حدیث نمبر: 14584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : أَفِي الْعَقْرَبِ رُقْيَةٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ ، فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کر سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہواسے ایساہی کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14584
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2199
حدیث نمبر: 14585
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَزَلَ نِسَاءَهُ شَهْرًا ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، فَقُلْنَا : إِنَّمَا الْيَوْمُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا الشَّهْرُ " وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الْآخِرَةِ ، وَقَالَ يُونُسُ : أُصْبُعًا وَاحِدَةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے ترک تعلق کر لیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانے میں رہتے تھے اور ازواج مطہرات نچلی منزل میں رہتی تھیں ٢٩ راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اتر آئے کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ تو ٢٩ راتیں رکے (جبکہ آپ نے ایک ماہ کا ارادہ کیا تھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کبھی مہینہ اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے دو مرتبہ آپ نے ہاتھ کی ساری انگلیوں سے اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ انگوٹھے کو بند کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1084
حدیث نمبر: 14586
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمْ الْمَرْأَةَ ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ مِنْهَا إِلَى مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ " ، قَالَ : فَخَطَبْتُ جَارِيَةً مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، فَكُنْتُ أَخْتَبِئُ لَهَا تَحْتَ الْكَرَبِ ، حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا ، فَتَزَوَّجْتُهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس نکاح بھیجے اور یہ ممکن ہو کہ وہ اس عورت کی اس خوبی کو دیکھ سکے جس کی بنا پر وہ اس سے نکاح کرنا چاہتاہو تو اسے کر لینا چاہئے چنانچہ میں نے بنوسلمہ کی ایک لڑکی سے پیغام نکاح بھیجا تو اسے کسی درخت کی شاخوں سے چھپ کر دیکھ لیا یہاں تک کہ مجھے اس کی وہ خوبی نظر آگئی جس کی بنا پر میں اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا چنانچہ میں نے اس سے نکاح کر لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وقد اختلف على محمد بن إسحاق فى تسمية الراوي عن جابر، والصواب- إن شاء الله - واقد بن عمرو ابن سعد بن معاذ كما في الحديث الآتي برقم: 14869، وهو ثقة، أما واقد ابن عبدالرحمن بن سعد فمجهول، ومحمد بن إسحاق حسن الحديث ، وقد صرح بالسماع كما برقم: 14869
حدیث نمبر: 14587
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بائیں ہاتھ سے کھانا مت کھاؤ کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھانا کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2019
حدیث نمبر: 14588
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَحُجَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي ، فَقَالَ : " إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي " ، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بنو مصطلق کی طرف جاتے ہوئے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جس کام کے لئے تجھے بھیجا تھا اس کا کیا بنا ؟ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مشرق کی جانب تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14589
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَجُلٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، فَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ " يَعْنِي نَفْسَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پاس انبیاء کو لایا گیا سیدنا موسیٰ تو ایک وجیہہ آدمی معلوم ہوتے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ قبیلہ شنوہ کے آدمی ہوں میں نے سیدنا عیسیٰ کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ مجھے (اپنے صحابہ میں) عروہ بن مسعود لگے اور میں نے سیدنا ابراہیم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ میں نے تمہارے پیغمبر (خود) کو دیکھا اور میں نے سیدنا جبرائیل کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہہ " دحیہ " کو پایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 167
حدیث نمبر: 14590
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ ، فَلَا تَفْعَلُوا ، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا ، فَصَلُّوا قِيَامًا ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا ، فَصَلُّوا قُعُودًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اس وقت آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا صدیق اکبربلند آواز سے تکبیر کہہ کر دوسروں تک تکبیر کی آواز پہنچا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کن اکھیوں سے ہماری طرف دیکھا تو ہم کھڑے ہوئے نظر آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا اور ہم بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور بقیہ نماز اسی طرح ادا کی نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی قریب تھا کہ تم فارس اور روم والوں جیسا کام کرنے لگتے وہ لوگ بھی اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں تم لوگ ایسا نہ کیا کر و بلکہ اپنی ائمہ کی اقتدا کیا کر و اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 413
حدیث نمبر: 14591
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ جَنَازَةٌ ، فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَ ، فَإِذَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، أَوْ يَهُودِيَّةٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا كَانَتْ جَنَازَةَ يَهُودِيٍّ ، أَوْ يَهُودِيَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَوْتُ فَزَعٌ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ جَنَازَةً ، فَقُومُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ہم بھی کھڑے ہو گئے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ تو ایک یہو دی کا جنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موت کی ایک پریشانی ہو تی ہے لہذا جب تم جنازہ دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر: 14427
حدیث نمبر: 14592
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّائِبَةُ ، وقَالَ خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ : السَّائِمَةُ جُبَارٌ ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " ، قَالَ : قَالَ الشَّعْبِيُّ الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چراگاہ میں چرنے والے جانور یا بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانور سے مارا جانے والا رائیگاں گیا کنوئیں میں مرنے والا کا خون رائیگاں گیا کان میں مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور زمین کے دفینے میں بیت المال کا پانچواں حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
حدیث نمبر: 14593
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ مقرر کیا ہے کہ سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ اور سات ہی کی طرف سے ایک گائے ذبح کی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وانظر: 14116 و 14127
حدیث نمبر: 14594
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ الْغَسِيلِ ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي ، فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَحَوْلَهُ ثِيَابٌ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، قَالَ : قُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَهَذِهِ ثِيَابُكَ إِلَى جَنْبِكَ ؟ ! قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُكَ ، فَيَرَانِي أُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، أَوَكَانَ لِكُلِّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ ؟ قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ جَابِرٌ يُحَدِّثُنَا ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَا اتَّسَعَ الثَّوْبُ ، فَتَعَاطَفْ بِهِ عَلَى مَنْكِبَيْكَ ، ثُمَّ صَلِّ ، وَإِذَا ضَاقَ عَنْ ذَاكَ ، فَشُدَّ بِهِ حَقْوَيْكَ ، ثُمَّ صَلِّ مِنْ غَيْرِ رِدَاءٍ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
شرحبیل کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسرے کپڑے ان کے قریب پڑے ہوئے تھے جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ اللہ تعالیٰ آپ کی بخشش فرمائے آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں جبکہ آپ کے پہلو میں اور بھی کپڑے موجود ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں پھر فرمایا کہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہاہوں کیا صحابی کے پاس دو کپڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے جسم پر ایک ہی کپڑا ہواور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کا تہنبد بنالو اور پھر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وأخرج المرفوع منه ضمن حديث طويل مسلم: 3010، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد المدني
حدیث نمبر: 14595
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 53
حدیث نمبر: 14596
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ ، وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ ، أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا ، وَلَمْ يَدْخُلْ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام بطحا میں تھے تو سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14597
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ ، فَإِذَا أَصَبْتَ دَوَاءَ الدَّاءِ ، بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا : ہر بیماری کا علاج ہوتا ہے جب دوا کسی بیماری پر جا کر لگتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2204، وأبو الزبير لم يصرح بالسماع من جابر
حدیث نمبر: 14598
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ، فَقَالَ : لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ فِيهِ الشِّفَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مقنع کی عیادت کے لئے گئے تو فرمایا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک تم سینگی نہ لگوالو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس میں شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5697، م: 2205
حدیث نمبر: 14599
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 14600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ ، قَالَ : " لِأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، فَقَالَ سُرَاقَةُ فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! ہمارا عمل کس مقصد کے لئے ہے کیا قلم لکھ کر اسے خشک ہو گئے اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا پھر ہم اپنی تقدیر خود ہی بناتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قلم اسے لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا حکم نافذ ہو گیا سیدنا سراقہ نے پوچھا کہ پھر عمل کا کیا فائدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کے لئے اسی عمل کو آسان کر دیا جائے گا جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2648
حدیث نمبر: 14601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلْيُكَفِّنْ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے پاس گنجائش ہواسے کفن کے لئے دھاری دار یمنی کپڑا استعمال کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 14602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ ، رَبَطَتْهُ حَتَّى مَاتَ ، وَلَمْ تُرْسِلْهُ ، فَيَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ ، فَوَجَبَتْ لَهَا النَّارُ بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت کو اس بلی کی وجہ سے عذاب ہوا جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپناپیٹ بھر لیتی حتی کہ وہ اس حال میں مرگئی تو اس کے لئے جہنم واجب ہو گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 904، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14603
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ، أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " ؟ قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : تھا کہ زمین کے دفینے میں بیت المال کے لئے پانچوں حصہ واجب ہے انہوں نے فرمایا : ہاں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14604
وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ إِلَى كِسْرَى ، وَقَيْصَرَ ، وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے قبل قیصر و کسری اور ہر اہم حکمران کو خط تحریر فرمایا : تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، وله شاھد من حدیث أنس عند مسلم: 1774
حدیث نمبر: 14605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راہ راست اختیار کر و اور خوشخبری حاصل کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وله شاهد من حديث أبى هريرة عند البخاري: 39
حدیث نمبر: 14606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٍ ، قَالَ جَابِرٌ : لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا ، إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ : هَاهُنَا بَرَكَةٌ ؟ فَيُقَالُ : لَا ، وَيُقَالُ : هَاهُنَا يَسَارٌ ؟ فَيُقَالُ : لَا " ، قَالَ : فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ سختی سے لوگوں کو برکت، یسار اور نافع جیسے نام رکھنے سے منع کر دوں گا اب مجھے یہ یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کا نام بھی ذکر کیا تھا یا نہیں ؟ اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ کوئی کسی سے پوچھتا ہے کہ یہاں برکت ہے وہ جواب دیتا ہے نہیں کوئی پوچھتا ہے کہ یہاں کوئی یسار (آسانی) ہے وہ جواب دیتا ہے کہ نہیں لیکن اس سے قبل ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر نے اسے سختی سے روکنے کا ارادہ کیا لیکن پھر اسے ترک کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2138، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّ أَمِيرَ الْبَعْثِ كَانَ غَالِبًا اللَّيْثِيَّ ، وَقُطْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الَّذِي دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ ، وَقَدْ تَسَوَّرَ مِنْ قِبَلِ الْجِدَارِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، وَقَدْ خَلَتْ اثْنَانِ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسْهَا فِي هَذِهِ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ الَّتِي بَقِينَ مِنَ الشَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی لشکر کے امیر غالب لیثی اور قطبہ بن عامر تھے جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک باغ میں آئے تھے جبکہ وہ محرم تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر بعد دروازے سے نکلے تو دیوار کی جانب آڑ لے کر چلنے لگے ان میں ہی عبداللہ بن انیس بھی تھے جنہوں نے ماہ رمضان کی بائیس راتیں گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا : تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینے کی اب جو سات راتیں بچ گئیں ہیں ان میں ہی شب قدر تلاش کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا تَغَوَّطَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَمْسَحْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو تین مرتبہ پتھر استعمال کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الضعف ابن لهيعة، وانظر: 14128
حدیث نمبر: 14609
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ السُّجُودِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ أَنْ يُعْتَدَلَ فِي السُّجُودِ ، وَلَا يَسْجُدَ الرَّجُلُ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سجدے کی کیفیت کے متعلق سوال پوچھا : انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے میں اعتدال کا حکم فرماتے ہوئے سنا ہے اور کوئی شخص باز بچھا کر سجدہ نہ کر ے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14610
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ نِدَاءَ الصَّلَاةِ ، فَرَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ الرَّوْحَاءِ وَالْمَدِينَةِ لَهُ ضُرَاطٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحاء تک ہے اور وہ پیچھے سے آواز خارج کرتا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 388، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14611
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَسَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فِي كَثْرَةِ خُطَا الرَّجُلِ إِلَى الْمَسْجِدِ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : هَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ ، فَزَجَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " لَا تُعْرُوا الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّ لَكُمْ فَضِيلَةً عَلَى مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کی طرف بکثرت چل کر جانے کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہمارا ارادہ ہوا کہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ہمیں سختی سے روکتے ہوئے فرمایا : مدینہ خالی نہ کر و کیونکہ مسجد کے قریب والوں پر تمہیں ہر قدم کے بدلے ایک درجہ فضیلت ملتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وأنظر:14566
حدیث نمبر: 14612
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ ، مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَمَسْجِدِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ بہترین جگہ جہاں سواریاں سفر کر کے آئیں سیدنا ابراہیم کی مسجد (مسجدحرام) ہے اور میری مسجد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِبَعْرَةٍ أَوْ بِعَظْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مینگنی یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 263، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14614
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَانَ الْفَتْحِ أَنْ يَأْتِيَ الْبَيْتَ ، وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ ، فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهِ ، وَلَمْ يَدْخُلْهُ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویریں رکھنے سے منع فرمایا ہے اور فتح مکہ کے زمانے میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام بطحا میں تھے تو سیدنا عمر کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ پہنچ کر اس میں موجود تمام تصویریں مٹا ڈالیں اور اس وقت تک آپ خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک اس میں موجود تمام تصویروں کو مٹا نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14615
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْمُهَلِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الطَّرِيقِ الْأُخْرَى مِنَ الْجُحْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ کی میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ حجفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرق ہے اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1183، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14616
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْ الْمَدِينَةِ ، لَا يُقْطَعُ مِنْهَا شَجَرَةٌ إِلَّا أَنْ يَعْلِفَ الرَّجُلُ بَعِيرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کا درمیانی حصہ حرم قرار دیا ہے جس کا کوئی درخت نہیں کاٹا جاسکتا الاّ یہ کہ کوئی شخص اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 14617
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرُوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے مردوں پر " خواہ دن ہو یا رات " چارتکبیرات پڑھا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، والتكبير على الميت أربع تكبيرات ثابت من فعله صلى الله عليه وسلم من حديث جابر،انظر:14889
حدیث نمبر: 14618
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ عَلَى بَعِيرِهِ بِحَصَى الْخَذْفِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ تو سکون کے ساتھ ہوئے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار کو تیز کر دیا اور انہیں ٹھیکر ی جیسی کنکر یاں دکھا کر سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1297، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14619
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَارْضَ عَنْهُ رِضًا لَا سْخَطُ بَعْدَهُ ، اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مؤذن کے اذان دینے کے بعد یہ دعاء کر ے کہ اے اللہ اے اس کامل دعوت اور نافع نماز کے رب محمد پر درود نازل فرما ان سے اس طرح راضی ہو جا کہ اس کے بعد ناراضگی کا شائبہ بھی نہ رہے اللہ اس کی دعاء ضرور قبول کر ے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وصح الدعاء بعد الأذان بغير هذا اللفظ، انظر: 14817
حدیث نمبر: 14620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةَ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ ، فَوَضَعَهَا ، وَأَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَصْلُحُ لِبَاسُهَا لَنَا فِي الدُّنْيَا ، وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ " ، فَقَالَ : تَكْرَهُهَا وَآخَذُهَا ! فَقَالَ : " إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا ، وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا " فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک راہب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ہدیہ کے طور پر بھیجا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تو اسے پہن لیا لیکن گھر آ کر اتار دیا پھر کسی وفد کی آمد کا علم ہوا تو سیدنا عمر نے درخواست کی کہ وہ جبہ زیب تن فرما لیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ہمارے لئے ریشمی لباس مناسب نہیں ہے یہ آخرت میں ہمارے لئے مناسب ہو گا البتہ عمر تم اسے لے لو سیدنا عمر کہنے لگے کہ آپ تو اسے ناپسند کر یں اور میں اسے لے لوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اسے پہننے کا حکم نہیں دے رہا بلکہ اس لئے دے رہاہوں کہ تم اسے سر زمین ایران کی طرف بھیج دو اور اس کے ذریعے مال حاصل کر لو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی وہ جبہ شاہ حبشہ نجاشی کو بھجوادیا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ کو پناہ دے رکھی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد صح بغير هذا اللفظ فى قصة الجبة التى أهداها النبى صلى الله عليه وسلم لعمر، انظر: 15107
حدیث نمبر: 14621
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ ، فَأَطْعَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ ، فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ ، لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ ، وَلَقَامَ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غلہ طلب کرنے کے لئے حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک وسق عطا فرما دیا اس کے بعد وہ آدمی اس کی بیوی اور ان کا ایک بچہ اس میں سے مستقل کھاتے رہے حتی کہ ایک دن انہوں نے اسے ناپ لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے نہ ماپتے تو تم اس میں سے نکال نکال کر کھاتے رہتے اور یہ تمہارے ساتھ رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، قاله أحمد شاكر، م: 2281، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 14622
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا أَبْصَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَاكِبًا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ اشْتَرَى نَاقَةً لِيَدْعُوَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا ، فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَا لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے جواب دیا ہاں اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جس نے ایک اونٹنی خریدی تھی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں دعا کر وانا چاہتا تھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنا چاہی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حتی کہ جب سلام پھیر دیا تو اس کے لئے دعا کر دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وصلاته على الراحلة ثابت من حديث أبى الزبير عن جابر، وانظر: 14156