حدیث نمبر: 14783
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَانْطَلَقْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ بِهِ أَعْلَمُ ، قَالَ : قُلْتُ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنْ أَبْطَأْتُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى ، ثُمَّ سَلَّمْتُ ، فَرَدَّ عَلَيَّ ، وَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " ، فَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، مُتَوَجِّهًا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا میرے دل پر جو گزری وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے میں نے سوچا شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری تاخیر کی وجہ سے ناراض ہو گئے ہیں میں نے دوبارہ سلام کیا لیکن اب بھی جواب نہ ملا اور مجھے پہلے سے زیادہ صدمہ ہوا لیکن تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا کہ مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے اور چہرہ قبلہ رخ نہ تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14784
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَارْتَفَعَتْ رِيحُ جِيفَةٍ مُنْتِنَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الرِّيحُ ؟ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک مردار کی بدبو اٹھنے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی بدبو ہے یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مومنین کی غیبت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 14785
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَصْحَابَهُ مَرُّوا بِامْرَأَةٍ ، فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً ، وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا ، فَلَمَّا رَجَعَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا ، فَادْخُلُوا فَكُلُوا ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ ، حَتَّى يَبْدَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا " ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا ، نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کے ساتھ ایک عورت پر گزر ہوا اس نے ان کے لئے بکری ذبح کر کے کھانا تیار کیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپسی پر وہاں سے گزرے تو وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے اس لئے اندر آجائیے اور کھانا تناول فرمائیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ اس کے گھر چلے گئے صحابہ کی عادت تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ نہ بڑھاتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا لیکن اسے نگل نہ سکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بکری اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ ! ہم لوگ سعد بن معاذ کے گھر والوں سے کوئی تکلف نہیں کرتے اور وہ بھی ہم سے کوئی تکلف نہیں کرتے ہم ان کی چیز لے لیتے ہیں اور وہ ہماری چیز لے لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14786
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، رُطَبًا ، وَشَرِبُوا مَاءً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین نے تر کھجوریں اور پانی تناول فرمایا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا : جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14787
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَةً ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ ، وَأَنَّ الْبَقَرَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ " ، قَالَ : فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ ، فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ ؟ ! ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ، فَقَالَ : " شَأْنَكُمْ إِذًا " ، قَالَ : فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ ، قَالَ : فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ ، فَجَاءُوا ، فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، شَأْنَكَ إِذًا ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ ، إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا : آج میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میں ایک محفوظ زرہ میں ہوں میں نے ایک گائے دیکھی جسے ذبح کر دیا گیا ہے میں نے اس کی تعبیر یہ لی ہے کہ محفوظ زرہ سے مراد تو مدینہ ہے اور گائے سے مراد واللہ خیر ہے پھر صحابہ نے فرمایا کہ اگر ہم مدینہ میں ہی رہیں اور وہ ہمارے پاس آئیں تو ہم ان سے قتال کر یں گے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! زمانہ جاہلیت میں ہمارا دشمن کبھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکا تو وہ اسلام میں کیسے داخل ہو سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری مرضی اور یہ کہہ کر اپنا اسلحہ زیب تن فرما لیا یہ دیکھ کر انصار سے کہنے لگے کہ کسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنا اسلحہ زیب تن کر کے اسے یونہی اتاردے یہاں تک کہ قتال کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 14788
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَكَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، وَرَأَيْتُهُ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ ، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " مَا صَنَعْتَ فِي حَاجَتِكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : صَنَعْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کام سے بھیجا میں چلا گیا جب وہ کام کر کے واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا پھر میں نے انہیں رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کام کر دیا ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں اس اس طرح کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی البتہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ ، فَقَالَ : " أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ ؟ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْرَعْتُ ، قَالَ : ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا ، فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ہم لوگ ایک گھاٹ پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر رضی اللہ عنہ گھاٹ پر کیوں نہیں اترتے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے اور میں گھاٹ پر چلا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میں نے آپ کے لئے وضو کا پانی لا کر رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس آ کر وضو کیا پھر کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کناروں جانب مخالف سے اپنے اوپر ڈال لئے تھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر دائیں طرف کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، محمد بن جعفر المدائني صدوق حسن الحديث، وقد أخطأ فى هذا الحديث حيث ذكر موقف جابر خلف النبى وخالفه من هو أوثق منه - وهو الطيالسي - فذكر أن موقف جابر كان عن يسار النبى .
