حدیث نمبر: 14703
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ ، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14704
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قِرَاءَةً ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ ، فَأُصِيبَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا ، وَجَاءَ زَوْجُهَا وَكَانَ غَائِبًا ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَنْتَهِيَ حَتَّى يُهْرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا ، فَقَالَ : " مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ ؟ " فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَا : نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَكُونُوا بِفَمِ الشِّعْبِ " ، قَالَ : وَكَانُوا نَزَلُوا إِلَى شِعْبٍ مِنَ الْوَادِي ، فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْمُهَاجِرِيِّ : أَيُّ اللَّيْلِ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أَكْفِيَكَهُ ، أَوَّلَهُ أَوْ آخِرَهُ ؟ ، قَالَ : اكْفِنِي أَوَّلَهُ ، فَاضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ ، فَنَامَ ، وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّي ، وَأَتَى الرَّجُلُ ، فَلَمَّا رَأَى شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةُ الْقَوْمِ ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ، ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ وَثَبَتَ قَائِمًا ، ثُمَّ عَادَ لَهُ بِثَالِثٍ ، فَوَضَعَهُ فِيهِ ، فَنَزَعَهُ فَوَضَعَهُ ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ، ثُمَّ أَهَبَّ صَاحِبَهُ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ، فَقَدْ أُوتِيتَ ، فَوَثَبَ ، فَلَمَّا رَآهُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنْ قَدْ نَذَرُوا بِهِ ، فَهَرَبَ ، فَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدِّمَاءِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَلَا أَهْبَبْتَنِي ؟ ، قَالَ : كُنْتُ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا حَتَّى أُنْفِذَهَا ، فَلَمَّا تَابَعَ الرَّمْيَ ، رَكَعْتُ فَأُرِيتُكَ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْلَا أَنْ أُضَيِّعَ ثَغْرًا ، أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِهِ ، لَقَطَعَ نَفْسِي قَبْلَ أَنْ أَقْطَعَهَا ، أَوْ أُنْفِذَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے سلسلے میں نکلے اس غزوے میں مشرکین کی ایک عورت بھی ماری گئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اس عورت کا خاوند واپس آیا اس نے اپنی بیوی کو مرا ہوا دیکھ کر قسم کھائی کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصحاب محمد میں خون نہ بہادے یہ قسم کھا کر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات قدم پر چلتا ہوا نکل آیا۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منزل پر پہنچ کر پڑاؤ کیا اور فرمایا کہ آج رات کو کون پہرہ دے گا اس پر ایک مہاجر اور ایک انصاری نے اپنے آپ کو پیش کیا اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ہم کر یں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ایسا کر و کہ اس گھاٹی کے دہانے پر جا کر پہرہ داری کر و کیونکہ وہ لوگ ایک گھاٹی میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو انصاری نے مہاجر سے پوچھا کہ تمہیں رات کا کون ساحصہ پسند ہے جس میں میں تمہاری طرف سے کفایت کر وں۔ پہلا یا آخری ؟ اس نے کہا پہلے حصے میں تم باری کر لو دوسرے حصے میں میں کر لوں گا۔ چنانچہ مہاجر لیٹ کر سو گیا اور انصاری کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا ادھر وہ مشرک آپہنچا جب اس نے دور سے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ لوگوں کا پہرہ دار ہے چنانچہ اس نے دور ہی سے تاک کر اسے تیر مارا اور اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک دیا خود ثابت قدمی کے ساتھ نماز پڑھتا رہا مشرک نے دوسرا تیرمارا اور وہ بھی اس کے جسم میں اتار دیا انصاری نے کھینچ کر اسے نکالا اور اسے پھینک کر خود رکوع سجدہ میں گیا اور اپنے ساتھی کو بیدار کیا اس نے اسے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود چھلانگ لگائی جب اس مشرک نے ان دونوں کو دیکھا تو سمجھ کیا کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل گیا ہے اس لئے وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ پھر مہاجر نے انصاری کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر تعجب سے سبحان اللہ کہا اور کہا کہ مجھے جگایا کیوں نہیں انصاری نے جواب دیا میں ایک سورت پڑھ رہا تھا میں نے اسے پورا کیے بغیر نماز ختم کرنا اچھا نہیں سمجھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ اس نے مجھ پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی تب میں نے رکوع کیا اور تمہیں جگا دیا واللہ اگر پہرہ داری ضائع ہو نے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مامور کیا تھا تو اس سورت کو ختم کرنے سے پہلے میری جان ختم ہو تی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عقيل ابن جابر فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 14705
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ ، أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی پہن کر چلے یا ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آتی ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2099
حدیث نمبر: 14706
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نِسْطَاسٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى مِنْبَرِي كَاذِبًا ، إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14707
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، يَقُولُ : " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ ، خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَمَعِيشَتِي ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ ، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَاصْرِفْهُ عَنِّي ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ " ، وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : " وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي ، فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، وَاصْرِفْهُ عَنِّي ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَاه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کرنے طریقہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم کام پیش آ جائے تو اسے چاہیے کہ فرائض کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر یہ دعا کر ے کہ اے اللہ میں آپ سے آپ کے علم کی برکت سے خیر طلب کرتا ہوں آپ کی قدرت سے قدرت طلب کرتا ہوں اور آپ سے آپ کا فضل مانگتا ہوں کیونکہ آپ قادر ہیں میں قادر نہیں ہوں آپ جانتے ہیں میں کچھ نہیں جانتا اور آپ علام الغیوب ہیں۔ اے اللہ اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام یہاں اپنے کام کا نام لے میرے لئے دین معیشت اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے تو اسے میرے لئے مقدر فرما دیجیے اسے میرے لئے آسان کر دیجیے اور مبارک فرمائیے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے دین، معیشت اور انجام کے اعتبار سے برا ہے تو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دیجیے اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجیے خواہ کہیں بھی ہواور پھر مجھے اس پر راضی کر دیجیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1162
حدیث نمبر: 14708
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ يَعُودُ مَرِيضًا ، فَاسْتَسْقَاهُمْ ، وَجَدْوَلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ ، فَقَالَ : " إِنْ كَانَ عِنْدَهُمْ مَاءٌ قَدْ بَاتَ فِي شَنٍّ ، وَإِلَّا كَرَعْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے گھر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اس کے قریب ہی ایک چھوٹی نالی بہہ رہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پینے کے لئے پانی منگواتے ہوئے فرمایا : اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچاہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل فليح بن سليمان، وانظر: 14519
حدیث نمبر: 14709
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَمِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَائِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پانی ڈال دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده ،خ :6021 مختصرا «كل معروف صدقة» ، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنكدر بن المنكدر،وقد توبع على بعضه،ولبقية شواهد تصححه
حدیث نمبر: 14710
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوراسال روزے رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره،وهذا إسناد ضعيف لضعف عمرو بن جابر الحضرمي، وانظر:14302
حدیث نمبر: 14711
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُوجِبَتَانِ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يُشْرِكٌ دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کر ے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 93، وهذا إسناد حسن من أجل المبارك، وهو ابن فضالة البصري .
حدیث نمبر: 14712
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2847، م: 2415
حدیث نمبر: 14713
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، إِلَّا أَنْ يُغْزَى ، أَوْ يُغْزَوْا ، فَإِذَا حَضَرَهُ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الاّ یہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کر دی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہو نے تک رک جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14714
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2515، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر: 15113، وصرح هناك أبو الزبير بالسماع .
حدیث نمبر: 14715
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، وَالْإِيمَانُ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اور نرمی اہل حجاز میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 53، وهذا إسناد ضعيف، أبن لهيعة سيئ الحفظ ، وهو متابع.
حدیث نمبر: 14716
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، حَتَّى لَا أَذَرَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادنقل کرتے ہیں کہ میں جزیرہ عرب سے یہو د و نصاری کو نکال کر رہوں گا اور اس میں مسلمان کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع.
حدیث نمبر: 14717
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ : " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ؟ ! أُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2538، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر: 14451
حدیث نمبر: 14718
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ : مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنَسِيُّ ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ ، وَمِنْهُمْ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " ، قَالَ جَابِرٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِي يَقُولُ : " قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے (تیس کے قریب) کذاب ہوں گے انہی میں یمامہ کا مدعی نبوت صنعاء کا مدعی نبوت بھی شامل ہے اور انہیں میں دجال بھی شامل ہو گا جس کا فتنہ ان سب سے بڑا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وصح من حديث أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون، قريب من ثلاثين، كلهم يزعم أنه رسول الله، وسلف برقم: 7228، وهو عند مسلم:
حدیث نمبر: 14719
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي ، فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ ، فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کر وں گا اگر تم مجھے دیکھ نہ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکر مہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہو گا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، انظر: 15120، وقد صرح هناك أبو الزبير بالسماع
حدیث نمبر: 14720
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ : " فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمْ ، فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ : تَعَالَ صَلِّ بِنَا ، فَيَقُولُ : لَا ، إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ ، لِيُكْرِمَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ سیدنا عیسیٰ نازل ہو جائیں گے تو ان کا امیر عرض کر ے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرما سکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 156، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع برقم: 15127، وصرح هناك أبو الزبير بالتحديث
حدیث نمبر: 14721
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنِ الْوُرُودِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَوْمٍ فَوْقَ النَّاسِ ، فَيُدْعَى بِالْأُمَمِ وَبِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ ، الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ، ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ ؟ ، فَيَقُولُونَ : نَنْتَظِرُ رَبَّنَا ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَيَقُولُونَ : حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْهِ " ، قَالَ : " فَيَتَجَلَّى لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَضْحَكُ ، وَيُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ ، مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٍ ، نُورًا ، وَتَغْشَاهُ ظُلْمَةٌ ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ مَعَهُمْ الْمُنَافِقُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ ، فِيهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ ، يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ ، ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ ، وَيَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ ، فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ ذَلِكَ حَتَّى تَحِلَّ الشَّفَاعَةُ ، فَيَشْفَعُونَ حَتَّى يُخْرَجَ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مِمَّنْ فِي قَلْبِهِ مِيزَانُ شَعِيرَةٍ ، فَيُجْعَلَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ ، وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يُهْرِيقُونَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْمَاءِ ، حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ ، وَيَذْهَبُ حَرَقُهُمْ ، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، حَتَّى يُجْعَلُ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آ کر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چنانچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہو گا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکا مومن، ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھا جائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق کا نور بجھ جائے گا اور مسلمان اس پل صراط سے نجات پاجائیں گے۔ نجات پانے والے مسلمانوں کا پہلا گروہ اپنے چہروں میں چودہو یں رات کے چاند کی طرح ہو گا یہ لوگ ستر ہزار ہوں گے اور ان کا حساب نہ ہو گا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہو گے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی اور لوگ سفارش کر یں گے جس کی بناء وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہو جائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا اور انہیں دنیا سے دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 191، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة ، وهو متابع ، وانظر: 15115
حدیث نمبر: 14722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ فَتَّانِي الْقَبْرِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا ، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَهُ ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، جَاءَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ ، فَيَقُولُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : أَقُولُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ ، فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ : انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي النَّارِ ، قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ ، فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ : دَعُونِي أُبَشِّرْ أَهْلِي ، فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ، فَيُقْعَدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلُهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ ، فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ ، فَيُقَالُ لَهُ : لَا دَرَيْتَ ، هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي كَانَ لَكَ مِنَ الْجَنَّةِ ، قَدْ أُبْدِلْتَ مَكَانَهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ جَابِرٌ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ ، وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے قبر میں آزمائش کرنے والے دو فرشتوں کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت کو اس کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے چنانچہ جب کسی مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو ایک ایسا فرشتہ آتا ہے جس کی ڈانٹ بہت سخت ہو تی ہے وہ مردے سے پوچھتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر اور اس کے بندے تھے وہ فرشتہ کہتا ہے کہ اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو جو جہنم میں تمہارے لئے تیار تھا، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطاء فرمائی اور جہنم کے اس ٹھکانے سے بدل کر جنت کا وہ ٹھکانہ تمہیں عطا فرمائے گا جو تم دیکھ رہے ہو وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے یہ سن کر وہ مسلمان کہتا ہے کہ مجھے اجازت دو کہ میں اپنے گھر والوں کو جا کر خوشخبری سنا آؤں اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں پر سکون حاصل کر و۔ اور اگر مردہ منافق ہو تو جب اس کے اہل خانہ پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تو اسے بٹھا دیا جاتا ہے اور اس سے پوچھا : جاتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے جو کہتے تھے میں بھی وہی کہہ دیتا تھا اسے کہا جاتا ہے کہ تو کچھ نہ جانے جنت میں تیرا یہ ٹھکانہ نہ تھا جو اب اللہ نے بدل کر جہنم میں تیرا یہ ٹھکانہ مقرر کر دیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبر میں ہر شخص کو اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہو مومن اپنے ایمان پر اور منافق اپنے نفاق پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14723
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنِ الْجِنَازَةِ ، قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ وَمَنْ مَعَهُ ، حَتَّى تَوَارَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے جنازے کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اور صحابہ کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 960، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14724
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ " ، قَالَ : فَكَبَّرْنَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع برقم: 15114، وصرح أبو الزبير هناك بالتحديث
حدیث نمبر: 14725
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَمْرَضُ مُؤْمِنٌ وَلَا مُؤْمِنَةٌ ، وَلَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ ، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَتُهٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مومن مرد عورت اور جو مسلمان مردو عورت بیمار ہوتا ہے اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14726
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ ، لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ " ، قَالَ : فَخَالَفَ عَلَيْهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حَتَّى رَفَضَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل ایک کاغذ منگوایا تاکہ ایک ایسی تحریر لکھوادیں جس کی موجودگی میں لوگ گمراہ نہ ہو سکیں لیکن سیدنا عمر نے اس میں دوسری رائے اختیار کی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع، لكن تبقى فيه عنعنة أبى الزبير
حدیث نمبر: 14727
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : أَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ ، وَأُرِيقَ دَمُهُ " ؟ ، فَقَالَ جَابِرٌ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے افضل جہاد اس شخص کا ہے جس کے گھوڑے کے پاؤں کٹ جائیں اور اس کا اپنا خون بہہ جائے انہوں نے فرمایا : ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14728
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ صَدَقَةٌ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے افضل صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری رکھ کر ہواور صدقات میں آغاز ان لوگوں سے کیا کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہواور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع ، انظر: 14531
حدیث نمبر: 14729
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ يُسَلِّمُ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " ؟ قَالَ : نَعَمْ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : قَالَ : وَسَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ حِينَ يَدْخُلُ ، وَحِينَ يَطْعَمُ ، قَالَ الشَّيْطَانُ : لَا مَبِيتَ لَكُمْ ، وَلَا عَشَاءَ هَاهُنَا ، وَإِنْ دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ دُخُولِهِ ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عِنْدَ مَطْعَمِهِ ، قَالَ : أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " ؟ ، قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب انسان گھر میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سلام کرے۔ اور یہ کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے، انہوں نے فرمایا : ہاں ۔ اور میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہو اور داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام لے تو شیطان کہتا ہے کہ یہاں تمہاری رات گزارنے کی جگہ ہے نہ کھانا۔ اور اگر گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تم کو رات گزارنے کی جگہ تو مل گئی اور اگر کھانا کھاتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے کہ تمہیں کھانا اور ٹھکانہ دونوں مل گیا انہوں نے فرمایا : ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2061، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع، وسيأتي الشطر الثاني برقم: 15108، وهو فى مسلم: 2018
حدیث نمبر: 14730
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا ، عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمَشَقَّةَ وَالْحَرَّ ، فَقَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوَهُ ، فَإِنْ كَرِهَ أَحَدٌ أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ ، فَلْيُطْعِمْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے انسان کے خادم کے متعلق دریافت کیا جو مشقت اور گرمی سے انہیں بچاتا ہوانہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کھانے کے وقت انہیں بھی بلا لیا کر یں اور اگر اپنے ساتھ اس کا کھانا اچھا نہ سمجھتاہو تو اسے چاہے کہ اپنے ہاتھ ایک لقمہ ہی اسے دیدے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14731
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ؟ " ، قَالَ جَابِرٌ : لَمْ أَسْمَعْهُ ، قَالَ جَابِرٌ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عُمْرَ أَنَّهُ قَدْ سَمِعَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے وقت سنا ہے کہ جس وقت کوئی شخص بدکاری کر رہا ہوتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص چوری کر رہا ہوتا تو وہ اس وقت مومن نہیں رہتا انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہیں سنی البتہ ابن عمر نے بتایا ہے کہ انہوں نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، ويشهد له حديث أبى هريرة السالف برقم: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن الهيعة
حدیث نمبر: 14732
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرًا أخْبَرَهُ : أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ " ، فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک تیز آندھی آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ منافق موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتا چلا تو واقعی بہت بڑا منافق مرگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14733
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فُتِحَتْ حُنَيْنٌ بَعَثَ سَرَايَا ، فَأَتَوْا بِالْإِبِلِ وَالشَّاءِ ، فَقَسَموهَا فِي قُرَيْشٍ ، قَالَ : فَوَجَدْنَا أَيُّهَا الْأَنْصَارُ عَلَيْهِ ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَنَا فَخَطَبَنَا ، فَقَالَ : " أَلَا تَرْضَوْنَ أَنَّكُمْ أُعْطِيتُمْ رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَوَاللَّهِ لَوْ سَلَكَتِ النَّاسُ وَادِيًا ، وَسَلَكْتُمْ شِعْبًا ، لَاتَّبَعْتُ شِعْبَكُمْ " ، قَالُوا : رَضِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین میں فتح حاصل کر لی تو آپ نے مختلف دستے روانہ فرمائے وہ اونٹ اور بکریاں لے کر آئے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں تقسیم کر دیا ہم انصار نے اس بات کو اپنے دل میں محسوس کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ نے ہمیں جمع کر کے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں اللہ کے رسول مل جائے واللہ اگر لوگ ایک راستے پر چل رہے ہوں اور تم دوسری گھاٹی میں ہو تو میں تمہاری گھاٹی کو اختیار کر وں گا اس پر وہ کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ! ہم راضی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، يشهد له حديث أنس السالف برقم: 12608
حدیث نمبر: 14734
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْعَقَبَةِ ، قَالَ : شَهِدَهَا سَبْعُونَ ، فَوَافَقَهُمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِيَدِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ستر آدمی شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ سیدنا عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14735
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ مِنْهَا ، ثُمَّ لَا يَعْمُرُوهَا ، أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِيلًا ، ثُمَّ تُعْمَرُ ، وَتَمْتَلِئُ ، وَتُبْنَى ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا ، فَلَا يَعُودُونَ إِلَيْهَا أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ سیدنا عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مکہ (وہاں مکہ) سے نکل جائیں گے پھر دوبارہ اسے آباد نہ کر سکیں گے یا بہت کم آباد کر سکیں گے تو پھر وہاں عمارتیں تعمیر ہو جائیں گے پھر وہ اس سے نکلے گے تو کبھی دوبارہ نہ آسکیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14736
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جِهَةِ الْمَدِينَةِ " ، قَالَ قُتَيْبَةُ : فِي جَانِبِ الْمَدِينَةِ ، فَلِيَقُولَنَّ : لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار وادی مدینہ کے ایک پہلو میں چل رہا ہو گا اور کہے گا کبھی یہاں بھی بہت سے مومن آباد ہوا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14737
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرًا ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَحْمِلُ فِيهَا السِّلَاحَ لِقِتَالٍ " ، فَقَالَ قُتَيْبَةُ : يَعْنِي الْمَدِينَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ میں کسی کے لئے قتال کی نیت سے اسلحہ اٹھاناجائز اور حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، م: 1356، لكن جعله في مكة وليس في المدينة
حدیث نمبر: 14738
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَيْهِ رَاهِبٌ مِنَ الشَّامِ جُبَّةً مِنْ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا ، وَأُخْبِرَ بِوَفْدٍ يَأْتِيهِ ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الدُّنْيَا ، وَيَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الْآخِرَةِ ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ " ، فَقَالَ : أَتَكْرَهُهَا وَآخُذُهَا ؟ ! ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا ، وَلَكِنْ تُرْسِلُ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ ، فَتُصِيبُ بِهَا مَالًا " ، فَأَبَى عُمَرُ ، فَأَرْسَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آ کر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو سیدنا عمرنے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرمالیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہو گا البتہ عمر تم اسے لے لو سیدنا عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کر یں اور میں اسے لے لوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کر لو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14739
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، وَحَسَنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَقَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَرْكَبُهَا ، وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سرخ کجاوے کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس پر سوار نہیں ہوتا اور میں ایسی قمیض نہیں پہنتا جس کے کف ریشمی ہوں اور نہ ہی ریشمی لباس پہنتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14740
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْبَهْزِيَّةِ أُمِّ مَالِكٍ ، كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَمَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا عَنْ إِدَامٍ ، وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ ، فَعَمَدَتْ إِلَى نِحْيِهَا الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ السَّمْنَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَتْ فِيهِ سَمْنًا ، فَمَا زَالَ يُقِيمُ لَهَا إِدَامَ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَعَصَرْتِيهِ ؟ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ مُقِيمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام مالک البہزیہ یہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا کر تی تھی ایک دفعہ اس بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی بھیجا کر تی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چنانچہ وہ کافی عرصے تک اپنے بچوں کو دیتی رہی سالن کے طور پر حتی کے ایک دن اسے اس نے نچوڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سارا واقعہ بیان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے یونہی رہنے دیتیں تو اس میں ہمشیہ گھی رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2280، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَطْعِمُهُ ، فَأَطْعَمَهُ شَطْرَ وَسْقِ شَعِيرٍ ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ ، حَتَّى كَالُوهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ ، لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ، وَلَقَامَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصف وسق جو عطاء فرمادیئے اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کے ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ ، أَوْ فِي الْمَجْلِسِ ، يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ ، يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ ، فَقَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، أَوَ لَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا ؟ فَإِذَا سَلَلْتُمْ السَّيْفَ ، فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ، ثُمَّ لِيُعْطِهِ كَذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ بنہ جہنی مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ما مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھیں تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو ایسا کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو تی ہے کیا میں نے تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے ہو تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وابن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - لكن روي عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عبدالبر فى الاستيعاب: 1/ 183، 182، وروايته عنه صالحة