاهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ تَحْتِ هَذَا السُّورِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَطَلَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
حدیث نمبر: 14839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهَا ، فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً ، فَهِيَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کر ے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقہ کا ثواب ملے گا۔
حدیث نمبر: 14840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيجُ ، وَعَفَّانُ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ ، " فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھایا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خچروں اور پالتوں گدھوں سے منع فرمایا : تھا لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا : تھا۔
حدیث نمبر: 14841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُخَابَرَةِ ، وَالثُّنْيَا ، وَالْمُعَاوَمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ، بٹائی، کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی فروخت اور مخصوص درختوں کے استثناء سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، فِيمَا أَحْسِبُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالنَّقِيرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ " ، قَالَ عَفَّانُ : " قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 14845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " الْعُمْرَةُ أَوَاجِبَةٌ هِيَ ؟ ، قَالَ : لَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! مجھے یہ بتائیے کہ کیا عمرہ کرنا واجب ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں البتہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 14846
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ : أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سُئِلَ جَابِرٌ عَمَّا يُدْعَى لِلْمَيِّتِ، فَقَالَ : مَا أَبَاحَ لَنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ ، وَلَا عُمَرُ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ میت کے لئے کیا دعا کر ے انہوں نے فرمایا کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین نے ہمارے لئے کسی چیز کو مباح (متعین) قرار نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 14847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي الْمَعْمَرِيَّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 14848
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے ایک صاحب نے بتایا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جس کے دونوں کنارے مخالف سمت میں تھے۔
حدیث نمبر: 14849
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہ پوری ہو تی ہے۔
حدیث نمبر: 14850
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا ، فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا ، فَقَالَ : " أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ ؟ ! " ، وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ ، فَقَالَ : " أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ملاقات کے لئے ہمارے گھر تشریف لائے وہاں آپ نے بکھرے بالوں والا ایک آدمی دیکھا تو فرمایا کہ اسے کوئی چیز نہیں ملتی کہ جس سے یہ اپنے سر کو سکون دے سکے اور ایک آدمی کے جسم پر میلے کچیلے کپڑے دیکھے تو فرمایا کہ اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنے کپڑے دھو سکے۔
حدیث نمبر: 14851
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، نقیر اور مزفت تمام برتنوں سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14852
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَفَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " ، قَالَ جَابِرٌ : ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔
حدیث نمبر: 14853
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، مَثَلُ نَهَرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّنَسِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر جاری ہواور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو اس کے جسم پر کیا میل باقی بچے گا۔
حدیث نمبر: 14854
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ ، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جس شخص کے باغ میں کوئی شریک ہو وہ اپنے شریک کے سامنے پیشکش کئے بغیر کسی دوسرے کے ہاتھ اسے فروخت نہ کر ے۔
حدیث نمبر: 14855
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، قَالَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَابْتَغُوا بِهِ اللَّهَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ إِقَامَةَ الْقِدْحِ ، يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ قرآن کر یم کی تلاوت کر رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرآن کر یم کی تلاوت کیا کر و اور اس کے ذریعے اللہ کا فضل مانگو اس سے پہلے کہ ایسی قوم آ جائے جو اسے اپنے تیروں کی جگہ رکھ لے اور وہ جلد بازی کر یں گے اور اس میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کر یں گے۔
حدیث نمبر: 14856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَلَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ ، وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَلَا يَحْتَبِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک چادر میں اپنے جسم کو نہ لپیٹا کر و تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے اور نہ ہی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے۔
حدیث نمبر: 14857
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَلَمٍ كَانَ بِظَهْرِهِ ، أَوْ بِوَرِكِهِ " ، شَكَّ هِشَامٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے کو ل ہے کی ہڈی یا کمر میں موچ آجانے کی وجہ سے سینگی لگوائی۔
حدیث نمبر: 14858
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُطْعَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہو جانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 14859
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : امام کو یاد کرانے کے لئے مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آواز میں تالی بجانی چاہیے۔
حدیث نمبر: 14860
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ فِي الْقَوْمِ مِنْ طَهُورٍ " ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلَةٍ فِي إِدَاوَةٍ ، قَالَ : فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ ، فَقَالُوا : تَمَسَّحُوا تَمَسَّحُوا ، قَالَ : فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عَلَى رِسْلِكُمْ " ، قَالَ : فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ الطَّهُورَ " ، قَالَ : فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي ، قَالَ : وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ ، قَالَ الْأَسْوَدُ : حَسِبْتُهُ قَالَ : كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے نماز کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کسی کے پاس پانی ہے ؟ ایک آدمی یہ سن کر دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پانی کو ایک پیالے میں ڈالا اور اس سے خوب اچھی طرح وضو کیا وضو کر کے آپ پیالہ وہیں چھوڑ آئے لوگ اس پیالے پر ٹوٹ پڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آوازیں سن کر فرمایا : رک جاؤ پھر اس پانی اور پیالے میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور بسم اللہ کہہ کر فرمایا : خوب اچھی طرح کامل وضو کر و اس ذات کی قسم جس نے مجھے آنکھوں کی نعمت عطاء فرمائی ہے میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس وقت تک نہ اٹھایا جب تک سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔
حدیث نمبر: 14861
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا جَابِرُ ، أَلَكَ امْرَأَةٌ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَثَيِّبًا نَكَحْتَ ، أَمْ بِكْرًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : تَزَوَّجْتُهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " فَهَلَّا تَزَوَّجْتَهَا جُوَيْرِيَةً ! " ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ : قُتِلَ أَبِي مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَتَرَكَ جَوَارِيَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً كَإِحْدَاهُنَّ ، فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَةَ إِحْدَاهُنَّ ، وَتَخِيطُ دِرْعَ إِحْدَاهُنَّ إِذَا تَخَرَّقَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّكَ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کر لی میں نے عرض کیا : جی ہاں پوچھا کہ کنواری سے یا شادی شدہ سے میں نے عرض کیا : شوہر دیدہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کنواری سے نکاح کیوں نہ کیا میں نے عرض کیا : کہ میرے والد صاحب فلاں موقع پر آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے اور کچھ بچیاں چھوڑ گئے تھے میں نے ان میں ان ہی جیسی بچی کو لانا اچھا نہیں سمجھا اس لئے شوہر دیدہ سے شادی کر لی تاکہ وہ ان کی جوئیں دیکھ سکے اور قمیص پھٹ جائے تو سی دے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے خوب سوچا۔
حدیث نمبر: 14862
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى أَحَدَنَا إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ " ، قَالَ : فَطَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔
…