حدیث نمبر: 14790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " صَلِّ مَعِي " ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ فَأَسْفَرَ ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ ، فَقَالَ : " بَعْضُهُمْ ثُلُثَ اللَّيْلِ " ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : شَطْرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کے متعلق پوچھا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے ساتھ نماز پڑھنا چنانچہ آپ نے طلوع فجر کے وقت نماز ادا فرمائی زوال کے بعد نماز ظہر ادا فرمائی ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو نے پر نماز عصر ادا فرمائی غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی غروب شفق کے بعد نماز عشاء ادا فرمائی پھر اگلے دن نماز فجر خوب روشنی کر کے پڑھی ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو نے پر نماز ظہر ادا فرمائی پھر ہر چیز کا دوسایہ مثل ہو نے پر نماز عصر ادا فرمائی پھر شفق غائب ہو نے سے پہلے نماز مغرب ادا فرمائی پھر نماز عشاء کے لئے اس وقت آئے جب نصف یا تہائی رات بیت چکی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُتْبَةَ ، وَقَالَ عَلِيٌّ : أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي مُصَبِّحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ ، وَالنَّيْلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا ، فَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا ، وَادْعُوا لَهَا بِالْبَرَكَةِ ، وَقَلِّدُوهَا ، وَلَا تُقَلِّدُوهَا بِالْأَوْتَارِ " ، وَقَالَ عَلِيٌّ : " وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیر و برکت رکھ دی گئی ہے اور اس کے مالکان کی اس پر مدد کی گئی ہے اس لئے ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا کر و اور ان کے لئے برکت کی دعا کیا کر و اور ان کے گلے میں ہار ڈالا کر و تانت نہ لٹکا یا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن حرملة
حدیث نمبر: 14792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا حُدِّثَ الْإِنْسَانُ حَدِيثًا ، وَالْمُحَدِّثُ يَلْتَفِتُ حَوْلَهُ ، فَهُوَ أَمَانَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مجلس میں کوئی بات بیان کر ے اور بات کرتے وقت دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات امانت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل عبدالرحمن بن عطاء المدني
حدیث نمبر: 14793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الطَّاعُونِ : " الْفَارُّ مِنْهُ كَالْفَارِّ يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَمَنْ صَبَرَ فِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضڑت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو طاعون کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے طاعون سے بھاگنے والا شخص میدان جنگ سے بھاگنے والے شخص کی طرح ہے۔ اور اس میں صبر کرنے والا شخص کو شہید جیسا ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي
حدیث نمبر: 14794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ ، فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : رَجُلٌ جَهَدَهُ الصِّيَامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْبِرُّ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جارہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن عبدالرحمن بن أسعد بن زرارة لم يسمع من جابر ، بينهما محمد بن عمرو بن الحسن بن علي، انظر: 14193
حدیث نمبر: 14795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِي ، وَمَالِي ، حَتَّى أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ ، فَقَالَ : " إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ ، لَيْسَ لَهُ عِنْدَكَ وَفَاءٌ " ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کر وں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی امید رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہو جاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا : جبکہ تم اس حال میں نہ مرو کہ تم پر کچھ قرض ہواور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن محمد بن عقيل حسن الحديث فى المتابعات والشواهده
حدیث نمبر: 14797
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى : حَدَّثَنَا شَرِيكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وقد توبع، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14798
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا ، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا ، فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا ، وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ ، قَالَ : فَقَالَ : " يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ " ، قَالَ : فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا ، فَقَالَ : " أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ ، وَأُمَّهُمَا الثُّمُنَ ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیاں جو سعد سے تھیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں ان کے والد غزوہ احد میں آپ کے ساتھ شہید ہو گئے تھے ان کے چچا نے ان کے مال دولت پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے اب ان کی شادی بھی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ان کا کوئی مال ہو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مسئلے میں اللہ فیصلہ کر ے گا چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلا کر بھیجا اور فرمایا : سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دیدو۔ اس کے بعد جو باقی بچے گا وہ تمہارا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين من أجل ابن عقيل، وقد تفرد به، وقد صححه الترمذي من طريقه
حدیث نمبر: 14799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي بَيْتِهِ ، فَقُلْنَا لَهُ : صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، قَالَ : " فَصَلَّى بِنَا فِي مِلْحَفَةٍ ، فَشَدَّهَا تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ " ، وَقَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : کہ ہمیں اس طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا اور فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل، وقد توبع
حدیث نمبر: 14800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُفُوفِنَا فِي الصَّلَاةِ ، صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : شَيْئًا صَنَعْتَهُ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ ! ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنَ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ لِآتِيَكُمْ بِهِ ، فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَلَوْ أَتَيْتُكُمْ بِهِ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُنْقِصُونَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ ، فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا ، وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي : إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ ، وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ ، وَإِنْ يَسْأَلْنَ أَلْحَفْنَ قَالَ حُسَيْنٌ : وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ الْكَعْبِيُّ " ، قَالَ مَعْبَدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ وَهُوَ وَالِدٌ ؟ ، فَقَالَ : لَا ، أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ " ، قَالَ حُسَيْنٌ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، قَالَ حُسَيْنٌ : " تَأَخَّرْتُ عَنْهَا ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَغَشِيَتْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ظہر یا عصر کی نماز میں صف بستہ کھڑے تھے اور محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر وہ پیچھے ہٹنے لگے تو لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگے نماز سے فارغ ہو کر سیدنا ابی بن کعب نے عرض کیا : آج تو آپ نے ایسے کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے سامنے جنت کو اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ پیش کیا گیا میں نے انگوروں کا ایک گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دیدوں لیکن پھر کوئی چیز درمیان میں حائل ہو گئی اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا اور سارے آسمان و زمین والے اسے کھاتے تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہو تی پھر میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کی بھڑک کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے جنہیں اگر کوئی راز بتایا جائے تو اسے افشاء کر دیتی ہیں کچھ مانگا جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں خود کسی سے مانگیں تو اصرار کر تی ہیں مل جائے شکر نہیں کر تیں میں نے وہاں لحیی بن عمرو کو بھی دیکھا ہے جو جہنم میں اپنی انتریاں کھینچ رہا تھا اور میں نے اس کے سب سے زیادہ مشابہہ معبد بن اکثم کعبی کو دیکھا ہے اس پر معبد کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! اس کی مشابہت سے مجھے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تو نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں تم مسلمان ہواور وہ کافر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فقد تفرد به عبدالله بن محمد بن عقيل بهذه السياقة، وأصل القصة صحيح، انظر: 14417 و 14420 و 15018
حدیث نمبر: 14801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو شُعَيْبٍ ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ ، فَقَالَ لَهُ : اجْعَلْ لَنَا طَعَامًا ، لَعَلِّي أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَادِسَ سِتَّةٍ ، فَدَعَاهُمْ فَاتَّبَعَهُمْ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا قَدْ اتَّبَعَنَا ، أَفَتَأْذَنُ لَهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں ایک آدمی تھا جس کا نام ابوشعیب تھا اس کا ایک غلام قصائی تھا اس نے اپنے غلام سے کہا کہ کسی دن کھانا پکاؤ تاکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کر وں جو کہ چھ میں چھٹے آدمی ہوں گے چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی زائد آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر پہنچ کر فرمایا : یہ شخص ہمارے ساتھ آگیا ہے تم اسے بھی اجازت دیتے ہواس نے اجازت دیدی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 2036، وفيه: خامس خمسة، وكذلك برقم: 15267 عند المصنف
حدیث نمبر: 14802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ " ، وَقَالَ : " طُعْمَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے کہ یہ زمانہ جاہلیت کا کھانا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: طعمة جاهلية، وهذا إسناد ضعيف الضعف شرحبيل المدني، وأبو أويس ضعيف يعتبر به، وانظر: 14411
حدیث نمبر: 14803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالسَّيْلُ الْعُشُورُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہواس میں عشر واجب ہو گا اور جو ڈول سے سیراب اس میں نصف عشر واجب ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 981
حدیث نمبر: 14804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جِئْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْجِعْرَانَةِ ، وَهُوَ يَقْسِمُ فِضَّةً فِي ثَوْبِ بِلَالٍ لِلنَّاسِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اعْدِلْ ! ، فَقَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ؟ ! لَقَدْ خِبْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ ، فَقَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي ، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، أَوْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کر رہے تھے جو سیدنا بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر افسوس، اگر میں ہی عدل نہ کر وں گا تو اور کون کر ے گا اگر میں عدل نہ کر وں تو خسارے میں پڑجاؤں سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کی پناہ میں آتاہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وأبو الزبير صرح بالسماع فيما سيأتي برقم: 14819
حدیث نمبر: 14805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهُ لِسَانُهُ ، فَإِذَا أَعْرَبَ عَنْهُ لِسَانُهُ ، إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر بچہ فطرت صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے بولنے لگے پھر جب بولتا ہے تو یا شکر گزار ہوتا ہے یا ناشکرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى جعفر الرازي، وفي رواية عن الربيع بن أنس اضطراب، وفي الإسناد أيضا عنعنة الحسن البصري، وانظر: 7445
حدیث نمبر: 14806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَصَابَنَا عَطَشٌ بِالْحُدَيْبِيَةِ ، فَجَهَشْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَوْرٌ فِيهِ مَاءٌ ، فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ : هَكَذَا فِيهَا ، وَقَالَ : " خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ " ، قَالَ : فَجَعَلَ الْمَاءُ يَتَخَلَّلُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، كَأَنَّهَا عُيُونٌ ، فَوَسِعَنَا وَكَفَانَا ، وَقَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ : فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر ہمیں پیاس نے ستایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گبھرائے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں اپنے دست مبارک کو رکھ دیا اور فرمایا : بسم اللہ پڑھ کر یہ پانی لو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان چشموں کی طرح پانی ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3579، م: 1856
حدیث نمبر: 14807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ، مَا أَقْفَرَ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سرکہ بہترین سالن ہے وہ گھر تنگدست نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2052 دون قوله: «ما أقففر بيت فيه خل» ، وهذا اسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل حجاج بن أبي زينب
حدیث نمبر: 14808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے مقام حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف ذبح کی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1318 ، أبو بشر هو جعفر بن أبى وحشية، وروايته عن سليمان بن قيس صحيفة .
حدیث نمبر: 14809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ ، فَحَجَمَهُ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ " كَمْ ضَرِيبَتُكَ ؟ " ، قَالَ : ثَلَاثَةُ آصُعٍ ، قَالَ : فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو بلایا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے اوپر کیا ٹیکس ہے اس نے بتایا تین صاع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کم کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر .
حدیث نمبر: 14810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّائِبَةُ جُبَارٌ ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " ، قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِيُّ الرِّكَازُ : الْكَنْزُ الْعَادِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چراگاہ میں چرنے والے جانور سے ماراجانے ولا رائیگاں گیا کنویں میں گر کر مرنے والے خون رائیگاں گیا کان میں مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور زمین کے دفینے میں بیت المال کا پانچواں حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد .
حدیث نمبر: 14811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمُ الْيَوْمَ عَلَى دِينٍ ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، فَلَا تَمْشُوا بَعْدِي الْقَهْقَرَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ آج ایک صحیح دین پر ہواور میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کر وں گا اور اس لئے میرے بعد الٹے پاؤں واپس نہ لوٹ جانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، ويغني عنه حديث أنس السالف برقم: 12613 «تزوجوا الودود الولود» وحديث أبى هريرة عند البخاري: 6587 فى قصة الحوض: إنهم ارتدوا بعدك على أدبارهم القهقرى.
حدیث نمبر: 14812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَهَا ، إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ ! ، قَالَ : " إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا ، فَإِذَا رَأَيْتُمِ الْجِنَازَةَ ، فَقُومُوا لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے جب ہم اسے کندھا دینے کے لئے گئے تو پتہ چلا کہ یہ تو ایک یہو دی عورت کا جنازہ ہے اس پر ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ تو ایک یہو دی عورت کا جنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موت کی ایک پریشانی ہو تی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14427
حدیث نمبر: 14813
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، وَقَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ : عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَتْ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ ، فَكَانُوا يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا ، أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں وہ انہیں تہائی، چوتھائی اور نصف پیدوار کے عوض کرائے پردے دیتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس کوئی زمین ہواسے چاہیے کہ وہ خود اس میں کھیتی باڑی کر ے یا اپنے بھائی کو ہدیہ کے طور پر دیدے ورنہ اپنی زمین اپنے پاس سنبھال کر رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده من جهة أبى المغيرة الخولاني صحيح، خ: 2340، م: 1536، وأما متابعة محمد بن مصعب القرقساني، فحسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 14814
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا مَاعِزٌ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ يَفْتِنُونَ النَّاسَ ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً ، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً لِلنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2813، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي
حدیث نمبر: 14815
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَيَشْرَبُونَ ، وَلَا يَبُولُونَ فِيهَا وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَتَنَخَّمُونَ ، إِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ جُشَاءً ، وَرَشْحًا كَرَشْحِ الْمِسْكِ ، وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں اہل جنت کھائیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کر یں اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بےاختیار سانس لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي
حدیث نمبر: 14816
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ مَاعِزٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ اب دوبارہ نماز اس کی پوجا کر سکیں گے البتہ وہ ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے درپے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2812، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ماعز التميمي، وانظر: 14366
