حدیث نمبر: 14544
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَهِيَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزانہ ہر رات میں ایک ایسی گھڑی ضرور آتی ہے جو اگر کسی بندہ مسلم کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو بھی دعا کر ے گا وہ دعا ضرور قبول ہو گی اور ایسا ہر رات میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 757
حدیث نمبر: 14545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ خیر اور شر دونوں میں قریش کے تابع ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 1819
حدیث نمبر: 14546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " نَهَى أَنْ يَشْتَمِلَ الرَّجُلُ الصَّمَّاءَ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ بھی نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2099، و أبو أحمد - وهو محمد بن عبدالله بن الزبير الأسدي مولاهم ثقة إلا أنه أخطأ هنا، فجعله من حديث سفيان عن عبدالله بن محمد بن عقيل، عن جابر، والصواب أنه من حديث سفيان عن أبى الزبير ، عن جابر كما برقم: 14121
حدیث نمبر: 14547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَى مَا فُسِحَ لَهُ فِي قَبْرِهِ يَقُولُ : دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي ، فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب مردہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی قبر کتنی کشادہ کر دی گئی ہے تو وہ فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اپنے گھر والوں کو خوشخبری سنا کر آؤں لیکن اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں ٹھہر کر سکون حاصل کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبى بكر بن عياش
حدیث نمبر: 14548
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو النَّضْرِ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ ؟ فَقَالَ : كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا ، قَالَ جَعْفَرٌ وَإِرَاحَةُ النَّوَاضِحِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کب پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ آتے تھے اور اپنے اونٹوں کو آرام کرنے کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 858، وهذا إسناد حسن فى المتابعات و الشواهد لأجل محمد بن ميمون الزعفراني، تابعه حسن بن عياش، وهو ثقة، انظر: 14539
حدیث نمبر: 14549
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ الْبُدْنَ الَّتِي نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مِائَةَ بَدَنَةٍ ، نَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ ، ثُمَّ شَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے لئے جن اونٹوں کو لے کر گئے تھے ان کی تعداد سو تھی جن میں سے ٦٣ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے تھے اور بقیہ اونٹ سیدنا علی نے ذبح کئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ کا تھوڑا تھوڑا گوشت لے کر ہنڈیا میں ڈالا جائے پھر دونوں حضرات نے اس کا شوربہ نوش فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل محمد بن ميمون، فهو ضعيف يعتبر به
حدیث نمبر: 14550
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهَنَّيْنَاهْ ، ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَهَنَّيْنَاهْ ، ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ ، فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ ، إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا " فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَهَنَّيْنَاهْ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک انصاری خاتون کے یہاں کھانے کی دعوت میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا تھوڑی دیر بعد سیدنا صدیق اکبر تشریف لائے ہم نے انہیں مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا تھوڑ دیر بعد سیدنا عمر تشریف لائے ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ابھی تمہارے پاس ایک اور جنتی آدمی آئے گا اس وقت میں نے دیکھا کہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کے پودوں کے نیچے سے سر نکال کر دیکھنے لگے کہ اور فرمانے لگے کہ اے اللہ اگر تو چاہتا تو آنے والا علی ہوتا چنانچہ سیدنا علی ہی آئے اور ہم نے انہیں بھی مبارک باد دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين من أجل عبدالله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14551
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہو تی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سے سب سے کم ترین صف پہلی ہو تی ہے اور سب سے بہترین صف آخری ہو تی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
حدیث نمبر: 14552
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَقَطَتْ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيُمِطْ مَا كَانَ عَلَيْهَا مِنَ الْأَذَى ، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ ، وَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ تو لیے سے نہ پونچھے اور انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2033
حدیث نمبر: 14553
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ ، فَأَرَاهُمْ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ ، وَقَالَ : " لِتَأْخُذْ أُمَّتِي مَنْسَكَهَا ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوتے تو سکون کے ساتھ ہوتے لیکن وادی محسر میں اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی اور انہوں نے ٹھیکر ی جیسی کنکر یاں دیکھیں اور سکون وقار سے چلنے کا حکم دیا اور فرمایا : میری امت کو مناسک حج سیکھ لینے چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے میں آئندہ سال ان سے نہ مل سکوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1297
حدیث نمبر: 14554
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَرْشُ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، يَبْعَثُ سَرَايَاهُ ، فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً ، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلقیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب شیطانی وہ پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2813، وقد صرح أبوالزبیر بالسماع فیما سیأتی برقم: 15119
حدیث نمبر: 14555
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، وَيُومِئُ إِيمَاءً ، السُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " مَا فَعَلْتَ فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا ؟ إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنومصطلق کی طرف جاتے ہوئے مجھے کسی کام سے بھیج دیا میں واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر مشرق کی جانب منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے میں نے بات کرنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرما دیا اور دو مرتبہ اس طرح ہوا پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت کرتے ہوئے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر سے اشارہ فرما رہے تھے نماز سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کام کے لئے تمہیں بھیجا تھا اس کا کیا بنا۔ میں نے جواب اس لئے نہیں دیا تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1217، م: 540
