حدیث نمبر: 14663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ ، أَنْ نَصُومَهُ ، وَقَالَ : " هُوَ يَوْمٌ كَانَتِ الْيَهُودُ تَصُومُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا جبکہ پہلے یہو دی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةَ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا الْإِدَامَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ ، فَعَمَدَتْ إِلَى عُكَّتِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدَتْ فِيهَا سَمْنًا ، فَمَا زَالَ يَدُومُ لَهَا أُدْمُ بَنِيهَا ، حَتَّى عَصَرَتْهُ ، وَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَعَصَرْتِيهِ ؟ " ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ لَكِ مُقِيمًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام مالک جہزیہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بیجھا کر تی تھی ایک دفعہ اس کے بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی بھیجا کر تی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چنانچہ وہ اسے کافی عرصے تک اپنے بچوں کے سالن کے طور پر استعمال کر تی رہی حتی کہ ایک دن اس نے اسے نچوڑ لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ساراواقعہ سنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے یونہی رہنے دیتیں تو اس میں ہمیشہ گھی رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2280، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ تَمَنَّى آخَرَ " ؟ ، فَقَالَ جَابِرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ ، ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ ، حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اگر ابن آدم کے پاس ایک وادی ہو تی تو وہ دوسری کی تمنا کرتا انہوں نے فرمایا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر ابن آدم کے پاس کھجوروں کے درختوں کی ایک پوری وادی ہو تو وہ دو کی اور دو ہوں تو تین کی تمنا کر ے گا اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة ، وقد توبع
حدیث نمبر: 14666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہواس میں عشر واجب ہو گا اور جو ڈول سے سیراب ہواس میں نصف عشر واجب ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 981، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 14667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُذْكَرُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ ، وَفِيمَا سَقَتِ السَّانِيَةُ نِصْفُ الْعُشُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو زمین بارش یا چشموں سے سیراب ہواس میں عشر واجب ہو گا اور جو ڈول سے سیراب ہواس میں نصف عشر واجب ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 981، وانظرماقبله
حدیث نمبر: 14668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 281، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14669
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِيرُ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ ، وَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمارا پروردگار فرماتا ہے کہ روزہ ایک ڈھال ہے جس سے انسان جہنم سے اپنا بچاؤ کرتا ہے اور روزہ خاص میرے لئے ہے لہذا اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشوا هده، وهذا إسناد حسن وابن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - فإن رواية عبدالله بن المبارك عنه صالحة، فيحسن حديثه
حدیث نمبر: 14670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، فَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكُمْ ، فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ " ؟ ، وَقَالَ : جَابِرٌ : هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم چاند دیکھ لو تب روزہ رکھا کر و اور اگر کسی دن بادل چھا جائے تو تیس دن کی گنتی پوری کر و۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا ٢٩ راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے اور فرمایا کہ کبھی مہینہ ٢٩ کا بھی ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا : مَتَى كَانَ يَرْمِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، فَقَالَ : " أَمَّا أَوَّلَ يَوْمٍ فَضُحًى ، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَعِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت رمی فرماتے تھے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکر یاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1299، وهذا إسناد حسن، عبدالله بن لهيعة- وإن كان سيئ الحفظ - لكن روى عنه هذا الحديث عبد الله بن وهب عند البيهقي: 131\5،وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 14672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَعْجَبَتْ أَحَدَكُمْ الْمَرْأَةُ ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَلْيُوَاقِعْهَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ يَرُدُّ مِنْ نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے کیونکہ اس طرح کے جو خیالات دل میں ہو نگے وہ دور ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 1403، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وانظر: 14537
حدیث نمبر: 14673
حَدَّثَنَا حَسَنٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ ، فَقَالَ : اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ قبیلہ ثقیف نے کس طرح بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ قبیلے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی تھی کہ ان پر صدقہ ہو گا اور نہ ہی جہاد۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا " ، يَعْنِي : ثَقِيفًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب یہ لوگ (قبیلہ بنوثقیف والے جب مسلمان ہو جائیں گے تو صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کر یں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بَعْدَ أَنْ رَجَعْنَا : " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَأَقْوَامًا ، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا ، وَلَا هَبَطْتُمْ وَادِيًا ، إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ ، حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ مدینہ منورہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلو اور جس وادی کو بھی طے کر و وہ تمہارے ساتھ ساتھ رہے انہیں مرض نے روک رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1911، وهذا إسناد ضعيف من اجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالْمَدِينَةِ ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، حَتَّى دَفَعَتِ الرِّحَالَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا لِمَوْتِ الْمُنَافِقِ " ، فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَوَجَدْنَاهُ مُنَافِقًا عَظِيمَ ، النِّفَاقِ قَدْ مَاتَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان صحابہ کسی جہاد میں شریک تھے اچانک اتنی تیز آندھی آئی کہ کئی لوگوں کو اڑا کر لے گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک منافق کی موت کی علامت ہے چنانچہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو پتہ چلا کہ واقعی ایک بہت ہی بڑا منافق مرگیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2782، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْعَقَبَةِ ، فَقَالَ : شَهِدَهَا سَبْعُونَ ، فَوَافَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِيَدِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ستر آدمی شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں تشریف لائے تھے کہ کہ سیدنا عباس نے ان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بیعت لے لی اور وعدہ دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَسِيرَنَّ رَاكِبٌ فِي جَنْبِ وَادِي الْمَدِينَةِ ، فَلَيَقُولَنَّ : لَقَدْ كَانَ فِي هَذِهِ مَرَّةً حَاضِرَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَثِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب ایک سوار وادی مدینہ کے ایک پہلو میں چل رہا ہو گا اور کہے گا کہ کبھی یہاں بھی موت سے مؤمن آباد ہوا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا مُرْطِبَةً " ، قَالُوا : فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " عَافِيَةُ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ منورہ کو ایک وقت میں یہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ اس وقت مدینہ منورہ میں بہت عمدہ حالت ہو گی صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر اسے کون کھائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : درندے اور پرندے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى الْمَدِينَةِ زَمَانٌ يَنْطَلِقُ النَّاسُ مِنْهَا إِلَى الْآفَاقِ يَلْتَمِسُونَ الرَّخَاءَ ، فَيَجِدُونَ رَخَاءً ، ثُمَّ يَأْتُونَ ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ إِلَى الرَّخَاءِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ منورہ پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا جب لوگ یہاں سے مدینہ منورہ کے کونے کونے کی طرف آسانی کی تلاش میں نکل جائیں گے انہیں آسانی اور سہو لیات مل جائیں گی اور وہ واپس آ کر اپنے گھر والوں کو بھی انہی سہو لیات میں لے جائیں گے حالانکہ اگر انہیں نہیں پتہ ہوتا تو مدینہ منورہ پھر بھی ان کے لئے بہتر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة، وانظر ما قبله، وله شاهد من حديث سفيان بن أبى زهير عند البخاري: 1875، ومسلم: 1388
حدیث نمبر: 14681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ ، جُزْءٌ مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مرد مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14682
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ مِيثَرَةِ الْأُرْجُوَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَرْكَبُهَا ، وَلَا أَلْبَسُ قَمِيصًا مَكْفُوفًا بِحَرِيرٍ ، وَلَا أَلْبَسُ الْقَسِّيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے سرخ کجاوے کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس پر سوار نہیں ہوتا اور میں ایسی قمیض نہیں پہنتا جس کے کف ریشمی ہوں اور نہ ہی ریشمی لباس پہنتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي الطَّعَامِ أَوْ الشَّرَابِ ، أَطْعَمُهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، زَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، كُنَّا نَضَعُ السَّمْنَ فِي الْجِرَارِ ، فَقَالَ : " إِذَا مَاتَتِ الْفَأْرَةُ فِيهِ فَلَا تَطْعَمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی چوہا کسی کھانے پینے کی چیز میں گر جائے تو کیا میں اسے کھا سکتا ہوں انہوں نے فرمایا کہ نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے سختی سے منع فرما دیا ہم لوگ مٹکوں میں گھی رکھتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب اس میں کوئی چوہا مر جائے تو اسے مت کھایا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن الهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 14684
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ ، فَقَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ ، فَقَالَ : " لَا أَطْعَمُهُ " وَقَذِرَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ ، وَهُوَ طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ ، وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے متعلق پوچھا : تو انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کے پاس گوہ لائی گئی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے نہیں کھاتا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گھن محسوس کی ہے سیدنا عمر فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا اس لئے اللہ بہت سے لوگوں کے ذریعے فائدہ پہنچا دیتا ہے اور یہ عام طور پر چرواہوں کا کھانا ہے اور اگر میرے پاس گوہ ہو تی تو میں اسے کھا لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف السوء حفظ ابن لهيعة، وأخرجه مسلم موقوفا: 1950، من طريق معقل عن أبى الزبير ، قال: سألت جابرا عن الضب فقال: لا تطعموه، وقذره، ثم ذكر قصة عمر
حدیث نمبر: 14685
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُقِيمُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ يُخَالِفُهُ إِلَى مَقْعَدِهِ فَيَقْعُدُ فِيهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُولَنَّ : تَفَسَّحُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن بھی اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ اسے جگہ کشادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2178، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن الهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14686
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يَتَوَلَّى مَوْلَى الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ، فَقَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُمْ ، ثُمَّ كَتَبَ " إِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے سے عقد موالات کر لے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1507، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 14687
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحیفے میں ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1507، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14688
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ دِينَارًا فَهُوَ كَيَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک دینار چھوڑ جائے وہ ایک داغ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14689
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ ، فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب نماز کے لئے اعلان کیا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 14690
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، وَنَظَرَ إِلَى الشَّامِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ " ، وَنَظَرَ إِلَى الْعِرَاقِ ، فَقَالَ نَحْوَ ذَلِكَ ، وَنَظَرَ قِبَلَ كُلِّ أُفُقٍ فَفَعَلَ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مِنْ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ ، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی جانب رخ کیا اور میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے پھر عراق کی طرف رخ کیا اور یہی دعاء فرمائی اور افق کی سمت رخ کر کے اسی طرح دعاء کرنے کے بعد فرمایا : اے اللہ ہمیں زمین کے پھل عطا فرما اور ہمارے مد اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، ابن لهيعة - وإن كان سيئ الحفظ - لكن روى عنه هذا الحديث عبدالله بن وهب عند ابن عساكر فى تاريخه: 126\1وروايته عنه صالحة عند أهل العلم،وأبو الزبير لم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 14691
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " طَيْرُ كُلِّ عَبْدٍ فِي عُنُقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر بندے کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکا ہوا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14692
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْنَهُ النَّفَقَةَ ، فَلَمْ يُوَافِقْ عِنْدَهُ شَيْءٌ ، حَتَّى أَحْجَزْنَهُ ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، ثُمَّ أَتَاهُ عُمَرُ ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَا بَعْدَ ذَلِكَ فَأُذِنَ لَهُمَا ، وَوَجَدَاهُ بَيْنَهُنَّ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَةَ زَيْدٍ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَوَجَأْتُهَا ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ ، وَأَرَادَ بِذَلِكَ أَنْ يُضْحِكَهُ ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، وَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا حَبَسَنِي غَيْرُ ذَلِكَ " ، فَقَامَا إِلَى ابْنَتَيْهِمَا ، فَأَخَذَا بِأَيْدِيهِمَا ، فَقَالَا : أَتَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ ؟ ! فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا ، فَقَالَتَا : لَا نَعُدْ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ نَزَلَ التَّخْيِيرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے نفقہ میں اضافے کی درخواست کی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہیں تھا لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کر سکے سیدنا صدیق اکبر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لئے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد سیدنا عمر نے بھی آ کر اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہو گئے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور اردگرد ازواج مطہرات تھیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! اگر آپ بنت زید (اپنی بیوی) ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبادوں گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں۔ یہ سن کر سیدنا صدیق اکبر اٹھ کر سیدنا عائشہ کو مارنے کے لئے بڑھے اور سیدنا عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کر تی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ واللہ آج کے بعد ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کر یں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ ہو ۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14693