حدیث نمبر: 14817
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ : اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي أَنْتَ وَعَدْتَهُ ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مؤذن کی اذان سننے کے بعد یہ دعا کر ے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور قائم ہو نے والی نماز کے رب محمد کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام تک پہنچادے جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا : ہوا ہے تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 614
حدیث نمبر: 14818
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ : لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ ، فَقَالَ : تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ابْنَاهُ ، أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ ، وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ایام فتنہ میں کوئی گورنر مدینہ منورہ آیا اس وقت تک سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو چکی تھی کسی نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ ایک طرف کو ہو جائیں تو اچھا ہے اس پر وہ اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا : وہ شخص تباہ ہو جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کرتا ہے ان کے کسی بیٹے نے پوچھا : اباجان نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال فرما چکے اب انہیں کوئی کیسے ڈرا سکتا ہے انہوں نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو اہل مدینہ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان کی چیز کو خوفزدہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد انقطاع، فإن زيد بن أسلم لم يسمع من جابر
حدیث نمبر: 14819
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ : بَصَرَ عَيْنِي ، وَسَمِعَ أُذُنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ ، وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُهَا لِلنَّاسِ يُعْطِيهِمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : اعْدِلْ ، قَالَ : " وَيْلَكَ ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ " ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي أَقْتُلْ هَذَا الْمُنَافِقَ الْخَبِيثَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي ، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کر رہے تھے جو سیدنا بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر افسوس، اگر میں ہی عدل نہ کر وں گا تو اور کون کر ے گا اگر میں عدل نہ کر وں تو خسارے میں پڑجاؤں سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن عياش، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14820
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ هَوَازِنَ بَيْنَ النَّاسِ بِالْجِعْرَانَةِ ، قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ : اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ : " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ ؟ ! لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ " ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَقُومُ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ ؟ ، قَالَ : " مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَتَسَامَعَ الْأُمَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ " ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ الْمِرْمَاةُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " ، قَالَ مُعَاذٌ : فَقَالَ لِي أَبُو الزُّبَيْرِ : فَعَرَضْتُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى الزُّهْرِيِّ ، فَمَا خَالَفَنِي ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : النَّضِيَّ ، قُلْتُ : الْقِدْحُ ؟ ، فَقَالَ : أَلَسْتَ بِرَجُلٍ عَرَبِيٍّ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جعرانہ کے سال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ اس وقت لوگوں میں چاندی تقسیم کر رہے تھے جو سیدنا بلال کے کپڑے میں پڑی ہوئی تھی ایک آدمی کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! عدل کیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر افسوس، اگر میں ہی عدل نہ کر وں گا تو اور کون کر ے گا اگر میں عدل نہ کر وں تو خسارے میں پڑجاؤں سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ لوگ باتیں کرنے لگیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کر وا دیتا ہوں اور یہ اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے سے نہیں اترے گا اور یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3138، م: 1063، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن رفاعة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14821
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْنَا : أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا ذِكْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ ، فَهُمْ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ آج رات ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا ابوبکر کا وزن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا گیا پھر سیدنا عمر کا وزن سیدنا ابوبکر کے ساتھ کیا گیا پھر سیدنا عثمان کا سیدنا عمر کے ساتھ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو ہم آپس میں یہ کہہ رہے تھے کہ اس نیک آدمی سے مراد تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جہاں تک وزن کا معاملہ ہے سو اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس دین کے معاملے کے ذمہ دار ہوں گے جو اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 14822
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّث ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ لَيْلًا ، فَلَا يَأْتِ أَهْلَهُ طُرُوقًا ، كَيْ تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ ، وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جب تم رات کے وقت شہر میں داخل ہو تو بلا اطلاع اپنے گھر مت جاؤ تاکہ شوہر کی غیر موجودگی والی عورت اپنے جسم سے بال صاف کر لے اور پراگندہ حال عورت بناؤ سنگھار کر لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5246، م: 715