حدیث نمبر: 14556
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ، مَشَيْنَا قُدَّامَهُ ، وَتَرَكْنَا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لاتے تو صحابہ کرام آپ کے آگے چلا کرتے تھے اور آپ کی پشت مبارک کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14557
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَدِينَةُ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا وَهِيَ مُرْطِبَةٌ " ، قَالُوا : فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ " ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ : كَانَ فِي كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینہ منورہ کو ایک وقت میں یہاں کے رہنے والے چھوڑ دیں گے حالانکہ اس وقت مدینہ منورہ کی مثال کھاری کنوؤں کے درمیان بیٹھے کنویں کی سی ہو گی صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر اسے کون کھائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : درندے اور گدھ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14558
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ فِي أَهْلِ الْمَشْرِقِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایمان اہل حجاز میں ہے اور دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی چرواہوں میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 53، وأبو البشر جعفر بن إياس لم يسمع من سليمان اليشكري
حدیث نمبر: 14559
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَسِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ ، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص بغیر کسی عذر کے تین مرتبہ جمعہ چھوڑ دے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أسيد البراد
حدیث نمبر: 14560
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وَأَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ، حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا ، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَنْفُسَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کر لیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کلمہ حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 21، وله إسنادان: الأول حسن، والثاني: ضعيف، فيه شريك، وهو سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 14561
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ العَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ حُنَيْنٍ ، إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ اعْدِلْ ، فَقَالَ : " لَقَدْ شَقِيتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال تقسیم کر رہے تھے اس دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ انصاف سے کام لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں عدل نہ کر وں گا تو یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3138، م: 1063
حدیث نمبر: 14562
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے گویا وہ اپنے گلے سے ایمان کی رسی نکال پھینکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جید، وانظر: 14445
حدیث نمبر: 14563
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي مَسْجِدِ الْفَتْحِ ثَلَاثًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ، فَعُرِفَ الْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ جَابِرٌ فَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ غَلِيظٌ إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ ، فَأَدْعُو فِيهَا فَأَعْرِفُ الْإِجَابَةَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد فتح میں تین دن مسلسل پیر منگل اور بدھ کو دعا مانگی وہ دعا بدھ کے دن دو نمازوں کے درمیان قبول ہو گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر پھیلی ہوئی بشاشت محسوس ہو نے لگی اس کے بعد مجھے جب بھی کوئی بہت اہم کام پیش آیا میں نے اسی گھڑی کا انتخاب کر کے دعا مانگی تو مجھے اس میں قبولیت کے آثار نظر آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، كثير بن زيد ليس بذاك القوي، وعبدالله بن عبدالرحمن فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 14564
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ ، فَإِنَّ هَوْلَ الْمَطْلَعِ شَدِيدٌ ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ ، وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : موت کی تمنا نہ کیا کر و کیونکہ قیامت کی ہو لناکی بہت سخت ہے اور انسان کی سعادت وخوش نصیبی یہ ہے کہ اسے لمبی عمر ملے اور اللہ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، كثير بن زيد يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 14565
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبد الصمد ، حدثني أبي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرپختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 970
حدیث نمبر: 14566
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَلَتْ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ ، دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی کے قریب زمین کا ایک ٹکڑ اخالی ہو گیا بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے یہ فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہو نا چاہتے ہوانہوں نے عرض کی جی یا رسول اللہ ! ہمارا یہی ارادہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنوسلمہ اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جاتا ہے اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 665
حدیث نمبر: 14567
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخر زمانے میں ایک ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھر بھر کر مال دے گا اور اسے شمار تک نہیں کر ے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2913
حدیث نمبر: 14568
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرتے تھے جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نشیب میں اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2993، والحسن البصري لم يصرح بسماعه من جابر
حدیث نمبر: 14569
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ ، وَهُوَ أَشَدُّ الْكَذَّابِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کانا ہو گا وہ سب سے بڑا جھوٹا ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 14570
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنِّي أَشْتَرِطُ عَلَى رَبِّي أَيَّ عَبْدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ شَتَمْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ ، أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ وعدہ لے رکھا ہے کہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بن جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2602
حدیث نمبر: 14571
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ثُمَّ نَزَلَ عَنِ الصَّفَا ، حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا الشِّقَّ الْآخَرَ مَشَى .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق تفصیلات میں یہ بھی مذکور ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے اترے اور وادی کے بیچ میں جب آپ کے مبارک قدم اترے تو آپ نے سعی فرمائی یہاں تک کہ جب دوسرے حصے پر ہم لوگ چڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم معمول کی رفتار سے چلنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1218
حدیث نمبر: 14572
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى ، أُرَاهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ، وَالطَّرِيقِ الْأُخْرَى الْجُحْفَةِ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے میقات کے متعلق پوچھا : انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ میں میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرقہ اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1183
حدیث نمبر: 14573
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : " مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً ، أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ ؟ " قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ ، أَفَنَرْقِيهِمْ ؟ قَالَ : " وَبِمَاذَا " فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " ارْقِيهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسما بنت عمیس سے فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میرے بھتیجوں کے جسم بہت لاغر ہو رہے ہیں کیا انہیں کوئی پریشانی اور حاجت ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں البتہ انہیں نظر بہت جلدی لگتی ہے کیا ہم ان پر جھاڑ پھونک کر سکتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کن الفاظ سے انہوں نے وہ الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انہیں جھاڑ دیا کر و۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2198
حدیث نمبر: 14574
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنْ كَانَ شَيْءٌ ، فَفِي الرَّبْعِ ، وَالْفَرَسِ ، وَالْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تی تو وہ جائیداد گھوڑے اور عورت میں ہو تی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2227
حدیث نمبر: 14575
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ، ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا ، وَقَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ کتوں کو ختم کر و چنانچہ اگر کوئی عورت دیہات سے بھی اپنا کوئی کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا : صرف اس کالے سیاہ کتے کو مارا کر و جو دو نقطوں والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1572
حدیث نمبر: 14576
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُسْطَاطَهُ ، حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ ، لِيَكُونَ فِيهَا قَسْمٌ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ " ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْعَشِيِّ حَضَرْنَا ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ ، قَالَ : " كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا صفیہ بنت حیی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں داخل ہوئیں تو لوگ بھی ان کے ساتھ آ گئے تاکہ انہیں کسی کے حصے میں سے دے دیا جائے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی ماں کے پاس سے اٹھ جاؤ شام کے وقت ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کے ایک کونے میں تقریبا ڈیڑھ مد کے برابر عجوہ کھجوریں لے کر نکلے اور فرمایا : اپنی ماں کا ولیمہ کھاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 14577
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2061
حدیث نمبر: 14578
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ ، وَعَلَيْهِ إِزَارُه ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ ، يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ، فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے سیدنا عباس کہنے لگے کہ بھتیجے آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیجئے تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہو جائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنا چاہا تو بےہو ش ہو کر گرپڑے اس دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم میں نہیں دیکھا گیا '
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 364، م: 340
حدیث نمبر: 14579
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفامروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تھی تاکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکیں اور مسائل بآسانی حل کر سکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1273
حدیث نمبر: 14580
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح كسابقه، م: 2877
حدیث نمبر: 14581
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَاطَّلَعَ فِيهَا ، فَقَالَ : " حَسِبْتُهُ لَحْمًا " ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي ، فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ٹھیکر ی کی ہنڈیا میں کھانا تیار کیا میں نے وہ برتن لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جھانک کر دیکھا اور فرمایا : میں تو سمجھا تھا کہ اس میں گوشت ہو گا میں نے جا کر اپنے گھر والوں سے اس کا تذکر ہ کیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى هلال الراسبي، لكن يعتبر به، وإسحاق بن عبدالله بن أبى طلحة لا يحتمل السماع من جابر، والله أعلم
حدیث نمبر: 14582
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَجٌّ مَبْرُورٌ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ " ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ ؟ قَالَ : " إِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! حج مبرور سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل محمد بن ثابت، وسواء كان هو البناني أم العبدي، فكلاهما ضعيفان، وفي أحاديثهما ماينكر، وانظر: 14482
حدیث نمبر: 14583
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، إِلَّا أَنْ يُغْزَى ، أَوْ يُغْزَوْ ، فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اشہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الاّ یہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کر دی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہو نے تک رک جاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 14583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح