حدیث نمبر: 14743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، وَاللَّفْظُ لَفْظُ حَسَنٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الرَّجُلُ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ ؟ " ، قَالَ : انْتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْنَا ، حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ، أَوْ بَلَغَ ذَلِكَ ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " اجْلِسُوا " ، فَخَطَبَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَرَقَدُوا ، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے نماز میں ہی شمار ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے نماز عشاء کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نا آئے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ بیت گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے نماز پڑھی پھر فرمایا کہ بیٹھ جاؤ اور ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں نے نماز پڑھی اور سوگئے اور تم مسلسل نماز میں ہی رہے یعنی جتنی دیر تم نے نماز کا انتظار کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أَحَدُكُمْ أَعْجَبَتْهُ الْمَرْأَةُ ، فَوَقَعَتْ فِي نَفْسِهِ ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَلْيُوَاقِعْهَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے کیونکہ اس طرح اسکے دل میں جو خیالات آئیں گے وہ دور ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1403، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن الهيعة، وانظر: 14537
حدیث نمبر: 14745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنِ الرَّجُلِ يُوتِرُ عِشَاءً ثُمَّ يَرْقُدُ ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ ثُمَّ لِيَرْقُدْ ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُم الْقِيَامَ ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہئے کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ ، يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ ، وَهِيَ كُلَّ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روزانہ رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو دعاء بھی مانگے گا وہ دعاء ضرور قبول ہو گی اور ایسارات میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 757، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة وقد توبع، وفيه عنعنة أبى الزبير وقد توبع أيضا
حدیث نمبر: 14747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ نُعْمَانَ بْنَ قَوْقَلٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا ، أَفَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ " ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کر وں رمضان کے روزے رکھ لیا کر وں اس سے زائد کچھ نہ کر وں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تو انہوں نے کہا کہ واللہ میں اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ نہ کر وں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 15، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وقد توبع هو أيضا
حدیث نمبر: 14748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے ہلکی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : " هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، زَمَانَ غَزْوِنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مغرب اور عشاء کو جمع کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں جس زمانے میں ہم نے بنو مصطلق سے جہاد کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وأنظر: 14274
حدیث نمبر: 14750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنِ التَّصْفِيقِ وَالتَّسْبِيحِ ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے تسبیح اور تصفیق کا مسئلہ پوچھا : تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نماز میں سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے ہے اور ہلکی آواز میں تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14751
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ ، وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کا حکم نازل ہو نے سے قبل چھ مرتبہ جہاد کیا تھا نماز خوف کا حکم ساتویں سال میں نازل ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وفي البخاري: 9125 أن النبى صلى بأصحابه فى الخوف فى غزوة السابعة ، غزوة ذات الرقاع
حدیث نمبر: 14752
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْغُسْلِ ، قَالَ جَابِرٌ : أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " ، وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے غسل ت کے متعلق سوال پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا علاقہ ٹھنڈا ہے تو آپ ہمیں غسل کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیا کرتا تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر لزاما فى صفة غسله صلى الله عليه وسلم من الجنابة حديث عائشة فى مسلم: 316
حدیث نمبر: 14753
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُبَاشِرُ الرَّجُلَ ، فَقَالَ جَابِرٌ : " زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد دوسرے مرد کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضغف ابن لهيعة، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14754
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : الْمَرْأَةِ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ ، قَالَ : " زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم لگاسکتی ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد كسابقه، وأنظر ماقبله
حدیث نمبر: 14755
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُرِيدُ الصِّيَامَ ، وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ لِيَشْرَبَ مِنْهُ ، فَيَسْمَعُ النِّدَاءَ ، قَالَ جَابِرٌ : كُنَّا نُحَدَّثُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِيَشْرَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے ابھی اس کے ہاتھ میں برتن ہے کہ وہ پانی پئے ادھر اذان کی آواز آجاتی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پانی پی لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14756
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَطْلُعُ الشَّمْسُ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14757
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ابوزبیر نے ہدی کے جانور پر سوار ہو نے کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اس پر اچھے طریقے پر سوار ہو سکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1324، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14758
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14759
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ النَّحْرِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا ، وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ ، أَنْ يُعِيدَ نَحْرًا آخَرَ ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ہمیں دس ذالحجہ کو نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے پہلے ہی قربانی کر لی اور وہ یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کر چکے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ جس نے پہلے قربانی کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کر ے اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کیا کر یں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1964، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14130
حدیث نمبر: 14760
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنِ الرَّجُلِ يُوَالِي مَوَالِيَ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ، فَقَالَ : كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ ، ثُمَّ كَتَبَ : " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُوَالِيَ مَوَالِيَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کر لے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرما دی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1507، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14761
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ ، تَخِرُّ مَرَّةً وَتَسْتَقِيمُ مَرَّةً ، وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزِ ، لَا يَزَالُ مُسْتَقِيمًا حَتَّى يَخِرَّ وَلَا يَشْعُرَ " ، قَالَ حَسَنٌ : " الْأَرْزَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کی مثال گندم کے خوشے کی سی ہے جو کبھی گرتا ہے اور کبھی سنبھلتا ہے اور کافر کی مثال چاول کی سی ہے جو ہمیشہ تنا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ گرجاتا ہے اور اس پر بال نہیں آتے (یا اسے پتہ بھی نہیں چلتا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ- لكن روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عساكر فى تاريخه: 1/ 126، وروايته عنه صالحة عند أهل العلم، لأنه روى عنه قديما قبل احتراق كتبه
حدیث نمبر: 14762
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ خُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا خُسِفَا ، أَوْ أَحَدُهُمَا ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ خُسُوفُ أَيِّهِمَا خُسِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سورج گرہن کے متعلق پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند اور سورج گرہن کو گہن لگ جاتا ہے جب تم ایسی چیز دیکھا کر و تو اس وقت تک نماز پڑھتے رہا کر و جب تک گہن ختم نہ ہو جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14763
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، عَنِ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ ، فَقَالَ جَابِرٌ : أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ : أَنْ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ " ، قَالَ جَابِرٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا : جس کے قتل ہو نے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا جو مؤمن ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد صح الحديث من غير طريقه وبغير هذه السياقة، انظر: 15429، وأما قصة القتيل فانظر: 8090، فهاتان حادثتان مختلفتان، قد خلط بينهما ابن لهيعة، وأخطأ فى اسم المنادي، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14764
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْقَتِيلِ الَّذِي قُتِلَ ، فَأَذَّنَ فِيهِ سُحَيْمٌ ، قَالَ : كُنَّا بِحُنَيْنٍ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ : أَنْ لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ " ، قَالَ : وَلَا أَعْلَمُهُ قُتِلَ أَحَدٌ ، قَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ : قَتَلَ أَحَدًا .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس مقتول کے متعلق پوچھا : جس کے قتل ہو نے کے بعد سحیم نے منادی کی تھی انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحیم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو گا جو مؤمن ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14765
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْعَدْوَى شَيْئًا ؟ ، قَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " كُلُّ عَبْدٍ طَائِرُهُ فِي عُنُقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر بندے کا پرندہ (نامہ اعمال) اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ ، وَصَلُّوا عَلَى الْمَيِّتِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَوَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھے طریقے سے اسے کفنائے اور یہ کہ اپنے مردوں پر خواہ دن ہو یا رات چار تکبیرات پڑھا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكن الشطر الأول منه صحيح، تابعه عليه غير واحد، انظر: 14145
حدیث نمبر: 14767
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ وَهُوَ الْقِطُّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وانظر: 14166
حدیث نمبر: 14768
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ : " اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن معاذ کا جنازہ رکھا ہوا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اس پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3803، م: 2466، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14769
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَبُولُونَ ، إِنَّمَا طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ ، رَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ ، وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ ، كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کر یں گے اور نہ ہی ناک صاف کر یں گے یا تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی خوشبو کی طرح ہو گا اور وہ اس طرح تسبیح وتحمید کرتے ہوں گے جیسے بےاختیار سانس لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2835، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر: 15117
حدیث نمبر: 14770
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ يُونُسُ : عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی ایک کپڑے میں اپنا جسم لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14771
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَكِي حَاطِبًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَذَبْتَ ، لَا يَدْخُلُهَا ، فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! حاطب ضرور جہنم میں داخل ہو گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائے کیونکہ وہ غزوہ بدر و حدیبیہ میں شریک تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2495
حدیث نمبر: 14772
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ ، وَلَمْ يَشْعُرْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِعْنِيهِ " ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک غلام آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ نہیں تھا کہ یہ غلام ہے اتنے میں اس کا آقا اسے تلاش کرتا ہوا آگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے ہاتھ بیچ دو اور دو سیاہ فام غلام دے کر اسے خرید لیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے اس وقت تک بیعت نہ لیتے تھے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1602
حدیث نمبر: 14773
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ، فَحَسَمَهُ فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ، فَحَسَمَهُ أُخْرَى ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ ، فَنَزَفَهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي ، حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ ، فَحَكَمَ أَنْ تُقْتَلَ رِجَالُهُمْ ، وَتُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ ، لِيَسْتَعِينَ بِهِمُ الْمُسْلِمُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ " ، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ قَتْلِهِمْ ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احزاب میں سیدنا سعد بن معاذ کے بازو کی رگ میں ایک تیر لگ گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دست مبارک سے چوڑے پھل کے تیرے سے اسے داغا وہ سوج گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ داغ دیاتین مرتبہ ایسے ہی ہوا اور ان کا خون بہنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے دعا کی اے اللہ میری روح اس وقت تک قبض نہ فرمانا جب تک بنوقریظہ کے حوالے سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں چنانچہ ان کا خون رک گیا اور ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا حتی کہ بنوقریظہ کے لوگ سیدنا سعد کے فیصلے پر نیچے اتر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل اور عورتوں کو اور بچوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ مسلمان ان سے کام لے سکیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے متعلق اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا ہے ان لوگوں کی تعداد چار سو افراد تھی جب ان کے قتل سے فراغت ہوئی تو ان کی رگ سے خون بہہ پڑا اور وہ فوت ہو گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقد سلف هكذا مختصرا برقم: 14343
حدیث نمبر: 14774
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ ، كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ غَزْوَهُمْ ، فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأُخِذَ كِتَابُهَا مِنْ رَأْسِهَا ، وَقَالَ : " يَا حَاطِبُ ، أَفَعَلْتَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ ، وَقَالَ يُونُسُ : غِشًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا نِفَاقًا ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرٌ رَسُولَهُ ، وَمُتِمٌّ لَهُ أَمْرَهُ ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرِيهِمْ ، وَكَانَتْ وَالِدَتِي مِعَهُمْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَ هَذَا عِنْدَهُمْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَلَا أَضْرِبُ رَأْسَ هَذَا ؟ ، قَالَ : " أَتَقْتُلُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ نے ایک خط لکھ کر اہل مکہ کو متنبہ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جہاد کا ارادہ فرما رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک عورت کا پتہ بتایا جس کے پاس وہ خط تھا اور اس کے پیچھے اپنے صحابہ کو بھیجا جنہوں نے وہ خط اس کے سر میں سے حاصل کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حاطب کیا تم نے ہی یہ کام کیا ہے انہوں نے عرض کی جی ہاں لیکن میں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا کہ اللہ کے پیغمبر کو دھوکہ دے سکوں مجھے یقین ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو غالب کر کے اور اپنے حکم کو پورا کر کے رہے گا البتہ بات یہ ہے کہ میں قریش میں ایک اجنبی تھا میری والدہ وہاں تھی میں چاہتا ہوں کہ ان پر یہ احسان کر دوں تاکہ وہ میری والدہ کا خیال رکھیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اہل بدر میں سے ایک آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ نے اہل بدر کو آسمان سے جھانک کر دیکھا اور فرمایا : تم جو چاہو کرتے رہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14484
حدیث نمبر: 14775
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا " ، قَالَ : حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدنا ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت چاہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ جا کر انہیں سینگی لگادیں غالباً وہ سیدنا ام سلمہ کا رضاعی بھائی تھا اور وہ چھوٹا لڑکا تھا جواب تک بالغ نہ ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وأنظر: 2206
حدیث نمبر: 14776
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ وكَانُوا إِذَا " حَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ، فَبَعَثَ بِالْهَدْيِ ، فَمَنْ شَاءَ مِنَّا أَحْرَمَ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ جب نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کا جانور بھی ساتھ لیا تھا سو ہم میں سے جس نے چاہا احرام باندھ لیا اور جس نے چاہا ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر لزاما: 14129
حدیث نمبر: 14777
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 281
حدیث نمبر: 14778
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14484
حدیث نمبر: 14779
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ ، فَقَدْ رَآنِي ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " إِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يُخْبِرَنَّ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو خواب میں میری زیارت ہواس نے میری ہی کی زیارت کی کیونکہ میری صورت اختیار کرنا شیطان کے بس میں نہیں ہے۔ اور فرمایا : تم شیطان کے کھیل تماشوں کو جو وہ تمہارے ساتھ خواب میں کھیلتا ہے دوسروں کے سامنے بیان مت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2268، وانظر: 14293
حدیث نمبر: 14780
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمِ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا ، فَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا ، وَقَالَ يُونُسُ فَلْيَبْصُقْ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا ، وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص ایساخواب دیکھے جو اسے اچھا نہ لگے تو اسے چاہیے کہ بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دے اور تین مرتبہ اعوذ با اللہ پڑھ لیا کر ے اور پہلو بدل لیآ کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2262
حدیث نمبر: 14781
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ أَنْ لَا يَجِيءَ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو جو صدقہ دیا کرتا تھا حکم دیا کہ مسجد میں تیر نہ لایا کر ے الاّ یہ کہ اس کے پھل سے اسے پکڑ رکھا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2614، وانظر: 14310
حدیث نمبر: 14782
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ ، مَسْجِدِي هَذَا ، وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں بیت اللہ شریف ہے اور میری مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح