حدیث نمبر: 14623
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا فِي الصَّلَاةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ سب سے ہلکی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وله شاهد من حديث أنس، سلف برقم: 11967، وهو حديث صحيح متفق عليه
حدیث نمبر: 14624
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَلَّا يَقُومَ بِاللَّيْلِ ، فَلْيُوتِرْ ثُمَّ يَنَامُ ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ بِقِيَامٍ ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کر وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیں اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخر میں ہی وتر پڑھنے چاہیں کیونکہ رات کے آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 755، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14625
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا بَصَقَ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَبْصُقْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آ کر م نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، لكنه متابع، وأبو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، وانظر: 14470 و 15260
حدیث نمبر: 14626
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثِرُوا مِنْ هَذِهِ النِّعَالِ ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ رَاكِبًا إِذَا انْتَعَلَ " ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جوتی کثرت سے پہنا کر و کیونکہ جب تک آدمی جوتی پہنے رہتا ہے گویا سواری پر سوار رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2096، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14627
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ " ، قَالُوا : وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : وَلَا إِيَّايَ ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریب قریب رہا کر و اور صحیح بات کیا کر و کیونکہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اس کے اعمال بچاسکیں صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں فرمایا : مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14628
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُمِطْ مَا عَلَيْهَا مِنْ أَذًى ، ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ أَصَابِعَهُ ، أَوْ يُلْعِقَهَا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2817، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبدُ الله بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، وَعَلَا صَوْتُهُ ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جوں جوں آپ قیامت کا تذکر ہ فرماتے جاتے آپ کی آواز بلند ہو تی جاتی چہرہ مبارک سرخ ہوتا جاتا اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2033، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 14630
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) ، قَالَ : وَكَانَ يَقُول : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا ، فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ ، وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
پھر فرمایا کہ میں مسلمانوں پر ان کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں جو شخص مال دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ جائے وہ میرے ذمے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 867، وانظر:14334
حدیث نمبر: 14631
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَغَيْرُهُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ ضَلُّوا ، فَإِنَّكُمْ إِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ ، أَوْ تُكَذِّبُوا بِحَقٍّ ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، مَا حَلَّ لَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق مت پوچھا : کر و اس لئے کہ وہ تمہیں صحیح راستہ کبھی نہیں دکھائیں گے کیونکہ وہ تو خود گمراہ ہیں اب یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کر بیٹھو گے یا کسی حق بات کی تکذیب کر جاؤ گے اور یوں بھی اگر تمہارے درمیان سیدنا موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے علاوہ انہیں کوئی چارہ نہ ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 14632
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَاجْتَمَعَ قَوْمُ ذَا وَقَوْمُ ذَا ، وَقَالَ : هَؤُلَاءِ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ ! وَقَالَ : هَؤُلَاءِ يَا لَلْأَنْصَارِ ! فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، أَلَا مَا بَالُ دَعْوَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو غلام آپس میں لڑپرے جن میں سے ایک کسی مہاجر کا اور دوسرا کسی انصاری کا تھا مہاجر نے مہاجرین کو اور انصاری نے انصار کو آوازیں دے کر بلانا شروع کر دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ آوازیں سن کا باہر تشریف لائے اور فرمایا : ان بدبودار نعروں کو چھوڑ دو پھر فرمایا : یہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں یہ زمانہ جاہلیت کی کیسی آوازیں ہیں ؟۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3518، م: 2584
حدیث نمبر: 14633
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا ، وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا ، وَلَا عَلَى ابْنَةِ أُخْتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح نہ کیا جائے اور نہ کسی بھتیجی یا بھانجی کی موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5108
حدیث نمبر: 14634
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ " ، قَالَ : سَمِعْت سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : الْحَوَارِيُّ يعني النَّاصِرُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ حواری کا معنی ہے ناصر و مددگار۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3719، م:2415
حدیث نمبر: 14635
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ : عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کے کرائے سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1536
حدیث نمبر: 14636
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَبُو الْمُنْذِرِ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ : مَا الْعَافِيَةُ ؟ ، قَالَ : مَا اعْتَافَهَا مِنْ شَيْءٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کر ے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14637
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَأَطْعَمْتُهُمْ رُطَبًا ، وَأَسْقَيْتُهُمْ مَاءً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرات شیخین کے ہمراہ میرے یہاں تشریف لائے میں نے کھانے کے لئے ترکجھوریں اور پینے کے لئے پانی پیش کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے متعلق قیامت کے دن تم سے پوچھا : جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14638
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُخَلِّفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيَّ إِذَا خَلَّفْتَنِي ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " ، أَوْ " لَا يَكُونُ بَعْدِي نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی کو اپنے پیچھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ اگر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو لوگ میرے متعلق کیا کہیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون کو سیدنا موسیٰ سے تھی البتہ یہ ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك النخعي سيئ الحفظ، وعبدالله بن محمد بن عقيل ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 14639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1565
حدیث نمبر: 14640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین سالوں کے لئے پھلوں کی پیشگی بیع سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ ، أَوْ جَاءَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ مِثْلُ الثَّغَامِ ، أَوْ مِثْلُ الثَّغَامَةِ ، قَالَ حَسَنٌ فَأَمَرَ بِهِ إِلَى نِسَائِهِ ، قَالَ : " غَيِّرُوا هَذَا الشَّيْبَ " ، قَالَ حَسَنٌ : قَالَ زُهَيْرٌ : قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ : أَقَالَ جَنِّبُوهُ السَّوَادَ ؟ ، قَالَ : لَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں ان کی خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2102، قلنا: قد ثبت قوله صلى الله عليه وسلم: «جنبوه السواد» ، انظر: 14402
حدیث نمبر: 14642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ ، فَكَلَّمَتْهُ ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِكَفِّهِ ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ ، وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ ، فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کا امام ہو وہ جان لے کہ امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14643
حدیث نمبر: 14644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1565
حدیث نمبر: 14645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَصَبْنَا جَرَادًا فَأَكَلْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شریک تھے ہمیں اس دوران ٹڈی دل ملے جنہیں ہم نے کھالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 14646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر مارا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1959
حدیث نمبر: 14647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ ، أَوْ يُقَصَّصَ ، أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده: صحيح، م: 970
حدیث نمبر: 14648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا بلکہ تبادلے ہی کو مہر فرض کر لیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1٤17
حدیث نمبر: 14649
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا مُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِنَا هَذَا ، غَيْرَ أَهْلِ الْكِتَابِ وَخَدَمِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سال کے بعد کوئی مشرک ہماری مسجدوں میں داخل نہ ہو سوائے اہل کتاب اور ان کے خادموں کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من جابر، وشريك النخعي و الأشعث بن سوار ضعيفان
حدیث نمبر: 14650
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا ، حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ ، وَأَمْوَالُهُمْ ، وَعَلَى اللَّهِ حِسَابُهُمْ " أَوْ " وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ الا الہ اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کے کلمے کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 21، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 14651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا ، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جائے اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے جس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو کیونکہ وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، و بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وأبو الزبير لم يصرح بالتحديث، وانظر:
حدیث نمبر: 14652
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَن خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1569، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالله بن الهيعة، لكنه قد توبع، وانظر: 15148
حدیث نمبر: 14653
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَّبِعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَبِمَجَنَّةٍ وَبِعُكَاظٍ ، وَبِمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى ، يَقْولُ : " مَنْ يُؤْوِينِي ، مَنْ يَنْصُرُنِي ، حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي ، وَلَهُ الْجَنَّةُ " ، فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَيُؤْوِيهِ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَر ، أَوْ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى ذِي رَحِمِهِ ، فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ ، فَيَقُولُونَ : احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ ، وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنْ يَثْرِبَ ، فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ ، فَيُؤْمِنُ بِهِ ، فَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ ، فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ ، حَتَّى لَا يَبْقَى دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ، ثُمَّ بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأْتَمَرْنَا ، وَاجْتَمَعْنَا سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا ، فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَذَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ ، وَيَخَافُ ؟ فَدَخَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ ، فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ ، فَقَالَ عَمُّه الْعَبَّاسُ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنِّي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءوكَ ، إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ ، فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي وُجُوهِنَا ، قَالَ : هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا أَعْرِفُهُمْ ، هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَامَ نُبَايِعُكَ ؟ ، قَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ ، وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذُكُمْ فِيهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ يَثْرِبَ ، فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ ، وَأَزْوَاجَكُمْ ، وَأَبْنَاءَكُمْ ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ " ، فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ ، وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ ، فَقَالَ : رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ ، إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، إِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً ، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ ، وَأَنْ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ ، فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى السُّيُوفِ إِذَا مَسَّتْكُمْ ، وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ ، وَعَلَى مُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً ، فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً ، فَذَرُوهُ ، فَهُوَ أَعْذَرُ عِنْدَ اللَّهِ . قَالُوا : يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ ، أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ ، فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا ، يَأْخُذُ عَلَيْنَا بِشُرْطَةِ الْعَبَّاسِ ، وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ مکر مہ میں رہے اور عکاظ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منیٰ میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جاجآ کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کر ے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کر دے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے خیموں کے پاس سے گزرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چنانچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہو جاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو ، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چنانچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہو گئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کر یں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کر و جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہواور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چنانچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی۔ سیدنا اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہو جائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں سے نکال کر لے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کر وانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کر سکو تو تمہارا اجر وثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کر دو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہو جائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو واللہ ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کر یں گے چنانچہ اسی طرح ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پر ہم سے بیعت لے لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 14654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر شیطان مجھے نماز کا کوئی کام بھلا دے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آوازیں میں تالی بجانی چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة، لكنه توبع، وأبو الزبير لم يصرح بالتحديث إلا فى رواية ابن لهيعة الآتية برقم: 14750
حدیث نمبر: 14655
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے ہلکی اور مکمل نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو تی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14656
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَهْرَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرَ ، وَكَسَرَ جِرَارَهُ ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِهِ ، وَبَيْعِ الْأَصْنَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن شراب کو بہادیا اس کے مٹکوں کو توڑ دیا اور اس کی اور بتوں کی بیع سے منع فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وانظر: 14472
حدیث نمبر: 14657
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ ، لَتَمَنَّى وَادِيَيْنِ ، وَلَوْ أَنَّ لَهُ وَادِيَيْنِ ، لَتَمَنَّى ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک پوری وادی ہو تو وہ دو اور دو ہو تو تین کی تمنا کر ے گا اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14658
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ ، سَهْلًا إِذَا بَاعَ ، سَهْلًا إِذَا اشْتَرَى ، سَهْلًا إِذَا قَضَى ، سَهْلًا إِذَا اقْتَضَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنی امتوں کے ایک آدمی کی بخشش صرف اس بات پر کر دی کہ وہ خریدو فروخت میں، ادائیگی اور تقاضا کرنے میں بڑا نرم خو تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ- بنحوه-: 2076، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل زيد بن عطاء، وقد توبع
حدیث نمبر: 14659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ : الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ ، وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نہیں سوتے تھے جب تک سورت سجدہ اور سورت ملک پڑھ نہ لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الليث بن أبى سليم، وقد توبع ، وأبو الزبير لم يسمع هذا الحديث من جابر، وإنما سمعه من صفوان بن عبدالله بن صفوان بن أمية القرشي عن جابر، كما غير المصنف
حدیث نمبر: 14660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، أَخْبَرَهُ أَوْ حَدَّثَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ مِنْهُ ، قَالَ : قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَالَ : " فَطَافَ سَبْعًا ، وَرَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ میں آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے جن میں سے پہلے تین میں رمل کیا اور باقی چار معمول کی رفتار سے لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1218 و 1263، وانظر مابعده
حدیث نمبر: 14661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالْحَجَرِ ، فَرَمَلَ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود پر آ گئے اس پر تین چکر وں میں رمل کیا اور باقی چار چکر معمول کی رفتار سے لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1218 و 1263، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 14662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ ، وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ " ، قَالَ عَبْدُ الْلَّهِ بْنِ أَحْمَدِ : هَكَذَا وَقَعَ فِي الْأَصْلِ حَسَنٌ ، وَالصَّوَابُ حُسَيْنٌ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وأبي يحيى القتات، لكن للشطر الثاني منه شاهدان يقويانه