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَجَالِسَ : مَجْلِسٌ يُسْفَكُ فِيهِ دَمٌ حَرَامٌ ، وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ فَرْجٌ حَرَامٌ ، وَمَجْلِسٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ مَالٌ مِنْ غَيْرِ حَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجالس امانت کے ساتھ قائم رہتی ہیں سوائے تین قسم کی مجلسوں کے ایک تو وہ مجلس جس میں ناحق خون بہایا جائے دوسری وہ مجلس جس میں کسی پاکدامن کی آبروریزی کی جائے اور تیسری وہ مجلس جس میں ناحق کسی کا مال چھین کر اسے اپنے اوپر حلال سمجھا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن أخي جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 14694
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو الرَّقِّيَّ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ " ، قَالَ حُسَيْنٌ : " فِيمَا سِوَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری اس مسجد میں دیگر مساجد کے مقابلے میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے سوائے مسجد حرم کے کہ وہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة حسين بن محمد،وحسن من جهة عبدالجبار بن محمد
حدیث نمبر: 14695
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : صَلِّ بِنَا كَمَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، " فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَشَدَّهُ تَحْتَ الثَّنْدُوَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : کہ ہمیں اسی طرح نماز پڑھائیے جس طرح آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھاتے ہوئے دیکھا ہے تو انہوں نے ہمیں ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھائی کہ اسے اپنی چھاتیوں کے نیچے باندھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبدالله بن محمد ابن عقيل، فحديثه حسن فى المتابعات والشواهد، وقد توبع
حدیث نمبر: 14696
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ ، فَجَاءَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ عَنِ افْتِرَاقِ النَّاسِ ، وَمَا أَحْدَثُوا ، فَجَعَلَ جَابِرٌ يَبْكِي ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ، وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ایک پڑوسی کہتا ہے کہ میں ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ مجھے سلام کرنے کے لئے تشریف لائے میں انہیں یہ بتانے لگا کہ لوگ کسی طرح آپس میں افتراق کا شکار ہیں اور انہوں نے کیا کیا بدعات تیار کر لی ہیں جسے سن کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر کہنے لگے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ اب فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہو گئے عنقریب اسی طرح فوج درفوج نکل بھی جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة جار جابر بن عبدالله
حدیث نمبر: 14697
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : شَْكَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ الْعَطَشَ ، قَالَ : فَدَعَا بِعُسٍّ ، فَصُبَّ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ ، وَقَالَ : " اسْقُوا " ، فَاسْتَقَى النَّاسُ ، قَالَ : فَكُنْتُ أَرَى الْعُيُونَ تَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیاس کی شکایت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا اور اس میں تھوڑا سا پانی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا دست مبارک رکھ دیا اور فرمایا : خوب اچھی طرح پیو چنانچہ لوگوں نے اسے پیا میں نے اس دن دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن الأجل سيار بن حاتم، وقد توبع
حدیث نمبر: 14698
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصِيبُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ ، فَنَقْسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کر دیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 14699
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 263
حدیث نمبر: 14700
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ ، وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي حَائِط ، وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ ، فَقَالَ : " عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ اللَّيْلَةَ فِي شَنٍّ ؟ وَإِلَّا كَرَعْنَا " ، فَقَالَ : عِنْدِي مَاءٌ بَائِتٌ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرِيشٍ ، فَحَلَبَ لَهُ شَاةً ، ثُمَّ صَبَّ عَلَيْهِ مَاءً بَائِتًا ثُمَّ سَقَاهُ ، وَصَنَعَ بِصَاحِبِهِ مِثْلَ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ کسی انصاری کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا : اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لئے اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے ساتھ آنے والے صاحب کے ساتھ اسی طرح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 5613
حدیث نمبر: 14701
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ كَانَ ، أَوْ إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ ، فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ ، تُوَافِقُ دَاءً ، وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی دوا میں کوئی خیر ہے تو وہ سینگی لگانے میں شہد کے ایک چمچے میں یا اس طرح آگ سے داغنے میں ہے جو مرض کے مطابق ہو لیکن میں داغنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5683، م: 2205
حدیث نمبر: 14702
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، وأبو الزبير ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ثقیف کے لئے دعاء فرمائی کہ اے اللہ قبیلہ ثقیف کو ہدایت عطاء فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي